New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 01:24 PM

Books and Documents ( 1 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 17) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: اندر اور اہلیا کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اس مقدمہ میں نذر اور اہلیا کا  کہا جاتا ہے حکایت بسشٹ نے فرمایا اے رام چندر مکھّ کے ملک میں ایک راجہ تھا دیو مُن اُس کا نام اور اُس کی ایک عورت تھی اہلّیا نام حسن او ر جمال میں جیسے چاند کی عورت روہنی ہو اور راجہ کے شہر میں ایک مرد ہیباک اندر نامے بھی رہتا تھا ایک دن اندر آسمان کے راجہ کی حکایت سُنی کہ وہ اہلیا گوتم ۱؎ رکھیشر کی عورت پر عاشق ہوگیا تھا

۱؎ یہ گوتم رکھیشر بڑے حکما ہند سے ہے وہ ایک مرد مرتاض تھا ہند میں علم منطق

(164)

سن کر کہنے لگا کہ میرا نام بھی اندر ہے اور راجہ کی رانی بھی اہلیا ہے تو راجہ کی رانی پر میں عاشق ہوتا ہوں۔  آسمان کے راجہ اندر کی حکایت اس طرح ہے کہ وہ گوتم کی بی بی اہلیا پر عاشق ہوا اور اس قدر عشق کے باعث بیتاب اور بے قرار ہوا کہ راج کا سب کام کاج چھوڑ دیا اور اس فکر میں پڑا کہ کسی طرح اہلیا ہاتھ لگے اور ہو گوتم ایک

یعنی نیا سے شاستر کا ایجاد اُسی سے ہے اس داستان پرُ رمز کی تاویل شاید اس کتاب کی شرح میں ہو ورنہ روحانیات کو اور ملایک مقدس کو اس حیوانی افعال سے کیا مناسبت ہے بلکہ خالی رمز کنایہ سے نہیں ہے اور باریک بات کو کسی پیرایہ میں بیان کرنا خود قاعد وقدیم حکما ہند فارسی کا ہے چنانچہ اہل عجم کی کتب قدیمہ میں اکثر دیکھا گیا اور ان کے متاخّرین نے اپنے زمانے کے لوگوں کے نقص اذہان کی جہت سے بہت سے اقوال مشہور قدیم کی تاویلات کی ہیں ایک بات اُس میں سے بطور شہادت یہاں ذکر کی جاتی ہے زیادہ کی گنجائش یہاں نہیں یہ جو مشہور ہے کہ سکندر ظلمات میں لشکر سمیت گیا اور آب حیات سے ناکام واپس آیا اور ساتھی جو اس کے تھے ظلما ت کی راہ سے پتھر کے ٹکڑے جو پڑے تھے اُٹھا لائے جب ظلمات سے باہر آئے تو وہ سنگریزہ یا قوت اور الماس تھے جس نے اُٹھائے اُس کو افسوس رہاکہ زیادہ کس واسطے نہ لائے اور جو خالی آئے ان کو حد سے زیادہ افسوس تھا اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ سکندر سے مراد نفس ناطقہ ہے اور ظلمات دینا ہے اور لاولشکر حواس اور آب حیات معرفت کہ بقائے رابدی اس سے ہے اور اُس سے محروم رہنا اجسام عنصری میں مبتلا رہنا اور لعل یا قوت کا ظلمات سے اُٹھنا دنیا سے اعمال حسنہ کا لےجانا ہے اور سنگرنرو ں کا اُٹھانا اعمال مذمومہ کہ آفرت میں موجب حسرت وافسوس کا ہوگا ہندو لوگ قاتل تناسخ ہیں ۱۲

(165)

مرد مرتاض کی بی بی  تھی پاکدامن اور گھرسے کم نکلتی تھی  اتفاقاً ایک روز گوتم باہر تھا موقع دیکھ کر گوتم کی صورت بن  اُس کے گھر میں گیا اور گھبرا کر برُا کام کیا اسی درمیان میں گوتم آن پہنچا اندر سمجھا کہ اب فضیحت اور رسوائی کی نوبت آئے گی بلّی کی صورت بن وہاں سے برآمد ہوا گوتم نے صفا سے باطن سے جاماکہ یہ بلّی اندر ہی کہ بڑے کام کے ارادے سے آیا تھا اسے ملامت کی او رکہا اندر جس چیز کی طلب میں تو آیا تھا وہی علامت تیرے تمام جسم میں نمودار ہو انفرین کے ساتھ ہی ہزار سوراخ اندام نہانی کی شکل اندر کے جسم میں ظاہر ہوے اندراس حالت میں گرفتار ہوا خجالت کے سبب اپنے گھر نہ جاسکا تا لاب میں گرا اور میلوفر میں چھپ گیا اور کئی ہزار سال وہاں رہا اس کے بجائے دوسرے راجہ نے مدت تک راج کیا جس نے تپشیا بہت کی تھی انجام کا روہ اندر راجہ کی بی بی پر عاشق ہوگیا اور وہ کام کیا کہ اگست یعنی سہیل کی روحانیت کی نفرین میں مبتلا ہوا بعد ازاں دیوتا لوگ بڑی تلاش اور تجسس کے ساتھ بر ہسپت یعنی مشتری کی روحانیت کی رہنمائی  سے اندر کے پاس گئے او رکہا تجھے کیا واقعہ پیش آیا کہ راج کو چھوڑ اس تالاب میں چھپ رہا ہے اندر نے اپنا قصہ ّ بیان کیا او رکہا اس حالت سے

(166)

میں باہر پانی کے نہیں آسکتا آخر برھما اور سب دیوتا ؤکی سفارس سے گوتم اپنی نفرین سے باز آیا او رکہا کہ ہزار سوراخ جو اندر کے بدن میں ظاہر ہوئے ہیں ان کی ہزار آنکھ بن جائیں اندر ہزار آنکھ کا ہوکر پانی سے باہر نکلا گویا توگوتم کا اشارہ اس سے تھا کہ آسمان کا راجہ چاہے کہ ہزار آنکھ والا ہوتا کہ بینش  کے ساتھ کام کرے القصہ یہ حکایت سن کر اندر ۱؎ لوند ا ہلیا رانی پر عاشق ہوا اور رانی بھی یہ بات سن کراندر پرعاشق ہوگئی اور دونوں بحیلہ فائز المرام ہوئے یہ خبر راجہ کو پہنچی دونوں کوبہت تنبیہ کی لیکن یہ دونوں محبت کے باعث ان تنبیہوں کو اُٹھا کر اپنے کام سے باز نہ آئے او رہمیشہ ہنسی خوشی سے رہنے اور کوئی اثر درد اور تکلیف کاانہیں محسوس نہ ہوتا راجہ نے دیکھاکہ میری سیاست اثر نہیں کرتی دق ہو کر ان کی تنبیہ سے بار رہا اور دونوں کو سامنے بُلا کر نصیحت اور ملائمت کے ساتھ کیا ہرگاہ یہ تکلیف اور درد جو تم کو پہنچتا ہے کس واسطے اپنے اطوار ناپسندیدہ سے باز نہیں آتے اورملول نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ خوشیاں مناتے ہو او رپھول کی طرح شگفتہ رہتے ہو وہ دونوں بولے ہم ایک دوسرےکی محبت میں محو ہوگئے ہیں

۱؎ یہ اندر دو اندر باشندہ شہرمکھ کا ہی جو اندر آسمان کی داستان سن کر اہلیا زوجہ ملک مکھ پر عاشق ہوگیا تھا۱۲

(167)

سیاست اور آزار سے ہم کو خبر ہوتی جو عشق میں ڈوبا ہوا ہے اُس کو کسی چیز سے تکلیف نہیں پہنچتی بلکہ عبّاد مرتا ض کی بددعا اور رکھشیر وں کی نفرین ان کو مضرف نہیں کرتی ۱؎ او رکسی محنت اور تکلیف سے جنبش نہیں کرتے جس طرح پہاڑ ہو ا سے نہیں جنبش کرتا بدن کی حرکت دل کی امداد بغیر ہر گز معتبر نہیں اور بدن کے کام اسی دل سے پیدا ہوتے ہیں جیسے درختوں کی طراوت پانی سے ہو اور اگربدن معدوم ہوجائے دل دوسرے ہزار بدن

اشعار مولوی معنوی کے عشق کی معرفت میں یہ ہیں ؎ ہر کہ راجہ زعشقے چاک شد۔  اوز حرص وعیب کلّی پاک شد۔شاد باش اے عشق خوش سوادی ما اے طبیب جملہ علتہا ہی ما ۔  اے دوای نخوت وناموس ما۔  ای تو افلاطون و جالینون ما۔  جسم خاک از عشق برافلاک شد۔  کوہ دررقص آمد وچالاک شد  عشق جان طور آمد عاشقا۔  طور مست وخرموسی اصعقا ۔  علت عاشق  ز ہتا جداست ۔ عشق اصطراب اسرار خداست ۔ عاشقی گرزیں سروگزران سراست ۔  عاقبت مارا بدان سورہبرست ۔  ہرچہ گویم عشق را شرح دبیان ۔  چوں بعشق آیم خجل باستم ازان ۔ اگر چہ تفسیرزبان روشن گر ست ۔ لیک عشق بے زبان روشن ترست ۔  شرح عشق ارمن نوسیم بردوام ۔  صدقیات بگذردوان ناتمام ۔  چون قلم اندر خوشتن می شنافت۔  چون عشق آمد فلم برخود شگافت ۔  چون قلم دروصف این حالت رسید ۔  ہم قلم بشکست وہم کاغذ درید ۔ عقل درشرحش چوفراد گل نحفت ۔  شرح عشق دعا شقی ہم عشق گفت۔  آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ گرد لیلت باید ازوئے رومتاب ۱۲

(168)

پیدا کرسکتا ہے جس طرح خواب کی حالت میں لا انتہا بدن پیداہوتے ہیں اور جودل معدوم زد جائے بدن کا م نہیں کرسکتا راجہ یہ باتیں سن کر رکھیشر بھرت نام سے کہ اُس کا مصاحب تھا کہنے لگا کہ اے حکیم بزرگ ہر چند عشق ظاہری بخبر شہوت کے نہیں ہوتا مگر چونکہ اُس کی باتیں عشق حقیقی سے مناسبت رکھتی ہیں تو کیا شیریں معلوم ہوتی ہیں اب جو سیاست اُ ن میں اثر نہیں کرتی ان کو جلا وطن کردینا چاہئے اس لیے دونوں کو شہر بدر کردیا  بسشٹ فرماتے ہیں اے رام چندر حکایت اندر اوراہلیّا کی جو آپ سے میں نے بیان کی تو اُس سے مطلب یہ تھا کہ آپ کو یہ امر معلوم ہوجائے کہ افراد انسانی سے ہر ایک فرد بشر کے دوبدن ہوتے ہیں ایک لطیف کہ وہ دل سے عبارت ہے اوربڑے کام وہ کرتا ہے دوسرا بدن کثیف محسوس جو گوشت پوست ہڈی رگ اور پٹھے سے مل کر بنا ہے اس بدن سے بغیر لطیف بدن کے ہر گز کوئی کام نہیں ہوسکتا او رنہ دوسرے کسی کو اثر قبول کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دو آدمی جو ملے بیٹھے ہوں اور ایک کا دل دوسری چیز کی طرف متوجہ ہوتو دوسرے کو نہیں دیکھتا اور نہ اُس کی بات کو سنتا ہے اس سبب سے اندر عاشق نے اس قدر سیاست اور تنبیہ کو جھیلا اور کچھ دُکھ اُسے نہ معلوم ہوا اگر اعتراض کریں کہ شاستر میں

(169)

لکھا ہے کہ لطیف بدن سے سترہ چیز مُراد ہیں یعنی پانچ حواس ظاہری او رپانچ کرم اندری جو گویندہ اور گیرندہ اور روندہ اور زائندہ اور بول براز کا  دفع کنندہ ہیں او رپانچ ہوا کہ ہو پران سماج ودان بیان اپان ہیں اور یہ پانچ ہوا دل اور ناف او رگلے اور تمام بدن اور بول براز کی راہ میں رہتے ہیں اور سولہویں بدّھ ہی اور سترہویں دل پس اِن سترہ چیز وں سے جو لطیف بدن ہے دل کو فقط لطیف بدن کہنا کیا معنی اس کا جوا ب یہ ہے کہ دل سب کا راس ورئیس اور سب  اس  کے ساتھ قائم ہیں لہٰذا اُسی کے ذکر پر اکتفا ہوئی گویا سب کا ذکر ہوا رام چندر نے پوچھا کہ استاد دل کیا چیز ہے بسشٹ نے فرمایا کہ وہ ایک حرکت آتما۱؎ کے کام کرنے اور نہ کرنے میں ہے اور یہ مسئلہ ۲؎ کئی بار

۱؎ آتما نفس ناطقہ اور کبھی آتما سے حق کو تعبیر کرتے ہیں اس واسطے کہ نفس انسانی کو منطلق نفس رحمانی جانتے ہیں اور حسین ابن معین الدین منیری نواتح مذہب اورقول صوفیہ میں نقل کرتا ہے کہ یہ کہتے ہیں نفس انسانی مطلق نفس رحمانی ہے اور عالم وحی ودناطق ہے حتی کہ جمادات مگر نطق بالفعل موقوف ہے نوع انسانی کے مزاج کے وعتدال پر۔  اور تعین کے اعتبار سے ہندی نفس ناطقہ انسانی کو جیو آتما اور حق کو پرم آتما کہتے ہیں ۱۲ ۲؎ یہ باب عالم کے ظہور اور نمود کا ہے جس کو سنسکرت میں اُتپت پرکرن کہتے ہیں اس باب کے اندر جو حکایات لیلا وراجہ پدم اور کر کُسی وغیرہ کی لائے ہیں اُ ن کے رموز اور حقائق سمجھنے کے لائق ہیں کے عالم کا ظہور اور نمود کس طور پر ہے جب تک کہ کوئی شخص اپنے نفس کا عارف نہ ہو اچھی طرح حقیقت واقعی کا پانا

(170)

آپ سے میں نے کہا ہے آلا جب تک کوئی دل کے تصور میں نہیں پڑا ہے تو جاننا چاہئے  کہ اُس کی ایک حقیقت  ہے اور اُس کے ادراک کی طرف

اُسے دشوار  ہے خلاصہ مطلب یہ ہے کہ بجز حق موجود نہیں ہے جس طرح ظہور حق کے ارادہ سے عالم نمودار ہوا نفس ناطقہ انسانی کے ارادہ سے یہ جسم اور حواس اور سب توابع آن بھی موجود ہوگئے اور نفس انسان میں اس ارادہ کا نام دل ہوگیا اور عالم کبیر میں عقل کل اور برھما اُس کا نام ہے جب تک  یہ دل یعنی ارادہ حضرت نفس ناطقہ درمیان ہے اور اُس کی توجہ عالم شہود او رمحسوس کی طرف باقی ہے ضرور بے انتہا اجسام مکات محصول کے موافق ہونگے اس واسطے کہ جس قدر ملکات نفس میں ہوتے ہیں وہی اس کے مرغوب او رمحبوب ہیں اور جو چیز یں اس کی محبوب اور مرغوب ہیں بیشک اُس کا موجود ہونا قدرت ذاتی نفس کے لوازم سے ہے اور عارفون کی ریاضت اور نجاہدہ کا مقصود  بھی یہی  ہے کہ اس دل کو نفس  میں فانی کرے اور محسوسات کی مشغولی سے نکالے جب دل نفس میں خانی ہوا نفس ناطقہ نے بھی حق میں فنا پائی پس جسم و توابع ولواحق جسم کا باقی رہنا جو  کہ انانیت  او رپندار اور اومن کے وجود سے قائم ہے بحالت حصول مرتبہ فنا فی اللہ اور رموال کلی انا نیت کے محال ہوگا جس طرح عالم کبیر میں قیامت اُسے کہتے ہیں کہ عالم  حق میں فنا ہوجائے اور یہ عالم شہود بطون قیامت اُسے کہتے ہیں کہ عالم حق میں فنا ہوجائے  اور یہ عالم شہود بطون میں چلا جائے اسی طرح قیامت صغریٰ کا حال ہے کہ عارف اپنی ذات اور حقیقت کی طرف متوجہ ہو او رجسم و جسمانیات اُس کے نفس میں فنا ہوں اسی اعتبار سے انسان کو جامع کونی  وآلٰہی اور عالم صغیرہ کو نمونہ  عالم کبیر کہتے ہیں  ؎ حالات غیر کیلئے تونے بڑھانے میں ۔  بیدل کچھ آپ کم ہیں کہ جھگڑے لگا ئے ہیں ۔  ایک ایک پتی پھول کے تیرے ہے سو چمن۔  آبھی تم آئینہ ہو کہ عالم دکھا ئے ہیں ۔ جو ایک ریشہ تخم سے تیرے ہو اعیہان ۔ امکان کے لاکھ لاکھ یہ خرمن جائے ہیں ۔  تیری پلک جھپک میں ہے یہ ست  طلسم دہرا۔  چشم بنجر کہ یہ کیا گل کھلاتے ہیں ۔  عالم تمام عرض ہے اپنے بیلم کا ۔  نالے سناؤ شوق جو تم کو سنائے ہیں ۱۲

(171)

متوجہ ہوتاہے اور جب خوب غور کرتا ہے تو جان لیتا ہے  کہ وہ کوئی چیز نہیں بلکہ ایک شے موہوم ہے مگر اُس کے تعین کے آئینہ میں دوچیز عکس ڈالتی ہیں ایک رائی یعنی دیکھنے والا دوم مرئی یعنی دیکھا گیا اسی واسطے سکھپت کی حالت میں کہ دل کی توجہ نہیں رہتی اور صفت آہنگی جاتی رہتی ہے  کوئی چیز نہیں دیکھی جاتی ہے رام چندر ہر چنددل کو ئی چیز نہیں لیکن مکُت کے لیے بڑا وسیلہ اور عظیم رہنما ہے مناسب ہے کہ سب کام سے اُس کو باز رکھ کر پرم آتما کی راہ میں لاوین او رکاملین  کا دل عین  برمہہ  ہے اور دنیا میں کوئی چیز نہیں جو دل میں اوردنیا میں کوئی چیز نہیں جو دل میں نہیں ؎ جام جم جسے طلب کرتا تھا دل مدت ہوئی۔  اُس میں جو تھا  غیر  سے اُس کو طلب کرتا تھا دل ۔  دل گواہ اس کا  کہ پردہ میں دل آراہی  کوئی ہستی قطرہ کہے دیتی ہے دریا ہے کوئی ۔  اور دنیا میں کوئی چیز نہیں جو دل میں نہیں اور جو چاہے وہ کرسکتا ہے دانائی کی صورت بدن میں ظاہر ہوتا  ہے اور سختی کی شکل پتھر میں قرار اور سکون کی وضع زمین میں اور روانی کی  حالت پانی میں اور  جلن کے نام سے آگ میں اور سنسناہٹ کی صورت ہوا میں اور بے نشانی کے نشان سے آکاس میں اور بے ثباتی کی شکل سے تمام عالم میں اور یہ سب صورتیں دل میں ایسی ہی ہیں کہ پوری صورت مور کے گوشت پوست

(172)

سر چونچ گردن سینہ بازو پاؤں رنگ برنگ کے پر بالکل انڈے میں مندرج اور مخفی ہیں جس طرح درخت کی تمام صورت تخم کے اندر ہے اے رام چندر دل کی مثال ایسی ہے کہ بعضے ظریفوں نے اُس کی ایک داستان بنائی ہے اور دولت مند وں کے بچوں سے بیان کرتے ہیں ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132


Loading..

Loading..