New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 12:39 PM

Books and Documents ( 21 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 30) جوگ بسشت: پرمان پرکرن: راجہ بھاگیر تھ کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

رام چند نے کہا کہ سنا گیا ہے راجہ بھاگیر تھ دریائے  گنگ کو آسمان سے زمین پر لایا تھا جو تدبیر کہ اس  باب میں  اُس نے کی نقل فرمائیے حکایت  بسشٹ نے فرمایا کہ راجہ بھاگیر تھ نے ابتداء جوانی میں تصور کیا کہ دنیا کے سب کام مکر ر اور دوبارہ ہیں اور ہمیشہ راتدن آگے پیچھے آتے ہیں اور جو کچھ کل کیا گیا وہی آج کرنا چاہئے چاہتا ہوں اہتمام کرو ں کہ دوبارہ نہ ہو اور پھر کام کرنے کی  حاجت نہ ہو  او رکوئی مطلب ایسا نہ ہو اس لیے اس نے نرمل رکھیشر کے پاس جاکر اُس سے پوُچھا کہ عالم کے غم خصوض مرنے کا غم کس طریق سے برطرف ہوتا ہے نرمل نے جواب دیا کہ جو کچھ قابل جاننے کے ہی یعنی پرم آتما اُس کو جس نے جانا سب غمو ں سے خلاصی پائی بھاگیر تھ نے کہا میں  یہ بات جانتا ہوں مگر یہ دانستگی میرے دل میں نہیں  ٹھہرتی نرمل بولا جو شخص اپنے باطن کی طرف متوجہ ہو عورت او رلڑکے مال متاع اور تمام اسباب دنیا سے بے تعلق ہو

(287)

ہم  جنسوں سے صحبت کی رغبت نہ رکھتا  ہو ثبات اور قرار حاصل کرتا ہے بھاگیرتھ نے پوُچھا کہ اہنکار جو سالہا سال سے دل میں  قرار پکڑے ہوئے جائے گیر اور متمکن ہوئے دور نہیں ہوتے  نرمل نے کہا جو کوئی  لذات کو چھوڑے او رہستی  مطلق کو نظر میں  رکھے اور اپنے شغل کو برابر کیے جائے اُس سے اہنکار دور ہوجاتا ہے  اور جب تک آٹھ کمندین جن سے خلائق کا دل  بندھا جکڑا ہے نہ کاٹے شغل بھی برابر نہیں جاری رہ سکتا ایک دل بستگی وابستوں کی پرورش کی دوم شک اور تردو اُن کا موں کے اندر جو شروع کیے کہ اس کا کچھ پھل ملے گا یا نہیں  تیسری حرص اور آرزو ولذّات او رشہوات  کی چوتھی  شرمندگی  دنیا میں رحم وعادت کے چھوڑنے سے متعارف او رمستعمل ہیں پانچویں  خلق کو حقیر دیکھنا جس وقت کہ علم او رعمل میں اُس کو نہ پہونچے چھٹی اپنی قوم وقبیلہ  کے عزت اور شان پرنظر کرنی  ساتویں اپنی عزت اور جاہ َ کا پابند  ہونا کہ جن سے اپنے انبا سے جنس میں ممتاز ہو آٹھویں مقید ہوناعزت اور شان کا جو آبائی  اور موروثی  ہے۔  اے راجہ نشان طلب صادق کا یہ ہے کہ اپنی تمام دولت دفعۃً دشمنوں کو دیدے اور جو ضروری قوت کا محتاج  ہوتو دشمنوں کے دروازے پر ٹکڑے مانگے  او رکُل مطالب سےدست بردار ہو اور مجھے بھی چھوڑ دے کہ مرشد تیرا ہوں

(288)

 اور اگر تو میری بات پر عمل کرے تو مقام اعلیٰ پر تو پہونچگا ۔  بھاگیر تھ نے مرشد کا کلام سن کر چند روز راج کاج بعد جگ شروع کیا اس کا  یہ ارادہ تھا کہ اس بہانہ سے دنیا سے دنیا کا اسباب الگ  کرے پس تھوڑے عرصہ میں تمام نقد اور جنس محتاج اور برہمنوں کو دیدی حتیٰ کہ پوشاک  کے سوا جو پہنے ہوئے تھا کچھ باقی نہ رکھا اور راجائی ایک ہمسایہ دشمن کے حوالہ کی اور ملک سے باہر چلا گیا اور ایک مدت ریاضت اور عبادت میں مشغول رہا اور کمال معرفت کو پہنچ گیا چند عرصہ تک اپنے  مرشد کے کلام پر عمل کر کے اپنے ایک کو واپس آیا اور فقیروں کی طرح راجہ کی ڈیوڑھی پر گذر کیا اور ایک مدت وہاں بسر کی راجہ اُس کے احوال سے خبر پاکر اُس کی ملاقات کو آیا اور کمال شرمندگی کے ساتھ ظاہر کیا کہ یہ ملک تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا ہی اگر بدستور سابق راجائی اور خلق کی حاجت روائی اختیار کرو بہتر ہے بھاگیر تھ نے  قبول نہ کی اور وہاں سے چل دیا مدت بعد اپنے مرشد نرمل کی زیارت کو آیا اور اُس کی خدمت میں رہا سِّد اُس کو دینے چاہئے  وہ بھی قبول نہ کیے او روہاں سے روانہ ہوا اور دوسرے ملک کو چلا گیا وہاں کا راجہ مرگیا تھا کوئی بیٹا اُس کے نہ تھا کہ وارث ملک کا ہو اُس کے وزرا امرانے راجہ بھاگیرتھ کو دیکھا اور راجائی کے نشان اس میں پاکر بڑی تمنا سے راج ملک کا اُس کو یاد دلایا راجہ بھاگیرتھ نے ان کے

(289)

التماس کو تہایت بے تعلقی سےقبول کیا ایک  عرصہ بعد بھاگیرتھ کے ملک موروثی کا راجہ مر گیا اور فرزند اُس کے نہ تھا وزیر لوگ راجہ بھاگیرتھ کے پاس آئے اور ماجرا بیان کیا کہ اب ملک خالی  ہوگیا ہے اور ایسا کوئی نہیں کہ راجائی کی لیاقت  رکھے امید وار  ہیں کہ مہربانی کی نظر اس ملک کی رعایا پر کر کے وہاں کا راج قبول کر و راجہ بھاگیرتھ نے بضرورت اس بات کو قبول کیا اور بعد چند ے سات ولایت کی  راجائی اس کے تعلق ہوئی او ر عین راج میں ہزار سال سخت ریاضت کھینچی اور دریائے گنگا کو آسما ن سے زمین  پر اُتار لایا اور گنگا کے لانے کا سبب یہ تھا کہ ساٹھ ہزار آدمی جو بھاگیرتھ کے بزرگ او رمورث تھے ان کو کپل رکھیشر مصنف سانکھ شاستر وغیرہ نے ایک تقریب میں جلادیا تھا اور ان کی ارواح دوسرے اجسام سے متعلق ہوکر دوزخ میں گئیں  اور ان کی ہڈیاں لڑکوں نے ایک کنوئیں میں محفوظ رکھی تھیں اور کپل رکھیشر نے دعا کی تھی کہ جس وقت دریائے گنگا  زمین پر آئے اور یہ ہڈیاں گنگا جل میں  دھوئی جاویں کُل ساٹھ ہزار آدمی دوزخ سے خلاص ہوکر بہشت میں جائینگے اس واسطے راجہ بھاگیرتھ نے بڑی سعی اور تلاش سے گنگا کو دوزخ سے نکالا اور زمین پر لایا اس کی تفصیل مہابھارت اور پرُ انوں کی لکھی ہوئی ہے بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چند دل اپنا مستقیم رکھ کر راجہ سکھد ھج کی طرح آرام تمام سے پرم آتما کی خلوت میں نشست کیجئے رام چند نے پوچھا کہ راجہ سکھدھج نے معرفت کی

(290)

دولت کس طرح پائی حکایت بسشٹ نے فرمایا کہ سات منوتر  کے گذر نے کے بعد جس کے دوارب  چودہ کرور ستر لاکھ چالیس ہزار سال ہوئے دوا کے پر جُگ میں ملک مالوہ کا راجہ سکھدھج  نام ہوا عدل اور انصاف بخشش اور وقار او رمہربانی کے صفات سے موصوف اور راجہ ملک  سورتھ کی لڑکی حوارلہ نام اُس کے نکاح میں تھی اور شوہر سے کمال  محبت او راخلاص اُسے تھا اور میاں بی بی ایام جوانی کو بڑے ناز نعمت عیش اور عشرت  میں گذر اتنے  تھے جب دیکھا کہ جوانی کا آفتاب زوال پر پہونچا جس طرح ٹوٹے برتن  میں پانی کہ آخر کو نکل جا تا ہے اور ضعیفی  کی سردی عمر کے باغ کو جس طرح برف گل نیلوفر کو خشک کرتی ہے  اور اجل رسیدہ کو پکے میوہ کی طرح جو درخت پر ہو نہیں بچا سکتی  او رہر چیز دنیا میں مائل بہ کمی ہوتی ہے آلاحر حل درآرزو اور دل خوشی اور فراغت دنوں سے ایسی جاتی  ہے جس طرح تیرجو کمان  سے نکلا ہو دونوں راجہ او ررانی باہم کہنے لگے کہ ہر گاہ عالم کا کام کیلئے کی طرح بے  مغرہی تو ہم ایسا کام کریں کہ لوک کا غم ہم سے دور اور جینا مرنا برابر کردے اس لیے بیدانت شاستر کا شغل کیا اور اکثر کاموں کو چھوڑ درویشوں اور  رکھیشروں کی باتیں  سنا کرتے حورالہ بمقتضا ئے فطرت عالی راجہ پر سبقت لے گئی اور پہلے اس سے معرفت کو پہنچی  اور جب اس کا باطن نور معرفت سے معمور ہوا اور صفائی اور لطافت آگئی باطن کی شگفتگی اور سرورنے اس کے ظاہر میں بھی

(291)

اثرکیا اور جوانی  کی تازگی  اُس کے بدن میں  نمایاں ہوئی راجہ اُس کا یہ حال دیکھ کربولا کہ تجھے از سر نو جوان صاحب جمال دیکھتا ہوں اس کا سبب کیا  ہے حورالہ نے جوا ب دیا کہ میں حقیقت سے آگاہ ہوگئی  ہوں اور میں نے جان لیا کہ عالم وہم اور خیال ہے اور یافت حقیقت سے خوش اور بہرہ مند ہوئی اور دنیا کی لذات اور تنعات سے ہر گز میری دل بستگی نہیں اور  اپنے تئیں ایسا دیکھتی ہوں کہ تمام دنیا کی مالک میں ہی ہوں اور اب مجھے ارشاد مرشد کی حاجت نہیں اس سبب میں ہمیشہ خوش ہوں اور باطن کی خوشی میری ظاہر میں  جوانی اور جمال کو پھر لائی راجہ نے اچنبھے کے ساتھ اُس سے کہا  کہ لڑکوں کی سی باتیں تیری ہیں اور یہ بات عقل کے نقص سے ہے کہ وہمی خیالات کو تیری نظر میں جلوہ دے کر اس قسم کی گفتگو پر آمادہ کیا ہے یہ نہیں ہوسکتا کہ آدمی دنیامیں  رہے اور اُس کی نعمت اور لذت سے ہاتھ اُٹھائے راجہ یہ بات کہہ کر قہقہہ لگاتا ہوا باہر گیا حوارلہ نے کہا بڑا حیف ہے کہ راجہ میری  بات کو نہ سمجھا اور عالم حقیقت سے اس کو سرمو بہرہ نہیں میں حیران  ہوں کہ بعد ازیں اس نے مناسبتی کے ساتھ اس کے دمیان کی طرح صحبت اور موانست ہوگی اس فکر میں پڑی کہ راجہ کو عارف اور گیانی بنائے اس لیے چاہا کہ تھوڑی کرامات اور خوارق عادت اُسے دکھلائے علیٰحدہ کوشہ میں جاکر جوگ آسن کر بیٹھی اور اور ان بائے کے ضبط میں مصروف ہوئی اور ثمرہ

(292)

اس عمل کا یہ ہے کہ عامل تھوڑی توجہ میں آکاس اور پاتال کو جاتا ہے رام چند نے پوچھا کہ اور ان بائے کا ضبط جس کا اثر یہ ہے کہ کیونکر ہی اور کس طرح ہاتھ آتا ہے بسشٹ نے فرمایا کہ اس عمل کا طریقہ یہ ہے کہ اول طریق جوگ کا جوگ شاستر سے سیکھے اور جس قسم اور جس مقدار کی غذا کہ شاستر میں مقرر ہے اس سے تجاوز نہ کرے اور بیٹھک کی وضع میں جسے آسن کہتے ہیں  ایسا قرار دے کہ پانی اور آگ نزدیک نہ ہو اور آدمی جانور  سُنائی نہ دے اور شہوت اور غضب سے پرہیز کرے پھر ہوا کا راستہ بند کرے اور  جو مطلب ہو اس کے سوا دوسری چیز کی خواہش نہ رکھے  اور جس ترتیب سے کہ اس کا پہلے ذکر ہوچکا  ہو اُدن کو حبس کرے اور جب بدن کی ہوائیں کسی کی تسخیر ہوجائیں  تمام مطالب اور کمالات کلّی  اور جزوی حتی کہ سلطنت اور مکت و معرفت اُ س کو ملتے ہیں اس ہوا کی جگہ ناف کے گرد ہی سانپ کی صورت بندھی ہوئی اور آدھی  پیچ کھائے اور سر اُس کا اوندھا ناف کے نزدیک رگ سکھمنا سے ملا ہوا ہے اور دُم اس کی بھی کسی قدر اس سے نیچے کی طرف رگ مذکور سے چپکی ہوئی ہے اور جو ہوا کہ اس عضو میں لپٹ جاتی ہے اُس کا نام کنڈ لنی ہے اور مادہ اُس کی حیات اور حس وحرکت کی ہے اور اس ہوا کا منشا ء دل ہے جب تک گرودل کے گھومتی ہے پر ان بائے اس کا نام ہے اور اصطلاح قوم میں اسے روح کہتے ہیں اور جب گلے میں پہونچی اور وہاں قوت پاکر دماغ میں گھر کیا

(293)

تو اس کا اددان باے نام ہوا اور جب دل کے نیچے ناف کو پہونچی اور وہاں قوت پاکر باطنی  اعضا سے تعلق حاصل کیا اور اس وقت سمان ماہی اس کو کہتے ہیں  اور جب ناف کے نیچے مقعد کے مقام پہونچی اور وہاں ٹھہر کر پاوں کے اعضا اور انگلیوں تک حرکت کرتی ہے اُسے اَپان باے کہتے ہیں اور جب سیر اُس کی  تمام جسم میں ایک نسبت کے ساتھ قرار پکڑے اُس کو  بیان بائے کہنے لگے اور اس سے ظاہر ہوا کہ سب ہواؤں کی  اصل پران باے ہے اس واسطے سب کو پران باے کہتے ہیں ان ہواؤں کی عامل سکھمنا رگ ہے جو نیلو فر کے بوتہ سے مشابہ ہے اور عضو کی کنڈلنی کی جگہ ہے وہ ایک رگ ہے جس کی صورت کیلہ کی جڑ کے موافق ہے اورچھوٹی بری رگین کہ اُس عضو کے پائیں میں ہیں ریشوں کی  مثل ہیں کہ ان کی وساطت سے قبض روح حیوانی  کا آدمی کے نیچے کے بدن میں  پہو نچتا  ہے اور جورگیں کہ عضو مسطور سے بالا تر  اور سکھمنار گ سے متصل ہیں شاخونگی طرح ہیں کہ اوپر کے آدھے بدن کو فیض پہنچاتی ہیں پس تمام بدن کے ادراک اور اُس کو قبض پہونچانے او رطلب کرنے حیات کا منشاء اور مبدٔ یہی رگ ہے اور جوگ کا مدار اسی  پر ہے اورپران باے اور اپان باے پر ۔ اور جو شخص جوگ کے عمل کو تمام کرے فائدے عظیم دیکھتا  ہے او رکوئی بیماری جسمانی روحانی اُس کو نہیں ہوتی بسشٹ نے فرمایا کہ بیماری دو قسم کی ہے جسمانی

(294)

اور روحانی اول کو بیادھ کہتے ہیں اور دوسری کو آدھ کہتے ہیں  اور باطن کی بیماری  غفلت از حق ہے اور حرص او رشہوت غم اور غصہ اور حقائق اشیا کا نہ جاننا اور انجام امورات اور اُس کی امثال سے بے خبر رہنا  اور یہ سب اسباب  بیماری جسمانی  کے ہیں اس واسطے کہ جو لوگ حق سے غافل اور حرصی لذات کے ہیں غذا اورپانی میوے اور شراب کے کھانے پینے میں  اعتدال کا لحاظ نہیں رکھتے اور ترک اعتدال باعث بیماری ہےاور اسی طرح صاحب شہوت مستی جماع میں گرمی سردی کے پہونچنے سے نہیں ڈرتا اور بیمار ہوجاتا ہے او رغم  اور غصہ یہی سبب دیر میں  غذا کھانے کا او رہضم میں خلل ڈالنے کا ہے اور جو شخص حقائق اشیا پر مطلع نہیں او رنافع و مضر غذا میں تمیز نہیں کرتا  اور مضر کھانا فاسد مادہ پیدا کرتا  ہے اور رگین مواد سے مملو ہوجاتی ہیں جس طرح دریا برسات کے دنوں میں میلے کچیلے  پانی سے بھرجاتا ہے او رمواد صالح جاڑے کے ایام میں جیسے پانی صاف او رپاکیزہ ہوتا ہے اور بیماری باطن کی بھی دو قسم ہیں ایک تو مشہور ہے جو مذکور ہوئی دوم بار بار کے تنزلات اور تعلقات روح کے جو متعدد اجسام ہوتے ہیں اور دونوں قسم کا علاج معرفت اور گیان کا حاصل کرنا ہے اور ظاہر کی بیماریوں کا علاج بھی دوقسم ہے اور دواؤ ں کا استعمال دوم دعاؤں کا وظیفہ کرنا ۔  فن ادعیہ کے علما جانتے ہیں  کہ

(295)

ہر ترتیب اور ترکیب حروف اور کلمات کی ایک اثر اور خاصیت رکھتی ہے اور جب تبدیلی اُس میں آتی ہے تو وہ اثر اور خاصیت  نہیں رہتی  اور دعاؤں کی بھی  دو طرح کی خاصیت ہے ایک بے واسطہ جیسے بیماری  کے دفع ہونے کےلئے خاص دعا قرار  دی ہے مثلاً ایک منتر جو برھما سے منقول ہے اور اس سے بسو چکا کا آزار دفع ہوتا ہے دوسرابواسطہ  یعنی سبب اس کے کہ دعا پڑھی  جاتی ہیں  دل کی صفائی اور قوت بہم  پہونچی ہے اور دل کی تقویت سے طبیعت کو قوت ہوتی  ہے اور وہ بیماری  کو دفع کرتی ہے بسشٹ نے فرمایا کہ آدھ بیادھ کی حقیقت تقریباً آپ سے ہم نے ذکر کردی اب  چاہتا ہوں کہ بعضے فائدے جوگ کے جو کُنڈلنی کے تعلق ہیں  تجھ سے بیان کروں اے رام چند جس وقت کہ عامل کنڈلنی کو عمل پورک کے ساتھ پران بائے سے پرکرے بدن کو قوت ہوتی ہے اور کرمان  سدِھ ظاہر  ہوتا ہے اور پہاڑ کی طرح بند بھاری ہوجاتا ہے اور اگر کنڈلنی کی اکھڑی ہوا کہ برمھ ناڑی یعنی   رگ سکھمنا کی راہ سے اوپر کو کھینچے اور برمھ بدھرتک پہونچا ئے او روہ ایک سوراخ وسط سر میں  ہے اور آس پاس اُس کے جگہ  ہے بارہ انگل کے غرض سے جس کا آکاس نام ہے جو ہوا کہ سکھمنا کی راہ سے اوپر کھینچی  جائے دو گھڑی کتھک کے عمل سے وہاں ٹھہر ائے آکاش اور پاتال تک جاسکتا ہے اور جو اُسی ہوا کہ ریچک کے عمل ہو جب ناک کے راستہ سے باہر لائے

(296)

اور بارہ انگل تک نگاہ رکھے کہ وہاں  سے سر مو اوپر نیچے جنبش نہ کرے رجال لغیب کو دیکھے اور ان سے نفع اُٹھا ئے اور دوسرے بدن میں  آسکتا ہے رام چند نے کہا کہ ایمان  سدِّھ یعنی  قدرت چھوٹے بڑے ہونے کی فرمائیے کہ کس طرح حاصل ہوتی  ہے بسشٹ نے فرمایا کہ جیسے ہستی لطیف تھوڑی حرکت سے جیو آتما ہو جاتی ہے اور جب کثافت حاصل کرتی ہے تو جسم ہوجاتی ہے اسی طرح عارف جس وقت کہ مستی کی لطافت کو تصور کرے اور اُس کے غیر  سے آنکھ بند تو جس قدر  چاہے لطیف اور باریک ہوجائے اور جو کائنات کو اُس تفصیل کے ساتھ کہ جو اُس میں ہی ہستی  سے پر دیکھے جس قدر چاہے کلان  اورجسیم ہوجائے بسشٹ نے فرمایا اے رام چند عارف کا مل کو بہت تصرفات ہوتے  ہیں  زہر کو آب حیات کرسکتا ہے اور آب حیات کو زہر اور ان دو سدِّھ بلکہ آٹھوں سدھ کا مالک ہوجاتا ہے اور حورالہ اسی تصرف سے پاتال اور آکاش کو جاتی  اور دوم بھر میں تمام روئے زمین کی سیر کرتی او رہمیشہ اُس کی یہ آرزو تھی کہ راجہ سکھدھج گیانی ہوجائے اس بات کی طرف متوجہ ہو اور منتظر رہتی  اور راجہ  معرفت اور حورالہ کے عارف ہونے بے خبر تھا جس طرح لڑکا اور نادان کمال علم اور رتبہ اولیا سے آگاہ نہیں ہوتا اور حورالہ بھی اپنی حقیقت راجہ پر ظاہر نہیں کرتی تھی جس طرح سے پنڈت احکام اور اعمال بید کے

(297)

نکمہ سے نہیں کہتا رام چند نے پوچھا کہ راجہ سکھدھج نے حورالہ کے ارشاد سے معرفت کی راہ نہیں پائی اور حقیقت  کو نہ سمجھا بسشٹ نے فرمایا کہ قاعدہ ارشاد اور استرشاد کا ایک طریق مقرر ہ ہے کہ کسی طالب کو اُس سے چارہ نہیں ہے لیکن بمجرد ارشاد مرشد کے لازم نہیں کہ ہر ایک شخص واصل بحق ہوجائے اور جو  واصل ہونے  والا ہو اپنی تیز فہمی سے واصل ہو جاتا ہے  رام چند نے پوچھا کہ ہر گاہ ارشاد سبب وصول بحق کا نہیں ہے پیری مریدی کا طریق کس واسطے مقرر ہو ا ہے بسشٹ نے فرمایاکہ اس باب میں ایک تمثیل کہتاہوں سُنو کہ ایک بقال تھا مرتا ضوں کی طرح بندھ پہاڑ کے جنگل میں رہا کرتا ایک دن جنگل میں روپیہ اُس کا کھو گیا اُس کی جستجو میں کوشش کررہا تھا کہ اس درمیان اس نے مُہرہ چنتا من پایا اُس مہرہ کی یہ خاصیت ہے کہ جس کے پاس ہووہ جو چاہے اُس سے پائے اسی طرح طالب حق مرشد  کے سامنے  جاتا ہے کہ سخن حق کو سُنے اور سخن بخبر حرف اور صوت کے نہیں اور حق نہ حرف ہے نہ صوت کے نہیں  اور حق نہ حرف ہے نہ صوت ہے پس طالب سخن کی سماعت کو جگاتا ہے اور اُس سخن کی برکت سے حق کو پاتا ہے جس طرح بقال روپیہ ڈھونڈ ھتا تھا او رمہرہ چنتا اُس سے مل گیا سکھدھج ہر چند حورالہ کے ارشاد سے گیانی نہیں  ہوا الا نیک صحبت کے اثر سے اُس کو نفرت اپنے آپ اور عالم کی رسوم سے پیدا ہوگئی اور راج اس کو زہر کے موافق تلخ ہوگیا کبھی اپنا مال فقیر وں کودیتا اور متبرک مقامات کو

(298)

جاتا اور کبھی چند روز گوشہ نشینی  اختیار کرتا ایک دن  حورالہ سے نہایت غم اور غصہ میں کہا کہ اتنی مدت راج کیا اور دنیا کے مزے اڑائے اب میرا دل ان باتوں سے ہٹ گیا جی چاہتا  ہے کہ بیان میں چلا جاؤں اور تنہائی میں بسر کروں حورالہ بولی  ابھی تم جوان ہو اور یہ کام بوڑھوں کے لیے مناسب ہیں راجہ نے کہا  کہ اب تو یہ عزم مصمم کرلیا ہے  او رمن بعد اور کوئی کام میں نہیں  کرسکتا تو میری منکوحہ ہی مانع مزاحم نہ اور ہو میری رضا مندی  اختیار کر اور میری غائبانہ راجائی کا کار بار انجام دے اور ایسا کر کہ عدالت اور حسن سلوک سے تیرے خلق  خدا راضی  اور مرفہ حال رہیں جب رات ہوئی باوجود یہ کہ حورالہ اُس کی ہم خوابہ تھی آدھی  رات کو اُسے سوتے چھوڑ کر باہر چلا گیا اور راج سے الگ ہوکر بیابان چشمے جاری  اور مرتاضون کے عبادت خانے خالی دیکھ کر ایک گوشہ اپنے واسطے اختیار کیا اور عبادتیں مشغول ہوا حورالہ جاگی  تو جگہ اُس کی خالی  دیکھ کر دل گیر ہوئی اور آکاش کی طرف پرواز کی راجہ کو دیکھا کہ تن تنہا  چلا جاتا ہے سمجھی  کہ بیابان کا قصد ہی واپس آئی اور انتظام سلطنت کی فکر میں  ہوئی اور لوگوں پرظاہر کیا کہ راجہ مکانات متبرکہ کی زیارت کو تنہا گیا ہے اور اٹھارہ سال تک سلطنت کے احکام جاری کیے پھر راجہ کی ملاقات چاہی اور مندر

(299)

پہاڑ پرگئی راجہ کو دیکھا لاغر اور ضعیف اور ریاضت کا اثر اس کے بدن پر ظاہر ہے دل اُس کا  دکھااور راجہ کے ارشاد کے ارادے سے اپنے تئیں ایک برہمن مرتاض ظاہر کیا آدھر اس طرح کہ پانوں اُس کے زمین سے اونچے تھے اور  سوچی کہ اگر اصل صورت سے اُس پر ظاہر ہوتی ہوں تو ایسا نہ کہ اُس کا سخن لہجہ کے دل پر اثر نہ کرے راجہ نے مرتاض برہمن دیکھ کر اُس کی تواضع تعظیم کی اور احوال پوچھا او رکہا آج میرے طالع کی سعادت ظاہر ہوتی کہ آپ ایسے بزرگ یہاں تشریف لائے برہمن نے کہا کہ کس وجہ سے تم راجائی چھوڑ کر تنہا اس بیابان میں ریاضت کھینچتے  اور تلوار کی باڑھ پر جاتے  ہو معلوم ہوتا ہے کہ معرفت او رعمر اور زر پاؤگے  سکھدھج نے کہا کہ آپ گیانی دیوتا  ہیں دنیا کا احوال آپ پر دوش ہے میرا احوال کیونکر آپ نہ جائینگے مہربانی  او رکرم کی راہ سے فرمائیے  کہ آپ کون ہیں برہمن  نے کہا کہ ایک دن نارو بیٹھا برھماکا دریائے گنگا کے کنارے مراقبہ میں بیٹھا تھا کہ زمین وہاں کی سونے کی تھی یکایک  آواز پانی کی چھٹیم چھانٹ کی  اُس کے کان میں پہنچی مراقبہ سے باہر آیا دیکھا کہ اندر کی  اپسرا ہیں برہنہ  پانی میں کھیل رہی  ہیں نارد کی قوت شہوی حرکت میں آئی اور انتزل ہوا اور اُس پانی کو بلورین کو زہ میں  جو اُس کے پاس تھا ڈال دیا ایک مدت بعد اُس نطفہ نے صورت پکڑی  اور ایک لڑکا کوزہ سے نکلا میں وہی لڑکا ہوں اور نارو مجھے برھما کے سامنے لے گیا اور برہما نے

(300)

بید کی مجھے تعلیم ہے اور گیانی بنایا اور چار بید چار یار میرے ہوئے اور سرستی  میری ماں کے بجائے ہی سکھد ھج نے پوچھا کہ نارد بزرگی اور پاکی کے ساتھ شہوت کا تسخیر کس طرح ہوا برہمن نے کہا کہ جب عارف فنا کے کمال کو نہ پہونچا ہوتو تھوڑی غفلت سے شہوت اور غضب  کا دیو اُس کے آئینہ ضمیر میں  عکس ڈال کر اُس کے ایسے کام کراتا ہے اور اگر خانی فی اللہ  کامل ہو تو ہر گز ان صفات کی طرف نہیں متوجہ ہوتا برہمن  نے پوچھا کہ اب کہو تم کو ن ہو او رتمہارا نام کیا ہے سکھدھج نے کہا کہ میرا احوال آپ سے پوشیدہ نہیں ہے مگر چونکہ عالم کو آمدرفت کی تکرار اور اُلٹ پھیر سے تکلیف اور آزار میں دیکھا  تو راج کو چھوڑ  یہاں آیا ہوں او رہر طرح ریاضت کھینچتا ہو تاکہ پھر تعلق بدنی کی محنت نہ  اُٹھاون اور میری ریاضت  اور مجاہدہ نے اب تک مجھے فائدہ نہیں دیا اور میرے دل نےاب تک آرام  نہیں  پایا برہمن  نے کہا کہ اصلی مطلب گیان او رمعرفت ہے او رمعرفت صرف عبادت اور نیک اعمال سے ہاتھ نہیں  آتی جب تلک کوئی اس فکر میں  نہ  ہو  کہ میں کون ہوں اور جہاں کیا چیز ہے اور کس چیز سے ظہور میں آیا اور کس طرح فانی ہوتا ہے اور قید کیا ہے اور خلاصی کس کا نام ہے جب تک کہ مرشد کامل کی صحبت میسر نہ آوے اے راجہ معرفت کا حصول ناممکن  ہے راجہ یہ بات سن کر بہت رویا

(301)

اور کہا اے دیوتا آپ نے اچھی بات کہی میں نے بیو قوفی اور نادانی سے اہل معرفت کی صحبت چھوڑ اپنا وقت ضائع کیےاب امید وار ہوں کہ آپ کے دیدار کی برکت سے میری غفلت اور نادانی جاتی رہے اور آپ میرے اُستاد ہیں اور میں تمہارا شاگرد ہوں جو میرے حال کے مناسب ہو ارشاد کیجئے برہمن نے کہا کہ اگر تمہیں مجھ سے اعتقاد راسخ ہے تو ایک سخن مختصر فائدہ مند کافی ہے اور جو اعتقاد تمہارا درست نہ تو شاستر کی تعلیم سے بھی نفع نہ ہوگا جیسے کسی کی ہزار آنکھیں ہوں اور اندھیرے میں اُسے کچھ سُجھائی نہیں دیتا راجہ نے کہا کہ مجھے آپ کا اس قدر اعتقاد ہے کہ جو آپ سے سُنوں بے دلیل اُسے قبول کرونگا جس طرح کوئی بید کی بات سنے اور آکر قبول کرے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL for Part-25:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259

URL for Part-26:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---26)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--اودھ-میں-ایک-برہمن-کی-حکایت/d/8269

URL for Part-27:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---27)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--کابل-میں-اکال/d/8292

URL for Part-28:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---28)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--اودّیا-کی-اقسام/d/8304

URL for Part-29: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---29)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--بسشٹ-کاکیلاس-پہاڑ-کے-اندر-عبادت/d/8366

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---30)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--راجہ-بھاگیر-تھ-کی-حکایت/d/8375


Loading..

Loading..