New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 03:26 PM

Books and Documents ( 3 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 19) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: دل کے وجود کا سبب اودّیا



Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

(183)

مگر دل کا خطرات سےروکنا بڑی مشکل بات اور کٹھن ہے خطرات کے دفع میں جو علاج ہوسکے یہی ہےکہ خطرات کی طرف متوجہ نہ ہو اوراس کے پیچھے پیچھے نہ جائے اور خطرہ کو عین مرض جانے ۔  اے رام چندر ایک دانا اور ہزار نادان کے درمیان واقع ہے یعنی آتما اور کائنات کے درمیان محصور ہوگیا اگر آتما بز ور ہمت اپنی طرف اُسے کھینچے اور وہ آتما سے ایک ہوجائے اور وہ مراقبہ میں ہمیشہ تصور کرے کہ میں آتما ہوں تو عین آتما ہو جاتا ہے اور دانائی  کے صفت اس کو لاز ہوتی ہے اور جو اُسے کائنات اپنی طرف لے جائے ۱؎ پتھر نہ بجاتا ہے جو نادانی میں ضرب المثل ہے اور زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ جس کو حرص اور ہوس نے تفرقہ عالم کے گرداب میں ڈالا ہے کشتی جو اُس کی نجات کی  سبب ہو

۱؎ حکیمانہ اشراقین ہند یونان اور فارس کے نزدیک یہ مذہب ثابت اور متحقق ہے کہ شرف انسان اور قرب اُس کا ملا ٔیک کے ساتھ نطق او رادراک کے ساتھ ہے جس وقت انسان لذت حسی میں گرنے کے سبب اپنے مرتبہ سے اوترتا ہے اور قوت مدر کہ جوشان نفس سے بیکار ہوجائے مرتبہ حیوان پر نزول کرتا ہے پھر مرتبہ بنات پھر مرتبہ جاوپر اس واسطے کہ جمادات پر مطلق حس وادراک نہیں ہے جیسے نفس انسانی لذات حسی کو ترک کردے اور خطرات اور آرزو ضبط اور ترک کر کے اپنے تئیں منزہ او رپاک کرے جیسا اُس سے ہوسکے راہ اس کا حقدار نہ بجاتا ہے کہ نفوس ملکیہ او رجواہر ملکوتیہ سے مل جائے یہا ں تک کہ مبد کل میں فانی ہوجائے ۱۲

(184)

یہی حضرت دل ہیں اگر کہیے کہ دل کے وجود کا  سبب اودّیا ہے یعنی  نادانی اور اددیا۱؎ ازلی ہے پس اددیا کے ہوتے ہوئے دل کا فانی ہونا کس طرح ممکن ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اددیا ہر چند ازلی ہے لیکن امر عدمی ہے اس کا نام ہے اسپرد لالت کرتا ہے اور ہر گاہ نادان سنتا ہے کہ اددّیا ازلی ہے تو اس کو خیال ہوتا ہے کہ خارج میں موجود ہے اور اُسے مضبوط پکرتا ہے اور دانا جب چاہتا ہے وہ ذہنی موجودات سے ہی فوراً اُسے ذہن سے نکالتا ہے اور موجود ذہنی ذہن سے گیا اور فنا ہوگیا اور جب اددیا فنا ہوئی دل جو اُس کا تابع ہے ضرور فنا ہوجائے گا ۲؎۔  رام چندر نے پوُچھا کہ اُستاد اددّیا گو خارج میں معدم ہے

۱؎ اددّیا یعنی جہل کا ازلی ہونا ایک لطیف اشارہ ہے یعنی وجود برھما اور پیدائش عالم کا سبب وہی ہے اور یہ جو کہنا ہے امر عدمی ہے او رموجودات ذہنی سے ہے فوراً ذہن سے باہر جاتا ہے ظاہر ہے کہ جس وقت علم آیا جہل جاتا رہا علم کاآنا اور حقیقت ذات اور اس نمود بے بود کا سمجھنا او ر نادانی  کا گم ہونا اور جہل کا معدوم ہونا  ایک پلک مارنے کے اندر ہی ۱۲ یہ ۲؎  علم اور جہل کو یہاں پرمذکور ہے وہ علم نہیں ہے کہ حکمت کی کتابوں سے انسان حواس کے ذریعہ حاصل کرتا ہے اور اُن  ظاہری علوم کے حاصل نہ کرنے سے جہل کہلاتا ہے بلکہ یہ علم ذاتی نفس ناطقہ کا ہے کہ اُس کی تعریف زبان اور بیان سے باہر ہے اور آتما کا لفظ فقط بلا اضاف لفظ پرم آتما اور جیو آتما کے نفس ناطقہ کے معنی لاتے ہیں۔  او ربجائے حضرت حق سبحانہ کے اس لیے کہ علیحدگی اور مفایرت صرف تعین کے اعتبار سے

 (185)

اور اس کا وجود محقق وہمی ہے مگر رگ پٹھےمیں درآیا ہے پھر کس طرح دور ہوسکے طریقہ اُس کے دفع کا اس طرح میر دل نشین کر دیجئے کہ بار دیگر کوئی شک وشبہہ وہم اور وسو سہ باقی نہ رہے بسشٹ نے فرمایا جب کسی کو آتما کے دیکھنے کا شوق اور طلب ہو اور اُس کو آتما کے ساتھ کردیا علم محض اُس کو رہے گا اس علم کے حصول سے اودّیا خود بخود جاتی رہے گی اے رام چندر ریاضت او ر مشقت سے دل کو روشنی ہوتی ہے لیکن من آکاس میں اُڑتا ہے اور باسنا کی تاریکی تھوڑی سی رہتی ہے جب معرفت کا سورج نکلتا ہے وہ تاریکی بالکل جاتی رہتی ہے ۔اے رام چندر دل کو جو تعلق محسوسات سے ہے وہ دل کو بھی محسوسات کے موافق رنگ دیتا ہے اور آتما کا تعلق اُس کے ساتھ ایسا نہیں ہے وہ نسبت اُس کی تمام عالم کے ساتھ جیسی نسبت سرب ۱؎ بیایک کی سی ہے یعنی تمام عالم کی محیط ہے اور وہ عالم کی رنگت نہیں پکڑتا بلکہ آتما کو سَرَب بیاپک بھی نہیں کہہ سکتے کہ سرب بیاپک اُس وقت ہو کہ سرب یعنی سب وجود رکھتا ہو اور اسی لئے چھ صفت

جانتے ہیں اور جس حسین ابن معین الدین سمیندی نے کتاب نواتح میں حضرات صوفیہ کے مذہب سے نقل کیا ہے کہ یہ لوگ نفس انسانی کو مطلق نفس رحمانی  کہتے ہیں ۱۲ سرب ۱؎ بیاپک محیط اور ساری کو تمام عالم اور اشیامیں کہتے ہیں نفس کی تعریف میں  یہ  قول ہے کہ وہ تمام اشیا عالم میں محیط اور ساری ہے ۱۲

 (186)

جو تغیر عالم کے لوازم سے ہے آتما میں موثر نہیں ہوتیں ایک وحدث دوسرے  قیام چند روزہ تیسرے  نشو نما یعنی بڑھنا چوتھے گھٹنا  پانچویں حال کا بدلنا اور استحالہ جیسے دودھ دہی ہوجائے اور سونا انگو ٹھی چھٹے مرنا۔ حاصل کلام مقدس حق تعالیٰ کی کمال لطافت او رمعیت ذاتی سے عالم کے ساتھ ظاہر ہے اور بے نیاز ہے اور استغنا سے حقیقی کی اقتضا سے عالم بغیر موجود ہے اور  روح کی یگا نگی اور اتحاد حق کے ساتھ اظہر من الشمش ہے پس روح کی معرفت بعینہ حق کی معرفت ہے خواہ اپنی معرفت جانے یا انجانے رباعی

ہر چند کہ خلق میں ہے بس نادانی                                غفلت کے مقام میں ہوئے سب فانی

مشغول بحق ہے کوئی جانے کہ نہیں                                      جس چیز میں مشغور ہو کوئی یعنی

بالمیک کا قول ہے کہ رام چندر نے جب یہ بات بسشٹ کی سنی تو پھول

رام چندر بڑا بیٹا راجہ دسرتھ کا ہے اور دس اوتار میں  سے ایک اوتار ہے جو ہندوستان میں مشہور ہیں ہندوؤں کی اصطلاح میں اوتار اُسے کہتے ہیں کہ حضرات صوفیہ اپنی اصطلاح میں بردز کہتے ہیں اور فرق تناسخ اور بروز میں یہ  ہے کہ تناسخ اس کو کہتے ہیں کہ نفس ناطقہ انسانی سلسلہ تعلق محسوسات کا توڑ کر مبدسے واصل نہ ہو بلکہ اُس کے سبب مطابق  اعمال مکسوبہ کے ابدان عنصری میں دائر اور گردان رہے اور بروز اسکا نام ہے کہ عالم قدس سے ایک نفس نازل ہو اور ہندوؤں کے نزدیک یہ نزول بشن کہ ذات سے ہے جو صف ربو بیتا اور پروردگاری

 

(187)

کی طرح دل کھلا اوربڑھا اور کہا اودّیا عجب مظہر ہے کہ خود کچھ نہیں اور تمام عالم کو اُس سے باندھ رکھا ہے  جس طرح میہار کوبال میں باندھیں رام چندر نے بسشٹ سے پوچھا کہ راجہ لون باوجود کہ بڑا قسمت والا تھا کیوں اس قدر تکلیف میں پڑا اور کون سے کردار کے سبب برسوں صحبت مہتروں کی اُٹھا نی پڑی بلکہ خود مہتر بن گیا بسشٹ نے فرمایا کہ عمل اور اُس کی جزا کا مدار دل پر ہے اور بدن کا دل کی مدد بغیر نہ کردار ہے اور نہ جزا راجہ نے اپنے دل سے ایک کام کیا تھا کہ بد ن کو اس میں دخل نہ تھا انجام کا ر اُس کی سزا دل پر پائی اب وہ حکایت بالتفصیل تجھ سے بیان کرتا ہوں ۔  ہوش کے کان سے سنوُ حکایت ایک دن راجہ لون نے کسی باغ میں بیٹھے بیٹھے خیال کیا کہ میرے بڑے باپ راجہ ہری چند نے جگ راجسو کیا تھا میں بھی وہ جگ

حق تعالیٰ کی ہی خاص اس لیے کہ عالم دنیا سے کسی شر کو دور کر یں اگر کوئی غیر شخص بیگانہ اعتراض کرے کہ ایسا نفس قدسی مرشد کی تعلیم کامحتاج اپنی اور حق کی معرفت میں کس وجہ سے ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس نفس کاکمال بعد جس اسی میں ہے کہ تھوڑے اشارہ میں مقصد کو پہنچتا ہے اور اس عالم محسو س کی طرف اس کا میلان مطلق نہیں ہوتا اور اس عالم کی لذات کا اس کو خیال نہیں چنانچہ یہ حال اس کتاب کے پڑھنے والےکو رام چندر کے سوانح سے ظاہر ہوگا اور یہ جہل قلیل اور احتیاج ہدایت کی لوازم بشری اور لوث مادہ ہیولے سے ہے بقول حافظ شیراز کے ؎ دنیا سر ا میں عظمت حافظ عجب نہیں ۔  جو میکدے گیا وہ عجب بخیر ہوا ۱۲

(188)

کروں اس کے تمام مصالح اور لوازم قصور کے عالم میں مہیا کیے اور ایک بڑی آگ  جلائی اور اُس کے سر انجام اور اتمام میں مشغول ہواشام تلک اسی خیال میں رہا اور خیال کے آئینہ میں ایسا دیکھا کہ ایک سال کے عرصے میں اس کام سے فارغ ہوا اور برہمن لوگوں کو خیرات اور انعام دیے جو کچھ اُس کی ملکیت میں تھا بی بی بچے کے سوا سب محتاجوں کو بانٹ دیا اور اس تصور سےباہر آیا اور جگ راجسو کے خیال سے پخنت ہوا( اس جگ کی خاصیت ہے کہ جو اس کو ادا کرے دنیا میں بارہ سال بلا اور محنت میں گرفتار ہوجاتا ہے چونکہ یہ عمل تصو ر میں کیا تھا بدن کا لگا و نہ تھا بارہ برس اپنے تصور میں کناس یعنی چنڈال رہا) اور بار نگر کی حقیقت بھی مجھ سے سُنو کہ میں اُس روز راجہ کے دربار میں حاضر تھا جس وقت کہ راجہ نے اپنی سواری کا مقدمہ اور مہتر کی لڑکی سے ملنا او ربیاہ کرنا آخر تک بیان کیا درباریوں نے اُس سے دریافت کیا کہ یہ کیا تھا جو راجہ نے دیکھا میں نے ایک ساعت مراقبہ کر حقیقت حال دریافت کی او رکہا اے راجہ آپ نے دل میں جگ راجسو کیا تھا  اسی لیے بارہ سال دل میں دکھ اور محنت کو سہا یہ بازی گر بازی گر نہ تھا اندر کا فرشتا وہ تھا اور آیا اسی لیے تھا کہ آپ کو اس بلا میں گرفتار کرے

(189)

اے رام چندر دانائی اور ۱؎نادانی ہر شخص کی سات مرتبہ کی ہے اور اس کے دوہرے چودہ مرتبوں کو چودہ  بھومکا  کہتے ہیں کہ مختصر ان کا بیان کرتا ہوں تاکہ پہلے سات سے تو پرہیز کرے اور پچھلے سات پرعمل کرے اور ساتوں کی جڑدل میں مضبوط ہوتی ہے اس کا ثمرہ نیکی اور بدی سے ظہور میں آتا ہے مرتبہ اول مراتب نادانی سے ہستی ۲؎ موہوم  ہے کہ اس کا بیج جاگرت نام ہے دوسرا مرتبہ خود ہی او رانانیت او راس کا جاگرت نام ہے تیسرا من وہ ہوں کہ وہ کام  کیا اور یہ کام کیا او راس کا نام مہاجاگرت ہے جو تھا وہ چیز ایسی اور ویسی ہے اور حقیقت میں ایسی نہ ہو جس طرح دھوپ کاچلا چمکتی ریت کو پانی اور بھنگا ایک کو دو دیکھنا ہے  اس کو جاگرت شیپن کہتے ہیں پنجم خواب دیکھا ہوا جس کی خصو صیات بھول جائے اور اس کو سُپن کہتے ہیں ششم خواب کو تفصیل دار یا ہواؤ اس کا سپن جاگرت نام ہے ہفتم خواب بے ہوشی کچھ نہ دیکھے اور اس کا سکھپت نام ہے اور نادانی کے ساتھ مراتب سے ادل آرزو مکُت اور معرفت کی ہے اور اس کا افسوس کہ میں نادان کیوں رہا او رکاملین کی صحبت

۱؎ یعنی دانائی اور نادانی کے سات  سات مرتبہ میں  کہ دونوں کا مجموعہ چودہ مراتب ہوے ۱۲ یعنی ۲؎ شعور خفی اپنے وجود پر ہوجس کی یاد صریح باطن ہیں نہ ہو ۱۲یہاں ۳؎  تک غفلت اور نادانی اور نادانی کی سات قسم جس کی شرح کا اوپر وعدہ کیا تھا ختم ہوئیں اب آئیندہ سات قسم دانائی کی بیان کرے گا۱۲

 (190)

اور بید اور شاستر کے مطالعہ سے کس لیے محروم رہا اس مرتبہ کا نام سُحہیا ہے دوم سعی اور تلاش سلوک طریقت میں اور اُس آرزو کے مطابق عمل کرنا اور اس کو بچارنا  کہتے ہیں سوم محسوسات کے میل جول سے کنارہ کرنا جب کہ پہلے دو مرتبہ حاصل ہوں اور اُس کو تنمان کہتے ہیں چہارم تمام محسوسات سے پرہیز اور خاطر کا اُس کی طرف نہ جانا جب کہ تین پہلے مرتبہ حاصل ہوں اور مشغول بحق مدامی ہو اور اس کو سوائت کہتے ہیں پنجم  مغشولی بحق اس درجہ تک پہنچے کہ اپنی فکر کو دوسری طرف جبراً متوجہ کرے اور یہ سسکت ہی ششم یاد حق میں ایسا ۲؎ مستغرق ہو کہ جب تک اُسے نہ جگائے نہ جاگے اور خود نہ جاگ سکے اور اس کا نام پدار تھا بھاونی ہی ہفتم استغراق اُس مرتبہ کو پہنچے کہ دوسرے کے جگانے سے بھی نہ جاگے اور حضوری حق اس کے ظاہر باطن کو اپنے قبضہ میں کرلے اور یہ تُری اوستھا ہے اور یہ مراتب

۱؎ رغبت اور خواہش محمود معنی سُبہیا کے ہیں یہ الفاظ اگر چہ اصطلاح کے طور مقررپر علما ئے آلہیات کے یہاں ہیں لیکن ناوافقوں کی آگاہی کے لیے معنی الفاظ مذکورہ کے لکھے گئے یہ ۲؎ جو کہتے ہیں کہ یاد حق میں ایسا مستغرق ہو کہ جب تک اسے بیدار نہ کر ے بیدار نہ ہودے دوسرے کا  جگانا جسم کی جنبش سے خیال نہیں کرنا چاہئے اس لیے کہ ایسے شخص کو جسم سے چندان تعلق نہیں رہتا جیسا کہ ہم کو ہے ۔ دوسرے کے جگانے سے مراد یہ ہے کہ عامل یا کوئی عارف اُس کا مثل باطن کے تصرف سے بیدار کے یعنی محسوسات کی طرف کھینچے اور اس طرف کو متوجہ کرے۱۲

 (191)

جو دانائی کے ہیں حین حیات ۱؎ جیون مکُت کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اور انسانی کمالات میں ان کے سوا اور کوئی مرتبہ باقی نہیں الا مرنے کے بعد کہ بد یہ مکُت کا مرتبہ ملے اے رام چندر ساتواں مرتبہ دانائی کا جس کسی کو نصیب ہو اوہ ہستی مطلق میں فانی اور محوہوگیا اور ہر گز دنیا کے کام میں نہیں مصروف ہوتا اور جو ابھی رسم وعادت کے سبب کام کرے تو وہ ایسا ہی کہ گویا خواب میں کررہا  ۲؎ ہے اور جو اس مرتبے کو پہنچا خواہ شراف ہو یا کمینہ یا حیوانات سے ہو دنیا کے باشندو ن میں سب سے بزرگ تر ہے۔  اے رام چندر اددّیان اور نادانی کا تصرف بھر سُنو راجہ لون نے جو عالم کہ چوتھی مرتبہ اگیان ۲؎ بھومکا یعنی جاگرت سپن میں

۱؎ جیون مکُت اسے کہتےہیں کہ حیات عنصری کی حالت میں واصل مبدا ہے اس لیے کہ جب تک کچھ بھی ہیولے اور مادہ کالگاو اُس کو ہوگا او رکچھ بھی باسنا یعنی خطرہ محسوسات رکھتا ہوگا  بیشک کسی قدر مبدو سے محجوب رہے گا الآ بعد وفات بدیہ مکُت یعنی مرتبہ فنائے مطلق کا مستحق ہوگا اور قابلیت بدیہ مکُت کی یعنی فنائے مطلق کی جیون مکُت میں حاصل ہوتی ہے فقط ایک حقیقت نقصان اور حجاب وغیف باسنا کیو جہ سے اور لوث قلیل مادہ اور ہیولی سے رہتا ہے ایسا شخص با لغرض حاجات بدلی میں شغول ہوتا ہے اور جسمانی آلام سے اند رنہیں پاتا اور تعلق جسمانی سے علٰیحد ہ ہونے کی اس تعداد فی الحال حاصل کرتا ہے ۲؎ جس طرح ہم عوام عالم معقول سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور عالم محسوس میں پیدا اس کے برعکس عارف اور کاملین اس عالم سے آنکھ بند کیے ہیں اور اُس عالم میں بیدار ہیں ۱۲ یہ راجہ لون وہی ہے کہ بازی گر آیا اور اُس میں تصرف کیا اور اُس کی حکایت پہلے ذکر ہوچکی ۱۲

(192)

دیکھا تھا چاہا کہ دوبارہ دیکھے ایک مہم کے بہانہ سے وزیر کو ساتھ لیکر باہر نکلا اور دکن کے پہاڑ میں گیا اور وہ زمین اس طرح دیکھی کہ گویا  پہلے  سفر میں دیکھی تھی اور وہاں پر مہتروں کی جماعت ظاہر کردی  خسر کی حقیقت حال پوچھی بڑی توم تلاش سے خسر کا گھر پایا اور وہاں جاکر دیکھا کہ بوڑھی جوان عورتیں رو رہی ہیں اور اپنی ساس کو پہچانا اس سے پوچھا کہ کیوں روتی ہو کہا میری  ایک لڑکی تھی اُس نے ایک نیک مزاج خاوند پایا ایک لڑکی دو لڑکے اُس سے ہوئے ایک مدت تک دونوں باہم رہے سہے جب اس ملک میں اکال پڑا واما وزن بچہ لے کر یہاں سے چلا گیا اب خبر ان کی نہیں ملتی کہ کہاں گئے اور کیا ان کو پیش آیا راجہ نے اس کی بات سن کر چشم کے  ساتھ وزیر کی طرف نگاہ کی اور خوش دامن کو تسلی دی اور انعام بھی دیا او روہاں سے واپس شہر میں آیا اور ہکّا بکّا رہ گیا کہ اودیا کا بھی عجب تصرف ہےسچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرتی ہے رام چندر نے کہا اے برہمن میں

۴؎ اگیان بھومکا کے معنی  لفوی جہل ونادانی ہے یہاں بیدانتی یعنی صوفیہ کے ہند کے نزدیک ایک اصطلاح مقرر ہے کہ اس حالت کی جس شرح کررہا ہے اس سے تعبیر کرتے ہیں ۱۲ چوتھا مرتبہ اگیان بھومکا کا وہ ہے کہ ذکر ہوچکا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ چیز ایسا اور ویسا تصور کرے اور درحقیقت نہ ہو۔  جس طرح گرمی مارے ہوئے کی آنکھ سراب کی پانی کو پانی خیال کرتی ہے اور بھنگا ایک کو دو دیکھتا ہے ۱۲

(193)

اس مقام پر حیران ہوں اور میری حیرت ہر گز نہیں جا تی کہ خواب کامعاملہ  کس طرح سچ ہوگیا  اور راجہ لون نے چار گھڑی کے اندر بارہ سال۱؎ کس طرح دیکھے بسشٹ نے فرمایا کہ اودّیا کی خاصیت یہی  ہے اور اُس کا کام ہے کہ ایسے تماشے دِکھلائے اور جوگا دّھ برہمن کی حکایت تو سُنے تو یہ بات خوب تم کو معلوم اور واضع ہوجائے گی اور نہ حکایت ایشم پرکرن میں آئے گی۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153


Loading..

Loading..