New Age Islam
Tue Jun 15 2021, 04:04 AM

Books and Documents ( 17 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 5) جوگ بسشت: بیراگ پرکرن: رام چندر کا کلام


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اور رام چندر کا کلام اس مذہب کی حقیقت کی طرف اشارہ ہے اور اگر کہیں صبر کر یہاں  تلک کہ مرشد کامل طے میرا جوا ہے کہ تلاش اور دوڑ دھوپ کا وقت جوانی ہے جو گذری جاتی ہے او رمرشد کامل کا دیدار دور نظر آتا ہے اور اگر کہیں دوسری تدبیر کرتا کہ مطلب حاصل ہویا جو کچھ دریافت کرتا ہے آپ سے حاصل کر کہ سب کچھ  تجھ میں ہی ہیں کہتا ہوں کہ دوسری تدبیر میرے اختیار میں نہیں ہے اس سبب سےکہ کوئی چیز ثابت اور قائم نہیں دیکھتا ہوں کہ اس پر دل نہاد ہو کر آرام اور قرار مہم  پہونچاؤں اور آتما کی صورت میں نہیں دیکھتا کہ اُس سے اس بلند مطلب کو حاصل کروں اور اگر کہیں چار چیز جو مقصد کے حصول کی باعث ہیں اور معرفت کا نتیجہ دیتی ہیں وہ حاصل کرتا کہ یقین کا مرتبہ ملتے اوّل سب کسی کو ایک نسبت کے ساتھ دوست رکھنا  تاکہ ایک خیر جودوسرے کے

۱؎ایک بزرگ کا قول ؎ درنیاید بہ نظر ہرچہ درآید بہ نظر ۔ نہ   پذیر فتہ نجبر عکس تو آئینہ ۲۱

(41)

پاس ہے اور تیرے پاس نہیں ہے اُ س کی حسرت تجھے نہ ہو دوسرے سب کسی کے اچھے کام سےخوش ہوناتاکہ اس بات سے تو محفوظ رہے کہ دوسرے کے اچھے کام کو تو برُا نہ ظاہر کرے۔ تیسرے ہمیشہ دکھ مصیبت والے پر مہربانی کرنی تاکہ دوسرے کسی کو اپنی طرف سے تکلیف تو نہ دے ۔چوتھے بدکاروں کے عمل سے انجان بننا تاکہ برُا کام تو نہ کرے اِس کا جواب میں دیتا ہوں کہ یہ تین چار چیزیں رکھنا او راپنے تئیں اُس سے کمتر جانتا ہوں کہ یہ باتیں مجھ میں ظاہر ہوں ہرگاہ بے ثباتی عالم کو لازم ہے اور جس قدر اس میں چیزیں ہیں ان کو ثبات نہیں اسی وجہ سے زور اور شیطان ایک وقت کمزور ہونگے اور دیوتا جن کا نام امر ہے مرجائیں گے اور قطب جو قائم ہے اپنی جگہ سے ٹل جائے گا پورب پچھم اُتر دکھن کو تبدیل تغیر ہے پورب اپنے پوربی کی نسبت خود پچھم ہے اور پچھم اپنے پچھائیں کےلحاظ سے پورب ہے یہی حال اُتر دکھن کا ہے اور عالم کی کوئی چیز نہ اونچی ہے نہ نیچی ایک اونچی چیز دوسرے اونچی سے نیچی ہے اور نیچی کی نسبت اونچی۔ اونچے پہاڑ زمین کے برابر ہوجائیں گے اور زمین غبار ہوکر اڑ جائے گی ۔ مرتا ضون کی ریاضت ختم ہوجائے گی جب عمل کا اجر مل گیا اور بہشتی اور دوزخیوں کو اعمال کی جزا حاصل ہوگی تو فنا ہوجائیں گے

۱؎قطب سکون اور ثبات میں مشہور ہے ۱۲

(42)

اور برھما نڈ جس کی بقا اور ثبات پر دنیا والے مغرور ہیں زیر زیر ہوجائے گا اور برھما اور بشن او ر مہادیو کا نشان رہے گا اور زمانہ سب کو نگل کر آخر کو خود بھی فنا ہوجائے گا۔اس حال کے ساتھ تمام دنیا والوں نے وہم اورخیال کو جو نمود ار ہوا مضبوط پکڑ رکھا ہے اور نہایت غرور اور جہالت سے کہتے ہیں کہ آج اس گھر میں شادی ہے او رکل فلانے کے گھر پر جشن ہوگا پرسوں دوست اور یگا نونگا جماؤ ہوگا اور اُس ذات سے جن سے یہ وہم اور خیال ظاہر  کیے بلکہ آپ اس نے یہ رنگ رنگ کے لباس پہنے ہیں خبر نہیں ہوتے اوراپنی عمر عزیز کو تلف کر سچے عزیز کی یاد نہیں کرتے اس کی حسرت او رندامت کسی کو نہیں ہوتی کہ دن بھر کوئی تلاش میں سرگرداں ہو کر رات کو طالبان حق کے دیدار سے مایوس اپنے گھر واپس آوے میں نہیں جانتا کہ ا س حالت سے کس کو نیند رات کو آتی ہے جو کوئی عارفون کی باتیں سن کر خیال کرتا ہے کہ عارف ہوگیا اس کی وہی  مثل  ہے کہ عالم خیال میں کوئی شخص سمجھے کہ ہم نے بیا ہ کیا اور اولاد ہوئی اور خوش وخرم ہے یا کوئی کیمیا کے قاعدے سنکر سمجھ لے  کہ میں کیمیا گرہوں اور جس وقت یہ معلوم ہوا کہ اس کا خیال اور تصور کام میں نہیں آتا گذری عمر پرافسوس کرتا ہے کہ زہر کھاکر مرجانا اس سے  بمراتب بہتر ہے بسا اوقات بعض

در ہرچہ زیدہ ام تو نمودار بودۂ۔ اے تا نمودہ رخ توچہ بسیار یودہ ٔ۱۲

(43)

دشمن کو قتل کر راج کرنے کےلئے مستعدد ہوتا ہے ایک ہی دفعہ موت اس کو بیچ میں سے اٹھا لے جاتی ہے جس طرح کوئی چیل گوشت کی بوٹی کو جھپٹ لے جاتی ہے ۔اگر کوئی برہما کی عمر پائے جس کا ایک دن چار جُگ شما ر کرتے ہیں ممکن ہے کہ یہ پوری عمر دوسرے کی عمر کے لخط کے برابر ہو جس طرح برھما کی کُل عمر بشن کے ایک پلک مارنے کے مساوی ہے پس بڑی عمر او رکم عمر میں تضاوت وہمی ہے اور اُس سے خوش ہونا اوچھا پن ہے ۔اور جُگ زمانے کے ایک خاص تعداد ہے کہ مختلف چار قسموں میں تقسیم ہے پہلی قسم کا ۱؎ست جُگ نام ہے جو سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار برس کا ہے

۱؎ ہندوؤں کی قدیم کتابوں میں منقول ہے کہ ست جُگ میں جو پہلا جُگ ہے خلائق کے اعمال اور افعال کُل نیک ہوتے ہیں اور دوسرے جُگ ترتیا میں تین حصّہ نیک اور ایک چوتھائی بد اور دوا پر جگ میں آدھے نیک اور آدھے بد اور کلجگ میں ایک حصّہ نیک اور تین حصّہ بد اور لوگوں کی عمر پن بھی مختلف ہونگی اور یہی اعتقاد قدیم حکما اشراقین عجم کا مہ آباد یوں سے لے کر زردشت تک رہا ہے اور استاد اور زمذ پا زند میں درج ہیں مگر وہ اس حساب سے کہتے ہیں کہ ساتوں سیّارہ سے ایک ستارہ مالک اور بادشاہ دور کاہوتا ہے اور ایک ایک ہزار سال ثوابت سے ایک ایک اس کی وزارت کرتا ہے جب کہ وزارت سب ختم ہوجاتی ہے آسمان کی ترتیب سے دوسرا سیّار ہ بادشاہ ہوتاہے اسی پر قیاس کرنا چاہئے چاندتک جو آخری فلک پرہے اِن دونوں پرُانے گروہ یعنی ہند ی اور عجمی کے حساب سے یہ دور آخری ہے ہندیوں میں خود ظاہر ہے کہ اس جُگ کو جس میں ہم موجود ہیں کلجگ کہتے ہیں ۱۲

(44)

دوسرا ترتیا جو بارہ لاکھ چھیانوے ہزار برس کا ہے ۔ تیسرا دواپر آٹھ لاکھ چونسٹھ ہزار کا  چوتھا کلجگ چار لاکھ بتیس ہزار سال کا اور ان چار دن جُگ کی مدت کُل تینتالیس لاکھ اور بیس ہزار برس ہے جب چار جُگ کا دورہ ختم ہوتا ہے تو دوسرا دور اسی ترتیب سے آتاہے جب یہ دورے ہزار بار دُہراتے ہیں ایک دن برھما کا ہوتاہے جو چار ارب بتیس کروڑ سال کا ہے لوگ گرفتار اپنی خواہشوں کے ہیں اور اپنی تمنا ؤں کے پورا کرنے میں لوُم تلاش کرتے ہیں اور کرنے اَن کرنے سب کام کرتے ہیں اور اس محنت اور جستجو کا ثمرہ بجر بلال اور روبال کے نہیں ہے اس بیماری مہلک کو صحت جانتے ہیں لوگ کہتے ہےہیں کہ عمر کے دوحال ہیں کبھی عافیت اور راحت سے گذرتی ہے او رکبھی محنت اور بلا میں اور میں کہتا ہوں کہ تمام عمر ایک طرح محنت اور بلا کے سوا نہیں ہے میں نہیں جانتا کیوں کر گذرےگی۔بالمیک کا قول ہے کہ جب لوگ

۱۲؎اور حافظ کا قول ہے ؎ انیچہ  شوریست کہ درد درقمری بنیم ۔ ہمہ آفاق پرُ ازفتنہ وشرمی بینم ۔

دختر اں راہمہ جنگ ست وجدل بامادر۔ پسرانراہمہ  بدخواہ پدری بینم ۔مقطع تک تمام غزل میں ایسی ہی مذمت اعمال وافعال اخیرزمانے کے لوگوں کی لکھی ہے  اہل اسلام کے تاخت تاراج میں کہ اس دور کے تقاضا سے خروج کیا کوئی نشان تواریخ قدیم اور کتب حکمت عجم سے باقی نہیں رہا اگر کوئی اہل تحقیق وانصاف ترک تصب اور عناد کر کے اُن کے قدما کے عقائد کو تلاش کرے تو جانے کہ کیا تھا اورکیا ہوگیا۱۲ ۱؎ نام عارف مصنف اس کتاب کا ہے جس کا ذکر پہلے ہوچکا ۱۲

(45)

بڑی عمر کے ہوتے ہیں تو آخر عمر میں کہتے ہیں کہ ہماری گذشتہ عمر ایک داستان ہوگئی ہے جسے یاد کرنا چاہئے او رہم گذرنے والے ہیں رام چندر جنہوں نے پندرہ ہزار سال کی عمرپائی سولہ برس کے  سن میں یہ بات کہتے تھے کہ برہما اور بشن او رمہادیو اور تمام مخلوقات اپنے پانون موت کے منہ میں جاتے ہیں  جس طرح سمندر کا پانی کہ خود دواڑنل کے منہ میں جاتا ہے (داروانل) ایک آتش ہے گھوڑی کی صورت اور یہ رکھیشر کے منہ سے نکلی تھی اور بھوک کی شدت سے چاہتی  تھی کہ تمام دنیا کو کھاجائے برھما نے اس کی بھوک مارنے کےلئے یہ تدبیر کی کہ ہر روز سمندر سے چار جوجن پانی جو سولہ کوس ہوتا ہے پی کیا کرے ( اور جوجن چار کو اس کی مسافت کو کہتے ہیں ) دنیا میں ایک وقت محنت اور بلا ظاہر ہوتی ہے اور دوسرے وقت راحت اور نعمت ایک لحظ میں پیدائش ہے اور انا اور دوسرے لحظ میں موت ہے اور جانا۔ ای واقف اسرار ۲؎ بید یہ کیا کام ہے اور کیا اسرار اور

 ۱؎ یہ رمزداڑوانل کی تاویل طلب ہے معدہ میں بھی ایک آتش ہے واڑوانل کہ مہند کے بید لوگ غذا کا ہضم اُسی سے جانتے ہیں ۱۲ ۲؎ بید علم آلہیات حکمانہ ہند کا ہے اور اسکو کتاب آسمانی کہتے ہیں برھما کی وساطت سے ان کو پہونچے چار بید ہیں جن کے یہ نام ہیں ایک سیام بید دوم اتھرون بید۔ سوم حجبر بید۔ چہارم رگھ وید (بید) اور (وید) ایک ہی ہے ۱۲

(46)

کیا بناوٹ ہے اور کیا آثار ہیں ۔مردانگی اور سپاہ اور دولت کا کیا اعتبار بار ہا دیکھا گیا کہ ایک زنانہ مرد مردانہ کومار ڈالتا ہے اور اکیلا ایک مرد ایک عول کو بھگا دیتا ہے اور ایک سفلہ دولتمند ہوجاتا ہے زمانے کے تمام کام الٹے اور بے بنیاد ہیں میرا دل غم کے دریا میں ایسا ڈوبا ہوا ہے کہ مزے اس کو یاد نہیں آتے جس طرح کوئی حوض کے پانی میں ہو اور چمکیلی ریت کا دھوکا اُسے یاد نہ آئے۔ موت میں نہیں چاہتا کہ شاید دوسری جون میں کمال کو پہونچونگا اور زندگی بھی نہیں چاہتا ۔اس اُمید سے کے بڑی عمر پاکر عیش کروں جس حالت میں ہوں ہوں نہ یہ چاہتا ہوں ۔ وہ اے برہمن اس وقت کہ میرے بدن میں طاقت اور قدرت ہے اور عقل میں صفائی تمیز اور لطافت اگر علاج اپنے مرض کا نہ کروں تو کب کرونگا زہر آسنا نقصان نہیں کرتا جتنا دل کا محسوسات سے کرتا ہوں۔ زہرکی تاثیر ایک عمر میں ہے اور تعلق کے زہر کا اثر کئی عمر رہتا ہے ۔۱؎ عارف کے لئے جینا مرنا شادی غم اپنا یت اور بیگا نگی دشمنی اور دوستی باعث رنج وراحت دل کو لگاوٹ

۱؎  ان کے نزدیک ثابت ہے کہ جب تک محسوسات سے قطع تعلق بالکل نہ  ہوجائے اور نفس مجرد آلودگی ہو اسے پا ک نہ ہو وصول مببد نہیں ہوسکتا پس ضرور ناقابلیت کے سبب سیر اور انتقال کرتا رہے گا اس واسطے کہتا ہے کہ زہر سے ہلاکت ایک بار متصور ہے اور تعلق ابدان سے ہزار دن بار ہلاک نفس ہوگا ۱۲

(47)

اور وحشت کی نہیں ہوتی ۔جب عمر اس طرح گذرتی ہے جیسے تیز ہوا بادل کو اُڑا ئے لیے جاتی ہے اور جوانی دریا کی تیز دھار کی طرح جاتی ہے تو لذت اُ س کی کو ندتی بجلی  کے مثل میں دیکھی ہے اپنے دل کے گھر پر قفل اور مُہر لگادی ہے کہ خطرہ کوئی اس میں نہ آوے۔ اگر کہیں کہ دل پر اپنے مُہر لگادی  کہ خطرہ اُس میں نہ آوے تو بس کام پورا ہوا اور مطلب ہاتھ آگیا اُس کا میں یہ جواب دیتا ہوں کہ ہر چند عقل کو زبردستی دل کے خلوت خانے میں بٹھلایا ہے کہ وہاں سے جنبش نہ کرے لیکن وہ بالطیع خواہش مند ہے کہ ہر طرف دوڑے جس طرح ایک بدکار عورت نیک آدمی کے گھر میں جبراً قہراً بیٹھتی ہے مگر اسی تاک میں رہتی ہے کہ قابو پاکر باہر نکل جائے پس فرمائے کون سا مقام ہے جہاں عقل قرار پاکر رنج اور راحت کے اندیشے سے اور وہم وشک کی رفاقت سے خالی اور بچی رہے اور کون سی تدبیر ہے کہ جس سے کوئی خطرو ں کی آگ میں گراہو اور نہ جلے جس طرح پارا کسی آگ سے نہیں جلتا مگر یہ بات میرے نزدیک دور نظر آتی ہے کہ دنیا میں رہنا اور دنیا کی رسومات میں گرفتار نہ ہونا ایسا ہے کہ دریا میں کوئی ہوا ور ۱؎ترنہ ہو اے برہمن وہ راہ مجھے دکھا ؤ جس پربزرگ لوگ چلے اور منزل مقصود پر پہونچے ہیں اور اپنے وہم سے چھُٹّی پاکر اصلی مطلب اور ہستی کی حقیقت کو پہونچے ہیں

۱؎ درمیان قعر دریا تختہ بندم کردۂ ۔ باز میگوئی کہ دامن ترمکن ہشیار باش

(48)

اور جو مقصود کی راہ  نہ ہو یا کہ ہو اور مجھے نہ سوجھاؤ تو کھانا پینا اشنان کرنا پوشاک پہننا یہ سب کام ایک دم سے چھوڑ دونگا اور مرنے کی چاہت سے ایسا چپ بیٹھوں کہ میری اور دیوار کی صورت میں کچھ تفاوت نہ ہو

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965


Loading..

Loading..