New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 11:01 PM

Books and Documents ( 12 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 25) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: راجہ بل کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اے رام چند اپنے دل کو راجہ بل کی طرح پاک اور روشن کر اور نجات کے مقام پر پہنچ جا رام چند نے کہاکہ راجہ بل کی حکایت بیان کیجئے بسشٹ نے فرمایا حکایت پاتا ل کے ملک میں قوم ویت سے نروجن پسر پہلاد کے ایک لڑکا تھا بل نام دس کرور   سال اُس نے راجائی  کیے اور تینوں لوگ کی نعمتوں کی لذت حاصل کی اور اتنی مدت دراز  متواتر نعمتوں سے ملول ہوکر کہنے لگا افسوس کہ جو وقت کھانے پینے او رپوشاک پہننے او ر عورات کے ساتھ صحبت رکھنے میں صرف ہو خصوص پنڈت اور دانا لوگوں کو کوئی کام ضرورت بغیر نہیں  چاہیں اس لیے سوچا کہ ایسا بھی کوئی شغل دنیا میں  ہے کہ اس کے سبب ان بے فائدہ شغلوں سے فرصت ملے بڑی  فکر کے بعد اُس کو یاد آئی  کہ ایک بار  میں نے باپ سے پوچھا  تھا کہ وہ چیز کیا ہے جو دنیا کی لذت اور امیدوں کو پورا کرے باپ نے کہا کہ دنیا میں ایک وسیع ملک ہے کہ زمین اور آسمان اور پہاڑ دریا شہر اور بیابان تیرتھ اور عبادتگاہ نہیں رکھتا اُس ملک میں ایک راجہ ہے کہ تمام عالم پر پوری قدرت رکھتا ہے اور سب کائنات پرمحیط ہے اور اُس کا ایک وزیر ہے جو اُس کے کام کو انجام دیتا ہے اور جس کام کو کوئی نہ کرسکے وہ کرتا ہے

(241)

اور عجب یہ ہے کہ وہ وزیر کچھ نہیں جانتا  اور نہ کوئی کام اپنے واسطے کرتا ہے او رجو کچھ کرتاہے راجہ کے لیے کرتا ہے میں نے پوچھا کہ وہ ملک کہاں ہے او رکس طرح ہاتھ آئے اور کون شخص  ہے جو اُس ملک کو قابو میں لایا اُس ملک کا راجہ کون ہے او رہم نے تینوں لوک کو تسخیر کیا ہے کس واسطے اُس ملک کو نہ لیں اور وزیر وہ کون ہے  باپ نے جواب دیا وہ ملک مکت کا ملک ہے اور اس ملک کا راجہ جیو آتما  ہے اور وزیر  اسکا دل اور جیو آتما  جب اُس سے نجات پائی اوردل جو اُس کا وزیر ہے کوئی دیوویت اور آدمی لشکر اور سپاہ کے ساتھ اُس پر غالب نہیں آسکتا مگر حکمت سے اور تدبیر اُس کی تین ہیں نادان کے لئے یہ تدبیر ہے کہ اپنی اوقات کو چار حصہ کرے دوحصہ دنیا کے کاروبار میں صرف کرے اور ایک حصہ شاستر کے پڑھنے میں اور ایک حصہ اُستاد کی خدمت کے لئے مقرر کرے اور متواسط چار حصوں میں سے دو حصہ استاد کی خدمت کو اور ایک حصہ شاستر کے پڑھنے کے لیے اور ایک حصہ دنیا کے کام کو دے اور دانا چار حصوں میں سے دو حصہ شاستر پڑھنے کے لیے اور ایک حصہ اُستاد کی خدمت کواور ایک حصہ حقائق او رمعارف آلہی  کے لیےمقرر کرے اور دل کو ہاتھ میں لانے سے دوچیز حاصل ہوتی ہیں ایک ان عادات کا

(242)

ترک جن سے مالوف ہوا ہے دوم مشاہدہ پرم آتما کا اور یہ دونوں پر س پر یعنی ایک دوسرے کے موقوف علیہ ہیں جس نے مالوفات کو ترک کیا پرم آتما کے مشاہدہ کو پہنچ گیا اور جو پرم آتما کے مشاہدہ کو پہنچا اس نے مالوفات کو چھوڑ دیا اے فرزند مکت کا ملک قبضہ میں لانا  عارف اور دانا لوگوں کی خدمت کرنی  ہے اور تصوف کی کتابوں کا پڑھنا اور بیدو شاستر کا اور اس کے احکام پر عمل کرنا اور لذات و مالوفات کا چھوڑ دینا اور باطن کا شغل جاری  رکھنا یہ تمام مراتب مشاہدہ  او رمعرفت خاص کو پہونچاتا ہے راجہ بل نے جو نصیحت باپ کی یاد کی اُس کا دل دنیا کی لذتوں سے سرد ہوگیا اور چین آرام اُس کو ملا او رکہا شکر اچارج استاد اپنے سے بھی یہ بات دریافت کرلوں اس واسطے مراقبہ کر شکر اجارج کو حاضرکیا اور اُس کا استقبال اور اس کی  تواضع کی اور جواہرات اور پھول اس پر نچھاور کیے او رکہا اے استاد میری  طاقت نہیں ہے کہ آپ سے کچھ پوچھوں لیکن جب آپ کے سوا کوئی اُستاد نہیں ہے اور آپ کی مہربانی اپنے حق میں نہایت دیکھتا ہوں تو کیا چارہ ہے شکر اچارج جوا ب دیا کہ مجھے اس وقت اندر لوک جانا ضروری  ہے اس قدر فرصت نہیں کہ اس مقدمہ کا جواب تفصیل دار تمہاری خاطر نشان کروں ایک مختصر بات فائدہ بخش تم سے کہتا ہوں اگر تمہاری سمجھ درست ہوگی تو سمجھ لو گے او راگر ایسی

(243)

سمجھ نہیں ہے تو جس قدر میں کہوں سمجھوگے اور وہ سخن یہ ہے کہ دنیا میں چتین سروپ کے سوا کچھ نہیں  ہے اور چتین سے سروپ ظاہر ہوا اور اس کی بقا سے باقی  ہے اور اس کے دوام سے دائمی  ہے میں نے اورتم اور تمام عالم بجز چتین سروپ کے دوسری چیز نہیں سخن یہی  ہے اور بس اب میں جاتا ہوں اور سات رکھ عارف میرے منتظر ہیں مریچ اتر و انگر ملپت پلہ کرت اور بسشٹ اور وہاں مجھے چند روز ٹھہرنا پڑگے گا شکر اچارج تو یہ بات کہ کر چلا گیا اور بل کو اُس کے دل میں صفائی  اور روشنی درآئی  جس طرح چراغ کو بلا مزاحمت ہوا کے اور آسما ن کو سردرست کی ہوائیں  ۔ بعد اس کے بل بالا خانہ میں جو بلّور کا بنایا تھا عبادت میں مشغول ہوا خادم لوگ نزدیکی  اُس کے جو وہاں جاتے اس کو مراقبہ سے ہوشیار نہ کرتے حتیٰ کہ خود بخود بیدا ر ہوا اور دنیا سے آزاد او ربے تعلق ہوکر پھر بدستور راجائی  کے کاربار میں مشغول ہوا بسشٹ نے فرمایا اے رام چندتو بھی موافق بل کے اپنے دل کو دنیا کے کاروبار سے الگ کر راجائی کا کاروبار کرتا رہ اور شاستر کے احکام سے کوئی حکم معطل نرکھ اور کسی شے سے آلودہ نہ ہو اے رام چندر پہلا دو اوابل کا پسر ہرن کشب کا راجہ اور سردار دیتوں کا تھا اسی طرح خود بخود معرفت کے مرتبہ کو

(244)

پہونچا یہ بھی حکایت سُنو حکایت پہلا د نے جب خیال کیاکہ میرے باپ چچا اور بھتیجے کُل قبیلہ میرے کو جو پہاڑوں کے موافق زبردست تھے اور قوت بازو سے پہاڑ وں کو چاہتے  تو جڑسے اُکھیڑ ڈالتے بشن نے مار ڈالا ان میں سے کوئی غالب نہ آیا اب جو میں تنہا رہ گیا کہ ان سے زور میں کمتر ہوں کس طرح بشن کو مغلوب کرسکتا ہوں میری مصلحت اسی میں ہے کہ بشن کی خدمت کے سوا اور کوئی کام نہ کروں اور ایسا ہو کہ میں عین بشن ہو جاؤں اور یشن کو اپنا یارد یادر  بناؤں اس نیت سے بشن کی عبادت اس نے شروع کی دیتوں کے لشکر نے جب دیکھا کہ انکا بادشاہ بشن کی عبادت میں مشغول ہو ا سب کے سب مخالفت چھوڑ بشن پرست ہوگئے یہ خبر جو دیوتا  ؤں کو پہنچی سب نے کہاکہ ہر گاہ دتیوں نے بش کی پرستش اختیار کی تو شاید شدہ شدہ بشن ان کی جانب دیکھے یہ سب جمع ہوکر بشن کے پاس گئے اور عرض کی شیاطین کو بشن کی عبادت سے کیا مطلب  ہے جیسے کوئی پھول بے فصل پھُولے بدی کا احتمال ہے بشن نے جو اب دیا کہ پہلا د اگریشنو ہوجائے تو بہت بہتر ہے جس طرح نیک اگر بد ہوجائے تو بہت برُا ہے یہ آخری  بدن پہلاد کا ہے اس کے بعد وہ دوسرے بدن سے تعلق نہ رکھے گا اور بدیہہ مکُت ہوجائے گا بشن نے یہ بات کہہ دیوتا ؤں کو

(245)

رخصت کیا کہ آکاش کو جا اور آپ دودھ کے سمندر میں  چھپ گیا او رپہلا  د نے عبادت اور ریاضت نہایت درجہ کی اور ابھی معرفت کے درجہ کو نہ پہونچا تھا کہ بشن دیوتاؤں سمیت  اس کی عبادت گاہ میں گیا پہلاد بشن کو دیکھ تعظیم کے لیے سروقد اُٹھ کھڑا ہوا اور ثناو صفت کہی کہ آپ خانہ تاریک جہالت کے چراغ ہیں  اور تمام نفایس زمین و آسمان کے مخرن یعنی برہما آپ کی ناف سے برآمد ہوئے  ہیں بشن نے فرمایا کہ جو تو چاہتا ہے مجھ سے طلب کر پہلا د بولا آپ جہاں و جہانیان کے مراد بخشنے والے ہیں جو مقصود کہ بہتر اور بزرگ تر اُس سے نہ ہو مجھے عنایت ہو بشن نے فرمایا کہ تجھے وہ علم نصیب ہو کہ باعث مکُت کا ہو اور آخر نادانی اور غفلت کا تیرے اندر باقی نہ رہے بشن یہ بات کہ دوسرے عالم میں گیا بعد ازاں پہلا د عالم تصور میں پڑا کہ میں بدن اور جوڑ توڑ اور آنتیں نہیں ہوں بلکہ محض آتما اور چنتن سروپ وسرب بیاپک ہوں اور میرے نور سے چاند سورج اور سب ستارہ روشن ہیں میں بہت بڑا تھا تعجب ہے کہ اپنے تئیں میں نے چھوٹا جانا تھا اب یقین کے نور سے میں نے جان لیا کہ سب میں ہی ہوں میرا سجدہ میرے واسطے ہے میں کہ تم ہوں او ر تم میں ہوں

(246)

سب کو نمشکار یعنی تعظیم ہی پہلا د یہ سخن کہ کر خاموش ہوا اور نر بکلپ سمادھ میں مستغرق ہوا اور پانچ ہزار سال تک ایک مُراقبہ کیا اس عرصہ میں مفسد ین اور نادان دیوتوں نے ملک کو حکومت  سے خالی  پاکر نامناسب کام بہت کیے بشن یہ ماجرا دیکھ کر پھر پہلاد کے پاس آیا اُسے مراقبہ سے افاقہ میں لاکر کہا کہ ابھی بدن چھوڑ نے کا وقت نہیں ہے تو نے بدن کو ضعیف کس واسطے کیا ہے چاہے کہ جیون مکُت کی تو راجائی کرے اور احوال عالم سے خبردار رہے اور چار ارب بتیس کروڑ سال سلطنت تو کرے پھر تو بدن کو چھوڑ ےگا اور بدیہ مُکت ہوگا بشن یہ بات کہہ پہلاد کو تخت نشین کرچلا گیا رام چند نے بسشٹ سے پوچھا پہلاد کو ہرگاہ ایسا استغراق ہوگیا تھا پھر کس واسطے ہوش آیا بسشٹ نے فرمایا کہ پہلاد اپنے گیان بھومکا کے چھٹے مرتبہ میں تھا اس مرتبہ میں باسنا ایک بھونے بیج کے موافق عارف میں رہتا ہے اور جب تک باسنا اُس میں باقی ہے ہوش میں آنا اُس کا استغراق سے ممکن ہے اگر کہیے گیان بھومکا کے ساتویں مرتبہ میں بھی بدن اپنے حال پررہتا ہے اس واسطے بدیہ مکت کوآٹھواں مرتبہ مراتب ہفت گانہ  دانائی سے خارج شمار کیا ہے اور جب تک بدن رہتا ہے باسنا بھی کسی قدر رہتا ہے جیسے کہ سابق مذکور ہوا اور باسنا افافہ کا

(247)

سبب ہے اس کا جواب یہ ہےکہ جو مذکور ہوا ہے کہ ساتویں مرتبہ میں عارف کا ہوش میں آنا استغراق سے ممکن  نہیں ہے اُس سے مراد یہ ہے کہ اس مرتبہ میں نہ عارف آپ سے افاقہ میں آسکتا ہے اور نہ دوسرے کے افاقہ دینے سے اگر حق تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے تقاضا سے اُسے ہوش میں لاکر اہل روزگار کے کاروبار میں مشغول کرے  یا مرشد صاحب قدرت جو قائم مقام حق کا ہے اُسے ہوش میں لائے تو ممکن ہے اور اس صورت میں احتمال ہے کہ پہلا وساتویں مرتبہ گیان بھومکا میں صاحب مقام ہوا ہو اُس کا ہوش میں لانا بشن کی طرف سے ہے نہ دوسرے کی طرف سے بشن اکمل طہورات الہی  سے ہے اور قدیم تر سب موجودات سے بسشٹ نے فرمایا کہ تمام عالم مایا کا بنایا ہوا ہے غفلت اور نادانی او رتو ہم اثر اور نتیجہ مایا کا  ہے اُس کا دور ہونا فقط دل کے قابو میں لانے سے ہے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259


Loading..

Loading..