New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 06:02 PM

Books and Documents ( 2 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 18) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: دل کی داستان


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

چنانچہ حکایت دولت مند کے ایک لڑکے نے اپنی دائی  سے کہا کہ ایک اچھی سی کہانی کہہ دائی بولی کہ خیال کے ملک میں جو راجہ ہے اُس کے تین بیٹے تھے  مردانگی اور دینداری میں بے نظیر اُن میں سے دو ایسے تھے کہ ماں کے پیٹ سے نہیں نکلے  تھے  اور ایک باپ کی پیٹھ سے جدانہ ہو تھا ایک دفعہ وہ تینوں بھائی ملک دیکھنے کے ارادہ سے چلے راہ میں میوہ دار ہرے درختوں کو دیکھا کہ آکاس کے باغ میں جمائے ہیں ایک ساعت اُس باغ میں آرام کر میوے کھا روانہ ہوئے پھر تین بڑے دریا دیکھے دو دریا میں پانی تھا اور ایک خشک تھا تینوں بھائی نے سوکھے دیا میں اشنان کیے اور پانی میں  کھیلے اور اُس کا میٹھا پانی  دودھ کے موافق تھا  پیا اور دبرن سے چلتے ہوئے پھر ایک شہر میں آئے کہ جہاں محلہ گھر اور کوچہ بازار اور آدمی نہ تھے اور شہر کے آدمیوں کا شور وغل سن کر علیحدہ مکان چاہتے تھے کہ آرام سےبیٹھیں تین گھر ملے دو کی بنیاد نہیں

(173)

رکھی تھی اور ایک کی دیوار اور ستون اور چھت نہ تھی تینوں بھائی بے دیواراور ستون اور چھت کے گھر میں اُترے  جو بہت آراستہ اور سجاد ہوا تھا وہاں سونے  کی تین دیگیں پائیں دو کے  پار چون کو نہیں  ملایا تھا اور ایک سونے کی ریز گی تھی  تیسری دیگ لے کر کھانا اُس میں پکایا  اور پہلے پہل بن منھ کے برہمنوں کو دیا کہ پیٹ بھر کھایا اور بچا کچا خود نوش کیا تینوں بھائی اُس شہر میں ہمیشہ کھیل شکار میں مشغول رہتے  اے رام چندر عالم کی پیدائش بالکل اس حکایت کے موافق ہے کہ بچہ اس کو سن کر خوش ہوتا ہے اور اس کا دل اس کہانی میں لگتا ہے اور جو دانا اُس کو سنتا ہے وہ جانتا ہے کہ یہ قصہ وجود عنقاکی طرح وہم اور خیال ہے اُس کی خاطر کو تعلق اُس سے نہیں  ہوتا اسی طرح نادان او راحمق آدمی عالم کو صورت دیکھ اپنے خطرہ اور خیال سے جال جنجال میں الجھے ہوئے ہیں اور دانا آدمی اس قید سے خلاص ہیں او راے رام چندر تو کسی کا قیدی نہیں ہے اس واسطے کہ روح کو کسی چیز سےنہیں باندھ سکتے اور روح بے نہایت ازلی اور ابدی سراسر شعور اور سرور ہے اس پر کسی چیز کی بندش نہیں ہوسکتی پس درحقیقت کوئی شخص بندی کسی قید کا نہیں ہے اور مکُت کا محتاج نہیں  مکُت او رآزادی روح  کی لازم ہے اور گرفتاری اور پابندی دل کی شان

(174)

تلون سے ہی دل ایک قدم کو کئی ہزار جو جن۱؎ ٹھہراتا ہے او رکئی ہزار جوجن کو ایک قدم اور کلب کو چھن بنانا ہے اور چھن کو کلب گنتا ہے (اورچھن آنکھ کی ایک چھپک کو کہتے ہیں ) اس بابت تجھ سے ایک داستان کہتا ہوں حکایت اُترّ کے ملک میں  ہریجیند کی اولاد سے ایک راجہ لون تھا بہت نیک نام بلند ہمت اور بڑا سخی اَنّ داتا اور دنیا سے نہایت بے تعلق تھا۔ایک دن تخت پر بیٹھا ہوا تھا کہ جیسے چودھویں رات کا چاند آسان پر یکایک ایک بازیگر آیا اور عرض کی کہ مہاراج میرا کھیل تماشا دیکھئے راجہ نے کہا اچھا جو ہنر تجھے آتے ہوں دکھلاؤبازی گر کے ہاتھ میں ایک مورچھل تھا اُسے ہوا میں جنبش دی اس عمل کے کرتے ہی راجہ اور اہل مجلس سب نے دیکھا کہ ملک سندھ کے راجہ کا وکیل آیا اور ایک گھوڑا نذر گذرانا اور کہا مالک نے یہ گھوڑا بطور نذر بھیجا ہے جو اندر کے گھوڑے کی مثال ہے اور دریا سے برآمد ہوا تھا بازی گر بولا اے راجہ اس گھوڑے  پر سوار ہوکر سیر کیجئے راجہ نے گھوڑے کی جانب نگاہ کی چار گھڑی تک یہ حال ہوا کہ تصویر کی حالت بے حس وحرکت رہا حاضرین کو اچنبھا ہوا کہ راجہ کو کیا ہوگیا چار گھڑی بعد

۱؎  جوجن ایک مقدار متعین ہے زمین پیمائش کی ہوئی جس طرح فارسی میں فرینگ اور فرسخ ہے ۱۲

(175)

جو راجہ اپنی اصلی حالت پر آیا تو کپکپا تا تھا وزیروں نے عرض کی مہاراج یہ کیا حال ہے تندرست اور صحیح المزاج ہوکر ایسے سُست اور نڈھال کیوں ہو راجہ نے جواب دیا کہ ایک عجیب غریب واقعہ میں نے دیکھا ہے اُسے سُنو جس وقت بازی گر نے مورچھل ہلایا اور دیکھتا ہوں کہ اسی گھوڑے پر سوار سیر شکار کے لیے نکلا ہوں گھوڑے نے مجھے ایسا ڈرایا کہ جیسے نادان کہ خطرات اڑاتے ہیں اور ایک بیابان خشک بے آب ودانہ میں لے گیا جہاں نہ ہرن تھا نہ چڑیا اور کوئی شکار کا جانور تھا دن بھر اُس جنگل میں حیران سرگردان رہا اور رات کے وقت بمشکل تمام اُس بیابان سے نکلا جس طرح کوئی عارف عالم سے گذرتا ہے۔   اور وہاں سے دوسرے بیابان میں گیا کہ ہرے ہرے درخت سایہ دار وہاں بہت تھے اور خوش الحان جانور چہچہا رہے تھے جن کی آواز سن کر دل کو تازگی اور خوشی ہوتی تھی میں ایک درخت کی شاخ سے لپٹ گیا اور اُس اچپل گھوڑے کی زحمت سے نجات پائی جس طرح گنگا میں نہا کر لوگ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اور تکلیف کے سبب ایک رات برھما کے ایک برابر ہوگئی نہ اشنان کیے نہ کھانا کھایا اور نہ معمولی پوجا کی اور وہاں سے دوسرے بیابان میں گیا کہ

(176)

وہاں نہ پانی تھا نہ سبز درخت ہی تھے جس طرح نادان کا بدن کہ ہنر سے خالی ہو اور اُس بیابان میں کوئی آدمی آدم زاد نہ تھا الاّایک لڑکی کالی کلوٹی میلے کچلیے کپڑے ہاتھ میں کھانا لیے چھپٹی ہوئی جاتی تھی وہ میرے سامنے آئے  اُس کا  آنا بھی اس قدر غنیمت معلوم ہوا کہ اندھیری رات میں چاند نکل آیا چونکہ بھوک مجھے بہت ستا چکی تھی تھوڑا کھانے کو میں نے اُس سے یہ کہہ کر مانگا کہ دنیا کی بڑی نعمت وہی ہے کہ دوسرے کو دین ہر چند ہاہا منتی کی مگر اُسے مہر نہ آئی او ربولی میں مہتر کی لڑکی ہوں اور یہ کھانا اپنے باپ کو لیے جاتی  ہوں جو قریب کھیتی کیاری میں لگا ہوا ہے اور میں نہیں دے سکتی ہاں اگر مجھ سے تو بیاہ کرے تو کسی قدر اس میں سے تم کو دیتی ہو کہ شوہر باپ سے زیادہ عزیز ہوتا ہے جب یہ بات میں نے قبولی تو آدھا کھانا مجھے دیا اس واسطے کہ ناچاری کی حالت میں مردار بھی حلال ہوتا ہے مہتر کا کھانا میں نے کھایا اور مجھے وہ لڑکی اپنے ساتھ  باپ کے سامنے لے گئی اور کہا میں نے اسے شوہر اپنا بنایا ہے تو بھی منظور کر باپ بھی میری دامادی سے راضی ہوا شام کے وقت وے اپنے گھر گئے تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے وہاں جاکر دیکھا تو گھر کُتے سُور اور مردار گوشت اور

(177)

نجاست سے  بھرا تھا مہتر نے اپنی عورت سےکہا کہ تیرے لیے ایک داماد لایا ہوں مہترانی نے قبول کر لڑکی مجھے دی جیسے برُا کام برُا نتیجہ بخشتا ہے اور مہتر لوگ اُس کے گھر میں جیسے مُردار پر کوّے گِد جمع ہوئے اور سات دن برابر جشن اور جلسہ رہا اور وئے شراب پیتے اور ڈھول بجاتے تھے آٹھ مہینے بعد وہ دلھن پیٹ سے ہوئی اور لڑکی جنی جس طرح مفلسی سے غم پیدا ہو بعد ایک مدت بیٹا جنا جیسے احمق کی صحبت سے باطن کی سیاہی پیدا ہو پھر ایک اور لڑکا جنا جس طرح گنہگار کے اوپر تلے سریر محنت اور بلا آوین ایک مدت پیچھے وہاں اکال پڑا باشندے وہاں کے تِتر بتر ہوگئے ہیں بی بی لڑکے ہمراہ لے کر اس سرزمین سے نکلا جس طرح دوزخ سے کوئی شخص نکلے رستے میں کھانے کو کچھ نہ ملا بھوک اس قدر غالب ہوئی کہ دل میں ٹھہرائی کہ خود کشی کرلوں یا جل مروں اور اس سے نجات پاؤں اس درمیان نقارے کی آواز میرے کان میں پہنچی اور ہوش میں آیا میں سمجھا کہ اس بازی گر کے سب تصرف ہیں یہ محنت اور تکان مجھے دیا جس طرح نادان اپنی جان ۱؎ دیتا ہے بازیگر راجہ کی بات سنتے ہی

۱؎ اِس مقام پر داستان گرنے رموز اور اشارات اس داستان نے ظاہر کیے ہیں اس داستان کی تاویل جو میرے خیال میں آتی ہے شرم کے ساتھ لکھتا ہوں

(178)

غائب ہوگیا درباریوں نے کہا یہ بازی گر نہ تھاکہ بغیر روپیہ لیے چل دیا

اس سبب سے کہ مجھے اپنی سمجھ کی دوستی پر بھروسا نہیں ہے کہ راجہ سے مراد نفس ناطقہ ہے اور بازیگر دل ہے اور بازیگر کا مورچھل بلانا حرکت دل سے مراد ہے اور گھوڑے سے غرض خیال اور خطرات میں گھوڑے پر سوار ہوکر شکار کے لیے نکلنا عالم شہادت کا سیر کرنا ہے چنانچہ اس مقام پر بطور تشبیہ کے داستان میں اشارہ کیا ہے کہ اس گھوڑے نے مجھے ایسا اور دوڑایا جس طرح نادان کو اُس کے خطرات اور ڈراتے ہیں اور جنگلوں سے مراد دنیا ہے او ر مہتر کی لڑکی اور کھانا اس کے ہاتھ میں تعبیر کرتی ہے لذات حسی اور اُس کی زبو نی ناور کراہت کو اُن لذات کی جو مہتر اور اُس کے کمانے سے بہم پہنچتی ہے اور مہتر کا گھر جو کُتے اور سُور اور  گوشت مُردار سے بھرا ہوا  لکھا ہے اُس سے مقصود جسم مادی وعنصر ی ہے اور راجہ کی شادی مہتر کی لڑکی سے پیوند رو ح پاک کا جسم او رمشتبہات جسمانی کی خواہشیں اور آرزو ئیں ہجوم لائیں اور نقارہ کی آواز جو بازیگر نے کی اُس کا راجہ کے کام میں پہنچنا اور راجہ کا جاگنا اور ان تماشوں کا جاننا بازیگر کے تصرف سے یہ مطلب ہے کہ نفس مدرک نے حقیقت حال دل کو جان کیا اور بیدار ہونا یہ ہے کہ نفس نے اپنے وجود کی معرفت حاصل کی اور جسدا کل سے جا ملا اوربازیگر کا راجہ کی بات سُن کر غائب ہوجانا بیداری کے بعد تعبیر اُس کی یہ ہے کہ جب نفس ناطقہ اپنی حقیقت کا یہ وفق کار او راپنی ذات کی طرف متوجہ ہوگیا تو دل غائب ہوجاتا ہے اور یہ جو مثال نکھی ہے کہ جس طرح نادان جان کو سناتا ہے ظاہر ہے کہ نادان لنات حسی میں اُلجھ کر آزادی کو حاصل کرنا نہیں چاہتا او راپنے ہلکات اخلاق او رعادات سابقہ کے موافق مختلف ابدان میں اپنی جان کو حیران سرگردان رکھتا ہے جو کچھ فقیر حقیر کی خاطر میں اس داستان کی تاویل گذری وہ بیان کی گئی ۱۲

(179)

بلکہ کچھ اسرار آلہٰی ہے کہ تم کو ظہور عالم کی حکمت پر آگاہ کیا ہے تاکہ جانو عالم ظاہر ایسا  ہےکہ جیسا عالم تم نے معائنہ کیا اور یہ سب دل کا بنایا چُنا یا ہے ۔  بسشٹ فرماتے ہیں کہ رام چندر آتما کو دل پریشان کرتا ہے دل کا کیا کیا ہوا جان اور بندیوان وہی  ہے جو دل کا بندیوان ہے اور آزاد وہی ہے جس کو دل نے آزاد کردیا اس بات کو خوب سمجھ کر اپنے تئیں وہمی قید دن سے خلاص کر اے رام چندر اگر دل جنبش سے باز رہے کوئی وہم آتما کو پریشان نہیں کرتا جس طرح کسی مندر پہاڑ دریا کو چاہے تو جنبش نہیں دے سکتا اے رام چندر دل جاری کے علاج کو تیرے سوا کوئی حکیم درکار نہیں  اور نہ نبض کی جنبش کی تحقیق اور بیماری کی تشخیص او ر معجون تیار کرنے کی محنت کچھ ضروری اگر کسی قدر اپنی طرف آپ متوجہ ہو تو یہ علاج سہج  تمہارے ہاتھ آتا  ہے  بیماریوں کے علاج جو حکیم لوگ کرتے ہیں کبھی تو فائدہ دیتا ہے اور کبھی بے اثر ہوتا ہے ہماری دل کا علاج جو تجھ سے میں بیان کرتا ہوں نہایت فائدہ بخش اور سود مند ہے اور وہ علاج ہر محبوب کا ترک ہے اور سرمرغوب کا چھوڑنا اور اُس کا یا دن کر نا اور تاسف نہ کرنا اے رام چندر اس بیماری سخت کا ایسا علاج آسان جونہ کرے اس پر لغت ہے اور وہ آدمی نہیں ایک کیڑا ہے کہ ناپاک جان ۱؎

۱؎ یعنی ادراکات نفس کہ مادیات میں منہمک ہونے سے اس قدر باطل کرتا ہے کہ نفس النسانی

(180)

اس میں ہے اگر اعتراض کریں کہ محبوب کا چھوڑنا بڑی سخت او ربے ڈرن بلا ہے اور سب سے زیادہ دشوار ہے اسے آسان کس طرح کہہ سکتے ہیں میں اس کا جوا ب دیتا ہوں کہ اس علاج کا آسان ہونا اس وجہ سے ہے  کہ دل کا علاج دل کے اندر ہی اُس کی دوا دوسری جگہ سے نہیں لانی پڑتی اور دلیل اس کی یہ ہے کہ دل کام کرنے میں سخت ہے لوہے مشابہت رکھتا ہے اور جب تک اپنی آرزو اور خواہشوں کی طرف

قابل اور مستعد اجسام حیوانیہ کے ہوجانا ہے او رکیڑے نوع حیوا ن میں سب سے ادنیٰ درجہ کے ہیں فریب بناتات کے فقط کیڑوں میں حیوانیت کا مہم اس سبب سے باقی رہا ہے کہ غذا کے فضول کے لیے جنبش کرتا ہے صرف حرکت کیڑے میں صفت حیوانی سے ہے ورنہ نفس نباتی کی کیفیت قبول کرنے کا مستعد قریب ہے اسی طرح رتبہ نباتات کے کمی درجہ کا سبب یہ ہےکہ روئے دگی جو چند روز ٹھہر ے او رپیدایش نوع کی اُس سے نہ ہووے چنانچہ برسات کی بعض سنہری اس قسم کی نباتات کیفیت نفس جمادی کے قبول کرنے کو مستعدد ہے اس واسطے کہ انسان کی خصوصیت اور اسکا فریب فرشتوں سے نطق اور ادراک کی وجہ سے ہے اور اس کے انحطاط کا مرتبہ قدرت مدرکہ کے جاتے رہنے سے اور پادیات میں فرد رفتہ ہونے سے قسم حیوان میں ہوگا اور نوع حیوان میں بھی انحطاط اور پستی کے بہت مراتب ہیں اخیر درجہ کے کیڑے نجاست کے ہیں اور اُس سے گذر کر بنات ہوجاتا ہے اور نوع بناتات کے ادنیٰ درجہ کی روئے دگی ناپایداری جس سے بیچ کی کاشت اور تولید مثل محال ہے اس مرتبہ سے اُتر کر جماد ہوتا ہے یہ مراتب انحطاط اور نقصان انسان کے ہیں اور اگر ترقی کرے تو فرشتے اور افلاک اور ستاروں سے ملجا ئے اور سب سے اعلیٰ درجہ مرتبہ فنانی اللہ کا  ہے کہ حضرات صوفیہ کامل کو حاصل ہوتا ہے ۱۲

(181)

جاتا ہے گرم لوہے کے مشابہ ہے کہ حرکت کو گرمی لازم ہے اور جب سب خواہشوں سے اپنی باز آیا اور ٹھہر گیا ٹھنڈے لوہے کی مثال ہے پس جس طرح گرم لوہے کو ٹھنڈے لوہے سے کوٹتے اور اُس سے برتن یا ہتھیار اوزار بتاتے ہیں اسی طرح پریشان دل کو پخنت  دل سے اصلاح کرنی چاہئے یعنی حرکت اور سکون دونوں صفت دل کی ہیں کبھی یہ صفت دل پر غالب ہوتی ہے اور کبھی وہ ایک دل کو ان صفات کے لحاظ سے دو کہہ سکتے ہیں اور جو صفت کہ دوسری صفت پر غالب ہوئی گویا ایک دل دوسرے پر غالب آیا ورنہ درحقیقت دل ایک ہے اور جو کچھ بولا جاتا ہے کہ دل آتما کو ہلاتا ہے یا ٹھہراتا رسمی بات ہے اگر درحقیقت آتما صاحب کمال قدرت  کی ہے اور کاموں کے اندر استقامت اُس کی ذاتی صفت  ہے الاّ آتما کبھی مشاہدہ دل کی  طرف جاتی ہے اور اُس کے بلانے سے ہل جاتی ہے اورکبھی اپنی استقامت پر نظر کر دل کی موافقت نہیں کرتی بلکہ اسے بھی راہ پرلے آتی ہے جیسے ایک بوڑھا آدمی کہ  کجھو کھیل میں لڑکے کے سنگ ہوتا ہے اور کبھی اپنی شان پر نگاہ کر لڑکے کو بھی کھیل کود سے باز رکھتا ہے اے رام چندر دل کے فنا اور چت کے اچت ہونے کے بعد یعنی کہ دل اور چت کے خطرات اور صفت حرکت سے خارج

(182)

ہونے کے پیچھے پرم آتما رہ جاتی ہے اور بس کمال معرفت یہی ہے کہ جو دل پر غالب آیا اس کو اپنا تابع کرلیا تینوں لوک کی تسخیراُس کے سامنے گھانس کی پتی برابر ہے اور جس شے کو دل محبوب رکھے اور نیک جانے اُس کو تو اگر مکر وہ اور برُا جانے تو بیشک دل تیرا تسخیر ہوگیا اور بازی جیت لی اور میں تو وہ یہ وہ تیرا یہ میرا سب اعتبار أت تیری نظر سے اُٹھ گئے تو گویا دل کے پاؤں آپ نے توڑ ڈالے اے رام چندر آکاس میں اگر ابر ہوتو ہوا اُس کو جنبش دیتی ہے اگر نہ ہوتو آکاس میں دخل تصرف نہیں کرسکتی اسی طرح آتما کی ہوا میں اگر دل رہا ہو شنکلپ کی ہوا  اسے ہلاتی ہے اور  اگر دل فنا ہو جائے شنکلپ آتما سے کام نہیں رکھتی اگر قیامت کی ہوا چلے اور سات دریا ایک ہوکر عالم کو غرق کریں اور بارہ سورج ایک بار گی چمکنے لگیں تو بھی ایسی آتما کو اُس کی جگہ سے نہیں ہلا سکتے اے رام چندرشنکلپ ایک فقیر کے موافق ہے کہ ہر ایک شخص اور ہر ایک جگہ سے کچھ نہ کچھ مانگتا ہے شنکلپ کو نہ رکھتا راج ہے اور سلطنت اس تخت پر آرام سے بیٹھ اے رام چندر دل کو خطرات  کی حرکت جس طرح آگ کو گرمی لازم ہے اور جو آگ میں گرمی نہ ہوتو تو وہ بجھی ہوئی ہے اسی طرح جس دل میں خطرے نہ ہوں وہ مردہ ہے اور دل کا مرنا جیون مکُت ہے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151


Loading..

Loading..