New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 12:17 AM

Books and Documents ( 30 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 14) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: راچھسنی یعنی شیطانہ کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چندر لیلا کی حکایت میں نے تجھ سے بیا ن کی اس کو خوب سمجھ کر وہ بیماری کہ کثرت موہوم کے دیکھنے بھالنے سے او رمحسوسات میں جی لگانے سے پیدا ہوگئی ہے اپنے سے دورکرا ور تعینات کی کثافت کو ہر گز نہ دیکھنا اے رام چندر عالم کو بالکل چھوڑ او رحق میں لپٹ جا۔ چونکہ وجو دبڑی ہیبت اور جلال رکھتا ہے اکثر آدمی نامردی سے اس کے سامنے نہیں ہوسکتے تو اپنے وہم او رہراس کے سبب اُس سے الگ نہ ہونا اور خوب اُس کو پکڑنا کہ جو لپیٹتاہے اُس کے ساتھ وہ مہربانی اور نرمی کرتا ہے اور اُس کی ذات مقدس کی تھوڑی جنبش سے کہ اس کا منشا حب ذات ہے ہماری تمہاری اور تمام ارواح جزئی ظاہر ہوئی ہیں جس طرح دریا کی جنبش سے لہریں پس روح جزئی اسی جنبش سے مراد ہے

۱۲؎ تعین پر جب تعین نہ رہا اور مرتبہ فنا ئے مطلق کا حاصل ہو ا جسم کا قیام اور بقا محال ہے اگر اعتراض کریں کہ جیون مکُت میں جسم باقی ہے تو جیون مکُت والے پر فنا کا لفظ کس واسطے بولتے ہیں اُس کا یہ جواب ہے کہ ہرگاہ جیون مکُت مرتبہ منصور علاج کا نام جو کہتا تھا کہ میں حق ہو اور اس مرتبہ میں روئی باقی ہے اس لیے کہ لفظ میں کا انانیت پر دلیل ہے اور  حق کا لفظ کہنا مغائرت کی خبر دیتا ہے جیسے کہ ایک بزرگ کاشعر  جیون مکُت اور بدیہ کو خوب ظاہر کرتا ہے ؎ جس قدر بت تھے راہ میں توڑے ۔  رہ گیا بُت خدا پرستی کا ۱۲

(141)

اور جب جنبش  نے تب قا ضائے حکمت  کا لمہ قوت یکزی اہنکار یعنی انانیت اُس کا نام ہوا اور جب اہنکار سنکلپ یعنی تصور کی طرف متوجہ ہوئی کہ میں یہ کام کرتی ہوں چت اور چت سے مایا اور دل پیدا ہوئے اس طرح دل برمھ سے ظہور میں آیا اور دل بچار سروپ یعنی عقل کل ہے اور ظہور عظیم ہے کہ مرتبہ تکوین اور پیدائش میں کوئی چیز اس کو نہیں پہنچتی اور اشیا کی ظاہر کرنے والی وہی ہے اور وہ سنکلپ کہ چتین سروپ کے دریا سے مثل امواج دریا اُٹھتی ہے اس کی حدو نہایت نہیں اور دل کی امداد سے عالم ظاہر ہوتاہے اور عالم ایک خواب عظیم ہے کہ وہم اور خیال اُس کو موجود اور برقرار جانتے ہیں جس طرح درخت کی پٹری جس کو سلّی بھی کہتے ہیں کہ دور سے آدمی معلوم ہوا ور اُس کی تفیتح تلک کہ پٹری ہے نہ کہ آدمی اُس پر آدمی ہونے کا گمان بدستور باقی رہتا ہے جس طرح چد آتما اور جیو آتما میں فرق نہیں مگر ایک اعتبار سے اسی طرح دل اور عالم میں فرق نہیں نکال سکتا مگر وہم سے اور حقیقت میں سب حق ہے اور اعتبار ات قابل اعتبار نہیں ہیں  بسشٹ نے فرمایا  اے رام چندر ایک قدیم داستان اور

۱؎  قدیم کا لفظ اس محل پر ایک عجیب اشارہ عمیق ہے کے عقل  نکتہ دان اس کو پہنچ سکتی ہے اس واسطے کہ یہ داستان حقیقت شیطان ہے جو شخص صاف عقل اور بلند۱۲

(142)

یاد آئی سنو حکایت شمال کی طرف برف کے پہاڑ میں ایک راچھسنی یعنی شیطانہ تھی کرکٹی نام کالی بھو جنگ گویا دھوئیں سے بنی تھی اور آنکھیں بجلی کی طرح چمکتی تھیں اور لمبا قد تھا کہ پاؤں اُس کے کھجور کی پیٹری اور ناخن اُس کے فیروز ے کے رنگ تھے وہ  بھوکھی نہایت رہتی تھی  اس لیے دُبلی ہوگئی کہ ہڈیوں پر اُس کی رگین لپٹ گئیں گویا ٹوٹی ہڈیاں باندھی ہیں ایک بار اُس نے بھوکھ کی شدت سے تصور کیا اگر جنبو دیت یعنی ہندوستان کے تمام آدمیوں کو

۱۲؎ ادراک سے بلارد واکراہ اس مسو  صوفیہ کو ان لے کہ حق باطل سب حق لائے کی نہیں  ہے اس واسطے کہ غیر کا وجود تو حید میں محال ہے وہی شخص لفظ قدیم لائے کی وجہ سمجھ سکتا ہے بقول ایک بزرگ کے؎  بن گیا امتیاز آئینہ ہر خوب وزشت ۔  گرتفادت منفعل ہوکیا پلید اور پاک کیا  ۔  چنانچہ یہ قول متنازع فیہ صوفی اور متشرع کا مشہور ہے متشرع نے کہا میں بیزار ہوتا ہوں  ایسے خدا سے جو کّتے اور سور میں جلول کرے صوفی نے کہا  کہ میں بری ہوں ایسے خدا سے کہ ظہور میں کتّے سور سے ناقص ہو حتی کہ یہ نزاع دونوں کا طول کو پہنچا ایک حکم منصف صاف مشرف کے سامنے پیش کیا لوگوں نے کہا کہ ان دونوں میں سے ایک کافر ہوا ثالث عارف نے کہاکہ ان میں  سے کوئی بھی کافر نہیں ہوا جوشخص کہتا ہے کہ میں بری ہوں ایسے خدا سے کہ کتّے اور سور میں ظہور کرتا ہے وہ مراتب تقدیس اور تنز یہ حق کو نہیں سمجھا اور  اس ظہور میں نقصان جانا اور دوسرا موحد کمال تنزیہ سے اس ظہور میں نقصان نہیں خیال کرتا بلکہ عدم ظہور کو ان مظاہر میں میں نقصان کہاں تنزہ میں سمجھنا ہے اس واسطے خدائے ناقص سے بیزاری ۱۲

(143)

کھا جاؤں تو شاید میرا پیٹ بھرے اس نیت سے ایک پہاڑ میں جہاں کسی کا گذرا نسان جنات اور دیوتا سے نہ تھا جاکر انتہا کی تپشیا میں مصروف ہوئی آٹھ ہزار سال تک ایک پاؤں پر کھڑی رہ کر چاند سورج کی حرکت کو نگاہ کرتی رہی اس مدت کے گذرنے پر برہما مہربان ہوکر اُس کے پاس آیا اور یہ امر ریاضت کے لوازم سے ہے کہ اگرکمینہ آدمی بھی ریاضت کرے نتیجہ اُسے ملتا ہے برھما نے اس سے کہا کہ اس محنت ومشقت سے تو کیا چاہتی ہے جو مراد تیری ہو مجھ سے مانگ کرکٹی بولی کہ ہر چند میں لوہے کی نہیں ہوں مگر چاہتی ہوں کہ سوجی یعنی سو زن کی طرح پتلی ہوکر لوگوں کے رگ پھٹے میں گھس جاؤں اور سب کو کھاؤں برھما نے کہا  سوجی ہو ۱؎ بسوجی ہو ( بسوجی ہماری باسی بھات کی ہے) اس کے بعد کہا نیک اور بد کے اندر امتیاز کرنا یعنی نیک آدمیوں کو تکلیف نہ دینا جب برہما گیا کرکٹی خوش وقت ہوکر ایک بالشت بھر کی ہوگئی ایک انگلی برابر پھر

۱؎  بسوجی اور بسو جکا سنسکرت میں ہیضہ کو کہتے ہیں اور زہر اس کا تمام بدن کے رگ پٹھے ہیں اثر کر کے آدمی کو ہلاک کرتا ہے اور عوام اہل ہند کی زبان میں باسی بھات کے نام سے مشہور ہے ۱۲ کرکٹ  ۲؎  کوڑے اور میل کو ہر چیز کے کہتے ہیں اور یائے تانیث جو اس میں ہے چونکہ ہر صاف چیز کو دردی لازم ہے گویا وجود شیطان میل اور کوڑا ہے جو مادہ اور ہیولی عالم محسوس کو لازم ہے۱۲

(144)

ایک خلال کے موافق پھر سوزن کے مانند ہوگئی اور ناک کی راہ سے آدمیوں کے بدن میں جاکر ہلاک کرتی پھر ایک مدت بعد بدن کے چھوٹے ہونے دق ہوکر کہا کہ میں اتنے ڈیل سے کیا کھاؤں گی قصر بدن کی کوشش سے پشیمان ہوکر پھر ریاضت اور مشقت میں مشغول ہوئی اور اپنے دل کو ہر طرف کے بھٹکنے سے روک کر اغراض نفسانی کو بھول تقرب درگاہ آلٰہی کے لیے عبادت کرنے لگی اور ہزار سال اور ریاضت اور مجاہد ہ کیا پھر برھما اُس کے پاس آیا اور کہا اے لڑکی کثیف بدن اپنا چھوڑ دے اب تجھے کھانے پینے کی حرض نہ ہوگی لیکن بدن کی محافظت کے لیے جو عادتاً خدا کا محتاج ہےکچھ ضرورت خورش کی  ہوتو گونڈا دانہ کے ملک میں جا جو غافل اور بدکار دوُن ہمت آدمیوں سے بھرا ہے خوراک اپنی گوشت اور خون سے اُن بدکاروں کے کر اور عارفون اور دانا اور خدا پرستوں سے علیحدہ رہ ( اب بھی گونڈا دانہ میں باسی بھات کی بیماری پھیلی ہوئی ہے جو  اُس میں مبتلا ہوا جانبر نہ ہوا ) القصہ کرکٹی برھما کی بات سن کر نہایت خوش اور خاطر جمع ہوئی اور خالص عین

یعنی معرفت اپنے نفس سے اوراپنی نسبت سے جو مبدار کے ساتھ ہے بے خبر ۱۲

(145)

معرفت ہوگئی اور اُسی پہاڑ میں قرب آلٰہی سے مشرف ہوکر آرام سے بیٹھی ایک مدت بعد بھوکھی ہوئی اور اس طرح سے کہ برھما نے قرار دی گونڈوانہ کے ملک میں گئی اور ایک مدت وہاں رہی اُس بدکردار قوم سے اپنی غذا حاصل کرتی اتفاقاً ایک شب اُس ملک کا راجہ اپنے وزیر کے ساتھ شہر سے باہر آیا تھا اِس ارادہ سے کہ دیو اور جنات آدمیوں کے ستانے والوں کو ہلاک کریں اور اُس ملک سے جلا وطن کردیں کرکٹی نے راجہ اور وزیر کو دیکھ کر کہا کہ میری خوراک اپنے پاؤں میرے منھ میں آئی ۔  مگر برھما نے حکم دیا ہے کہ بے معرفت آدمیوں سے جو شریر اور بدکار ہیں اپنی خوراک بنانا اور اُن کو بدن کی بے فائدہ قیدسے رہائی دینا اور حال یہ کہ جو بھوکھا ہو اور اپنی قوت بے زحمت پائے اور نہ کھائے احمق ہے لیکن شک ہے کہ یے عارف ہیں یاد بدکار اگر میں یے سمجھو ان کو تلف کردن برھما کے حکم کے خلاف میرا یہ کام ہوگا اور انجام کا رندامت ہوگی مناسب ہے کہ پہلے میں  ان کو آزماؤں اور میرے دل کو بھی بھلا نہیں معلوم ہوتا کہ دانا آدمی کو ضائع کروں جس کسی کو معرفت اور نیک نامی اور بڑی عمر اور دین دنیا کی تمام مرادین درکار ہوں تو چاہئے کہ عارف کامل کی خدمت گزاری  کرے اور جو ان کی خواہش ہو اگر بن آئے

(146)

حاضر لاکر ان کو خوش کرے اور میں بھوک کے مارے اگر مرجاؤں تب بھی عارف دانا لوگوں کونہیں کھاسکتی اور جو راحت کہ عارف اور دانا کی صحبت سے حاصل ہو جان عزیز سے بھی نہیں ملتی بلکہ دانا کی صحبت مرض الموت کی دوا سمجھنی چاہئے ہرگاہ میں راچھسنی ہوں نہیں چاہتی کہ دانا کو تلف کروں مجھ سے کمینہ بڑھ کر کون ہوگا کہ دانا کی قدر نہ جانے اور ان کو اپنے گلے کا ہار نہ بنائے گیانی اور عارف روئے زمین کے چاند میں کہ خلائق کےدل اور سینہ کو روشن اور ہر غم والم سے پاک کرتے ہیں اور زندگی اصل یہی ہے کہ دانا لوگوں سے ملے جلے ۔  اُن کے پاس سے الگ رہنا اور ان کو نہ ماننا موت ہے اس لیے میری خاطر میں یہ بات آئی کہ پہلے ان سے جو اندھیری رات میں یہاں آئے ہیں گیان اور معرفت کا سوال کروں اور اس باب میں امتحان کروں اس ارادہ سے جنگل میں آکر بڑی فریاد مچائی پھر بات شروع کی اور اس کی بات گرج کے بعد ایسی تھی جیسے بادل کی گرج کے بعد بجلی گرے اور بات یہ تھی کہ اے لوگوں تم جو اس بیابان میں آئے عاقل ہو با بے عقل اس عقل کے ساتھ کس لیے میرے لقمہ ہونے کو تیار ہوکر آئے ہو راجہ نے جواب دیا کہ اے دیونی جو یہ آواز دے رہی ہے

(147)

اپنے کو ظاہر کر اور اس بڑی چلاّہٹ کی آواز سنے جو بات کرتی ہے  اور ہم کو ڈراتی ہے سوکالی بھڑ کی بھن بھٹاہٹ سے کون ڈرتا ہے کرکٹی نے ہنس کر شور کیا جو پہلے سے زیادہ  ڈراونا تھا جیسے بجلی خارا کے پہاڑ پر گرے اپنے تئیں اُنہیں دکھلایا کہ اسے دیکھ کر ڈرجائین اس کے بعد وزیر بولا اے راچھسنی کیوں اس قدر تو فریاد کرتی ہے ہمارے سامنے تجھ ایسے ہزاروں مچھڑ مکھّی بیہودہ چلاّ کر برباد گئے ہیں جس  طرح آندھی میں گھانس کا پتّا اُڑجائے اگر مطلب ہے تو ہم سے مانگ کہ جو ہم سے کچھ مانگتا ہے اُسے محروم نہیں پھیرتے کرکٹی  نے اپنے دل میں کہا کہ یے شیر مرد عجب عقل وشعور کےہیں بات چیت چہر مہرہ چشم و ابرو ان کی خبر دیتی ہے کہ یے لوت کمینے اور نادان نہیں ہیں بات چہرہ اور چشم تینوں باطن کے دروازہ ہیں کہ صحبت داروں کی ایک دوسرے کی حقیقت پر آگاہ کرتے ہیں جس طرح میں ان کی حقیقت سے واقف ہوگئی یے میری حقیقت سے مطلع ہوگئے ہونگے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کو نگل جاؤں کہ یہ اپنا سی ہیں یعنی ہستی حق کے ساتھ باقی ہیں میں ان کو نیست نہیں  کرسکتی مناسب ہے کہ میں ان سے کچھ پوچھوں کہ جو شخص دانا آدمی کو پاکر دیکھ اُس سے نہ پوچھے احمق ہے اس نے اول پوچھا کہ تم کون ہو وزیر بولا کہ یہ راجہ کرات دیس کا ہے اور میں اس کا

(148)

وزیر ہوں آج رات راچھسوں کے قتل کو ہم نکلے ہیں جو آدمیوں کو ستاتے ہیں کرکٹی ظرافت سے بولی کہ بڑا وزیر جو راجہ کو ایسی اندھیری رات میں ایسے بیان کے اندر لائے جو شاطین سے بھرا ہوا ہے وزیر وہی  اچھا کہ راجہ کو راج بدیا اور راج نیت سکھلائے یعنی علم عدالت اور تدبیر مملکت تاکہ کون بدن اس کی سلطنت اور پکڑے او رملک کی ترقی ہو جو وزیر راج بدبا نہ جانے اور راجہ کو تعلیم نہ کرے نہ وہ راجہ راجہ ہے اور نہ وہ وزیر وزیر اگر تم لوگ راج بدیا جانتے ہوگے تو بچو گے ورنہ  ۱؎ اسی وقت میرے لقمہ ہوجاو گے تم کم عمر ہومیری بات سمجھ کر میرا جواب  دے کر میرے جال سے خلاص ہو کرکٹی کا مطلب یہ تھا کہ یے لوگ دانائی اور نادانی کے معنی اور ہنر مند ی اور بے ہنری کا مطلب سمجھ کر دانشمندی سے جوا ب دیں بسشٹ فرماتے ہیں کہ اے رام چندر کرکٹی اورراجہ اور وزیر نے جو آپس میں گفتگو کی تفصیل دار تم سے کہتاہوں اسے سنو کرکٹی نے راجہ اور وزیر سے پوچھا کہ کون شی لطیف ہے کہ ہزاروں برہمانڈ اُس میں فانی ہوتے ہیں جس طرح بے انتہا بلبلے دریا میں فنا اور معدوم ہوجاتے ہیں اور کون چیز ہے کہ آکاس ہے اور آکاس نہیں اور وہ کیا ہے کہ چیز ہے اور چیز نہیں اور کون

یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جو شخص حقیقت میں عارف ہے شیطان کی شر سے محفوظ اور سلامت ہے اور غافل ہے ہلاکت اس کے نفس کی کہ حقیقت اور ماہیت اُس کے وجود کی ہے گویا شیطان کا لقمہ ہوتا ہے ۱۲

(149)

شے ہی کہ جنبش کرتی ہے اور جنبش نہیں کرتی اور کون شے ہے جس کو سکون ہے اور نہیں ہے اور کون سا گیان ہے کہ پتھر کے موافق ہے اور وہ کیا ہے کہ ہوا میں تصویر باندھتی ہے اور ایسا ذرہ جس میں تمام کائنات سما گئی ہے کون ہے جس طرح تخم درخت میں اور کونسی چیز ہے کہ اُس سے کوئی جدُی نہیں  ہے جیسے لہریں کہ دریا سے جدُا نہیں اور کون چیز ہے کہ دوم ہے اور دوم نہیں ہے اگر یہ سوال تم سے حل ہوں تو بہتر نہیں تو میری بھوکھ کی آگ کے تم ایندھن ہوجاؤگے وزیر نے جواب دیا کہ یہ عالی امر جس کو مختلف عبادتوں سے اور نمکین بیان سے تم نے بیان کیا برمھ آتما ہے اول تم نے کہا کہ وہ کون شی لطیف ہے جن میں ہزاروں برہمانڈ فنا ہوجائیں وہ لطیف شے حق ہے کہ اُس کی نہایت لطافت سے عام معرفت اُس کے صفات کمال کا بیان نہیں کرسکتا اور حواس ظاہر و باطن اُس کی بارگاہ کبریائی کے ارد گرد نہیں پہنچتے او رعقل دور بین اُس کے کُنہ جلال کی ادراک کر نہیں پاتی او رلاکھ لاکھ برہمانڈ اُس کی رحمت او رجلال کے پرتوسے علم ظہور میں آتے ہیں اور ارادہ ازلی کے اقتضا سے دوبارہ اُس کے دریائے عظمت اور جلال میں بلبلے کی طرح فنا ہوتے ہیں دوسرا سوال تمہارا کہ وہ کون ہے جو آکاس ہے اور آکاس نہیں ہے ۔ برمہہ آتما آکاس ہے

(150)

اس وجہ سے کہ تمام چیزوں کو احاطہ ذاتی سےمحیط ہے او رکوئی چیز اس سے باہر نہیں اور آکاس نہیں ہے اس سبب سے کہ آکاس کو علم اور ادراک یہیں ہے اور حق تعالیٰ علیم بالذات ہے اور غیب وشہادت کا دانا اور تم نے سوال کیا کہ وہ کیا ہے جو چیز اور چیز نہیں ہے یہ بھی برمہہ آتما ہے کہ ہستی محض ہے او رکوئی چیز نہیں ہے یہ اشارہ حسّی کے قابل نہیں ہے اور تمہارا سوال ہے کہ وہ کیا ہے جو چلتی ہے اور نہیں چلتی جو راستہ چلے وہ منزل پر پہنچے اور چونکہ حق ہر منزل میں  موجود ہے پس گویا سب راستہ طے کرکے منزل کو پہنچا ہے اور جو ایک جگہ سے جاتا ہے اُس جگہ سے الگ ہوجاتا ہے چونکہ  حق کسی جگہ سے جدا نہیں ہوتا ظاہر ہوا کہ نہیں  چلتا اور تمہارا یہ سوال کہ وہ کیا ہے کہ سکونت اُس کو ہے اور نہیں ہے جب کہ حق سب جگہ ہے تو گویا سب  مکان میں ساکن ہے اور اس سبب سے کہ مکان میں نہیں سماتا کہیں اس کی سکونت نہیں اور یہ سوال کہ وہ کیا ہے جو گیان ہے اور پتھر کی صفت رکھتا ہے وہ علم اولین وآخرین اور ادراک کلمیات وجزئیات حق کی صفت ہے اور سنگ سے یہ اشارہ ہے کہ اُس میں کوئی چیز اثر نہیں کرتی جیسے مخلوقات میں خوشی اور ناخوشی اثر کرتی ہے ۔ویسے حق عزوجل کسی چیز کا اثر قبول نہیں کرتا پس پتھر کی صفت اُس کی ہے اور یہ سوال ہے کہ

(151)

ہوا میں تصویر کھینچ دیتا ہے وہ کیا ہے وہ برمھ آتما ہے کہ چد آکاس میں کائنات کا نقش باندھتا ہے اور سوال ہے کہ وہ کیا شے ہے کہ اُس سے کوئی چیز جدا نہیں ہےیہ برمھ آتما ہے کہ دنیا اُس کا سایہ ہے اور اس سے جدا نہیں اور سوال ہے کہ وہ کون چیز ہے جو دوم ہے اور دوم نہیں برمھ آتما حقیقت دوم نہیں اور دوم تعین میں ہے (کلام الہی میں واقع ہے کہ حق تعالیٰ ہر ایک کا دوم ہے اور سوم ہر دوم کا اور چہارم ہر سوم کا او رپنجم ہر چہار کا اور ششم ہر پانچ کا ۔ علی ہذا القیاس ) کرکٹی نے کلام دل پزیر وزیر کا سن کر کہا کہ اے راجہ وزیر تمہارا بڑا دانا ہے اور عقل اس کی نہایت پاک اور لطیف ہے راجہ نے کہا کہ تو اُس برمھ آتما کو کہتی ہے کہ  اُس کے طالبان معرفت کے لیے اُس کی کُنہ ذات کا نہ جاننا ۲؎ جاننا ہے او رپانا اُس کا سب چیز کا چھوڑنا ہے اور ظہور اُس کا آفرینش اشیا ہے او ربطون اُس کا قیامت کبری اور انتہا اُس کے بیان حقایق کی بید یعنی علم علم آلہیات ہے لیکن بید بھی اُس کی کنہ حقیقت کو نہیں پہنچتی اور دونوں طرف کے لئے وسط جو تصور کرو وہ ہے اور دونوں طرف بھی وہی ہے اور تمام

۱؎ یہ عبادت مترجم اسلام کی طرف سے ہے کہ مثال کے طور پر لایا ہے ۱۲ یعنی ۲؎ کمال معرفت حق یہی ہے کہ کُنہ ذات کے عدم ادراک کا اقرار کریں اور یہ نادانی عین دانائی ہے اور یہ حدرسائی عار فوں کی ہے اور عارف فسائے مطلق کے بعد حق ہے اور اُس وقت وہ جووہ ہے اپنے تئیں جانتا ہے اور اس وقت رجو دعارف کا اعتبار معدوم ہے ۱۲

(155)

کائنات متحرک ہو یا ساکن اس کا کھیل تماشا ہے اُس کی یکتا ذات تجلیات متکثرہ سے کثیر نہیں ہوتی اور اُس کی کلیت کا دریا لہروں کے پیہم آنے سے تجزیہ نہیں قبول کرتا جیسے عارف۱؎ صاحب کمال شاہ بلند پایہ حضرت مخدوم کا قول ہے ترجمہ بیت اعدا سے ہرگز مت کثر نہ ہو واحد۔  امواج سے دریا متجزی نہ ہو ہر گز ۔  کرکٹی راجہ کی تقریر سن کر اور زیادہ خوش وقت ہوئی اور اُس کے باطن کو ایسی راحت پہنچی جس طرح طاؤس کو بارش سے اور  کمودنی کو ماہتاب سے آرام ملتا ہے (کمودنی ۱؎ ایک پھول ہے کہ چاندنی رات میں کھلتا ہے) پھر بولی اے راجہ عقل آپ کی کامل ہے اور صحبت تمہاری جس کسی کو میسر ہو اُس کی سعادت ہے اور غم و اندوہ اُس کا جاتا رہے جس طرح سے کہ چراغ کسی کے ہاتھ ہو اسے اندھیرے کی فکر نہیں ہوتی اور تم جو کمال معرفت کے مرتبے کو پہنچے ہو لیاقت اُس کی رکھتے ہو کہ تمہاری خدمت کی جائے اگر کوئی مطلب یہ ہے کہ بعد ازیں کسی جاندار بے گناہ کو تکلیف نہ دو بولی کہ میں نے قبول کیا کسی کو نہ ستاؤں گی راجہ نے کہا پھر تو کیا کھائے گی اور جسم تیرا

۱؎ یہ عبارت بھی مترجم کی طرف سے بطور شہادت لانے کے ہیں۱۲ یہ ۲؎ عبارت اصل کتاب کے متن سے باہر ہے ۱۲

(156)

غذا بغیر کیو ں کر قائم رہے گا اُس نے کہا میں بہت مدت بعد جب مراقبہ سے ہوشیار ہوتی ہوں تھوڑی ۱؎ بھوکھ لگتی ہے اور چندان تکلیف نہیں ہوتی اگر کوئی چیز نہ کھاؤں تو پروا نہیں لیکن اب قرار داد کرتی ہوں کہ اس طرح مشغول ہوں کہ بدن میرا غذا بغیر قائم رہے اور مرتے دم تک ہر گز بھوکھ نہ لگے راجہ نے کہا اگر غذا آسانی سے ملے تو کھاتی رہو اس اثنا میں کرکٹی نے رخصت چاہی راجہ نے اُس سے کہا اب ہمارے تمہارے درمیان دوستی اور جان پہچان ہوگئی اوربزرگوں کا قاعدہ ہے کہ حق دوستی اور حق صحبت کا لحاظ رکھتے ہیں  چاہتا ہوں کہ شیاطین کی صورت مکروہ تم ترک کرو اور خوبصورت بن کر چند روز میر ے گھر میں رہو کرکٹی بولی کہ میں اگر تمہارے یہاں آؤں تو کیا کھلاؤگے اس واسطے کہ کھانا تمہارا میرے بکا آمد نہیں راجہ نے کہا کہ ۲؎ چور چکا ر اور گنہگار واجب القتل میرے محکمے میں بہت

۱؎  یہ اشارہ ہے اس کی طرف کہ عارفو ں کا نفس امارہ خاصیت نفس مطمیننہ کی پیدا کرتا ہے جیسے کہ جسم عنصری اور مادّی نفس ناطقہ کے لوازم ظہور اور تکثرسے ہے اور نفس آمادہ اور نس لوامہ یہ ہولی اور مادہ کے لوازم سے پس جس وقت نفس ناطقہ محسوسات کے مشاغل قطع کر کے اپنی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو یہ جسم مع لوازم بھی نفس ناطقہ میں فنا ہوجاتا ہے چنانچہ عالم قیامت کو حق میں فالی ہوجائےگا اسی واسطے انسان کو عالم صغیر تمونہ عالم کبیر کا لکھا ہے اور اس کی حقیقت عارف کے سوا کوئی نہیں جانتا

(157)

جمع ہوتے ہیں سب تجھے دونگا کہ تو ان کو چٹ کرجائے لیکن مناسب ہے کہ کیلاس پہاڑ پر اُنہیں لے جاکر کام میں لائے جب کرکٹی راجہ کے گھر آئی تین  ہزار آدمی واجب القصاص جمع کر اُس کے حوالے کیے کرکٹی رات کو اپنی اصلی صورت ہوکر سب کو کیلاس ۱؎ پر لے گئی بسشٹ فرماتا ہے کہ اے رام چندر اب بھی کرکٹی گنددانہ ملک میں آتی ہے اور وہاں کا راجہ اُن آدمیوں کو نذر کرتا ہے جو گردن مارنے کے لائق ہوئے  اور وہ کھا تی ہے اور اپنی طرف سے کسی کو آزاد نہیں دیتی اے رام چندر کرکٹی اور بسوجی کی داستان میں  نے تجھ سے بیان کی کہ اس سے تجھے معلوم ہو کہ پرم آتما بغیر  کوئی موجود نہیں ہے اور عالم معدوم محض ہے اور جو ظاہر ہے سب وہم ہے کہ اس صورت سے ظاہر ہوا اور اس معاملہ میں حکایت اندر برہن کے لڑکوں کی سنُو اور جوہرات کی طرح کانوں کی زینت انہیں بناؤ اور آگاہ ہو کہ عالم سب جلوہ علم آلٰہی کا ہے اور عارف لوگ اسی جلوہ سے خوش وقت ہیں اور کوئی کام اور شغل اُن کو نہیں عارفوں کی دولت بے رنج ہے اور خود بخود ہاتھ آتی ہے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106


Loading..

Loading..