New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 11:56 AM

Books and Documents ( 22 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 9) جوگ بسشت: مجھ بیوہار پرکرن: شبم، بچار، سنتوکھ اور سادہ سنگم


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ مکُت ایک راجہ ہے جس کے چار دربان ہیں ۱۔شبم۔۲۔ بچار ۔۳۔ سنتوکھ ۔ ۴۔ اور سادہ سنگم ۔ اور ہر ایک کی حقیقت اِن چاروں صفات سے  جن کو دربان ٹھہرایا مجملاً لکھی گئی ہے اب چاہتا ہوں کہ تفصیل سے بیان کرے پس کہنا ہے کہ ان صفات سے پہلی صفت شم ہے اور شم کا ثمرہ یہ ہے کہ جسمانی دُکھ اور اندرونی غم اور بے فائدہ ارمان سب ایک دفعہ صاحب شم سے اس طرح دور ہوجائیں جیسے اندھیرا سورج کے نکلنے سے جاتا ہے اور سب لوگ چاہے دل کے نرم ہوں یا سخت ہوں صاحب شم کے معتقد ہوجاتے ہیں جس طرح بچہ ماں کو مہربان جانتا ہے جو طاقت اور خوشی کہ طالب معرفت یعنی سالک کوشم کی صفت سے حاصل ہوتی ہے کسی کو پارے کےکشتے سے جو ضعف او ربیماری کو دور کرتا ہے اور دولت کے مل جانے سے جو سرور کی باعث ہے حاصل نہیں  ہونی۔  سروپ شم سے یہ مراد ہے کہ جو کچھ سنے یا چھوے

جب تک کہ افعال و اعمال حسی کا اگرچہ خیر ہوں مرتکب ہو آزادی کلی اور توصل بمبد نہ ہوگا یہ بڑا مقصددل کو قابوں میں لانے سے مل سکتا ہے اس واسطے کہ جب تک دل کو فنا نفس ناطقہ میں او رمحسوسات سے انفطاع نہ ہوگا تب تک نفس ناطقہ کو اپنے مبدر میں فنا ہونے کی قابلیت حاصل نہ ہوگی ۱۲

(75)

دیکھے چکھے یا سونگھے اگر مزاج کے موافق ہو صاحب شم اس سے خوش وقت نہ ہو او رناموافق ہوتو آزردہ نہ وہ صاحب شم کی شان ہے کہ دل اُس کا چاند کے مثل صفائی اور جلا رکھنا ہو صلح اور لڑائی خوشی اور غم اُسے یکساں ہو اے رام چند صاحب شم ریاضت کش داتا اور زاہد اور ہنرور اور زدر آور اور راجاؤں میں شان دار اور ہیبت ناک نظر آتا ہے اے رام چندر شم ایسا ہے کہ اُسے کوئی طاقت سے دور نہیں کرسکتا او ربزرگ لوگ اس کی محافظت کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے معرفت کو پہنچتے ہیں تم بھی حفاظت کرو۔  دوسری صفت چار دن صفات سے بچا رہے جب عقل نیک کام کرنے کے لیے نور اور صفائی حاصل کرتی ہے بشرطیکہ وہ کام محض خدا  کے واسطے ہوں نہ دنیا کے کسی اور مطلب کے لیے تو ایسی عقل کو آتما کے تصور میں تصوف کے طریقے سے کام میں لانا حقیقت بچار کی ہی بچار کی آنکھ کی روشنی میں کبھی فرق نہیں آتا ہاں سر میں جو آنکھ ہے اُس کی روشنی کبھی ہوتی ہے او رکبھی نہیں ہوتی ہو اندھیرے میں دیکھتی ہے اور یہ نہیں دیکھتی اور وہ سورج کے سامنے جوں کی توں رہتی ہے اور یہ چوندھیاں جاتی ہے بچارا ُس کا نام ہے کہ تو جانے میں کون ہوں او رعالم کا موجود۱؎ معلوم ہونا جو سخت مرض ہے اور تشویش میں

(76)

ڈالتا ہے ۔   کیو نکر یہ تشویش دور ہوگی او رعلم آلہیات کے حکم سے جانے کے موجودات جو نظر آتی ہے اس کی اصل حقیقت کیا ہے تیسری صفت چار دن صفات میں سے سنتو کھ ہے اور اس کو سمجھنا چاہئے کہ کمال کی صفت اور بڑی مسرت کی باعث ہے اور سنتوکھ والے کو تمام اوقات کمال آسودگی ہے اے رام چندر سنتوکھ کے آب حیات سے جو شخص سیراب ہوا دنیا کی لذتیں اُس کے نزدیک زہر قاتل ہیں سنتوکھ کے یہ معنی ہیں کہ انسان اس چیز پر قناعت کرے جو اُس کے پاس ہے کم ہو یا زیادہ اور خوش رہے اور زیادتی پر آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھے جو دل کہ دنیا کی شہوات میں پھنس گیا ایک زنگ آلودہ آئینے کے مانند ہے کہ معرف کی صورت اس میں نہیں دکھلائی پڑتی اے رام چندر سنتوکھ سمتا کی صفت دینا ہے یعنی تھوڑے او ربہت کا برابر جاننا کہ اہل ہنر اُس کو پسند کرتے ہیں اور وہ زیبا یشی زیور ہے جس نے دل کی دلہن کو نبھایا بڑے لوگ اس کے تابعدار ہوجاتے ہیں ۔  چوتھی صفت منجملہ چار دن صفات کے سادھ سنگم ہے کہ عالم کے دریا سے سنگم کی ناؤ کے سوا اتر نہیں سکتے

از غیرت نازست کہ آن حسن جہاں تاب۔  واکر ونقاب ازرخ وبرردی جہاں لست

۲؎ اس مقام کا مطلب بھی خوب سمجھنا چاہئے کہ وحدت وجود سے خبر دیتا ہے ۱۲

(77)

جہاں کہیں اچھی نیت خصوصی علما آلہیات کی میسر آئے دیرانہ آبادی ہے اور افلاس دولت مندی او رموت اُس کے لیے شادی اور جشن ہے جس نے نیک صحبت کی گنگا میں اشنان کیے جس کا پانی بہت ٹھنڈا اور صاف ہے اُس کو اور نیک کام اور متبر ک مقامات کی زیارت اورجگ کی حاجت نہیں ہے ۔  اے رام چندر ۲؎ یہ    چار تدبیر سب تدبیروں سے بہتر ہیں جن سے طالب حق دنیا کے دریا سے پار ہوں یہ دولت چار قسم کی جو تیرے پاس ہے اور تیری مدد گار وہ سخن کہ نادانی اور غفلت کو

۱؎ جگ ہندوؤں کی ایک قسم کی عبادت ہے جس میں دعاؤں کے پڑھنے اور خوشبوؤں اور قربانی سے فرشتوں کی دعوت کرتے ہیں اور ان سے دین  ودنیا کے مقاصد چاہتے ہیں ۱۲یہ ۲؎اشارہ اُس کی طرف ہے کہ جو شخص ترک و تجربہ سےاپنی جستجو میں ہو اور طلب حق میں اپنے تئیں گنوا زیادہ شرعی تکلیفات سے فارغ ہے جو عبادات کہ شرعی ہیں ان حضرات کے اشغال سے مرتبہ میں کم ہیں اہل اسلام سے جو اعتراضات اُن اولیا واصل پر کرتے ہیں جو ظاہر سے آنکھ بند کیے باطن کی طرف متوجہ ہیں بیجا ہیں نہیں جانتے کہ وے جسم اور جسمانیات سے گذر گئے ہیں اور نماز عبادات ظاہری جسمانی سے ہے جس وقت کہ نفس مدر کی کا  تصرف عالم محسوس سے منقطع ہوگیا نماز کے اوقات سے ان کو خبر کہاں جو شخص زماں اور مکاں کی قید میں ہیں وہ صحیح دوپہر اورشام کی خبر رکھتے ہیں اور جو لوگ اس قید سے خلاصی پاگئے اور اطلاق کے مرتبہ پر پہنچ گئے اہل مکاں وزماں بیچارے اُن کے حال سے کیا واقف ہیں کہ وے کس لذت اور سرور میں مستغرق ہیں ۱۲

(78)

دور کرنے والا ہے میں تجھ سے بیان کرتا ہوں کان لگا کر سنوں اے رام چندر مُکت ۱؎ مقام کی بات اور مرض غفلت کی دوا اگر بے ارادت بھی سنے اُسے بھی فائدہ ہوتا ہے اور اُس کو معرفت کے مقام تک پہنچا دیتی ہے اور نفس کے عیبوں سے پاک کرتی ہے مثلاً حرص ہو یا غفلت یا اس کے سوا او رکچھ ہو اور دل اُس کا صاف اور روشن ہوجاتا ہے اور ضعیف اور بڑھا پا بیماری اور افلاس جو سب کو ستاتا ہے اس کو تکلیف نہیں پہنچا تا جس طرح زرہ بکتر پہنے بدن میں تیر نہیں کام کرتا ۔  اور دنیا کے خوف اُس کے دل کو نہیں ہلاتے اس بات کا سننے والا سمتا یعنی سنتوکھ حاصل کرتا ہے قرار او رچین پاتا ہے جیسے سمندر بن مندر پہاڑ کے (اور یہ وہ پہاڑ ہے کہ دیوتاؤں نے اس سے دریا کو پاش پاش کر چودہ موتی نکا لے ایک لچھی ۲؎ جو بشن کی عورت ہے دوسرا کو ستہہ من اور

۱؎ آزادی ووصول مبدر کی صوفی اُس کو فنا کہتے ہیں ۱۲ لچھمی ۲؎ دولت کو کہتے ہیں اور یہ روحانیت بشن کی گھر والی ہے اور سابقا نا واقفو ں کی آگاہی کے لیے تفصیلوار حاشیہ پر تعریف لچھمی  کی تحریر ہوچکی ہے کہ ہندو لوگ مثل حکما اشراقین یونان اور عجم کے کہتے ہیں کہ کوئی شے اشیا بے نفس نہیں ہے حتیٰ کے بیماری کا رب اور رب النوع بھی مانتے ہیں اور قول اشراقیاں کا مصداق کہ عقل کو پدر معنوی اور نفس کل کو مادر معنوی عالم کا کہتے ہیں فعل وانفعال کے اعتبار سے کہ عقل کل مفیض ہے اور نفس کل مستفیفں۔  حکما ے ہند بھی ہر فرشتے کی صفات کو اس کی

(79)

یہ موتی نہایت ہی روشن اور ابد ارہے کہ بشن نے اُسے زیور اپنا بنایا تیسرا پار جاتک یعنی درخت طوبی چوتھا شراب پانچواں دھنتر اور وہ طبیب ہے جو دریا سے برآمد ہوا ایک ہاتھ میں اُس کے جونک اور دوسرے میں ہڑ ہے چھٹا چاند ساتواں کا مدھین گا سے جس کی صفت پہلے بیان ہوچکی آٹھواں ہاتھی ایراپت نواں گھوڑا ستپ مکُھ اور یہ ہاتھی اور گھوڑا دونوں اندر کے ہیں دسواں رنبھا اور وہ ایک نچنیا عورت ہے جواندر کی خدمت میں رہتی ہے گیارہواں سارنگ ڈھنگ اور وہ بشن کی کمان ہے بارہواں سنکھ یعنی مہرہ سفید یہ بھی بشن سے مخصوص ہے تیرھواں آب حیات چودھواں زہر قاتل ۔  سچا طالب گہرے سمندر کے موافق ہے او رسمیر پہاڑ کے مثال قرار اور آرام کے ساتھ اور چاند کی طرح ٹھنڈا جو کسی چیز سے گرم نہ ہوا ور ہمیشہ اچھے کاموں کی طرف مائل ہو جیسے نیک بخت عورت جو خاوند کے گھر میں ہنسی خوشی رہے اور اچھے کام دھند ے کرے اور اچھا کام وہ ہے جو شاستر اور گرو کے ارشاد کے مطابق ہو اور کپال کی صفات جن کابیان ہو ا

ذات سے منسوب کرزوجہ اس کی کہتے ہیں او ردونوں کی  جداگانہ تعظیم اور پرستش کرتے ہیں یمان جو دولت سبب پرورش افراد عالم کی ہے او ربشن تعین صفت ابقا اور ربوبیت کی  ہے اس واسطے اُس کو یشن کی زوجہ تعبیر کیا پچھلے اور اق میں مفصل لکھا ہے جس کو رغبت ہو اُسے ملاحظہ کرے ۱۲

(80)

جس وقت کہ حاصل ہوتی ہیں یہی جیون ۱؎ مکت ہی جس کی بزرگی بیاں سے باہر ہے اے رام چندر جس کسی نے جیون مکت پائی ہر چند عوام کی  طرح زندگی بسر کرتا ہو مگر ہمیشہ خوش وخرم رہتا ہے اور کسی سے عداوت نہیں رکھتا او ردوبار ہ جنم نہیں لیتا جو کوئی معرفت کے راستے پر جس میں ہمہ  نعمت موجود ہے وہم اور خوف سے نہیں آتا اُس کا نام آدمیوں کے اندر شمار نہ کرنا چاہئے ہو ایک کیڑے کی مثال ہے جو پیٹ سے نکلتا ہے۔  شاستر کا پڑھنا اور سمجھنا شادی اور غم دولت اور افلاس میں یکساں رہنا اُستاد اور شاگرد کی خدمت میں نہایت ادب اور انکسار کے ساتھ حاضر ہونا علما اور خداشنا سوں کے دیدار اور صحبت سےفائدہ اُٹھانا عالم کے بقا اور فنا میں فکر کرنا نیک اعمال

۱؎ جیون مکت کے معنی ہیں آزادی اور رستگاری اور مبدر سے ملنا کہ حضرات صوفیہ اس کو فنا کہتے  ہیں لیکن مرتبہ جیون مکت کا زندگی دنیا تلک ہے اور بدیہہ مکت فنائے مطلق ہے اس لیے کہ فنا ئے مطلق میں بزنکا باقی رہنا محال ہے اس واسطے کہ جسم کا وجود اُسی وقت تلک ہے کہ نفس ناطقہ اپنے ظہور کے ساتھ توجہ تصرف کرے اور کثرت کی طرف مائل بموجب کہ اُس کی توجہ مدبرانہ منقطع ہوگئی اور اہنکار یعنی انا نیت جاتی رہی تو وہ مثل قطرہ کے پانی میں اپنے مبدر سے جاملی جس طرح قیامت قبر سے میں علم حق ظاہر سے باطن کی طرف متوجہ ہوگا اور کل عالم فنا ہوجائے گا اسی طرح جسم انسانی بدیہہ مکت کی حالت میں کہ وہ فنائے مطلق ہے فانی او رمعدوم ہو جائے گا مشابہت ہے عالم کبیرو عالم صغیر میں ۱۲

(81)

کی عادت سے باطن کی صفائی کرنی اور قوت کے لیے کسب  ملا ل کرنا سالک کے لیے شرط ہے مگر ان مراتب کا بجالانا اُسی وقت تک ہی کہ تُری ۱؎ اوستطا کے مقام کو نہیں پہنچا اور وہاں پر متمکن نہیں  ہوا ( اور تری اوستھا دوام استغفراق او رکمال آرام ہے  اس میں کے مطلوب حقیقی کے جمال کو دیکھا کرے اور جو کوئی اس مقام میں ٹھہر گیا دنیا اور دنیا دار وں سے منھ موڑ لیا اور جو قاعدے کی بیدور سُمر ت یعنی بزرگوں کے کلام میں زیست اور موت اور گرہست یعنی خانہ داری اور سنیاس یعنی ترک و تجرید کے قرار پائے ہیں اس مقام والے سے تعلق نہیں رکھتے اور وہ ان تکلیفات شرعی سے مرفوع القلم ہی بسشٹ نے فرمایا اے رام چندر اب تفصیل معرفت کے ابواب اور عارفوں کی فکر کا خلاصہ تجھ سے بیان کرتا ہوں کان رکھ کر سنُو اور جو بات دلیل کے ساتھ ثابت ہو اگر بچے سے سُنے مان لینی چاہئے اور جو بے دلیل ہو اگر برھما کہے تو بھی خیال نہ کرنی چاہئے ۔  اے رام چندر جتنی تشبیہیں اور مثالیں کہ حقیقت کے سمجھانے کے لیے بیان کے اندر لاؤن وہ سب حادث ہیں اور جو مطلب اصلی ناقابل حصول ہے قدیم اور باقی ہے

۱؎ یعنی شخص تمام طریق کے سلوک سے گذر گیا یعنی سلوک ایک مقصد حاصل کرنے کے لیے ہے او رمقصد اعلیٰ کو پہنچا شروع اور بید کے آداب بجالا نے کا مکلف نہیں ہے۱۲

(82)

پس مشبہ اور مشبہہ بہ میں مناسبت نہیں ہے چاہئے کہ اس راہ سے اعتراض کرنا اور تشبیہ تامہ من جمیع الوجوہ نہیں ہوتی اور اعتراضات کا کرنا منطقی لوگوں کاکام ہے اور طالبان حق  سے نازیبا ہے اور مطلب کو نقصان پہنچا تا ہے اور عالم کے ظہور اور اُس کے مراتب میں فکر اور بزرگ پیشواؤں کے قدم بقدم چلنا دونوں شرط سلوک کی ہیں ایک دوسرے بغیر بے فائدہ ہے پس مناسب ہے کہ دونوں کو ہمیشہ کی کثرت اور پورے استعمال سے ضبط کرو اے رام چندر جو تجھ سے کہتاہوں اگر اچھی طرح تو سُنے اور سمجھے خود معرفت کے مقام پر تو پہنچے گا اور بہ سماعت نیکی ناحی اور عمر کی درازی اور تمام حاجات کے برآبد کی سبب ہوگی اور معرفت کی صفت ہر گز تیرے ہاتھ سے نہ جائے گی۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018


Loading..

Loading..