New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 01:25 PM

Books and Documents ( 19 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 7) جوگ بسشت: بیراگ پرکرن: کامدہین اور راجہ ہر چند کا واقعہ


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

مہابھارت کتاب میں مفصل لکھی ہے خلاصہ اُس کا انتخاب کے طور پر اس کتاب میں لکھا جاتا ہے حکایت بشوا متر راجہ گاد کا بیٹا شکار کی خاطر باہر نکلا تھا وقعۃً بسشٹ کے عبادت خانے پر اُس کا گذر ہوا بسشٹ نے چاہا کہ اُس کی ضیافت کرے بشوا متر نے ہنس کر کہا کہ تم فقیر ہوں ہماری ضیافت کیا کروگے بسشٹ بولا کہ جو شخص ہمارے یہاں آتا ہے حیثیت کے لائق اُس کی مہمانداری کرتا ہوں پھر سامان اُ س کی ضیافت کا مہیا کرکے اچّھے کھانے افراط سے اور مٹھائی اورخوشبو اور تازے میوے پیش کیے او ر ہر قسم کی چیزیں اس تعداد سے بڑھکر حاضر کیں جو بادشاہوں کی ضیافت میں ہوتی ہیں بشوامتر کو یہ حال دیکھ کر بڑا اچنبھا ہوا اُس کے نوکر وں سے بعضوں نے کہا کہ بسشٹ کے گھر میں کامدہین ہیں

۱؎ مہا بھارت ایک تاریخ مبسو ط ہندوں میں حقائق اور معارف پر مشتمل ہے جلال الدین اکبر شاہ نے جو تقلید اور تعصب سے علیحدہ تھا اور تمام مذہب کے شرائف اور طائف کا محقق تھا اُسے کتاب مہابھارت کا ترجمہ فارسی زبان میں کرایا ۱۲

(58)

اس کی خاصیت ہےکہ جو کچھ اُس سے مانگیں وہ دیتی ہے بشوامتر نے رخصت کے وقت کا مدھین بسشٹ سے مانگی بسشٹ نے فرمایا گائے کو اُس کی راضی سے لے جاؤ بشوامتر نے کہا تم دو ہم لے جائیں ۔  کامد ہین نے بسشٹ سے کہا مجھ سے کیا تقصیر ہوئی جو مجھے اپنے گھر سے باہر کرتے ہوں بسشٹ نے کہا کہ میں اپنی خوشی سے تجھے نہیں نکا لتا مگر بشوامتر زبردست راجہ ہے تجھے جبراً میرے پاس سے لے جاتا ہے کامدہین بولی اگر تو اپنی راضی سے مجھے نہیں دیتا میں اُس سے سمجھ لونگی جب کامدھین کو بسشٹ کے گھر سے باہر لے گئے راستے میں ہوا کی گرمی سے اور غصہّ کی حرارت سے پسینا لے آئی ۔    جو قطرہ اُس کے پسینے کا زمین پر ٹپکا ایک جوان دلاور اُس سے پیدا ہوا اور اِن دلاوروں نے بشوا متر کے تمام لشکر کو ایک پلک مارنے میں مار تباہ کردیا۔  بشوامتر تنہا بھاگا اور کامدھین بسشٹ کے گھر پھر آگئی ۔  بشوامتر نے نہایت قہر اور غضب سے دو تین بار بسشٹ پر چڑھائی کی  ہر دفعہ کامدھین نے اُس کے لشکر کو مار تباہ اور برباد کردیا۔  بشوامتر نے آخری شکست میں کہا کہ چھتری پر لعنت ہو جس پر برہمن غالب آئے۔  یہ بات قرار دی کہ میں برہمن ہوتا ہوں اِس ارادے سے ریاضت اور مجاہدے میں شغول ہوا اور ساٹھ ہزار برس بڑی سخت محنت کھینچی اس عرصے میں دوتین بار

(59)

برھما اس کی ملاقات کو آیا اورکہا کیا مانگتا  ہے وہ بولا کہ میں چاہتا ہوں کہ برہمن ۱؎ ہوجاؤں برھما نے کہا پیشتر تم چھتری تھے راجا رگھ ہوجاؤ نہ قبول کیا او رپھر ریاضت میں مشغول ہوا (اور رگھ مرد مرتا ض ہے جو ریاضت کے سبب اگلے پچھلے حالات سے واقف ہوجاتا ہے راجہ رگھ راجہ مرتاض ہے جو یہ صفت رکھتا ہو)آخر کو برھما نے فرمایا کہ جو تیری یہی خواہش ہے کہ تو برہمن بنے برمھ ہو کہا اگر بسشٹ مجھے برمھ رکھ کہے توقبول ہے بسشٹ نے بھی برھما کے حکم سے اس کا اقرار کیا پھر ایک مدت کے بعد راجہ ہر چندر نے جو رام چندر کے اجداد میں سے ہی جگ راجسو کیا ( اور خاصیت اس جگ کی ہے کہ ملک میں خلل پیدا کرے ) چنانچہ ایک روز راجہ ہر چند شکار کو گیا تھا جنگل میں فریادی عورتوں کی آواز سنی کہ ہمیں زور او رظلم سے

۱؎ کہتے ہیں کہ برھما نےاپنی مخلوقات کو چار قسم کیا اوّل برہمن اور اُس کے تحصیل علوم اور ترک دست جرید اور ریاضت اور جہد آزادی اور کشتگاری میں مقرر کی فرقہ دوسرا چھتری اور اُس کا پیشہ ہتھیار بندی اور شجاعت وعدالت او رملک داری اور رعیت پروری اور حُسن عہداور صدق قول اور سخاوت اور احسان جو اپنے نوع پر ہواور تمام جاندار دن پر او رجو کچھ شان سلاطین کے لائق ہو تیسرا گروہ بیس (نکا پیشہ تجارت ہر قسم کی ہر جنس کی اور اسباب ہر ملک کے خلائق کو پہونچا نا خلُق کے ساتھ اور خرید وفروخت میں صداقت چہارم سودر اس قسم میں حجام کسان لوہار وغیرہ تمام اقسام ارادل کے ان کا پیشہ خدمت گاری تینوں قسم اول کی اور احکام مذہبی کھانے پینے راج اور عبادت ومعاملات ومعاشرات میں چار دن صنف کے علیحدہ علیحدہ ہیں ۱۲

(60)

قید رکھتے ہیں ہر چندر نے کہا میں تمام روئے زمین کا راجہ اور چھتری دھرم ہوں میرے عہد سلطنت میں یہ کیونکر ممکن اور کس کی مجال ہے کہ کسی پرظلم ہو آواز کی طرف گھوڑا دوڑا کر گیا دفعۃً بشوامتر کے عبادت خانہ پر پہنچا کوئی عورت وہاں نہ دیکھی وہی روحانیاں اشٹ سدھ کی تھیں کہ بشوا متر اُن کی تسخیر کرتا تھا (یعنی آٹھ گونی طاقت تصرف کی کہ بعضی زیاضتوں کا پھل ہے ۔  اور یہ جس کسی کے تسخیر ہوجاتی ہیں خوبصورت عورتوں کی شکل بن کر خدمت اس کی کرتی ہیں ایک انمان یعنی  جس قدر چاہے چھوٹی بن جائے دوسری مہمان جس قدر چاہے بڑی ہوجائے تیسری لکھمان جس قدر چاہے سُبگ بن جائے چوتھی گرمان جس قدر چاہے بھاری ہوجائے پانچویں برمان جہاں چاہے چلی جائے چھٹی پر کامی جو چاہے کرے ساتویں ایشو جس پر چاہے حکومت کرے آٹھویں ویشوتا جس کو چاہئے  اپنے تسخیر میں لائے)راجہ ہرچندنے بشوامتر سے ملاقات کی بشوامتر نے بڑی شورش او رنہایت غضب سےکہا تو ہی تھا کہ دھرم چھتر یوں کی شیخی مارتا تھا کہ دھرم کیا ہے بولا مظلموں کی فریاد کا سننا اور لڑائی میں منہ نہ پھیرنا اور جو چیز کوئی مانگے اُس کو دینا کہا میں جو تجھ سے مانگوں وہ دے گا بولا دونگا کہا سوا تیرے ایک ذات اور تیری بی بی اور بیٹے کے جو کچھ مُلک او رمال سے تیرے

(61)

 قبضہ میں ہی سب مجھے دیدے راجہ بولا میں نے دیا بشوامتر نے کہا اب یہ زمین اور ملک میرا ہوگیا یہاں مت رہ راجہ اپنی رانی اور بیٹے سمیت بنارس میں آیا اِس سبب سے کہ بنارس کو مہادیونے راجاؤں کی سلطنت سے بچا رکھا تھا اور اُس میں عمل اور تصرف کی قدرت ان کو نہ تھی پھر بشوامتر نے راجہ کے پاس آکر کہا کہ تو نے جگ راجسو کیا ہے مجھے دچھّنا یعنی خیرات دے راجہ نے کہاکہ اس قدر صبر کرو کہ میں اپنے آپ اور بی بی کو فروخت کروں پھرتمہیں دچھّنا دوں بولا جلد دے کہ میں جانا چاہتا ہوں نہیں تو سراپ (یعنی بددعا) دونگا راجہ نے سراپ کے خوف سےاپنے تئیں ایک نتر کے اور بی بی اور بچے کو دوسرے کسی کے ہاتھ بیچا اور روپیہ بشوامتر کو دیا چونکہ یہ بات مقرر تھی کہ مرے آدمی کو دریا میں ڈالتے اور کپڑے متر کو دیتے ہیں اُس متر نے مُردوں کی اُترن راجہ کے تصد میں تحصیل کرنی قرار دی ایک مدت بعد راجہ کا بیٹا مر گیا ماں اس کو دریا کنارے لائی کہ پانی میں ڈال دے راجہ نے موئے لڑکے کی اُترن اُس سے مانگی اس رد وبدل کے درمیان ایک نے دوسرے کو پہچانا اور دونوں بہت روئے اور یہ ارادہ کیا کہ دونوں اپنے کو جلا دیں وقعتہً رحمت الہٰی شامل حال ہوئی بہشت کے چوکیدار جا پہنچے او ربولے تمہارے واسطے

(62)

حکم ہے کہ بہشت میں داخل ہو انہوں نے کہا ہم تنہا  بہشت میں نہیں جاتے جب تلک اودھ کے تمام آدمی اور حیوانات جمادات کو اپنے ہمراہ نہ لے جاویں حکم مقدس نازل ہوا کہ راجہ کی درخواست کے موافق شہر اودھ کو اُس کے باشندوں سمیت داخل بہشت کریں اور راجہ ہر چند کا واقعہ اُس وقت کا ہے کہ بسشٹ پانی کے درمیان عبادت کرتا تھا اور عہد کیا تھا کہ بارہ برس تک پانی سے باہر نہ آئے گا جب مدت مقررہ کے بعد پانی سے نکلا تو معلوم ہوا کہ راجہ ہر چند کو ایسا قضیہ پیش آیا ہے چونکہ وہ سورج نبسی یعنی رام چندر کے بزرگوں کا مربی تھا راجہ ہر چند کا قصہ درد کا بھرا سن کر بہت مغموم ہوا اور اس ملال کے غبار نے اُس کی خاطر کر مکّدر کیا ملامت کی راہ سے بشوامتر سے کہا جو کام تم نے کیا ہرگز مناسب حال تمہارے نہ تھا کیا ثمرہ ریاضت اور رہد کا یہی تھا کہ ایک بندۂ خدا کو بے وجہ خانماں سے آوارہ کرو اور ایسا خاندان جو عزت اور بزرگی میں یکتا زمانے کا تھا برہم کرو اب تمہاری ریاضت کا کام تم کو دکھلا دونگا کہ کیونکر ہوتا ہر ایک عمل کا انجام کو  ایک عوض ہوتا ہے او ریہ گفتگو بڑھ گئی او رنوبت بہ عداوت پہنچی دونوں بزرگوار ایسے مغلوب غضب ہوئے کہ ایک دوسرے کے ہلاک میں ہمہ تن آمادہ ہوگئے ازانجا کہ لطف الہٰی شامل حال تھا برھما اُ ن کے مصالحہ کے درپے ہوا اور نزاع اُ ن کی بر طرف ۱؎ کی برھما نی توجہ سے ان کے درمیان کمال دوستی ہوگئی او رجھگڑا دور ہوا ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994


Loading..

Loading..