New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 11:16 AM

Books and Documents ( 27 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 13) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: حکایت منڈپ پاکھان


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

(106)

حکایت منڈپ پاکھان کی

اے رام چندر وہی زمین پر ایک راجہ پدم نام تھا  جو پدم یعنی نیلوفر کی طرح شگفتہ اور اپنے خاندان کا فخر تھا دولت بڑی اور نام نیک اور صفات حمیدہ اور فرزند لئیق اور تدبیر دسِت اُس کی تھی اور سلطنت کے قانون ایسے منضبط کیے تھے جس طرح دریا کہ حد سے نہیں بڑھتا اور دشمنوں کے حق میں جیسے سورج اندھیرے کے لیے اور عیوب کی بابت جس طرح آگ گھانس اور ہنر کے لیے جیسے تالاب ہنس ۱؎ کے واسطے ہو ۔  راجہ کی ایک رانی لیلا نام بہت خوش طبع اور ظریف تھی خوش نصیبی اور اصالت کے آثار اُس میں تھے اور جس وجمال میں گویا لچھمی ۲؎ کی چھوٹی بہن تھی ( لچھمی ایک عورت ہے منجملہ اُن کوہر دن کے جو سمندر سے نکلتے تھے روزی کا فراخ کرنا اور نعمت اور عبش کا ایزاد کرنا اس کے تعلق ہے اور جہاں کہیں دولت ہے اُسی کے فیض سے ہے)اور یہ رانی نہایت ہی راجہ کی رضا جو تھی اُس کی خوشی میں خوش اور اُس کے رنج میں رنجیدہ اور ہر حالت میں راجہ کے حکم کی تابع اور مزاجد ان تھی آلا غصہ کی متحمل نہ تھی اور بہت اُس سے ڈرتی تھی ایک بار لیلا رانی نے فکر کی کہ راجہ جان سے بھی زیادہ پیار ا ہے کچھ ایسا ہو کہ وہ ہمیشہ جیتا جاگتا اور جوان رہے اور میں بھی اسی طرح اُس کی خدمت میں رہوں مُدام اس کے دل میں یہی سوچ رہتا اور اس ارمان کے پورا نہ ہونے سے

۱؎ ایک پرند خوبصورت ہے تالابی اور دریائی کہ ملک ہند میں ہوتا ہے ۱۲ ۲؎ لچھمی روحانیہ موکلہ اور رب النوع دولت کی ہے اور یہ روحانیہ حسن وجمال میں ضرب المثل ہے اور صفات بشن سے یعنی صفت رجوبیت سے پہلے اُس کی تفصیل آچکی ہے۱۲

(107)

اُداس رہتی بس کہ اِس بات کا اُسے عشق سا ہوگیا تھا راجہ کے بدون اطلاع آزمودہ کار بزرگ اور عالمان باعمل کے خدمت میں آتی جاتی اور سب کسی  سے اپنے درد کی دوا اور تدبیر پوچھا کرتی سب یہی جواب دیتے کہ دولت اور بزرگی کوئی چاہے تو محبت اور ریاضت سے ہاتھ آسکتی ہے لیکن جو آرزو تیری ہے کسی طرح نہیں حاصل ہوسکتی چونکہ لیلا رانی کو اِس تمنا کی فکر تھی  یہ باتیں اُس کے خیال میں نہ آتیں اور مطلب کی جستجو سے باز نہ رہتی اب اس فکر میں پڑی کہ جو راجہ سے میں پہلے مرجاؤں تو چھٹّی ہے اور جو راجہ پہلے مرے اور میں جیتی رہوں تو ایسی تدبیرکروں کہ راجہ کی روح میرے گھر سے باہر نہ جائے اور اِس کی لاش پر اپنی نظر رکھے تاکہ اِ س کی نظر کے اثر سے راجہ کا بدن نہ بگڑنے پائے اور جو ر توڑ اُس کے بکھرنے نہ پائیں اور میں ایسا کروں کہ روح اُس کی مرنے کے بعد اس کے بدن مثالی میں رہ کر میری طرف نگاہ کرتی رہے اور میں اُسی قدر میں خوش رہونگی لازم ہے کہ اب اسی کی فکر کروں اور کل جو حادثہ پیش آئے اُس کا آج ہی علاج کروں اور دیبی ۱؎ کی پوجا ضروری جانوں جس کا کام ہے کہ معرفت بخشے اور اُس کو

۱؎ یہ دیبی سرستی کو آیند ہ کہے گا دیبی روحانیہ کا کام ہے اور سرستی قوت ذکا کی موکلہ ہے اور یہ روحانیہ عالم کبیر میں عقل کے توابع سے ہے اور یہ جو کہا کہ معرفت کا عطا کرنا اس کا ۱۲

(108)

رضا مند اس قدر کروں کہ معرفت تک مجھے پہنچا دے اس واسطے کہ اِس بڑی عطیہ بغیر کوئی پیری او رموت کی بلا سے رہائی نہیں پاتا یہ ارادہ کر بددن راجہ کہ اطلاع سرستی کی پوجا کرنے لگی اور ریاضت اور تپشیا میں مشغول ہوئی اور تین روز گذرتے تو  کچھ کھالیتی اِ س طریقہ سے چار سودن میں تھوڑا کھانا کھایا از انجاکہ یہ محنت اور مشقت شوہر کی خیر خواہی کے لیے تھی جو عورات  کی بہتر عبادت ہے سرستی تھوڑی مدّت میں اس پر مہربان ہوئی اور اپنے دیدار سے اُسے مشرف کیا او رکہا لڑکی میں تیری محنت اور ریاض سے بہت رضا مند ہوئی اب جو مطلب اور آرزو تیری ہو مجھ سے مانگ کہ تیرے دل کو

کام ہی واقعی ہے اس واسطے کہ وہ تمام نفوس مد کہ کے ادراک کی مددگار ہے  اور تمام اذکیا کی مبدر ذکا ہے اُس کی عنایت اور امداد بغیر معرفت کو کس طرح کوئی پہنچے اور اس کی پرستش یہ ہے کہ کم کھانا اور حسنی لذات سے پر ہیز کرنا جیسے کہ آئندہ اس داستان میں ذکر کرے گا اس واسطے کہ نفس کا تزکیہ اس کی  حضوری کا باعث ہے جس قدر نفس کہ درات جسمانی سے پاک ہوگا عقل او رذکازیادہ روشن اور ادراک اس کے صاف ہو تر ہونگے نفوس کے حقائق غیر محدود کو بجزا شراقین اور صوفیہ کے نہیں جان سکتے اس لیے جس قدر نفیس اور خبیث اور خیر وشرکا امتیاز ہمارے اعتبارات وہمی سے ہے ؎ نیک وبد کی آئنہ داری کرے ہے امتیاز ۔  گر تفاوت منفعل ہوکیا پلید او رکیا ہے پاک ۱۲

(109)

خوش کروں اور تیری آنکھیں اُس سے روشن ہوں لیلارانی نے پہلے تو سرستی کو بہت سراہا اور کہا اے میری اور تمام جہاں کی مادر مہربان پیرانہ سالی اور موت جس  کی گرمی کی بردہشت آدمی کو نہیں  اس کے حق میں تو چاندنی ہے اور نادانی کی اندھیری جس میں زندگی موت برابر ہے اُس کے لیے تو سورج کی کرن ہے تجھ سے میں دوچیز مانگتی ہوں ایک تو یہ ہے کہ راجہ کی روح مرنے کے بعد نہ میرے گھر سے باہر اور نہ دوسرےکے بدن میں جائے۱؎ دوم یہ کہ جب کبھی تم سے میرا کام ہو اور تمہارا دیدار چاہوں اُن کی سعادت حاصل ہو سرستی نے اُس کی عرض سن کر فرمایا کہ دونوں مطلب ہم نے  تجھے بخشے اور یہ بشارتااُسے دیکھ پھر عالم غیب کو چلی جہاں  سے آئی تھی جس طرح لہر دریاسے اُٹھے اور پھر دریا میں  غائب ہوجائے لیلا رانی یہ خوشخبری سُنکر ایسی خوش ہوئی کہ گویا آب حیات  اُس پر برسا اور جب ایک مدت دراز بعد

۱؎ یعنی عالم محسوسات  سے قطع تعلق کرے اور محسوسات سے تعلق ٹوٹنے تک لا محالہ طرح طرح کے اجسام میں اخلاق مکتبہ کے موافق میسر کرتی پھیرے گی یہ بھی نفس ناطقہ کے کمالات ذاتی ہے کہ جس چیز کا ارادہ اور خواہش کرے وہ حیا اور موجودہوجائے مولانا جامی کا قول ہے ؎ گرگل گذر دبخا طرت گل باشی ۔  وربلبل بے قرار بلبل باشی۔  تو جزوی وحق کُل ست گرروزے چند۔  اندیشہ کُل پیشہ کنی کل باشی۔ ۱۲ ترجمہ سابق ہوچکا ہے ۱۲

(110)

راجہ کی اجل آپہنچی لیلا رانی مارے رنج اورغم کے ایسی زر نزار ہوگئی کہ نیلو فر بن پانی اور سارس جوڑی بغیر ہو اور راجہ کی جدائی سے ناطاقت ہوگئی اور ستی ہونا چاہا اس درمیان سرستی اڑتی آئی اور چلاّئی لیلا رانی سُن کر خوش وقت ہوگئی جیسے حوض کی مچھلیاں پانی سوکھنے سے قریب مرگ ہوں اور ایک ہی دفعہ منھ برسے اور پانی سے حوض لبالب ہوجائے سرستی نے کہا لڑکی بیتابی چھوڑ دے اور صبر کر راجہ کی لاش اپنے گھر پھولو ں میں رکھ چھوڑ کہ نہ پھول مر جھائیں گے اور نہ راجہ کا بدن بگڑے گا اور روح اُس کی منڈپ سے باہر نہ جائے گی بہت جلد تیرے شوہر کی بڑی ناز ونعمت اور جاوہ دولت ہوگی ۱؎ لیلا رانی نے سرستی کی ہدایت کے موافق راجہ کا بدن  پھولوں میں رکھ چھوڑا اور

۱؎  لیلا نمود ومائش نیرنگ کو کہتے ہیں اور یہاں راجہ کی عورت کا نام ہے اس داستان رمز آلود کانفس مطلب ظاہر نہیں ہوتا اور سری بسشٹ نے خاطر نشان ہونا حقیقت اُتپت پرکرن یعنے باب کا شروع کیا اور عالم کا ظہور اپنی داستان پر رامچندر مرید اپنے کو حوالہ کیا ہے او رجو کچھ سیاق بیان سے میری خاطر میں گذرتا ہے اُس کی گذارش کی لیاقت نہیں رکھتا اور ایسے پوشیدہ حقائق اور دقائق کو بخیر پردہ داستان کے ادا نہیں کرسکتا  ازکیا اپنے  ادراک سے دریافت کرلینگے  اور اگر ان اسرار کا بیان تقریر صریح سے ممکن ہوتا کہ داستان اُس میں نہ ہوتو ایسا بڑا عارف اس پردہ میں کیوں کہتا ۱۲

(111)

اُس کی خبر داری کرتی رہی جب دیکھتی کہ راجہ جیتے آدمی کی طرح سویا ہوا چُپ اور بے حس و حرکت ہے تو غمگین ہوکر ابر نسیان کی طرح زار قطار روتی اور آنکھوں سے موتی کی سی لڑی آنسو  ں برساتی اور سورج کی سی زرپاشی کرتی اُس کے دل کا گھر صبر کے اسباب سے خالی ہوگیا اور آرام وچین بالکل جاتا رہا او راپنے بدن کو جیسے گھاس کے پتّے چلتے پانی میں پایا اور اپنے آپ کو تصویر کی حالت دیکھا دوسری بار سوز اور گداز سے نہایت عجزا ور نیاز کے ساتھ سرستی کو بُلایا اور اس کے سامنے بہت روئی دھوئی او رکہا راجہ میرا کہاں ہےاو رکیا کرتا ہے اور اس کا کیا حال ہے مجھے اس تلک پہنچا دو کہ اب جینا میرا مرنے سے بدتر ہے۔  سرستی نے جواب دیا کہ جب تک نربکلپ سمادھ کثرت کے ساتھ نہ کر وگی تمہیں راجہ نہ ملے گا ۔ (نریکلپ سمادھ ایک مشاہدہ ایک قسم کا ہے کہ سن اور بدھ کی جنبش سے باہر ہے اور اس کے حصول کی یہ راہ ہے کہ آکاس میں قسم ہے چدآکاس ہن آکاس بھوت آکاس او رمن کو آکاس اس لیے کہتے ہیں کہ آکاس کی سمائی اس میں ہے اور برمھ کو آکاس اس لیے کہ آکاس کے مثل بیاپک یعنی محیط تمام کائنات کا ہے پس اکاس کا لفظ بھوت آکاس کے لیے بنایا گیا اور برمھ آکاس او رمن آکاس کو تشبیہ کی مناسبت سے کہتے ہیں اور من آکاس او ربھوت آکاس ہرگز برمھ کو نہیں پہنچتے اور

(112)

یہ لاکھ دفعہ ان دوآکاس سے لطیف ہے اور جو سب پر محیط اور سب سے لطیف ہے چد آکاس ہے اگر سب سنگیا یعنی خیالات کو چھوڑ چدّ آکاس میں ڈوب جائے سَرَب آتمک کا مقام تجھے اور سرب آتمک سے روح  کلی مُراد ہے او رکوئی اس مقام پرنہیں پہنچا جب تک اپنے آپ او رکُل کائنات سے قطع تعلق نہ کرے) او رمیرے ارشاد اور تربیت سے جلد اِس مقام پہنچ جائے گی جب سرستی یہ باتیں کہہ چکی اور  چلی گئی لیلا نے مشاہدہ مطلوب حقیقی کی راہ نہایت آسانی سے بلا محنت پائی اور دم بھر میں بدن چھوڑا آسمان کی طرف اُڑی جس طرح چڑیاں آشیانہ چھوڑ پرواز کرے اور دہان اپنے راجہ کو تخت پر بیٹھے دیکھا اور روئے زمین کے تمام راجہ اس کے سامنے قطار باندھے کھڑے ہیں اور راجہ کے گھر میں چار دروازے ہیں پورب کا دروازہ پنڈت زاہداور عارفون کے لئے پچھم والا راجاؤں کے لیے جو نوکرتھے اُتر ہائی دروازہ پر ہاتھی گھوڑے اور سب سوار یان موجود دکھنائی دروازہ پر حسین عورتیں ہر طرف سے گاتی اور ناچتی تھیں لیلا رانی نے اُس گھر میں اپنے سب بچے بالے لونڈی غلام اور نوکر چاکر دیکھے اور اُس سرزمین کے چھوٹے بڑے پہاڑ اور شہر معائنہ کیے اور راجہ سولہ برس کے سِن کا نظر پڑا تھا اور ضعف اور بڑھاپے کاپتا بھی نہیں

(113)

جو مرتے دم تک اُس میں تھا لیلا یہ مراتب دولت دیکھ کر حیران ہوتی اور اُس کمرے میں داخل ہوئی جو اُس کے محل کی صورت تھا اور سرستی کو یاد کیا اور اُس کو موجود پایا تخت پر بیٹھے ہوئے اُس کے سامنے آپ کھڑی ہوکر بولی کہ راجہ ۔  شہر ۔  پہاڑ اور دریا کےاحوال اور عجائب غرائب چیزوں کے معائنہ سےہر چند معلوم ہوا کہ یہ سب وہم اور خیال ہے بلکہ وہ عالم کہ پیشتر جہاں ہم اور راجہ تھے اور اُسے موجود جانے ہوئے تھے اسی عالم کی مثال وہم اور خیال تھا  لیکن آپ سے پوچھتی ہوں کہ یہ دانستگی اور دریافت میری واقعی ہے یا نہیں سرستی نے جواب دیا کہ جو تونے دیکھا یہاں  یادہان جیسے تونے جانا اور کہا سب وہم وخیال ہے ہر گز وجود خارجی اُس کو نہیں اور راجہ کو جس طرح تو نے دیکھا کہ مرنے کے بعد راجا ئی کرتا ہے اگر تو حقیقت اُس کی اور اپنی پہلی پیدائش کی سُنے تو او رزیادہ اچنبھا  ہو اور یقین جو اب تجھے اس کا حاصل ہوا کہ دکھاوٹ کی چیزیں سب وہم وخیال ہیں وہ زیادہ تر ثابت اور اسخ ہوجائے گالیلا بولی کہ ہماری پہلی پیدائش کس طرح پر تھی بیان فرمائیے سرستی نے کہا کہ چد آکاس میں ایک ۱؎ سنسار منڈپ ہے یعنی ذات مقدس آلہی کے آئینہ میں ایک عالم نمودار ہوا کہ گھر کے

 ۱؎ سنسار کے معنی عالم اور منڈپ گھر معنی ترکیبی مجموعہ خانہ عام ہے۱۲

(114)

نام سے اُس کو کہتے ہیں اور یہ برھما نڈ کی طرف اشارہ  ہے جس طرح آسمان سبز رنگ اس عالم کو محیط ہے یہ گھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک باغ کے درمیان واقع ہے ہر طرف برے درخت سایہ ڈالے ہوئے زمین اور سمیر پہاڑ اُس گھر کا ستون ہے اطراف کے راجاؤں کی رانیاں نقش اُس کی تصاویر کی ہیں اور صاحب خانہ ایک برہمن ہے قدیم زمانے کا جس کے لڑکے بہت ہیں اور یہ برھما کی طرف اشارہ ہے اور ہر طرح کے جنّات اور انسان اور فرشتے اپنا مطلب حاصل کرنے کو اُس گھر میں آتے جاتے ہیں اور وہاں کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کے دامن میں جس کا نام ایک گھر رکھّا ایک گانو ہی کرکرام نام ایک برہمن اُس گانون کا باشندہ تھا کہ نہایت آرام وچین سے بسرکرتا تھا اور لڑکے بالے دولت اور سامان نوکر چاکر اور رفیق رفقا اور دودھ کی گائیں کثرت کے ساتھ تھیں او رمہمان مسافر کی خدمت اور ضیافت کرتا او ر تمام مراتب میں بسشٹ کے لگ بھگ تھا اور اُسی کا ہمنام اور وہ مراتب یہ ہیں دینداری دولتمندی بزرگی عمدہ پوشاک بڑی عمر اور نیک کام عوام کی سرداری خواص کی قبولیت اچھا سلوک اور علم بہت تھا اس کی ایک قبول صورت بی بی تھی جیسے بسشٹ کی بی بی وہی نام اَرندَہتی اور اُسی کی سب بوباس اور صفات

(115)

اس میں تھے۔  ایک دن برہمن ایک پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا تھا جہاں ہرے درخت رعنا قدکشیدہ کثرت تھے اتفاق سے پہاڑ کے نیچے ایک راجہ کو دیکھا کہ اپنے فرزندوں کے ساتھ شکار کو جاتا تھا ہاتھی گھوڑے سواری کی مہلیں چتر اور نشان ساتھ تھے برہمن بولا کہ راجائی بھی عجب درجہ ہے کہ اُس میں سب خوبیاں ہیں او ر عالم کی چوطرفہ حکم حاصل ہے کاش مجھے بھی یہ درجہ ملتا اور اچھی اچھی صورت کی عورتیں میری مصاحب ہوتیں بعد اس کے ہمیشہ یہ ارمان اُس کی خاطر رہتا اس کے سوا اور کوئی مطلب نہیں اُس کا دل مدام اس آرزو کا دیوانہ اور فریفتہ رہتا اور اپنی اوقات کو رات دن دینداری اور خدا پرستی سے آباد رکھتا او رکوئی دقیقہ عبادت کا فرد گذاشت نہ کرتا حتی کہ چمن اُس کی جوانی کا بوڑھا پے کی آندھی سے برباد ہوگیا اور اُس کی عمر کا پھول سفید بالوں کے آنے سے خشک اور مُرجھا یا ہوگیا جیسے ۱؎نیلوفر برف کے گرنے سے ہوجائے جس وقت کہ اُس کی زندگی کا سورج غروب کے قریب ہوا برہمنی اُسے دیکھ بہت ملول ہوئی اور وہ تیری طرح اے لیلارانی میرے پاس التجا لائی اور درخواست کی کہ جس وقت میرا شوہر مرے کچھ ایسا  کیجئے کہ جن اُس کی میرے گھر سے

۱؎ یعنی جس طرح کہ نیلو فر برف گرنے سے مُرجھا جاتا ہے ۱۲

(116)

باہر نہ جائے میں نے اُس کی التماس قبول کی اور اُس کے مطلب پورے ہونے کی بشارت دی بعد اس کے برہمن مرگیا اور روح اُس کی گھر سے باہر نہیں گئی اور اُس گھر کی ہوا میں متمکن ہوئی اور چند ایام میں ایک بدن سے تعلق پاکر راجہ ہوگئی۔  اور اُس کی عورت کا کلیجہ شوہر کے ماتم سے پاش پاش ہوگیا اور مرگئی مرنے کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ جو راجہ ہوا تھا محشور ہوکر اُس کے ازدواج سے خوش وقت ہوئی اور برہمن کا مردہ گھر میں پڑا ہوا اور اُس کو مرے آج آٹھواں دن ہے اور لڑکے بالے اور لواحق اور توابع اُس کے مال واسباب سمیت اُس گھر میں جوں کے توں ہیں اور یہ برہمن جو مرنے کے بعد راجہ ہوا تیرا شوہر تھا پدم نام اور تو وہی اَرندَھتی اُس کی عورت ہے اور اُس نے ہزار برس سے زیادہ راجائی کی اور تو اُس کی روانی تھی بڑی چاہ او رمحبت کے ساتھ جس طرح مہادیو اور پاربتی ہوں پس سمجھنے کی بات ہے کہ جیسے پہلا واقعہ کہ مردہ  برہمن نے آٹھ روز میں ہزار سال راجائی کی با لکل وہم اور بھرم ۱؎ تھا یہ ماجرا ہے کہ اپنے گھر کے آکاس میں شہر او رمکان تو نے دیکھا اور راجہ کو جس کا جسم مردہ پھولوں میں رکھا ہے راجائی کے تخت پر بیٹھا تو نے دیکھا اور چار دروازہ اس کے گھر کے ہیں

۱؎ دونوں الفاظ مترادف ہیں بھرم بمعنی دھوکھا ۱۲

(117)

اور ہر ایک دروازہ میں کچھ اور ہی ہنگامہ اور ہی عالم تجھے نظر آیا سب وہم اور خیال ہے جس نے وجود کی بوباس نہیں پائی لیلانے سرستی سے کہاآپ  کی یہ باتیں میری عقل میں نہیں آتیں ان کی تصدیق میں کیو نکر کروں ہر گاہ بسشٹ برھمن کی جان تمہاری دعا کے سبب گھر سے باہر نہیں نکلی اور ہم یہاں پر ہیں پھر کیونکر صحیح ہوکر میں او رراجہ کہ میرا شوہر ہے وہی اَرَندھتی اور بسشٹ برہمن ہیں اور اگر کہیے کہ تم او ر راجہ دونوں اس مدت میں اُسی برہمن کے گھر میں ہو او ردہان سے باہر نہیں آئے  ہوتب بھی ٹھیک بات نہیں ہوتی اس واسطے کہ یہ عالم وسیع اور زمین فراخ او ر اونچے نیچے پہاڑ اور چھوٹے بڑے دریا کہ ہم دیکھتے  ہیں یہ سب بسشٹ برہمن کے ایک مکان میں کس طرح سمائے جیسے کوئی کہے کہ ایراپت اندر کا ہاتھی دانہ رائی کے ایک گوشہ میں بندھا ہے اور سُمیر پہاڑ نیلو فر کے بیچ میں درآیا اور زنبور سیاہ کا بچہ اُسے نگل گیا ۔   دیبی بولی کہ میں نے خلاف واقعی تجھ سے نہیں کہا اُس برہمن کی روح ابھی گھر سے باہر نہیں نکلی اور یہ عالم جو اُس کے گھر کی ہو ا میں تو دیکھتی ہے اور دریا۔  پہاڑ۔  شہر ۔  اور گانوں۔  اور راجائی ۔  اور دھن دولت۔  ایک صورت موہوم ہے او رنمود بے بود بلکہ درحقیقت ایک خواب ہے

(118)

جو تو دیکھ رہی ہے اگر تو کہے کہ ہرگاہ راجہ وہی برہمن ہے اور میں بھی ارندھتی اُس کی عورت ہوں تو یہ قصہ ہمیں کیوں نہیں یاد آتا جواب یہ ہے کہ وہ دوسرا عالم تھا یہ اور عالم ہے اگر کوئی ایک عالم سے دوسرے عالم میں جائے پہلے عالم سے جو دیکھا سُنا ہو کبھی کبھی فراموش ہوجاتا ہے جس طرح عالم خواب میں کوئی چیز عالم بیداری کی نہیں یاد نہیں آتی اور یہ عالم جس میں بالفعل تو نے صورت وجود پائی اُس عالم کی مثال ہے جس کی صورت خیال میں بندھ جاتی ہے اور بڑے پہاڑ کےموافق ہے کہ آئینہ میں دکھلائی پڑتا ہے۔  لیلا بولی اے پر میشری ۱؎ آپ نے فرمایا کہ بسشٹ برہمن کو مرے آٹھ دن ہوئے اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہزار سال بلکہ زیادہ گذرے کہ ہمارا راجہ راجائی کررہا ہے یہ کس طرح ہے دیبی نے جواب دیا کہ جس طرح ایک گھر کی ہوا میں  ایسا وسیع عالم سما گیا اسی طرح تھوڑے زمانہ  کے اندر بہت زمانہ بھی گنجائش پاگیا اور نیز تیرا معائنہ ایک خواب دراز ہے جو دیکھ رہی ہے اور یہ سب وسعت اور دستگاہ عالم خواب  کا تقاضا ہے جیسے کوئی تھوڑی دیر کے خواب میں دیکھتا ہے کہ  سالہا سال گذر گئے اس قسم کے عجائب غرائب خواب کے عالم میں  بہت دیکھ پڑتے ہیں اسی لڑکی کی حقیقت اس کی  کہ وہم سابق فراموش ہوگیا اور

۱؎ پرم بزرگ کو کہتے ہیں اور ایشر صاحب کو اور آخر میں یائے تانیث ہے یعنی صاحبہ بزرگ ۱۲

 

(119)

وہم حال پیدا کما حقہ مجھ سے سنو جب روح جزئی کے دہان ادراک من تلخی مسکراہٹ موت اور شکستگی موت مقتضا ئی طبیعت سے داروئے بے ہوشی جاتی ہے تو وہ احوال ماضی کو بالکل بھول جاتی ہے اور جس عالم میں جاتی ہے اپنے آپ کو جسم جدید کے تعین میں متعین دیکھ کر کہتی ہے کہ میں اس باپ کا بیٹا ہوں اور یہ میرے بھائی اور یہ میرا گھر ہے اور زمین اور باغ میرا ہے اور جو بعضی ارواح نے ذاتی اس تعداد اور ریاضت کی صفائی اور مرشد کامل کی امداد سے کلیت اور جامعیت حاصل کی  ہو اور اُس کی نسبت اشیا اور اضداد اشیا سے یکساں ہوگئی ہوتو وہ واقعات پچھلے نہیں بھولتی بلکہ آئندہ کے اخوال بھی حدت نظر کے سبب اپنی عین ثابتہ کے آئینہ سے ملاحظہ کرلیتی ہے لیلا نے کہا اے ۱؎ سرستی ایک عالم وسیع آپ نے مجھے دکھلا یا اور علم عظیم عطا فرمایا مجھے امید ہے کہ یہ علم آپ کے انفاس مبرک کی بدولت اور عیش کی کثرت اور استعمال سے میرے باطن میں قرار پکڑے اور ٹھہر جائے اب میں بسشٹ برہمن کے مکان دیکھنے کی آرزو مند ہوں مہربانی فرما کر مجھے دکھلا دیجئے دیبی نے کہا جب تلک و کثیف بدن نہ چھوٹ جائے اور لطیف بدن تیری سواری نہ بخائے وہاں تو نہیں جاسکتی اور جب تو ایسی ہوجائے ہم تو ساتھ اُس کے گھر برہمن اور برہمنی کی ملاقات کو جائیں گے

(120)

اگر تو کہے یہ بدن کس طرح چھوڑ دوں  کہ اُس مقام کے دیکھنے کا ہارج ہی تو میں کہتی ہوں کہ تمام جہاں جس تفصیل سے تو دیکھتی ہے صورت شکل نہیں رکھتا وہ درحقیقت سب حق ہے کہ اپنے وہم سے تو نے اُس کی ایک  شکل مقرر کی ہے مثلاً سونے کی انگوٹھی قرار دیتی ہے اگر خوب نگاہ کرو اور حقیقت کو پہنچوں تو سونے کے سوا کوئی چیز دوسری موجود نہیں پس جو چیز کہ وہم محض ہے اُس کا چھوڑ دینا کیا بڑی بات ہے اے لڑکی یہ ریاض اور مشقت کا کام ہے اور ابھی تو نے اپنے تئیں اُس سے لطیف نہیں بنا یا حقیقت آتما کا مشاہدہ تجھے کیو نکر ہو عارف لوگ محنت اور ریاضت کی بدولت اُس مقام کو پہنچے ہیں اور بدن بھی  حقیقت میں لطیف ہے اُسے بھی تونے اپنے وہم میں کثیف قرار دیا ہے تیری نادانی باسنا یعنی خطرات کے سبب سے ہے اور تین صفت جن کی مظہر تمام  کائنات ہے اور ستو گن ہے دوسری زجوگن تیسری  تمو گنُ اے عفیفہ تو اپنے پاک بدن کو جوکثیف خیال کیے ہوئے ہیں یہ باسنا کا اثر ہے کہ پچھلی دو صفت کے ساتھ ظہور کیے ہوئے ہے جب اِن دونوں صفت کو باسنا سمیت تو اپنے سے دور کرے اسی کثیف کو لطیف دیکھے گی اور جیون مُکت پائے گی اور پیشتر اس سے کہ تیری معرفت کا چاند پورا ہوا گر تو چاہے کہ برہمن اور اُس کے مکان کو دیکھے اپنے

(121)

کثیف بدن کا تصور چھوڑ دے اور ساتھ میرے آ لیلا نے کہا اول یہ فرمائیے کہ ابھیاس یعنی مداومت شغل اس کام کی  کیونکر ہے اور مطلب حاصل ہونے کی نشانی کیا ہے اور فائدہ اُس کا کیا ہے سرستی نے جواب دیا کہ حق کا یا دکرنا اُس طریقہ سے جو اُستاد مرشد نے تجھے تلقین کیا ہو اور علم آلہیات اُس کی تصدیق کرے اور اُ س کو تیری عقل دلیل واضح سے قبول کرے اُس کی مداومت ابھیاس کی حقیقت ہے اور آراستگی عقل کی صفت ستوگنُ کے ساتھ اور تر گیہ اُس کا جوگن اور تموگن سے اس طرح کہ دل تیرا نورانی ہوجائے اور بیراگ رس یعنی محبت کی لذت پائے اور رائی مرئی کو تو جانے کہ نہ تھا اور نہ ہی اور نہ ہوگا او ر عقل نقل سے اس دانست کو قوت دے یہ نشانی حقیقت اور درستی  ابھیاس ۱؎ کی ہے اور اِ س کا جاننا کہ من وتو اور محسوسات ہر گز عدم سے وجود میں نہیں آئے اور ہستی کی بوباس بھی ہمارے دماغ میں نہیں پہنچی یہ ثبات اور استحکام ابھیاس ہے اور دل کی خواہش کا جانا رہنا اور خاطر کی رغبت اس طرف کہ یہ لیجئے اور وہ چھوڑ دیجئے ابھیاس کا پھل بسشٹ فرماتا ہے کہ اے رام چندر سرستی اور لیلا رانی دونوں ایک دوسرے کی بات سن کر ایک ساعت

۱؎ توحید کا ملکہ کرنا حضرات صوفیہ کے موافق اور وجود وغیرہ کا اندیشہ دور کرنا۱۲

(122)

جسم بے حرکت اور دل بے خواش کے ساتھ مراقبہ میں بیٹھیں اُس کے بعد سرستی جسم مثالی اور لیلا جسم دہمی چھوڑ دونوں آسمان کو اُڑگئیں وہاں ہوا پائی تو صاف اور میدان دیکھا تو نہایت کشادہ کہ ٹھنڈی ہوا مہکتی ہوئی چل رہی تھی اور کاملین کی ایک جماعت سے ملین جن کو سدِّھ کہتے ہیں اور آسمان میں  جو گنگا ہےدیکھی کہ دونوں طرف سے ہوا اُس کو سنبھالے ہوئے تھی  ایک طرف  نار د وغیرہ منُیشر کو دیو لوک کے گوئیے ہیں راگ گارہے تھے  اور دیبیاں گاین اور نچنیان ناچتی پھرتی ہیں اور ابر جو روز قیامت کی بارش کے لئے مقرر ہے وہاں ابر تصویر کے مثال برسنے اور گرچنے سے بے اثر تھا او رلاکھ لاکھ جو جن ظلمت او رلاکھ جو جن نور کو معائنہ کیا یہ معلوم ہوتا تھا کہ بہت آگ روشن کی ہے یا سورج نکل آئے ہیں اور تینوں لوک اُس آکاس میں جیسے جیت پھل میں کیڑے ہوتے ہیں ( اور جیت پھل یعنی گولر ایک میوہ ہے جس میں سے جیتے کیڑے بہت نکلتے ہیں) پھرلیلا اور سرستی واپس زمین پر آئیں اور بسشٹ برہمن کے گھر کو دیکھا کہ کُہرام سے اُلٹ پلٹ ہوگیا تھا جیسے وہ درخت جس پر بجلی گری ہو چونکہ لیلا نے سرستی کی امداد اور ارشاد سے ست سنکلپ حاصل کی تھی (ست سنکلپ سے مُراد قدرت کا ملہ ہے کہ جو چاہے کرے جس طور چاہے ویسی ہوجائے اور جہاں چاہے جائے)

(123)

اُس نے چاہا کہ گھر والے ہم کو دیکھیں یہ ارادہ کرتے ہی دونوں عورت کو ارباب خانہ نے دیکھا اور اُ ن کے نور سے  گھر جگمگا گیا اور بسشٹ برہمن کے بڑے بیٹے نے اُ ن کا اغراز واکرام کیا اور آداب و تواضع بجالائے او ر قدموں پر اُن کے پھول نچھاور کیے اور کہا اے دیبیو اس گھر میں دومرد عورت قوم برہمن بڑے بزرگ اور عالی نسب تھے اپنے خاندان کی حفاظت کرتے تھے اور ہم چیلوں کو کھانا کھلانے او رمہربانی کرتے تھوڑے دن ہوئے کہ دوبیٹے اور خاندان گھر اور گھر کے اسباب چھوڑ دوسرے عالم کو سدھارے اور ہمیں اُ ن کے مرجانے سے اس قدر رنج او رغم پیش آیا کہ تینوں لوک ہماری نظر میں سنسان اور آسمان ماتمی لباس پہنے معلوم ہوتے ہیں  اور سورج قیامت کی آگ اور چاند برف معلوم ہوتا ہے اے دیبیوں کچھ مہربانی کرو کہ اس رنج وغم سے ہمارا نکاس ہو بزرگوں کا دیدار خالی فائدہ سے نہیں جاتا لیلا نے بڑی مہربانی سے لڑکے کے سر پر ہاتھ پھیر ا اُسے اور تمام خاندان کے آدمیوں کو ماتم سے نکالا پھر دونوں عورت اُن لوگوں کی نظر سے الوپ ہوگئیں ۔  سرستی نے کہا لیلا جو کچھ دیکھنے کے قابل تھا وہ تو نے دیکھا او رعالم کا وہم اور خیال ہونا جو کہا تھا وہ بھی تو نے معائنہ کرلیا اور خدائے عزوجل کی قدرت کا

(124)

کمال بھی مشاہد وکیا اب تو کیا چاہتی ہے لیلا بولی۱؎ جس وقت میں راجہ پدم کے  منڈ پ میں گئی جو صورت شالی کو جسمانی بنا کر راجائی کرتا تھا وہاں کسی نے مجھے نہیں دیکھا اور یہاں لڑکے اور گھر کے سب مجھے دیکھتے تھے یہ تفاوت کس سبب سے ہے دیبی بولی کہ تب تجھے ست ۱؎ سنکلپ کا مرتبہ نہ تھا اب جو تو اس مقام کی مالک ہوگئی اس کی خاصیت ہے کہ جو تو چاہے اور خیال کرے فوراً ویسا ہی ہوجائے چونکہ یہاں تو نے چاہا کہ گھروالے مجھے دیکھیں تو دیکھا اب جو راجہ کے منڈپ میں تو جائے اور چاہے تو سب تجھے دیکھیں گے اور وہ راجہ اور تو رانی ہوگی لیلا بولی کہ آپ کی برکت صحبت سے  میں صفت  تموگن ۲؎ یعنی سیعی چھوڑجوگن میں رہ گئی او ر ستوگن ۲؎ کے مقام تک نہیں پہنچی

۱؎ ست سین مہملہ کے زیر سے سچ اور حق سنسکرت کی زبان میں ہے اور سنکلپ ارادہ اور نیت ودل کے خطرات کو کہتے ہیں اصلی معنی ست سنکلپ کے یہ ہیں کہ چونکہ تو آپ تئیں غیر جانتا تھا اور وحدت مصیقی سے اور اپنی نسبت سے جو تجھے وجود حقیقی کے ساتھ ہی آشنائی نہ تھی خیال تیرا واقع میں حق نہ تھا اور جب کہ اپنی وحدت کی نسبت واحد حقیقی کی ذات سے کما حقہ حاصل کرلی تو یہی ست سنکلپ ہی یعنی ارادہ اور نیت اور خطرات اور اندیشے دل کے سب سچ اور حق جو واقعی تھے وہی ہوئے پس جو شخص ایسے ست سنکلپ والا ہو عین حق ہے اور تمام کامل قدرت رکھنے والا ہے جو چاہے وہ ہو ارادہ فقط کافی ہیں ۱۲ حضرات۲؎ صوفیہ نفس کے تعلقات اور تنز لات کو جوانواع مختلفہ ہیں سیرکہتے ۱۲ تین ۳؎ نفس بہیمی سبعی ملکی میں سے ۱۲

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082


Loading..

Loading..