New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:22 AM

Books and Documents ( 20 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 8) جوگ بسشت: مجھ بیوہار پرکرن: نِت اور انِت کی تحقیقات


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(63)

بیراگ پرکرن تمام ہوا اور دوسرا باب یعنی پرکرن مجھ بیوہار یعنی  تدبیر قطع تعلق شروع ہوا

بالمیک کہتاہے کہ جب رام چندر اوّل مرتبہ نِت اور انِت کی تحقیقات کرنے لگا (نت اُن موجودات سے مراد ہے کہ ہر گزفنا اور زوال اُسے نہ ہوا نِت اُس کے برخلاف ہے)اور یہ تحقیقات اُس کے بیراگ کی باعث ہوگئی جو دنیاوی کاموں سے قطع تعلق کو کہتے  ہیں اور بیراگ مقام معرفت کی خواہش کا سبب ہو ا اس واسطے بسشٹ نے وہ کام بیان کرنےشروع کیے جو طالب فنا کو کرنے چاہییں اور جس طریقے سے کہ مطلب حاصل ہو کہ اے رام چند دنیا میں ہر ایک شخص ہر مطلب کو جس زمانے میں چاہتا ہو جدوجہد دوقسم ہے ایک شاستر یعنی دینی کتاب کے موافق ہو دوسرے شاستر کے برخلاف جو نفس کی خواہش کے موافق عمل کرتا رہے

۱؎ یعنی وجوہ انانیت ذہنی وخیال من وتو کہ موجب عداوت اور کدورت کے ہوتے ہیں برھما نے پردہ کثرت وہمی کو اِن دونوں بزرگوں کی چشم بصیرت سے دور کیا اور حقیقت وحدت وجود کے مشاہدہ سے ان کو  بہرہ یاب کردیا اور نزاع او ردشمنی کے عوض دوستی کرادینا اشارت اُس کی طرف ہے کہ مفائرت اعتباری اُٹھ گئی اور اتحاد مصنوی حقیقی دل نشیں ہوگیا۱۲

(64)

پہلی قسم مطلب تک پہنچا تی ہے اور دوسری قسم بے فائدہ محنت ہے جس کے نصیب دینی کتابوں کا مطالعہ اور مرشد کامل کی صحبت اور خوش آیند کا موں کا محاورہ لڑکپن سے ہوا اُسے مطلب حقیقی کو پہونچنا نہایت آسان ہے رام چند ر نے کہاکہ میرے ہاتھ اختیار نہیں ہے ۱؎ باسنا یعنی خطرہ جس طرف مجھے لے جاتا ہے جاتاہوں بسشٹ نےفرمایا کہ باسنا کے دوکام ہیں کبھی اچھے کاموں کا وسیلہ ہوجاتا ہے او رکبھی برُے کاموں کا او رتمہارے سب کام اچھّے ہیں بس باسنا تمہیں نقصان نہیں پہنچا تا ہے بلکہ مطلب تک پہنچا ئے گا اور اتفاقاً اگر دوسری طرف باسنا کا رخ دیکھو تو خواہ نخواہ اسباب سعادت کے حصول کی طرف لاؤ اور باگ اُس کی ڈھیلی نچھوڑ و کہ دوسرے کام کو کرے اگر درحقیقت باسنا شک میں ڈالے تو دینی کتاب اور اُستاد شفیق کی جانب رجوع کرنی چاہئے کہ خیر کا راستہ دکھلائے مگر اُس کی تاک بہتر ہے اُ س وقت تلک کہ وصول کے مقام تک نہیں پہنچے ہو جب کہ

۱؎ دل جو محسوسات میں بسا ہوا ہے اُس کے خطرہ کو باسنا کہتےہیں یعنی متمکن اور جاگر فتہ  ۲؎ یعنی اعمال قبیحہ کی طرف جو مقنضیات خراب باسنا کے ہیں ۱۲ یعنی ۲معرفت ذات واجب ہیں یا نسبت خود حق تعالیٰ کی طرف جیسا کہ ہے شک پیدا ہو ۲،   یعنی مرشد کا مل اور اُستاد ومہربان کی راہبر ی یا کتب دینی سے ۱۲

(65)

۱؎ بعنایت الہٰی اُس مقام تک پہونچوں اُسے بھی اپنے آپ سے دور کرو اس واسطے کے باسنا زنجیرکی مثال ہے کہ دل کے پاؤں میں پڑی زنجیر لوہے کی ہو خواہ سونے کی تکلیف کی چیز ہے۔  اے رام چندر علم آلہیات کےاوّل اور آخر کو ذہن کی صفائی اور صرف ہمت سے باہم تم نے برابر کیا ہے اب وہ کلام کہ برھما نے کہا اور اُس کی یہ خاصیت ہے کہ عالم کے تمام غم لحظ بھر میں دل کے صفحہ سے جاتے ہیں تم سے کہتا ہوں کان  دھرکےسنو۔  رام چندر نے پوُچھا کہ برہما نے حقیقت کا کلام کس کیفیت کے ساتھ بیان فرمایا اور آپ کو کس طرح پہنچا یعنی بواسطہ بے واسطہ بسشٹ نے جواب دیا کہ ہستی بحت حقیقت  اس کی ہے اور جہاں نامتناہی  صورت۲؎ اُس کی ہے اور وہ سب جگہ ہے

۱؎ یعنی جب تک کہ پایہ شریعت اور طریقت میں ہے اور کردار وافعال کا مقید ہے اس وقت تک سِدہ باسنا یعنی خطرہ افعال محود عالم محسوس کا درکار ہے جبکہ مرتبہ حقیقت اور معرفت کو پہنچا سدہ باسنا دور کر نے کے قابل ہے اس واسطے کہ زنجیر تشتبُد ہے زنجیر اگر لوہے کی ہو یا سونے کی دونوں موجب قید کی ہیں اور طالب اخلاقی کو آزادی محسوسات سے لازم ہے ۱۲ چونکہ ۲؎ قول مرشد کی تاثیر مُرید کی خاطر میں موقوف ہے اس بات پرکہ اُس کے کلام کی صداقت کرے لہٰذا ضرور ہوا کہ براہ حقیقت کے ہادیان کا طریق مختار ارشاد میں یہی ہے کہ اپنے قول کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر مرید سے کمیں چنانچہ اس مقام پر ذہن لوگ معلوم کرسکتے ہیں کہ سری بسشٹ نے جوار شاد کی رام چندر کو کیا اُس کو فرمودہ برہما کا اپنی طرف بیان کیا

(66)

اور سب کا قوام اُسی کے ساتھ ہے اوروہ آکاس اور پرکاس سروپ یعنی ذات پاک اُس کی عین دانائی اور نور ہے اور وہ نور تمام کائنات کا ہے او ر عدم اور فنا کو اُس کی ذات مقدس کی طرف راہ نہیں اور ذات اُس کی اشیار کے ظہور کے وقت اور نیز بطون کے وقت جس کو قیامت کہتے ہیں یکساں ہے اُس سے ابتداً بشن ظاہر ہوا اور بشن کے باطن سے جو صفائی اور لطافت میں نیلو فر کے مشابہ ہے بر ہا وجود میں آیا اور برھما تمام دنیا کو وجود میں لایا جس طرح قوت متخیلہ ایک عالم کو ذہن کے اندر لحظ بھر میں موجود کرتی ہے اور

۱۲؎  اور رام چندر نے اپنی طبعیت حق جو ئے کی کاوش سے پوچھا کہ یہ کلام سری برھما سے آپ کو کس طرح پہنچا اُس کے جواب میں بسشٹ نے اپنی حق گوئی اور رام چندر کی استعداد کے ملاحظہ سے حقیقت نفس الا مری ظاہر کی اور یہاں پرسری بسشٹ کے طرز بیان سے ذکی لوگ تاڑ جائیں گے کہ برھما نے اپنے وجود کو عین حق اور قول و فعل اپنے کو عین قول اور فعل حق کا بیان کیا یعنی تغایر وجود قائل و سامع کا لازم موجودات جسم دار کو ہی اور واصلان حق کا ارشاد القا اور الہام کے طور پر ہوسکتا ہے جیسا قول مولانا کا ہے ؎گرچہ قرآن ازلب پیغمبر  ۔   ہر کہ گوید حق نگف آن کافر ست۔  اہل حقیقت کےکلام میں ہر جگہ رمز اور اشارت ہے کہ اگر بلا تفکر اور تعمق اُس پر گذر ہو اُس امر کے سر سے محروم رہے اور اگر بحر معافی میں غوطہ لگائے تو گوہر نایاب ہاتھ آئے ۱۲

(67)

برھما نوع انسانی کو تمام پیدائش سے زیادہ ناتواں اور درد مند دیکھ کر مہربان اس پر ہوا اور فکر کی کہ کس طرح اُ س کے درد کا  علاج کرے اور کس راہ سے اُس کے غم کو تسکین دے اگرچہ  ۱؎ ریاضت کا کرنا اور دعا کا مانگنا اور خیرات کا دینا اور متبرک مقامات کی زیارت کو جانا بعض اوقات درد اور غم کو دور کرتا ہے مگر نہ ایسا کہ بالکل  استیصال کردے او ربرھما نے یہ بھی کہا میں چاہتا ہوں اس گروہ کو رنج اور غم کے گرداب سے نکالنے کے لئے معرفت میں کلام کروں اور یہ شیریں ٹھنڈا پانی اِن پیاسے دکھی آدمیوں کے منہ تک پہنچاؤں سری بسشٹ کا بیان ہے بعد ازاں کہ یہ ارادہ برھما کی خاطر

یہ ایک ۱؎ علام ہے ا س بات کا کہ نیک اعمال مشروع ہر چند اجرا ور ثواب کے نتیج ہوتے ہیں اور سالکان نو آموز کو اُس کا درد کرنا ضروری ہے اور وہ موجب قبول درجات بہشت کے ہیں لیکن جب تک اعمال وافعال اگر چہ نیک ہوں درمیان ہیں اور محسوسات سے تفید اور تعلق باقی ہے اور اپنی نسبت مبدر کے ساتھ نہیں پائی اور اپنے تئیں کما حصہ نہیں پہچا نا  ساد حقیقی جو اتحاد بمبد کل ہی حاصل نہیں ہوسکتا اور اس مقصد اعلیٰ پر ظفر یاب ہونا اس پر موقوف ہے کہ محسوسات سے تعلق کو قعطع کلی کرے اور انانیت اور اہنکار کی نفی ہو حتیٰ کے ایک ذرّہ بھی مادمن سے باقی رہے ہو لے اور مادہ کا رشتہ نہ ٹوٹے گا اور جب تک مادیات کا استعمال ہے بالغرور جسم ہوگا اور بھوک پیاس اور قسم قسم کے عوارض جسمانی اور تحمل مصائب دشمنان اور اقسام حاجات کا تقاضا اور پریشان تمنا میں جو لوازم ذوی الا جسام سے ہیں گرفتار رہے گا۱۲

(68)

پاک میں ٹھہر گیا مجھے اپنے دل سے پیدا کیا تاکہ ا س کلام کو تعلیم تلقین کروں جب کہ میں پیدا ہوا لنگوٹ اور۱ ؎  رودراچھ کی مالا میرے ہاتھ میں تھی چنانچہ نہایت ادب اور عاجزی سے میں نے برھما کو نمشکار کی  اس نے بڑی شفقت سے مجھے اپنے پاس بٹھا یا اور دعا کی کہ ایک ساعت دل تیرا جو بندر کی طرح ہمیشہ جنبش کرتا اور پھڑ کتا ہے دھوندھلا ۲؎ او رمورکھ ہو جس طرح منہ کی بھانپ سے شیشہ دم بھر کو ہوجاتا ہے دعا دیتے ہی میں اپنے آپ کو اور سب چیز کو بھول گیا اور غمگین ہوا برھما نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹا اُداس کس واسطے تو ہوا اپنے غم کا علاج مجھے پوچھ تاکہ تو خوش ہو پس اُس بزرگ سے میں نےعلاج عالم گیر  ۳؎ غم کا دریافت کیا کہ یہ غمخانہ ۴؎ یعنی عالم کس طرح ظہور میں آیا اور کس طور سے فنا ہوگا برھما نے ایک کلام معرفت

۱؎ ایک درخت کے پھل کے دانے میں جو ہند ووں کے نزدیک اُس کی مالا پاک اور لطیف ہے۱۲ مورکھ ۲؎ کرنا برھما کا اپنے فرزند یعنی نوع انسان  کو یہ ہی کہ ظلمت بشری کا پردہ چھوڑ دینا اور اُس غفلت اور جہل و ماومن کا برطرف ہونا اُس کے بیان حقایق سے اس کا باتکا اشارہ ہے کہ پھر حجاب اس طرح دور ہوجائے گا ۱۲ غم سے عالمگیر سے مرُاد نیدارد خود بینی ہے کہ اُس کا منشا جہل اور غفلت ہے اور یہ جہل وغفلت غم اولم کی مبدر اور تمام عالم اس غم والم میں مبتلا ہے او راپنی نسبت مبدر سے معلوم نہیں کی اور اسی بد ن کو اپنی ذات کی حقیقت سمجھا ۱۲ غفلت ۴؎ حافظ درین سراچہ عجب نیست۔ ہر کہ بمیخانہ رفت بیخبرا آمد ۱۲

(69)

اور اسرار حقیقت کا مجھ سے بیان کیا کہ اس غم کا اثر تک باقی نہ رہا اور جو کچھ جاننا چاہئے میں نے جانا تب جو کچھ تھا وہی ہوگیا برھما نے کہا کہ اے فرزند تجھے ناداں اس سبب سے دعا دے کر کیا تھا کہ مجھ سے معرفت کا سوال تو کرے اور میں تجھے بتلاؤں او رمقصود یہ ہے کہ سوال کا سبب جو طریق ارشاد میں کام فائدہ رکھتا ہے جہاں اور جہاں کے رہنے والوں میں پھیل جائے اب جو میری دعا کی مدت تمام ہوئی اور تو معرفت کے مقام پر پہنچا مخلوقات کی ہدایت کے  لیے بھرت کھنڈ کو جاکہ سب مقامات سے خیروبرکت میں ممتاز ہے اے فرزند بھرت کھنڈ یعنی ہندوستان کی آبادی میں جو آدمی کام کے نیک اورعقل کے درست او رسمجھ کے تیر ہوں اُن کو ہدایت اور تلقین کر اس طریقے سے کہ پہلے نیک کام اور جو اس کی تسخیر اور دنیا سے آزادی اور دائمی فکر نت اور اَنتِ میں ان کو تعلیم کرے یقین کر و جو ارشاد کہ اِن مراتب کی نگاہداری پر واقع ہوگا انہیں دوام حضوری کے درجے کو پہنچا ئے گا اور عین سرور ہونگے اس لیے میں باپ کے فرمانے سے بھرت کھنڈ میں آکر رہا اور قیامت تلک رہونگا اور میرے لیے یہاں بھی کوئی کام اور پیشہ نہیں جس میں مصروف ہوں ایک مدت مجھے رہنا چاہئے سو گذر انتا ہوں اور اپنے آپ کو میں نے ایسا کررکھّا ہے

(70)

کہ کام کرتا ہوں او رنہیں کرتا مُراد یہ ہے کہ کرنا او رنہ کرنا میرے نزدیک برابر ہے اگر کرتا ہوں کچھ خوش نہیں ہوتا کہ خوب کیا اور جو نہیں کرتا ہوں تو کچھ ملال نہیں ہوتا کہ ہے کہ نہ کیا میری عقل گویا نیند میں ہے اُس کو جنبش ہی نہیں اے رام چندر جو کوئی حقیقت کو پوچھے اگر اس کا اعتقاد درست ہے کہ استاد اس کا دانا ہے اور عقل اس کی باعمل اور سائل بھی علم الٓہیات سے خبر دار ہے اور اُس علم کی ابتدا و انتہا کو خوب سمجھ کر باہم مطابق کیا اور شریعت کا بھی اس پر اعتراض نہ ہو یعنی کام اُس کے خلاف نہ کرے ایسے شخص کو بلا توقف اپنی طرف راہ دینی چاہئے او  ر جو کوئی بدکار شہونی حیوان کی خاصیت ہو اُس کے چار دربان ہیں ایک شم ۱؎ یعنی حواس کو اپنا تابعدار کرلینا اور دوسرا ۲؎ بچار یعنی نتِ اور آنتِ کی تحقیق تصوف کے موافق تیسرا ۳؎ سنتو کھ یعنی مال ورزق وغرت وغیرہ کی

۱؎یعنی حواس خمسہ کو اپنا تابع رکھے تاکہ بقا شخصی کی حاجت کے موافق ان کی خواہشوں کو پورا کرے اور ان کی لذت سے دور رہے ۱۲ بچار ۲؎ سمجھنا اور تحقیق کرنا نتِ انتِ یعنی باقی اور فانی کا ہے اسی سبب سے کہتا ہے کہ جب اُس کی تحقیق میں آئے گا تمام آسمان اورستارے اور فرشتے فانیات سے دیکھے گا کل شئی ہالک الا وجہہ پھر خوب اُس کی خاطر نشان ہوجائے گا کہ اللہ پاک کے سوا کسی کو مہتی حقیقی نہیں ہے اور اس سے خود عرفان حاصل ہوگا ۱۲ قناعت ۳؎ یعنی سیری اور آسوُگی اس سے چیز

(71)

کمی و زیادتی پر دل کو سکون وآرام ہو چوتھا سادھ ۱؎ سنگم یعنی نیک صحبت اور جو اس راجہ کو دیکھنا چاہے ان چار در بانوں کو اپنا بنالے اور جو سب نہ ہوسکیں تین یادو۔  یا ایک ہی کو اچھی طرح ۲؎ قابوں میں لائے امید ہےکہ چار دن مطیع ہوجائیں۔  معرفت کے طالب کو مناسب ہے کہ اپنی عقل کو دین کی کتابیں دیکھنے اور نیک صحبت اور ریاضت سے جیسا کہ سلف کے لوگوں کا طریقہ ہے اور خطرات کی روک سے قوی کرے اے رام چندر دنیا کے تعلقات بڑے ۳؎ زہری ہیں جس کی تاب کوئی نہیں لاسکتا جیسے باسی بھات یعنی صبح کا استفراغ کہ اُس میں سمیت ہوتی ہے اور فوراً رگ پٹھے میں اثر کرتی ہے اور مار ڈالتی ہے ایسا اُستاد جو اِس زہر باسی بھات سے بچائے پاک جوگ کے سوا نہیں ہے

۱۲؎ جو موجرد ہے جس کی زیادتی کا انتظار یا رغبت نہ ہو ۱۲ سادھ سنگم سے مراد عارفوں کی صحبت ہے اور سادھ عارف کو کہتے ہیں اور سنگم صحبت اور مجالست اور مصا حب کا نام ہے ۱۲ ؎ چونکہ ۲؎ دربان حجاب اور مانع ملاقات کے ہوتے ہیں اور مکت یعنی رستگاری اور آزادی اِن فضائل کے بے حصول ناممکن اس لیے  مکُت کر راجہ اور ان چار فضیلت کو چار دربان مقرر کیا ہے ۱۲ چونکہ ۳؎ نفس ناطقہ کونہایت صفا اور لطافت سے ایک خاصیت حاصل ہے کہ جس چیز سے تعلق پیدا کرتی ہے اور اُس میں آلودہ ہوجاتی ہے اُس کی عین ہوجاتی ہے اور اُسی کی صورت قبول کرتی ہے اسی واسطے کہا ہے کہ دنیا کے تعلقات زہر قاتل میں جیسے ہیضہ کہ اُس کی سمیت رگ پٹھے میں سرایت کر کے ہلاک کرتی ہے اسی طرح محسوسات کا نفس ناطقہ کے لیے ہلاک کا سبب ہے۱۲

(72)

جیسے کوئی منتر کےزور سےباسی بھات کے زہر سے اچھا کردے جوگ کی تفصیل اِس کتاب میں آئے گی جوت ۱؎ پاک وہ ہے  کہ محض خدا کے واسطے ہو نہ دنیا کے مطلب اور غرض کے لیے اے رام چندر جس کے باطن میں ظاہر کی لذتوں نے گھر بنالیا ہو اُس کا چھٹکارا مشکل ہے اُس کا علاج اگر نہ کرے تو دوزخ کو لے جائے گی اور وہاں ایسے عذاب سامنے آتے ہیں جس کے مقابلہ میں تیر اور تلوار کے زخم ایسے ہیں گویاں نیلو فر۲؎کا پھول کسی نے

۱؎ جو گ کی تعریف جو قدیم ہندوؤں کی ریاضات سے ہے اس قدر مشہور ہے کہ بیان کی محتاج نہیں ہے اور سلوک جوگ میں بہت کتابیں مبسوط اس گروہ میں موجود ہیں ۔ امرت کنڈ جو ایک متبرکتاب جوگ میں اس کا ترجمہ فارسی میں اہل اسلام میں سے بعض عارف نے کیا ہے اور اس کا حوض الحیات رکھا  امرت آب حیات اور کُنڈ حوض ۔  جس طرح بیددن کو برھما کی زبان سے بیان کرتے ہیں جوگ کے طریقہ کر مہادیو سے نقل کیا ہے اور بلا جمال جوگ کی تعریف اس کتاب میں بھی آوے گی میرے نزدیک اس مجاہد ے سے یہ غرض ہے کہ شہوتیں جو ہرایک کے باطن میں محرک بلکہ مبدان حواس خمسہ کی میں اُن کا ضبط ہوجاوے یعنی اُ ن کا استیصال اندر سے او رباہر سے حواس کو تقاضا اور استعمال مشتیات سے بے کار کردینا اور دل کو جو جسم او رپانچوں حواس کا مبدراور منشا ہے جس طرح آس نے خود نفس ناطقہ سے پیدا ہوکر اس جسم اور حواس کو اپنے سے پیدا کیا ہے اس کا رخ اشتغال محسوسات سے پھیر کر نفس ناطقہ میں اس کو فنا کرنا ہے جب کہ ایسا ہوگا تو نفس ناطقہ حق میں ۱۲

(73)

بدن پرمارا اور آگ میں جلنا گویا خس کی ٹٹی میں بیٹھنا اور جوڑ ونگا  کانٹا جیسے صندل کاملنا اور سرکا اڑجانا میٹھی نیندیں سونا ہے اے رام چندر دینی کتابوں کا چھوڑنا نہیں چاہئے کہ یہ غفلت کا سامان ہے اور اس کے بموجب عمل کرنا معرفت پیدا ہونے کا باعث ہے جو شخص ان تین چیزوں کو اپنے اوپر فرض کرلے یعنی دینی کتابوں کا سمجھنا اور استاد کی بات کا سننا اور انبھو یعنی اپنی عقل کوسلوک کے مراتب میں ذکر اور شغل کیے مداومت اور کثرت کے ساتھ مستقیم رکھنا ایسا شخص آتما یعنی جمال الہی کے مشاہدے سےبہرہ یاب ہوتا ہے تویا آنکھ سے اس کو دیکھ لیا اگر یہ کوئی اعتراض کرے کہ علوم وشاستر بہت ہیں مطلب حقیقی کے حصول میں کس کی پیروی کرے اُس کا جواب یہ ہے جس کی عقل کا مل اور فکر درست ہو اس کو بیدانت یعنی علم الہیات سے بڑھ کر اور کوئی علم فائدہ بخش نہیں ہے اے رام چندر بھیک کا ٹھیکرا ہاتھ میں لینا اور مہتروں کی گلی کو چوں میں ٹکڑے مانگنا اس سے بہتر ہے کہ غفلت او رنادانی کے ساتھ زندگی بسر کرے او رمال کے بخشنے اور دوستوں بگانوں کے سلوک اور اعمال کے سنوارنے ۱؎ اور سب کام سے دست بردار ہونے

۱۲؎فنا ہوجائے گا اس واسطے کو تعین اور قفرقہ یہی تھا جو کہ جاتا رہا یعنی ۲؎ دردوزخم مقابل تعلق محسوسات کے مثل راحت کے ہیں ۱۲ ان ۱؎ اشارات سے مراد یہ ہے کہ ۱۲

 (74)

اور گوشہ میں بیٹھنے او رمتبرک مکانوں کے تیرتھ کرنے سے معشوق حقیقی کو نہیں پاسکتے بلکہ یہ مقصود دل کے راضی کرنے سے ہاتھ آتا ہے۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003


Loading..

Loading..