New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:17 PM

Books and Documents ( 16 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 4) جوگ بسشت: بیراگ پرکرن: مہا پرلے کی نشانیاں


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian

by Prince Mohammad Dara Shikoh

تو چند تشبیں اس باب میں مطلب کے واضح کرنے کے لیے ذکر کی جاتی ہے ۔ اس واسطے کہ ہندوستان کے بلیغ وقصیدہ آدمیوں کی گفتگو کا مدار تشبیہہ پر ہے اور اُس کو در شٹانت کہتے ہیں پس فرماتا ہے کہ زمانے کی مثال ایک بڑے میوے دار درخت کی ہے اور برھما جو ۱؎پے درپے آتے ہیں اس درخت کے میوے اور خلائق تمام میوے کے کیڑے ہیں اور جو میوہ اُس درخت سے گرِتا ہے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا ہے او ر کیڑے پڑجاتے ہیں یہ اشارہ مہا پرلی کی طرف سے ہے جس کو بڑی قیامت کہتے ہیں اور بعضوں کا قول ہے کہ اس قیامت میں برھما اور برھمانڈ او رتمام مخلوقات ایک ساتھ فنا ہو جائینگے اور ایک مدت کے بعد پھر ظہور میں آئنیگے ۔ یہ بات تمام مذاہب اور

 ۱؎انڈ بیضہ اور برھما لغت اصطلاح سنسکرت میں صفت ایجاد کا نام ہے مجموعہ لفظ مرکب  برھمانڈ کے معنی ہیں برھما کے انڈے اس اعتبار سے کہ انڈے مولود ہوتا ہے وشکل افلاک اور بساؤط کروی ہوتی ہے اس  مناسبت سے انڈا کہا ۱۲ اشارہ ہی قدم ودرام عالم کی طرف ۱۲

(34)

شاستروں میں ہے اور بعض کہتے ہیں کہ تمام مخلوقات ایسے فنا ہونگے کہ دوسری بار موجود نہ ہونگے یہ بات پنائے شاستر اور سانگھ شاستر میں مذکور ہے ۔ اوربعض پنڈت بھی اس بات پر متفق ہیں لیکن اکثر علما بید یعنی فلاسفہ آلیات کا اس پر اتفاق ہے کہ اس قسم کی  پرلیے یعنی قیامت نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عالم جاتا ہے اور دوسرا عالم آتا ہے اور حق سبحانہ و تعالیٰ ظہو ر سے خالی اور فارغ نہیں رہتا ۔زمانہ دنیا کے اجزا کو انسان ہوں یا جنات فرشتے ہوں یا اور کوئی سب کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ڈوڑے میں کھینچ کر اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے پھر ایک عرصہ کے بعد اس کو تتر بتر کر موت کی ڈبیا میں چھوڑتا ہے اور تمام جہاں ایک جنگل ہے کہ وہ زمانہ کا شکار گاہ ہے انسان حیوان نباتات اور جمادات اُس شکار گاہ کے ہرن ہیں اور سمندر اُس شکار گاہ کا حوض ہے اور رواڑو انل کی آتش حوض کے لیے نیلو فر کا پھول ہے۔بوڑھا پا اور بیماری او رموت ہر ایک ان میں سے مشیر اور جیتا ہے جو اس شکار گاہ میں چھوڑدیے اور ہرن کے شکار کا قابو ہاتھ سے نہیں دیتے اور یہ کھنڈ پرلی کی طرف اشارہ ہے جس کو قیامت صغریٰ یعنی چھوٹی قیامت کہتے ہیں اور کھنڈ ٹکڑے کو کہتے ہیں اور یہ قیامت دو طرح کی ہے ایک وہ ہے کہ برہما کے دن میں جس کے کلپ کہتے ہیں

(35)

چودہ منوتر ہیں اور چودہ قیامت قائم ہوتی ہیں کہ ہر منوتر کے گذرنے کے بعد ایک قیامت آتی ہیں اور صرف پانی کے طوفان سے زمین اور مافیہا سب فنا ہو جاتی ہے اور ایک منوتر تیس کروڑ اور سرسٹھ لاکھ  سال ہے اور دونوں منوتر کے درمیان ایک حد ہے جس کو سنڈ ھ کہتے ہیں اور مدت ہر سندہ کے سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار سال کی ہے اور یہی مدت عدم میں دنیا کے بسنے کی ہے ۔دوسری قسم سے مراد برہما کا دن رات ہے جس کا ایک دن چار ارب اور بتیس کروڑ سال کے برابر ہے اور جب دن تمام ہوجاتا ہے او ر رات آتی ہے برھما عالم کے کام سے فراغت پاکر سو تاہے اور اُس قیامت میں سورج چاند تارے بھی فنا ہوجاتے ہیں او ر برھمانڈ اور چند لوگ بالائی بجال رہتے ہیں او ربرھما کے سونے اور عالم کے عوم میں  رہنے کی مدت مساوی ایک دن کی ہے او رکبھی ایسا ہوتا ہے کہ برھما اور برھمانڈ اور تمام مخلوقات کی فنا کو بھی کھنڈ پرلی یعنی قیامت صغریٰ کہتے ہیں اس سبب سے کہ ہر برہمانڈ جو فانی ہوتا ہے پیچھے اس کے دوسرا برھمانڈ آئے گا اور ظہور عالم کی انتہا نہیں اور نہ وہ منقطع ہوتا ہے جیسے کہ پہلے ذکر اس کا

۱؎برھما کہ تعین صفت ایجاد ہے اس کے خواب سے مراد اثبات او رنفی صفات ہے اور تو یہ علم حق تعالیٰ کی ظاہر سے باطن کی طرف ہے ۱۲ یعنی مذہب حکما را شراقین یونانیہ کا قدیم عالم کے باب میں ہے اور قد ما رعجم بھی قائل قدم کے ہیں ۱۲ سند ھ سین حملہ کے زیر اور فون کی تشدید سے فصل  بیتن الطرفین ۱۲

(36)

ہوچکا اور یہ دونوں قیامت زمانے کی دودعوت کی مثال ہیں قیامت کبریٰ طعام کلاں ہے اور قیامت صغریٰ ناشتے کے موافق ہے کہ جیسے دودھ روٹی اور دہی فجر کے وقت کھاتے ہیں عالم ایک بیابان ہے کہ اس میں میوہ واردرخت بہت ہیں آسمان میں اُ س کے باشندے اندر وغیرہ اور زمین میں اُس کے باشندے آدمی پری وغیرہ اُس درخت کے میوے میں اور زمانہ جس کی سورج اور چاند آنکھ میں اور دن رات اُس کی آنکھ کا کھولنا اور جھپکنا ایک ریاضت کرنے والے شخص کی مثال ہے کہ اس بیابانی میوے کو دیکھ بھال کر نوش کرتا ہے اورغذا اپنی بناتا ہے یعنی جس کی موت آگئی ہو جان بوجھ کر مار ڈالتا ہے اور یہ اشارہ چھوٹی قیامت کی طرف ہے   یعنی جو شخص مرگیا اُس کی قیامت قائم ہوگئی۔ اے دانائے بزرگ سنسار گذرنے والی ہے اور ۱؎زمانہ عالم کو ج وعناصر

۱؎زمانہ حکما ہند کے نزدیک ایک جو ہر ہے قائم نالذات اور ایک روحانی ہے قدسی صفات اور ماضی حال و استقبال ہونا اُس کے اعراض ہیں جو معرض تغیرات میں ہیں چونکہ حکیم مطلق کے افعال منظور اور تمام کائنات کا کون فساد زمانہ کے حوالہ ہے او رکُل کائنات کا ظہور علم حق کی توجہ کے فیض سے ہے جو باطن سے ظاہر کی طرف ہے پس جس وقت ایک مظہر کے  ظہور کا زمانہ ہو عالم شہود سے عالم فنا میں جاتا ہے  گو یا زمانہ اُس کو خوش کرگیا اور فنائے کائنات کا زمانہ بھی فانی ہوجاوے گا اور بخیر وجود موجود حقیقی کے کچھ باقی نہ رہے گا کُل شئے ہالک والا جُہہ ۱۲

(37)

اور پیدائش اور جن  وانسان فرشتے پہاڑ اور سمندر سے  بنا ہوا ہے اور زمین آسمان کے درمیان پیدا ہوتا ہے اور اندروبرھما ویشن ومہادیو سب کو فنا کرتے ہیں اور انجام کو آپ ۱؎بھی فنا ہوجانا ہے پھر آپ فرمائیں کہ ہم ایسون کو ہستی سے کیا امید ہو اورکیا بہبود ہوگی اگر کہیں کہ مناسب ہی اپنے بقا کی تدبیر کر دیا یہ کہ سمجھو کہ جو کچھ جسم اور جسمانیات سے دکھلائی دیتا ہے  اور فنا ہوتا ہے تیرا غیر ہے نہ تو خود یعنی تو روح مجرد ہے کہ اسکو فنا نہیں اور زوال کو اس کی طرف راہ نہیں ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ جاننا حواس کی مدد پر موقوف ہے یعنی نشا اس کا ضبط حواس کا ہے اور حواس خود دشمن بقا اور حیات ابدی کے ہیں اس سبب سے کہ پریشان ہوس اور طرح طرح کی خواہشیں رکھتے ہیں اور ایک مطلب یہ ان کو اتفاق نہیں ہے اورحواس بھی آب وآتش خاک وباد کے تابع ہیں اور ان عناصر سے ہر ایک عنصر اپنے ذاتی مکان کا عاشق ہے اور اس ترکیب بدنی کے ٹوٹ پھوٹ جانے کی راہ دیکھتے ہیں پس یہ سب فنا او رزوال کے خواہشمند ہیں نہ بقا اور حیات دوامی کے مددگار اور اگر کہیے حواس کا سردار ۱؎من یعنی  دل ہے اور ہر گاہ دل تیررہنما

۱؎ زمانہ خود بھی فانی ہوجاتا ہے کل شئے ہالک الاوجہہ ۱۲ ۲؎ سنسکرت میں من دل کو کہتے ہیں مگر تلفظ اس کا ان حرفوں سے نہیں ہے صحیح تلفظ اس کا فارسی حروف سے ۱۲

(37)

ہوتو حواس کی دشمنی سے تجھے کیا غم ہے اس کے جواب میں کہہ سکتے ہیں کہ ان تمام تفرقوں اور خطروں کو دل ہی اُگا تا ہے اور غیر واقعی کو واقعی دکھلانا ہے چنانچہ ہر شخص بد ن کے سب کام کو اپنے ساتھ منسوب کر کے کہتا ہے کہ میں نے کیا اور میں لانبا اور میں ناہوں سفید ہوں سیاہ ہوں شادی کی اور لڑکے پیدا کئے بھوکھا ہوں اور پیاسا ہوں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کے رسیّ کو سانپ خیال کرتا ہے اور آپ ہی اُس سے ڈرتاہے

۱۲دشوار ہے  اس لئے ناواقفان زبان سنسکرت کی پہچان کے  لئے ترجموں نے من لکھا اور من سے مراد دل ہے اوردل سے مراد نہ وہ گوشت کا ٹکڑا ہے کہ بائیں طرف ہوتا ہے جس طرح حضرات صوفیہ دل سے تعبیر ساتھ نفس ناطقہ کے کرتے ہیں وہ بھی ان کے مفہوم اور اعتبار میں نہیں ہے جو دل سے ہندی تعبیر کرتے ہیں او رکتاب کے مین میں بھی اس کی تعریف آئے گی میں یہاں لکھتا ہوں یہ مقولہ ہے کہ لطیف ساتھ کشیف کے بے واسطہ متعلق نہیں ہوسکتا جس طرح عقل اول کو واسطہ واجب وممکنات کا ہے اور بزرخ ہے وجواب اور امکان  میں ۔جانب راست اس کے وجوب ہے اور جانب جب اس کے امکان ہے اور عقول عشرہ ترتیب نزول تک وسائط کثیرہ واقع ہوئی ہیں تاکہ مادیات تک لین اور ہر چند جز  سے وکُل سے جو کچھ واقع ہوتا ہے  و براو ر آمر عقل کُل ہے جو بالترتیب متصرف ہی  وسائط میں اور فعل عقل اول کا حضرت سبحانہ تعالیٰ کا ارادہ ہے اسی  طرح  نفس ناطقہ کے ارادہ کی حرکت کو دل کہتے ہیں اور برھما کو بھی عالم کبیر میں دل کہتے ہیں اور ہندی جو اس خمسہ کے قائل نہیں اور حکما یونان نے جو افعال حواس باطنہ کے نکالے ہیں ان کو منسوب اسی دل سے کرتے ہیں ۱۲

(38)

جب کمال دل اس قسم کا ہے تو دل سے مجھے کیا امید ہے کہ وہ حقیقت کو پہونچے او رپہونچا ئے اور جانے اور سمجھائے اگر اعتراض کریں کہ  تلاش تیری دوحال سے خالی نہیں اگر تجھے کامل یقین ہے کہ جو فنا ہوتا ہے وہ دوسرا ہے نہ کہ تو پس اصل مطلب حاصل ہو ا اور حواس اور دل کی مدد کی حاجت نہیں چاہئے کہ خاطر بھٹکاؤ تجھ سے بالکل دور ہوا اور انتہا کی جمعیت اور اطمینان ملے اور جو حواس تیرے اوپر حکم لگائے کہ جو کچھ ہم نے دریافت کیا ہے اور تصدیق اس کی تو کرتا ہے چاہئے ان کے حکم پر قانع ہو اور خاطر جمع رکھے پس بے جمعیتی اور بھٹکاؤ کے تیرے کیا معنی ہیں اُس کا یہ جواب ہے کہ خدا نے میرے دل میں یہ القا کیا ہے کہ آتما باقی رہتی ہے فانی نہیں ہوتی اور حواس کے دم چھا نے ہونے سے بھی میں نے آزادی پائی مگر اب تلک یقین اور مشاہدہ پورا نہیں حاصل ہوا جیسے کوئی چراغ کا خیال کرے یا چراغ کا نام زبان سے کہے تو اتنے میں گھرکے اندر اُجالا نہیں ہوتا اور بھی جو کچھ حواس پاتے ہیں جب فنا ہوجائیں جانتا ہوں کہ ان کا حکم خلاف واقع ہوتا ہے میں جو فنا اور نیستی سے خوش نہیں ہوں اور خلاف واقع سے راضی نہیں تو حواس کی اطاعت اور متابعت کیو ں کر کرسکتا ہوں اور کس طرح اُس سے تسلّی پاؤں اور بڑے دنا نہست اور نیست کے درمیان

(39)

میں پڑا ہوں حیران ہوششں اور بچپن تمنا ہے کہ خوشی اور آرام ملے اور جب تلک یہ تمنا نہیں حاصل ہوگی دل کی پریشانی بھی رفع نہ ہوگی ایسا شخص جو اپنا آرام نہ چاہے دنیا میں ناپید ہے ۔ مجھے حیرت اور تعجب یہی ہے کہ جو کچھ ہے نظرنہیں آتا او رجو کچھ نہیں ہے دکھلائی دیتا ہے پس حق ہست نیست نما اور عالم نیست  ہست نما ہے اور یہی سبب ہے کہ ہند کے علما حق کی معرفت او رکثرت کے ظہور میں وحدت سے اختلاف رکھتے ہیں اور چند مثالیں اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں۱؎ نیا یکان یعنی متکلمین ان کے کہتے ہیں کہ مٹی سے آنجور ا بنا ہے مطلب یہ کہ مٹی تھی اور آنجور ا نہ تھا پھر آنجورا موجود ہوا پس مٹی اور آنجورا اور ۔ دونوں موجود ہیں اور ایک گروہ حکیموں کا قول ہے کہ ہمیشہ آنجورا مٹی میں کھپا او رچھپا ہواتھا جس طرح بیج میں درخت جس وقت

۱؎حکما سے متکلمین او رحکمائے اشرافین کے مذہب میں اختلاف مخصوص ہند نہیں ہے ظاہر ہے کہ حکیم الہٰی فلاطون اور ارسطو کے عقائدین اختلاف ہی حالانکہ فلاطون استاد تھا اور اس کی بصیرت کا ملہ کا معتقد تھا لیکن حکما وہ مسائل جس میں اُن کی یقین نہیں ہوتا اعتقاد سے نہیں قبول کرتے ہیں واسطے کہ وہ مذہب ناقص ہی نقش درک کا ا نتقاس موقوف یقین پر ہے۔ اکثر مسائل دقیق رسائی عقل کی حد سے اور استدلال کے پایہ سے باہر او ربلند ہیں۔ اور بدون اشراق اور خلوص نامہ جو ہر پاک نفس ناطقہ کے نہیں دریافت ہوسکتے حضرت مولوی معنوی کا قول ہے ۔پائے استدلالیان جو بن بودے یا جو بین سخت بے تمکینن بود ۱۲

(40)

آنجور ے نے صورت پکری مٹی آنجور ے میں چھپ گئی جس طرح درخت میں ممکنات بیج چھپ گیا اور فرق ہست اور نیست کا ظہور اور خفامیں ہے بس مٹی اور آنجورا ملےجلے ایک دوسرے میں  ہیں ہر ایک کبھی ظاہر اور کبھی پوشیدہ اور بیدانتی یعنی متصوفین ان کے کہتے ہیں کہ اب بھی جو آنجو را نمودار ہوا ہے موجود حقیقی مٹی صرف ہے اور آنجورا محض اور خیال باطل ہے

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954


Loading..

Loading..