New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 04:44 AM

Books and Documents ( 6 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 21) جوگ بسشت: استھت پرکرن: باسنا میں پھنسنا


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

جس نے دل کو تسخیر کرلیا ہر چند اُس کو آرزو نہ ہو لیکن اگر احیاناً اُس کے دل میں آئے کہ یہ بڑا کام جو کوئی اس پر قادر نہیں تجھ سے بن پڑے اس کا دل بڑی طاقت  سے انجام کو پہنچا ئے مثلاً ایک فقیر ہوکہ بڑا بادشاہ اُس کا معتبقد اور مسخر ہو اپنی ذات سے اُ س کو کوئی غرض نہ ہو مگر مصلحۃً کسی کام کا ارادہ کرے کہ اہل عالم اُس کے سر انجام سے عاجز ہوں اور عظیم الشان بادشاہ خود اپنے اوپر منت رکھ خدمت اس کی بجا لائے۔  اے رام چندر دل کو عجب قدرت حاصل ہے جب روح کو بڑے امورات کی رہنمائی کرے کہ ولایت بدن کا بادشاہ ہے دانا وزیر خیر اندیش کہہ سکتے ہیں اور جب علم کے پڑھنے پر باعث ہوتو استاد مشفق اُسے جاننا چاہئے اور جب بدن کی پرورش کرے جو تکمیل روح کا نشا ہے باپ کے بجائے ہے اورجب اپنے تئیں

(204)

فنا کرے کہ آتما کے کام پورے ہوں اور اصلی مطلب حاصل کرے تو فرزند رضا جو کے بجائے ہے کہ اپنے باپ کے کام میں اپنے آپ کو تصدیق کرتا ہے اور جب اعتماد کے لائق ہوتو یار وفاداری اور جب معرفت کا مزہ پانے کا سبب ہے تو معشوق عورت کے مشابہ ہی کہ باعث حصول لذت ہے اے رام چندر حواس اور توے پکّے دشمن اور زبردست ہیں ان کی شرارت سے بے فکر ہونا اور ہمت کی ناو پر چڑھ دریائے خطرات اور پریشان مشاغل سے دنیا کے اتر جانا اور حقیقت کی یافت سے آسودہ ہوا اور دام دسال دگت کی طرح خدائے تعالیٰ سے غافل اور خلق خدا سے لڑائی جھگڑے  پر تیار نہ ہو اور پھیم وبھیاس دودھ کے موافق معرفت آلٰہی سے فیضیاب ہونا ۔دام وبیال دگت بدکار اور جاہل پریشان روزگار شیاطین ہیں اور بھیم وبھیاس اور دوہ گواصل پیدائش میں شیطان ہیں الاّ دانائی اور معرفت کے مرتبہ کو پہنچے ہیں اجمالاً ان کی حکایت یہ ہے  حکایت ملک پاتال یعنی نیچے کے طبقہ زمین میں جہاں سب دولت اور نعمت موجود ہے اور کثرت  سے خوش رنگ پھول اور لطیف میوئے اس میں ہیں باپ شیطان ہے ۱؎ سنبر نام اور اُس نے اپنے خیال کے طلسم سے جو شیطانوں کا خاصہ ہے اور اُس کو مایا کہتے ہیں ایک لشکر تیار کیا او رکئی بار اندر کی لڑائی کو بھیجا جب دیوتا ؤں

۱؎ سین مہملہ مفتوح یانون سلکن اور ہائے موحد ہ مفتوح بارائے مہملہ ساکن ۱۲

(205)

نے قابو پاکر اُس کے لشکر کو وزیر وسردار سمیت قتل کر ڈالا سنبر نے دوسرا لشکر مایا سے کھڑا کیا اور آپ لڑائی پر چڑھا اور ایک بڑی جمعیت کو اندر کے  لشکر سے مارا اور امراوتی شہر کو تاخت وتاراج کیا اندر بھاگ سُمیر پہاڑ میں چلا گیا پھر دیوتا ؤں نے قزاقی اختیار کی اور شیطانوں کوقتل کیا کرتے اس وجہ سے سنبر نے دق ہوکر تین ویت اپنی مایا سے اور پیدا کیے بڑے زبردست زور آور کہ اُن پر کوئی غالب نہ ہو (ویت کے معنی شیطان ہیں) اور تین شیطانوں سے ایک کا نام وام اور دوسرے کا بیال اور تیسرے کا نام کت رکھا اور ان کو اپنے لشکر کام کا سردار بنایا اور حکم دیا جو اُن کے سامنے آئے مار ڈالیں او رقتل کے سوا دوسرا کا م نہ رکھیں اور بے باسنا ہر گز نہ رکھتے تھےجو محسوسات کے میل جول سے حاصل ہوتی ہیں اور مارے جانے اور زخم اُٹھانے سے اُن کو کچھ پروا نہ تھی اور مرنے جینے میں تفادت نہ کرتے سنبر نے ان کو ایک بڑے لشکر کے ساتھ پھر اندر پر بھیجا اور اس دفعہ شاطین ایسے غالب ہوئے  کہ دیوتاو ٔں سےکوئی انکا مقابلہ اور اُ ن کے سامنے ہتھیار اُٹھانے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا اور اس قدر مارے گئے کہ حساب وشارنتھا اور جہاں کہیں جاتے شاطین ان کاپیچھا کر کے مارتے اور قید کر لاتے آخر الامرد یوتا لوگ برھما کے پاس فریاد ی گئے

(206)

اور حقیقت حال عرض کی برھما نے جواب دیا کہ یہ تین ویت بڑے زور آور ہیں اور عالم کی خوبو اور باسنا کے  تصرف سے خالی ہیں اور جوزور آور کہ اُن کو باسنا نہ ہو ہر گز مغلوب نہیں ہوتے  تم لوگ ایک ہزار سال تک صبر کرو اور جو تمہارا حال ہے اس میں رہ کر لڑتے رہو اور جینے مرنے اور بھاگنے سے مانوس کرو کہ یہ جاننے لگیں کہ بدن شئے عزیز ہے اور اُس کی نگہذاشت سبب چاہتے ہیں اور جینا اچھّا اور موت برُی او ربھاگنا حیات اور بقا کا  سبب ہے اور ایسا کرو کہ ہزار سال کے اندر یہ باتیں اُن کو ملکہ ہوجائیں اور سیکھ جائیں اور باسنا میں پھسیں ہر چند کوئی عالم کا بڑا مرو ہو جب زنجیر میں بندھ جا ئے تو اُسے مغلوب جانو جیسے کہ شیر زنجیر میں بندھ جائے یہی سبب ہے کہ ارباب معرفت تمام عالم سے بڑھکر مردانہ ہوتے ہیں اور باسنا کی صفت اُن میں نہیں ہوتی جو نامردی اور ہارنے کی چیز ہے اور جو ہزار سال تک شیاطین باسنا کے عادی ہوجائینگے تم سے  ہار جائینگے اس پر مطمئن ہوکر جو ہم نے کہا اس پر عمل کرو دیوتا لوگ برھما کے فرمانے کے موافق لڑائی کا برتاو کرتے رہے او رہزار سال تک ہاتھ پاؤں مار آخر کو غالب آئے اور تینوں ویت لشکر سمیت مارڈالے۔  اے رام چندر تم دام بیال کت کی طرح باسنا کے

(207)

جال میں نہ پڑو نہیں تو مغلوب ہوگے عالی ہمتوں کو مغلوب ہونے سے عاروننگ ہی رام چندر نے سوال کیا کہ یہ تین ویت کس طرح پیدا ہوئے بسشٹ نے فرمایا کہ بے پرم آتما کے حرکت او رسنکلپ سے مثل  ہمارے تمہارے پیدا ہوئے نہ ہمارا خارج میں وجود ہے نہ ان کا وہمی وجود ہیں ہمارے ان کے تفادت کچھ  نہیں یعنی تعینات اور تشخصات وجود کے معدوم مطلق ہیں اور وجود حقیقی خاصہ پرم آتما کا ہے اے رام چندر تمام عالم  آتما میں مندرج اور کھپا ہوا ہے او رظہور اس کا علم پرم آتما کے لوازم  سے ہے اور آتما سے باہر کوئی شے نہیں پس جس نے اپنے کو خر دیکھا اپنی صورت وہمی  میں بندھ گیا او رکہنے لگا کہ نہ میرے ملک ہے نہ مال اور افسوس لڑکا بھی نہیں  اس کی یہ مثل ہے کہ اپنے گھر میں خزانہ ہو اور نجانے اور فقیر کی حالت ہے کہ گلی درگلی پھرتا ہے اور جس نے اپنے کو کُل  جانا قید تمام کائنات سے خلاص ہوا بلکہ خود کل ہوا اے رام چندر جس نے باطن کے نور سے اپنی کلیت سمجھ لی جتنے دیوتا ہیں اُ سکی حفاظت کرتے ہیں جیسے برھمانڈ کی قیامت آنے تلک کرتے ہیں اور صاف مقام کلیت کو میں آدمی سمجھتا ہوں باقی کو حیوانات جانتا ہوں اے رام چندر جو مکُت یعنی معرفت کی طرف میلان رکھے اگر شا ستر اور آسمانی کتب کے موافق سکون کرے

(208)

تو مطلب کو پہونچتا ہے اور جو نیک اعمال کی ورزش بغیر امل معرفت کے سخن کو معرفت کا وسیلہ بنائے جس قدر سمجھے اُس کا سمجھنا اُس کو مضرت کرتا ہے چنانچہ راہ یعنی راس کا سرعین آب حیات کے پینے میں قطع کیا ( اور راہ ایک ویت کا نام ہے دیوتاؤں میں چھپ کر آب حیات کے پینے میں شریک ہوا تھا چاند سورج نے مطلع اس پر ہوکر سب کو خبردار کریا اور راس کا سر قطع کیا ہر چند آب حیات مرُدہ کو جلاتا ہے مگر چونکہ اُس نے ادب اور روش سے نہیں  پیا سر اُس کا برباد گیا اور روش یہ تھی کہ دیوتاؤں سے اجازت لیکر پانی پیتا )اے رام چندر جو کوئی شاستر پڑھے اور اُس کے بموجب عمل کرے او رمعرفت کا خواستکار  ہو اور رفتہ رفتہ  سلوک کرے او راپنے کام میں اضطرابی نہ کرے تو ممکن نہیں کہ مطلب کو نہ پہنچے معرفت جو مدت بعد ہاتھ آتی ہے اس کا ثمرہ قوی ہی اور زوال اُس کو نہیں ۔ اے رام چندر دانا اگر چاہے جہا ں کوئی  اُس کی عزت نہ کر ے اور اس سبب سے اپنے نفس میں تغیر نہ پائے تو جان لے کہ دانا ہے اور دانا کے امتحانات سے یہ ہے کہ دولت مند اور مالدار اس کی طرف کم التفا ت کریں اور جو اہل دولت کے نزدیک شان اور عزت حاصل کرے باوجود یہ کہ یہ عزت ذلت اور نکبت سے کم نہیں ہے اس کا نشان ہے کہ اُس میں نقصان باقی ہے اور

(209)

خدائے تعالیٰ کے نزدیک اِ کی عزت کی قدر نہیں اے رام چندر عمدہ طریق معرفت کے حصول کا نیک اعمال کی ورزش ہے اور کوئی چیز انسان کے کمال میں شاستر کے پڑھنے کو نہیں پہنچتی اُس سے بہتر نیک صحبت اور خدمت سادھ سنگم کی ہے اے رام چندر سادھ سنگم وہ ہے کہ شاستر کلا سے کوئی عمل نہ کیا ہو اور بڑے صفات اس کے جاتے رہے ہوں اے رام چندر آہنکار کو جو میں نے عیب لگا یا سو ا س سبب سے کہ اپنی ذات کو بدن ٹھہرا کر کہتا ہے کہ میں نے اچھا کپڑا پہنا اور اگر اہنکار کی حقیقت کو سمجھ کر کہے کہ من وما سے مراد برھما ہے تو اہنکار عین معرفت اور دانائی ہے رام چندر نے کہا کہ اہنکار کی حقیقت مفصل بیان کیجئے بسشٹ نے فرمایا کہ اہنکار والے تین قسم کے ہیں ایک وہ ہیں کہ بدن کے میل جول سے اپنے کو عین بدن جانتا ہے اور کہتا ہے کہ میں لانبا یا لپت قد ہوں دوسرا یہ کہ میں کہتا ہے اور جیو آتما اُس کی مراد کہو اور جانتا ہے کہ میں لطیف ہوں اور بدن سے الگ ہوں اور بدن سے مجھے کچھ تعلق نہیں  تیسرا یہ کہ میں کہے اور برمہہ ہوں۔   پہلی قسم ناقص ہے اور دوسری قسم کا مل اور تیسری قسم اکمل اور پہلی قسم کو عارف لوگ ظاہر ہیں برُا جانتے ہیں اور مکروہ سمجھتے ہیں اور نہیں کہتے کہ میرا عصا اور میرا کوزہ اور میری نعلین اے رام چندر سنبر نے

(210)

جب جانا کہ دام بیال کت باسنا کی شامت سے ہار گئے تو کہا تین ویت اور بناؤں جوگیانی ہو ں اور شاستر جانتے ہوں اور اہنکار کے پابند نہ ہوں ان پر کوئی غالب نہ ہوگا یہ منصوبہ سوچ کر تین اور دیت بھیم بھیاس دَدہ اپنی مایا سے بنا ئے دے اپنی معرفت اورشجاعت سے تمام دنیا کو وہم اور تُپلیو ں کا تماشا جانتے تھے اور ہمیشہ دیوتاؤں سے لڑتے اور غالب آتے اور مدت تک ان کی ولایت کو زیر زبر رکھا جب کبھی اہنکار کی بوباس اُن کے دماغ میں آتی اور غیرت اور دوئی کا خطرہ اُن کے دل میں گذرتا فوراً معرفت اور دانائی کے زدر سے دور کردیتے اور کسی سے نہ ان کی  دوستی تھی نہ دشمنی اور اکثر دیوتاؤں کو بے سبب مارا اور جلادیا بچے کچے اُن میں کے ناچار ہر طرف کو بھاگ گئے اور یشن کی پناہ لی جس طرح گنگا ہمانچل پہاڑ برف سے ہزار نہر ین بن کر زمین پر آئیں اور سمندر میں آملیں اور جس طرح بادل کے لشکر کو تیز ہوا بھگا تی ہے اور وہ پہاڑ وں میں پناہ لیتے ہیں بشن جو دیوتاؤ ں کا پشت پناہ تھا اُس نے تینوں ویت کو سدرشن چکر کی آتش سے کہ بشن کا ہتیار ہی جلادیا اور تینوں کو اُن کی معرفت اور دانائی کے باعث بہشت میں جگہ دی بسشٹ نے فرمایا کہ یہ تین ویت چاہے کتنے ہی شریر اور بدکار ہوں مگر آہنکار اور باسنا جو ان سے جارتی رہی تھی گیانی ہوئے اور مکُت پائی اے رام چندر تو بھی باسنا دور کر اور

(211)

عارف بن جا اور مکُت کے مقام کا واصل ہو اور عالم کے تفرقوں کو جو عقل کے زیر زبر کرنے والے ہیں فانی کر۔  اے رام چندر گنج معرفت کی کنجی کیا ہے تمام لذات او ر آرزو کا بھول جانا او بیدشاستر کا پڑھنا الاّ نازک طبیعتوں کو شاستر کا پڑھنا اور ورتون کا گرداننا موجب تکلیف ہے اور کل شاستر کے مضمونوں کا خلاصہ ایک سخن ہے وہ مجھ سے سنو اور اس پر عمل کرو جو شی کہ نفس اُس کو میٹھی اور مزہ دار جانے خواہ دنیا داروں کو پسند ہو خواہ نہ ہو اور خواہ مطابق شاستر کے ہو یا نہ ہو اس کو زہر قاتل اور آتش جلانے والی سمجھ اور اُس کے پاس نجا اے رام چندر ہم نہیں کہتے کہ دنیا اور لذات دنیا عارف عقق کے حق میں مقر ہین یہ سب گفتگو تعلق اور دل بستگی کے دور کرنے کی  ہی پس سبب عارف نے جا ن لیا کہ اس کے دل کو مطلوب حقیقی سے پورا آرام مل گیا پھر اتفاق سے اگر کوئی نعمت اور لذت دنیا کی اُس کے سامنے آئے اور اُس کو سمجھ بوجھ تصرف میں لائے تو یقین ہے کہ یہ فعل اُس کا حرس اور تعلق خاطر کی راہ سے نہ ہوگا اور ضرر اُس کو نہ پہونچا ئے گا اے رام چندر جس کو عنایت او رہدایت آلہٰی سے معرفت اور دانائی نصیب ہوئی دل اور باسنا اور اہنکار اُس سے خود بخود جاتا رہے گا اور غافل کو یہ چیزیں بھاری زنجیر ہیں اے رام چندر عارف کادل نرنجنی ہے یعنی اس کی بابت

(212)

کچھ نہیں کہا جاسکتا  نہ آنند سروپ کہ ادراک کو نہیں رکھتا اور نہ غمناک کہ آتما سے ایک ہوگیا ہے نہ ساکن کہ اندر باہر کے سب کام اُس کے تعلق ہیں نہ ہست کہ واقعی کوئی چیز نہیں او رنہ نیست کہ معرفت اور رہائی اس پر موقوف ہے رام چندر نے پوچھا اے برہمن کائنات ظاہر ہوئی اور حقیقت میں عین چد آتما ہے اس کی نمود چدآتما میں کیو ں کر ہے اور چدآتما خود بھی نظر آتا ہے یا نہیں بسشٹ نے فرمایا کہ آکاش نہایت لطافت سے  نظر نہیں آتا چد آتما جو ہزار گونہ اُس سے لطیف تر ہے کس طرح نظر آئے اور چونکہ کائنات تعین میں غیر چدآتما کاہی پس لا انتہا نقوش جو نظر آتے ہیں کائنات کی صورت ہے کہ چد آتما کے آئینہ میں نظر آتی ہے اور چد آتما خو د نظر نہیں آتا جس طرح صورت آئینہ میں نظر آتی ہے اور آئینہ نہیں پڑتا اور نسبت نمود کا ئنات کے حق میں ایسی ہے کہ نسبت نمو د موج کی دریا میں کہ دریا سے پیدا ہوتی ہے اور دریا میں دکھلائی دیتی ہے اے رام چندر نمودکائنات کی مع اس کے توابع اور لواحق کے حق میں نور حق سے ہی  جس طرح صورت کی نمود آئینہ میں اُسی آئینہ کی روشنی اور صفائی سے ہے پس متوسط دانائی اور نادانی جانتا ہے کہ حق کو دیکھا ہے اور خطا کی بلکہ جو کچھ دیکھا وہ صورت کائنات ہے کہ حق میں نور حق سے دیکھا فقط

(213)

اے رام چندر ارشاد کا طریق یہ ہے کہ شاگرد سے اول ہی مرتبہ حقیقت کار بیان کرنی لازم نہیں ورنہ دوزخ کی راہ اُس کو دکھلانی ہے بلکہ پہلے پہل شاستر کاپڑھنا اور معرفت او رمعاملت کاسلوک اُسے فرمانا چاہئے سرحقیقت کا ارشاد کرنا لائق نہیں ہے الاّ جب کہ پوری آزمایش ہوچکے۔   رام چند نے پوچھا اُستاد آپ کی باتوں نے جو دودھ کے دریا کے موافق پاک اور لطیف ہے مجھے غفلت کی نیند سے بالکل جگا دیا اور حقیقت کو میں نے سمجھ لیا مگر کبھی کبھی میری دانائی کا چہرہ نادانی کے پردے میں ہوجاتا  ہے سبب کیا ہے حالانکہ حق جو پرکاش سروپ یعنی عین نور ہے ہمیشہ ظاہر ہے ۔ پھر کس لیے طالب کی نظر سے کبھی چھپ جاتا ہے یہ حقیقت پھر میری خاطر نشین کیجئے بسشٹ نے فرمایا کہ میری باتیں اوّل سے آخر تک ایک ہیں او رسخن وہی ہے جو روز اول تم سے میں نے کہی جب تمہاری معرفت کمال کے درجے کوپہونچیگی اور اسکو وسعت ہوجائے گی یہ حقیقت آپ ہی آپ تمہارے اوپر کھل جائیگی تحقیق سخن یہ ہے کہ تین قسم کے اہنکار جو پہلے ذکر ہوچکے وہ تینوں اودّیا میں داخل ہیں یعنی جہل اور نادانی میں اور پہلی قسم کو پچھلی قسم دور کرتی ہے اور گویا اسکا علاج ہے اول کو دوسری دوسری کو تیسری اور قسم سوم

(214)

جو کا ملترین قسم ہے اس سے یہ مراد ہے کہ جانے میں عین برمھ ہوں یہ بات بھی جب کہ تم خوب سمجھ لو غیریت سے خبر دیتی  ہے اس واسطے کہ اس عبارت میں کہ میں برمھ ہوں دوئی لازم آتی ہے پس اس حالت میں جذبۂ آلٰہی چاہیئے کہ اس تیسرے اودیا کو بھی برطرف کرے او رمین کو درمیان سے اُٹھا ڈالے فقط بر مہہ رہے اور پھر عارف اور معرفت سے معروف کے سوا نشان باقی نہ ہو اور حق کی بجز حق کے نہ پہچانے اے رام چند قسم اول او ردوم کی اددّیا تم سے جاتی رہی ہے ہان تیسری قسم کیے اودّیان باقی ہے چونکہ اس قسم میں بھی ایک اثر نادانی اور غفلت کا باقی ہے تو کبھی کبھی مطلوب حقیقی تم سے اڑ میں ہوجاتا ہے اور جس وقت جذبہ آلہی جلوہ گر ہوا پھر پردہ درمیان میں نہیں رہتا اگر یہ کہیں کہ اودّیا کا اودّیا سے علاج کس طرح ہوسکے کہ دونوں ایک قسم کی ہیں اور ہر مرض کا علاج اُس کی ضد سے ہوتا ہے اور یہ قاعدہ امراض باطن میں مقرر نہیں ہے اس کی بہت سی مثالیں ہیں مثلاً ہتیار کو ہتیار سے روکتے ہیں اور میلے کپڑے کو ریہ سے اور سانپ کے زہر کو دوسرے زہر سے او رپانوں میں جوکانٹا چبھا ہو اسے دوسرے

(215)

کانٹے سے نکا لتے ہیں اور الماس کو الماس سے تراشتے ہیں اے رام چند جو سخن کہ ہم  تجھ سے کہتے ہیں سردست اس کو درست اعتقاد سے قبول اور اُس پر عمل کرو دلیل اور حجت کے مقید نہ ہو ورنہ اپنے وقت  کو ضائع کرنے میں یہ تیری سعی ہے کہ دلیل اور مالہ الدلیل دونوں تمہارے اوپر ظاہر ہونگے رام چندر نے پوچھا کہ اودّیا سے مراد نادانی محض ہے اور آتما گیان سروپ ہے یعنی عین علم اور نادانی کا علم میں پیدا ہونا محل تعجب ہے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193


Loading..

Loading..