New Age Islam
Mon Jan 18 2021, 07:00 AM

Loading..

Books and Documents ( 22 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 31) جوگ بسشت: پرمان پرکرن: سرب تیاگ


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

برہمن نے کہا اول مجھ سے ایک حکایت سُنو بعد اُس کے معرفت کی بات تم سے کہونگا حکایت شہروں میں سے ایک شہر میں ایک شخص تھا جس کو علم بھی تھا اور دولت بھی حا صل تھی اور ان دونوں کا یکجا ہونا شاد نادر ہے مگر معرفت سے بے بہرہ  تھا اس کی جستجو میں پڑا اور اس مطلب کے واسطے کسی قدر ریاضت بھی  کھینچی اور دعوت کاعمل پورا کیا ایک روز اُس کے خطرہ میں آیا کہ مُہرہ چنتا من اُس کے سامنے خود سنجود آن پڑا ہے کمبختی اور مطلب کی بزرگی اور کوشش کی قلت سے  نہ جانا کہ یہ چنتا من مہرہ ہے اُسی ہاتھ میں نہ اُٹھایا ایک ساعت بعد مہرہ اس کے سامنے سے

(302)

غائب ہوگیا اُس شخص نے از سر نومحنت اور ریاضت شروع کی ایک دن مردان غیب سے ایک شخص نے ہنسی  کی راہ سے شیشہ کامہرہ اُس کے ہاتھ میں  دیا مرد دولت مند نے گمان کیا  کہ یہ  مہرہ چنتا سن ہے اُسے اٹھا لیا اور اپنی دولت چھوڑ چھاڑ بیابان کو چلا گیا اور کہا چونکہ زمانے کے لوگ ناپسند یدہ صفات رکھتے ہیں ان لوگوں کے ساتھ میری صحبت برار نہ ہوگی اب چنتا  من دورہ میرے ہاتھ  آگیا ہے  دنیا کےمطالب سے جو مطلوب ہوگا میسر آجائے گااور مجھے پروا اس دولت اور صحبت کی  نہیں رہی  راجہ سکھدھج نے کہا کہ حکایت چنتا من کی مجھ سے کس واسطے بیان کی  اُس کی وجہ مجھ سے بیان کیجئے  برہمن  نے کہا کہ  چنتا من کے طالب ہو اور چنتا من کہ مرد دولت مند کوسہل مل گئی تھی اور اُس نے نہیں پہچانا  اور اُس کو نہ لیا وہ نصیحت حورالہ  کی تھی  کہ اصلی مطلب کی طرف وہ رہنما ئی کرتی تھی  اور تم نے قبول نہ کی اور مہرہ شیشہ  کا یعنی  خانمان سے نکلنا  ملک اور دولت کو چھوڑنا اور بیابان میں آنا ریاضت کی امید  میں عبث تھا کہ جس نے تم کو نفع ندیا اور مطلب تک  نہ پہنچا یا چنتا من سرب تیاگ  ہے کہ حورالہ  کہا تھا سکھدھج نے کہا سرب تیاگ کیسا ہو تا ہے اور دولت اور روح اور گھر اور اہل خانہ سب کو چھوڑ کر بیابان میں آیا اور باقی  کیا رہا کہ اُسے میں نے نہ چھوڑا مگر  مرقع اور عصا اور کوزہ کہ اس کو بھی جلا تا ہوں برہمن نے کہا ہر گاہ تمہارا قول ہے

(303)

کہ میں نے راج کو چھوڑ دیا  تین خپیر تمہارے ساتھ ہیں کہ اب تک نہیں چھوڑیں ایک من  دوم راج  تیسرا ترک پس سب کو تونے نہیں  چھوڑا راج دولت  تجھ سے جدا تھی اور جو تو تھا اُس کو نہیں چھوڑا  کہ کہتا  ہے تو کہ میں راجہ کو حورالہ کی بات نے ایسا اثر کیا کہ مرقبہ اور عصا اور کوزے  کو جلادیا ۔ اور کہا بیابان  کو بھی ترک کرتا ہوں برہمن نے کہا اپنے  دل کے خطرات کو نہیں  چھوڑا ہے جب تک چت اور باسنا  تمہارے ساتھ  ہے بدن پھر آئے گا پس بدن کا چھوڑ انا کیا نفع دے گا راجہ نے کہا کہ آگ جو پانچ چت اور باسنا یعنی نفس اور خواہش کو جلائے  کیا ہے برہمن نے کہا کہ وہ آتش تفکر اور تصور پر مانما کی  ہی کہ کس طرح ظہور کیا او ربری نسبت اُس کے ساتھ کیسی  ہے کہ سکھدھج نے کہاکہ اس قدر میں بھی سمجھتا ہوں کہ میں یہ  بدن اور گوشت پوشت اور استخوان  نہیں  ہوں میں گیان سروپ ہوں لیکن چت اور باسنا مجھے لاحق ہوئی ہے اس کا علاج نہیں  جانتا  ہوں او رہمیشہ اس وجود جسمانی  کا مشاہدہ باد صف فیصد کے مجھے میری نظر سے محجوب کرتا ہے برہمن  نے کہا یہ بدن اور یہ عالم جو تو دیکھتا ہے ہر گز مراد نہیں  ہے اس واسطے کہ کارن یعنی آفرینندہ نہیں رکھتا اور جس کا کارن نہیں وہ موجود نہیں ہے  اور دل بستگی کے قابل ہے سکھد ھج نے کہا کہ عالم کس سبب سے کارن نہیں رکھتا برہما  اُس کا پیدا کرنے والا ہے  اور اگر کہیں کہ برہما بھی وجود نہیں رکھتا تو کہتا ہوں

(304)

کہ برہما کاپیدا کرنے والا لاحق ہے اور حق موجود ہے وہی پس آفر ینندہ اُس کا موجود ہے برہمن  نے کہا کہ حق ہستی محض ہے او رکوئی  صفت نہیں رکھتا کہ مصدر آفرینش کا ہوپس جاننا  چاہئے کہ حق تنہا موجود ہے بالا اتفاق کوئی چیز موجود نہیں ہے سیکھدھج نے کہا کہ اب میں حقیقت کو سمجھا مجھے کوئی چیز اپنے سے باہر نہیں  دکھلائی دیتی بعد ازاں آنکھ بند کی اور مراقبہ میں بیٹھا ایک ساعت بعد مراقبہ سے افاقہ میں آیا اور کہا یہ دولت ابدی اور حیات سرحدی آپ کے دیدار اور ارشاد سے مجھے حاصل ہوئی مگر تعجب ہے کہ یہ بات پہلے کیوں نہیں سمجھا برہمن نے کہا کہ ریاضت جو تم نے کیے اس قدر اس نے نفع دیاکہ تمہاری عقل صاف اور روشن ہوئی اور معرفت کے سمجھنے کی لیاقت آگئی حتیٰ کہ جو سنا بلا توقف سمجھ لیا اب جو کہ جانا اُس پر ثابت اور راسخ رہوں میں نارد کی زیارت کو جاتا ہوں برہمن چلا گیا اور سکھد ھج مراقبہ میں مشغول ہوا تیس سال تک ایک مراقبہ کیا برہمن پھر آیا اور چاہا کہ بیدار ہو ہر گز افاقہ میں نہ آیا برہمن کو وہم ہوا کہ شاید مرگیا اُس کے بعد اعضا ٹٹولے تو معلوم کیا کہ ابھی زندہ ہے  باطن کے تصرف سے اُس کے بدن میں  در آیا بیدار ہو دولت میری بیدار ہو ایسی  میٹھی اور مزے کی بولی سے کہا کہ اُس کی خاطر کو شگفتہ کیا اور اُس کے بدن کو تازگی بخشی اور کہا جب سے کہ میں تم سے علیحٰدہ ہوا ہمیشہ

(305)

میرا دل تمہارے پاس رہا اب چاہتا ہو کہ چند سے تمہارے ہی پاس رہوں راجہ نے کہاکہ اب میرے اعمال کادرخت ثمر لا یا جو شغل آپ نے  مجھے تلقین کیا تھا میری فریاد کو پہونچا اور جو لذت سرور کی تمہاری برہمن ایک مدت دراز اس پہاڑ میں مل کر رہنے سہنے لگے اور سکھد ھج اور برہمن ایک مدت دراز اس پہاڑ میں مل کر رہنے سہنے لگے اور سکھد ھج کے رنگ روپ نے تازگی پائی اور جوانی کے آثار اس میں ظاہر ہوئے حورالہ جو برہمن کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی اُس کے دل میں آئی کہ اب اپنے شوہر کے ساتھ عیش کروں ایک بہانہ کر اُس سے رخصت ہوکر باہر گئی اور شام کے وقت پھر آئی اور اپنے تئیں ملول بنا کر باتیں کرنے لگی اس وقت آکاش سے میں آئی تھی دُرباسا رکھیشر کو میں نےبادلوں میں دیکھا نیلا لباس پہنے ہوئے اُس کی تواضع تعظیم میں  نے کی اور خوش طبعی سے میں نے اُس سے کہا کہ آج آپ نے کشنا امسار کا لباس پہنا ہے اُس نے خفا ہوکر مجھے نفرین کی کہ تو ہر رات کو عورت ہو میں حیران ہوں کہ اس برہمن نے کس قسم کی مجھے بددعا دی ہے سکھدھج نے کہا کہ اب تعلق جسمانی سےدرگذر ہوے بدن کو تغیر سے تمہیں کیا غم ہے تمہاری  روح کسی حادثے سے متغیر نہ ہوگی اسی گفتگو میں تھے کہ رات ہوگئی اور چراغ عالمتاب آفتاب غروب ہونے لگا برہمن نے کہا عورت کے آثار میرے اندر ظاہر ہونے لگے

(306)

بال میرے سر کے دراز اور چھاتیاں اُبھر نے  لگیں جب رات ہوگئی برہمن عورت ہوگیا دونوں نے کہا جو کچھ تقدیریں تھا وہ ظہور میں آیا اورکسی کو تقدیر سے چارہ نہیں ہے برہمن ہر صبح کے وقت مرد بن جاتا اور رات کو عورت ایک دن برہمن نے کہاکہ جب ہر ایک رات کو عورت ہوجاتی  ہوں چاہتی ہوں کہ کسی مرد کے نکاح میں  آؤں اور تم سے بہتر کون ہیں  کہ اُسے شوہر بناؤں سکھدھج نے کہا کہ یہ ارادہ میرے نزدیک مرغوب ہے نہ مکر وہ جو چاہو کر و برہمن نے کہا کہ آج ساعت بھی اچھی  ہے اور ساون مہینے  کی چودھویں رات ہے اور چاندنی نہایت کھلی ہوئی ہے نکاح باندھیں خوشبودار پھول اورجواہر آبدار پہاڑ سے جمع  کر لائے جب رات ہوئی دونوں نے اشنان کیے اور دیوپوجا ادا کی اور درخت طوبیٰ کی پتیاں لے کر پہنیں اور عقد نکاح باندھا ۔ ایک دن مدن کا نے راجہ کے امتحان کو ایک تصرف کیا اور اندر کی مجلس کو حاضر کیا سکھد ھج نے اندر کی تواضع تعظیم کی اور کہا کہ کس طرح  تشریف لائے اندز نے کہاکہ امراوتی کے سب باشندہ تمہاری صفات حمیدہ سن کر خواہش مند ہیں کہ یہاں آپ آویں اور لاکھ برس عیش عشرت میں بسر کریں  کہ وہاں سب نعمت موجود ہیں  سکھدھج نے عذ ر کیا  اور  کہا مجھے آپ کی دولت سب  جگہ امراوتی  ہے میں اپنے  باطن میں اہتزاڑ نہیں پاتا کہ ایک جگہ سے

(307)

دوسری جگہ جاؤں اور اندر کو رخصت کیا  اس ثناء میں رنکا اپنی اصلی صورت سے یعنی حورالہ ظاہر  ہوئی راجہ نے تعجب  کیا کہ تو حورالہ معلوم ہوتی ہے کہا میں حورالہ ہوں مراقبہ کر کے دیکھو کہ تمہارے  گیانی  کرنے کے لئے کیا کیا  تدبیریں میں نے کیں  سکھد ھج نے مراقبہ کو دیکھا او ر تمام واقعات اور سوانح گذشتہ کہ حررالہ ظہور میں لائی تھی معلوم کیے اور اس کا ممنون  احسان ہوا او رکہا اس  سعی اور تلاش  کے عوض میں جو تونے میری خاطر کی میں کیا چیز تجھے دوں کہ کوئی خواہش تجھے نہیں ہے حورالہ نے کہا  جو کوشش اور جانفشانی کہ تمہارے اوپر منت اُس کی نہیں ہے جب کہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی نہ تھی تمہاری بے معرفتی سے میں ملول تھی الحال فرمائیے  کہ کیا ارادہ ہے سکھدھج  کہا  کہ میں کوئی خواہش نہیں رکھتا  جو کہو سو کروں حورالہ نے کہا مصلحت یہ ہے کہ اپنے ملک میں جاکر چندسےمعاملہ راجائی درست کرو راجہ بولا بہت خوب حورالہ نے اپنے تصرف سے ایک تخت ظاہر کیا اور ایک جڑ اؤکوزہ سات سمندر کے پانی سے بھر سامنے لائی اور تخت پر بٹھلا کر تھوڑی پانی سمندر وں کا اُس کے سر پر چھڑ کا جیسا کہ دستور راجاؤں کے جلوس کا ہے لشکر اور گھوڑے اور بہت سے ہاتھی  اور تمام  لوازم اور مصلح راجائی کے نمواور

(308)

کیے او ربڑے بھاری سامان سے اپنے ملک کو دونوں روانہ ہوئے جب شہر کے نزدیک پہنچے حورالہ  تمام لشکر کو ساتھ لے کر استقبال  کو بر آمد ہوئی اور راجہ دونوں لشکر کے ساتھ شہر میں داخل  ہوا اور دس ہزار سال اور راجائی کر بدیہہ مکت ہوا بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چند تو بھی سکھدھج کے موافق کمال معرفت کے ساتھ راج کر او ربے تعلقی سے خلائق کا کام کرتا رہو او رمثل بھر م کیں مہا کرتا  اور  مہا بھوگتا و مہا تیاگی کے ہو رام چند نے پوُچھا کہ بھر م کیں کون تھا او رحکایت اُس کی کس طرح ہے بسشٹ نے فرمایا حکایت بھرم کیں ایک چیلہ مہا دیو کا تھا اس نے ایک دن مہادیو سے پوُچھا کہ دنیا کے اختلاف اوضاع اور اطوار خاطر کو پریشان  کرتے ہیں ایسی تبدبیر بتلا یئے کہ دنیا سے خلاصی ہو اور مرتبہ معرفت کا ملے مہا دیو نے فرمایا کہ جب تک تو مہا کرنا او رمہا بھوگتا او رمہا تیاگی نہ ہوگاعالم کی قید سے خلاص نہ ہوگا بھرم کیں نے پوُچھا کہ مہا کرتا و مہا بھوگتا او رمہا تیاگی کسے کہتے ہیں مہادیو نے فرمایا کہ دنیا کے سب کام کرے اور کسی سے تعلق اور دل بستگی  نہ رکھنا ہو اور جو کام چاہے وہ پورا کرے اور کوئی  چیز اُس کو مانع نہ اور قید شہوت غضب شادی غم او رتمام افعال سے کہ عوام کی طبیعت  کو لازم ہے آزادی  ہو او راعمال کی جز اسے درگذر ے وہ مہا کرتا ہے اور جو شخص کہ جوانی ضعیفی جینا                مرنا اور آسودگی

(309)

اور مفلسی بادشاہی اور فقیری  او رمیٹھا کڑو ایک سان جان کر سب اپنے اوپر گوار کرے اور مہا بھوگتا ہے اورجو اپنے کو ترک کرے او رمہاتیا گی ہے رام چند نے پوُچھا کہ عارفوں کا نشان کیا ہے بسشٹ نے کہا کہ اُن کا نشان اُن کی پیشانیوں میں ظاہر ہے نور جوان کی پیشانی میں چمکتا ہے فرشتگان مقرب کی عزت کا باعث ہے حکایت اے رام چند تیرے بزرگوں میں سے جس کا نام اچھواک تھا اُس نے ایک مُن سے پوُچھا کہ عالم کیا چیز ہے اور کس طرح پیدا ہوا اور عالم کے جال سے خلاصی کی صورت کیا کیا ہے ( اور مُن وہ راجہ ہے کہ تیس کروڑ اور سرسٹھ لاکھ اور آٹھ ہزار سال راجائی کرے) مُن  نے جواب دیا کہ عالم ایک نمودار ہے جو ایک بڑے آئینہ میں جلوہ گر ہوا اور ایک ارادہ قدیم ہے کہ تمام  عالم اُس کا ظہور ہے ایک نام برھمانڈ  رکھا اور دوسرے کا نام عناصرسوم کا نام موالید رکھا یہ سب کچھ بھی جو کچھ ہے برمہہ ہےلیکن برمہہ جو ہستی  مطلق ہے دکھلائی نہیں دیتا الاّ عالم کے ساتھ کو ہستی  موہوم اور وجود مقید ہے اور خلق حق کو دوسری جگہ سے چاہتے ہیں اور حالانکہ وہ اسی کے دل میں ہی جس طرح والدہ اپنے لڑکے کو گود میں سُلا دے اور بھول کر فکر میں  پڑے کہ لڑکا میرا کیا ہوا عجب ہے کہ حق جہاں میں بھرا ہوا ہے کس طرح پوشیدہ ہوگیا مُن یہ بات کہہ کر  آکاش کو گیا اور راجہ اچھواک  نے اُس کے ارشاد کی بدولت جیون مکت پائی اور

(310)

جیون مکُت کے ساتھ راجائی کے امورات میں مشغول تھا اے رام چند تو بھی اپنے دادا کی طرح جیون مکُت کے ساتھ راجائی کا کام بدون تعلق خاطر کرتا رہو رام چند نے پوُچھا کہ جیون مکُت کے ثمرات میں سب سے بڑا ثمرہ یہی  کہ جیون مکُت داتے کے سامنے ذکر کر امات اور خوارق کرامت کا کرے جیسے آکاش پر جانا پاتال کو یا اور تصرفات ہوں تو اُس کا دل جنبش نہیں کرتا اور اُس کو ان چیزوں میں سے کسی  کی طرف توجہ اور رغبت نہیں ہوتی اے رام چند نوعین حق ہے اور تمام کائنات عین حق ہے اور حق اس صورت میں  ظاہر ہوا ہے جیسے ایک شخص برہمن برہمنی  چھوڑ کر سودرا او رکمینہ  نہ جائے تو تمام خلائق میں جب نسب کے اندر کمتر  ہے حکایت اے رام چند ایک شکاری تھا کہ ہرن کے تیر اُس نے مارا مگر تیرا ُ س کا کاری نہ لگا ہرن نے غمی ہوکر بھاگا شکاری ہر ن کی تلاش میں بہت دوڑا اتفاقاً ایک مرد مرتاض کے مکان پر پہونچا جو مصروف عبادت تھا اور اُس سے پوچھا کچھ آپ کو معلوم ہے کہ ہرن اس راہ سے گذرا اور دیش  نے جواب دیا کہ تین خصلت جو تمام کائنات رکھنی ہے میں  نہیں رکھتا جاگرت وسپن و سکھپت اور تری اوستھا کے مقام میں رہتا ہوں اور اس مقام میں ایک کے سوا نہیں  دیکھتا  اے رام چند تو بھی یہ مقام حاصل کر اور عارف لوگ اسی مقام کو ڈھونڈ ھتے ہیں اور

(311)

بیدانت کا خلاصہ ایک بات ہے کہ برمھ تنہا موجود ہے او رمایا اددّیا ومن وسنسار اور باقی سب معدوم محض ہیں او ربرمھ  کا ایک اس پر نام رکھتا ہے اور ایک گیان سروپ اور ایک شون ۔ رام چند نے پوُچھا جس شخص نے راہ حق قبول کی اور دُھرتک نہیں پہونچا اور مرگیا اس کا کیا حال ہوگا بسشٹ نے فرمایا جس کسی نے کہ اس مدت عمر میں طلب  کی سعادت کو پہنچ کر فی الجملہ کسب اور سلوک کیا او رمرگیا  دوسرے یا تیسرے تنزل میں دل  البتہ کمال معرفت کو پہنچے گا اس کی طلب ایسی ہے کہ ایک بیج جو ہرا ہوگیا آخر کیا درخت کا مل ہوگا ضائع نہ ہوگا  اے رام چند عارف اگر عالم پر نظر کرے تو وہ مثل کوزہ کے ہی آکاش میں کہ اندر باہر خالی ہے اور اگر نظر حق پر کرے تو کوزہ کے مانند دریا میں ہے کہ اس کے اندر باہر دریا ہے ۔  اے رام چند جب تک عنایت آلہی دست گیر نہ ہو کسی کو استاد کا مل نہیں  ملتا اور استاد کا مل کشتی کی مثال ہے کہ تعلقات دنیا وآخرت کے دریا سے وہ پار ہونے کی وسیلہ ہے اور استاد  کامل مثل ایک درخت میوہ دار اور سایہ دار کے ہے کہ میوہ بھی دیتا ہے اور سایہ  بھی دیتا ہے جو زمین  کہ اس درخت سے خالی ہے جیسے ایک زمین کہ اُس پر آبادی  اور آب نہ وہاں رہنا نہ چاہیے اے رام چند استاد کامل اگر چہ التفات نہ کرے اگر اُس کی  صحبت کو ترک نہ کرنا چاہیے اور جوبات کہ اُستاد دوسرے سے کہے

(312)

اس کو ایسا سمجھ کہ مجھ سے ہی کہتا ہے اور اس سے نفع حاصل کر کہ بزرگوں کی صحبت حیات جاودانی بخشتی ہے اور نادان کو نادائی تک پہنچاتی ہے اور خالی کو پرُ کرتی ہے اور فقیر کو دولت مند کرتی ہے اے رام چند حصول معرفت ہر چند مرشد بغیر میسر نہیں  ہے گر اس میں  عمدہ چیز استعدا وطالب صادق کی ہےکہ مرشد کی بات کو درست سمجھ لے اور جاننا چاہیے کہ راہ حق کی طالب کی ذات میں ہے نہ کتاب میں ہے او رنہ علوم میں اور نہ استاد میں ہے۔  اے رام چند ر کوئی  علم وہنر بے ورزش حاصل نہیں ہوتا اور ترک ورزش سے جاتا رہتا  ہے آلا شنا سائی حق جو کسی کو حاصل ہوئی ہر چند ورزش نہ کرتا ہو اُس سے دور نہیں ہوتی  اور روز بروز زیادہ ہوتی ہے اے رام چند طالب حق اُس شخص کے مشابہ ہے کہ جس نے گلے میں  گلو بند باندھا ہواور اُسے بھول کر جستجو اس کی کرتا ہو اور دوسرا شخص اُس کو یا د دلائے کہ گلوبند تمہارا تمہار ے گلے میں  ہے اُسی وقت آگاہ ہوجاتا ہے اور اسے اپنے پاس  پاتا ہے اسی طرح مرشد طالب کو نشان دیتا ہے کہ حق تیرے اندر ہے اور وہ حق اپنے اندر پاتا ہے اور اس کی  طلب  میں عالم کے چوطرفہ گھومتا ہے اور اُس کی یہ مثال ہے کہ گھر میں اپنے خزانہ رکھے اور اُس سے آگاہ نہ ہو اور دربدر مارا مارا گدائی کے لئے پھرے اے رام چند آدمی کی ایک خاصیت ہے جس چیز میں  دل لگائے اُس کا رنگ

(313)

پکڑتا ہے پس چاہیے کہ اپنے دل کو حق میں لگائے رباعی گل کا جو خیال دل میں ہوگل ہے تو ۔ اتر بے قرار بلبل  ہے تو ۔   تو خبر ہے خدا کُل ہے اگر تو چند ہے۔  اندیشہ کرے گل کا تو بس کُل ہے تو ۔  جب ترکیب  عنصری  کا انجلال ہوجائے تو نادان کو یہ گمان ہوتا ہے کہ روح مر گئی  اور وہ ضائع ہوگئی یہ ایسی مثل ہے کہ ہوا سے پرُ برتن کو توڑ ڈالیں اور سمجھیں کہ ہوا تلف ہوگئی اے رام چند دل کی بودنا بود دل کی حرکت اور سکون سے ہے اگر دل جنبش کرے تو عالم کو پیدا کرے اور جو ٹھہر جائے تو وہ فنا  ہوجائے مثلاً جب آنکھ کھولیے  تو عالم اس طول عرض کے ساتھ نظر آتا ہے اور جو بند کر لیجئے تو غائب ہوجائے  نہیں دیکھتے ہو کہ خواب کے عالم میں چیزیں دیکھی  جاتی  ہیں اور ہر گز وجود خارجی اُ ن کا  نہیں ہوتا اور اس کے دیکھنے کا باعث او رکچھ نہیں بخیر اس کے خیال دیکھتا ہے اور یہ عالم جو نظر آتا ہے عالم خواب کی مثال بالکل  وہم اور خیال ہے تو لازم آتا ہے کہ عالم نمود کا منشا ر بھی کچھ نہیں الا خیال دیکھنے والے ہے پس پیدا ہونا اور ناپید ہونا عالم کا حرکت اور سکون دل سے ہے اے رام چند تصورات اور طرح طرح کی صورتیں  عالم کی جو ایک حقیقت کے ساتھ قائم ہے اس حقیقت کے لیے حجا ب ہوگئے ہیں جس طرح تسبیح کے دانے کہ ایک ڈورے سے قائم ہیں اور ڈورے کے حجاب  ہوگئے ہیں ۔  اے رام چند

(314)

حق کی نسبت عالم کے ساتھ ایسی ہے کہ سونے کی نسبت انگوٹھی کے ساتھ ہے انگوٹھی صورت سونے کی ہے اور سونا حقیقت انگوٹھی کی جس نے انگوٹھی دیکھی سونا دیکھا دونوں میں جُدائی  نہیں ہے۔  اے رام چند تفرقہ دل کا خود دل سے پیدا ہوتا ہے اور دل کی کوشش سے فنا ہوجاتا ہے جس طرح کہ آگ ہو اسے روشن ہوتی ہے اور ہوا سے ہی بجھ جاتی ہے۔  اے رام چند جس نے اپنے نفس پر فتح نہیں پائی اُسے معرفت سے بہرہ نہیں ہے  اور اس معاملہ میں کلام کرنے سے اُس کو غجالت ہوتی ہے اے رام چند جس سب کو یقین حاصل ہوا کہ سب حق ہے اور غیر اُس کا وجود نہیں  رکھتا اگر ناشا یستہ اس سے کوئی حرکت ہو زیبا اور بجا ہے اور اگر زہر قاتل کھا جائے تو وہ آب حیات بن جاتا ہے قالب عنصری اُس کا روح کی صفت حاصل کرتا ہے اور اس کا باطن بالخاصیت صفائی اور آرام پاتا ہے اور جس کو یقین حاصل نہیں  ہے اُس کا حال بالعکس  ہے ؎ علٰتی جو کچھ کر علمت بنے ۔  کفر اگر کامل کرے ملت بنے ۔  اے رام چند ہمیشہ  اس تصور میں رہو میں رہو کہ میں معرفت اور سرور کا دریا ہوں جس کا کنارہ نہیں ہے اور تمام عالم اُس کی لہریں ہیں کہ اس سے پیدا ہوتی ہیں اور اُسی میں گم ہوجاتی  ہیں اور مجھے ان لہروں کے آنے جانے سے کسی طرح کا تغیر او رکمی بیشی نہیں ہے۔  اے رام چند جو حمد اور ثنا کہ عالم میں  ظاہر ہوتی ہے سب حق سے ہی حق پر نہ غیر سے ہے غیر پر کہ غیر کوئی جبر نہیں

(315)

پس رہی حامد  ہے وہی حمد ہے اور وہی محمود ہے جیسے کہ وہی عالم ہے وہی علم ہے اور وہی معلوم ہے ۔ اے رام چند کائنات سے جو کچھ ہے اُسے اپنے آپ سے دور کر اور جب سب کو اپنے سے دور کرے گا تو بعد اس نفی  کے جو باقی رہے  وہ تو ہے اور جب اس ورزش کو کمال تک پہنچا ئے تجھے ظاہر ہوگا کہ مطلوب تیرا تجھ سے باہر نہیں ہے اے رام چند اس عالم میں جو شخص آیا ہے عارف ہو خواہ غافل ہو جو کام کرنا چاہتا ہے اول اُس کا تصور کرتا ہے  بعد ازاں فعل میں لاتا ہوں لیکن عارف کادوسری قسم کا ہے اورغیر عارف کادوسری قسم کاہے۔   اے رام چند تمام جاندار جب تک کہ تعلق بدنی ان کو ہے تن اورجان کا علیحدہ علیحدہ نام لیتے  ہیں جب تک کہ تعلق نہ رہے تن غیر جان سےنہیں  ہے جس طرح کثافت خاک  کی ہوا کو آلودہ نہیں کرتی اسی طرح بدن کی کثافت  نالائق کا موں سے ہوتی ہے جان کو آلودہ نہیں کرتی  اور جان ہمیشہ اپنی لطافت پر باقی  ہے اے رام چند جس طرح کہ آگ پتھر سے نکلتی ہے اور گلاب پھول سے اور روغن دودھ سے اسی طرح جان کو قالب سے جدا کر اور قالب کے کاموں کو اُس سے نسبت ندے کہ جان اور چیز ہے اور قالب اور چیز ہے جب یہ ورزش اور مہارت تو پوری کرے تجھے کسی شے سے تعلق نہیں رہتا  اور رنگ وبو اور خوبوکسی چیز  کی تیرے اندر اثر نہ کرے گی  یعنی جان عین حق ہے اور بدن جو اُس کا

(316)

مظہر ہے بعینہ وہی ہے او ر تعین کی رو سے جدا اور اس کا غیر ہے پس جو کچھ جاندار وں میں موجود  ہے جان ہے کہ عین حق ہے اور حق ایک ہےپس تمام عالم کی جان  ایک ہے او ر لاکھوں  کام شایستہ اور ناشایستہ کہ بدن سے ہوتے ہیں جان کو آلودہ دوئی  کا نہیں  کرتے کہ حق آثار تعینات وہمی  سے آلودہ نہیں ہوتا اے رام چند عالم جو نیست ہست نما ہے پس تمام وجوہ سے اُس کو نیست اور نابود نہ سمجھنا چاہئے ورنہ انتظام عالم اور احکام شاستر کے سب بگڑ جائینگے  اور حکمت آلہی  اور احکام اس کے بیگا اور معطل ہو جائینگے  اور غیبی  اسرار ظاہر نہیں ہوتے  تجھے جو کچھ سوچنا چاہئے یہ ہے کہ عالم کو نیست اور ہست کے درمیان خیال کرے تاکہ ہر ایک کو عالم ظاہرہ باطن سے مع آثار و احکام اُس کی جگہ پر تو سمجھے اور خیرالا مور اوسطہا کے مقام پر تو قائم ہو اور اسی طرح خواب او ربیداری  او رغفلت اور ہوشیاری کی حالت میں میانہ روی اختیار کرتا  منفر معرفت ہے اے رام چند سلف کے لوگوں نےجو ہر قسم کا جوگ اور دھیان  اورمراقبہ او رمشغول بحق کی ورزش کی ہے سب کا یہی نیتجہ ہے کہ اپنے تئیں عین حق جانیں اور عین حق دیکھیں اور جب یہ مہارت  کمال کو پہنچی کوئی مراد لوک بر لوک میں نہیں جو حاصل نہ ہو اے رام چند توحید کے باب اور اس کی مداومت کے باب میں جو کچھ کہا گیا اُس پر عمل کرو ورنہ

(317)

صرف زبان سے نام شکر اور نمک کالینے سےمنھ میٹھا اور نمکین  نہیں ہوتا  اور میری  بات سے اگر تو عافل ہوگا اور دوسرے کی  بات کا خواہاں  ہے تو تیری مثال وہی ہوگی  کہ گھر میں  سب کچھ  نعمت موجود ہے  اور دربدر ٹکڑ گدائی  کرتا پھرے  ۔ اے رام چند ر جس کا  باطن حواس  او ر خواہش کی حرکت سے خالی  ہوگیا ایک کلمہ کامل سے  سُنے  اُس کو وہی کافی  ہے کہ اثر کرتا ہے اور اُس کو بالکل حاوی  ہوجاتا ہے جس طرح ایک قطرہ تیل کا ہو کہ پانی میں گرا اور پانی کی سطح  کو گھیر لیا  اے رام چند اب تو ہمہ تن  خاموش ہوکر نہ کچھ پوچھ اورنہ کچھ کہہ  اور اپنے ظاہر سے گونگا  بہرا اور اندھا  ہوکر اپنے باطن کی طرف متوجہ  ہو او رعالم  کے تفرقہ سے خلاص پاکر عین  حق ہوجا  رام چند کامل ابتاد کی باتیں  سن کر حالت عالی  کو پہونچا  کہ وہ مقام معرفت ہے اور خوشی  کے مارے آنسو اُ س کی  آنکھوں سے نکلنے  لگے اور  چُپ ہوبیٹھا اس وقت بھر دواج نے بالمیک سے پوچھا  کہ رام چند بسشٹ کے ارشاد کے بعد او رکمال  آزادی  کے حصول اور بے تعلقی  کے پیچھے  کس طرح  اپنے مقام  سے اُتر کر عالم کے باز رہ کر آسودہ ہوا اور خلائق کیے صحبت  سے کنارہ کیا بشوامتر  نے بسشٹ سے کہا جس طرح اُستاد کا مل شاگردان صاحب اس تعداد کو ارشاد کرتے ہیں  آپ نے رام چند کے ساتھ

(318)

کیا اور اُسے مقام معرفت پر پہونچا دیا اب میرے  کام کی فکر کرو تم جانتے ہو کہ میں کس کام کے لیے یہاں  آیا تھا میرا یہ مطلب تھا کہ رام چند کو اپنے ساتھ لے جاؤں اور راجہ دسترتھ سے اُس کی رخصت حاصل کی  تاکہ عمدہ  کا م  جو بمقتضا ئے حکمت  آلہی پردہ غیب  سے ظاہر  ہونے والے ہیں  اُس کے ہاتھ سے ظاہر ہوں اور تم جانتے  ہو کہ رام چند بشن کا  بڑا نّزل ہی بڑے  کاموں کے لیے دنیا میں آیا ہے  اور اس شکل عنصری  کے ساتھ متعین  ہوا اور بہت کام اُسے درپیش ہیں اس طرح  آزاد بیٹھنا او رخاموشی کی مہر ہونٹھوں پرلگانی  حکمت  او رعقل سے دور ہے بسشٹ یہ بات سن کر رام چند کے پاس گیا  دیکھا کہ مراقبہ میں بیٹھا  ہے او ربیدار نہیں ہوتا  ایک تصرف اُس کے باطن میں  کر اُسے بیدار  کیا او رکہا کہ حق تعالےٰ نے معرفت  کے مرتبے  پر تم کو پہونچا  یا اور تمہارے  دل کو آرام او راطمینان  بخشا  اب وقت  اس کا آگیا  کہ تم فراغت سے بیٹھو  اور اس نعمت آلہی  کے شکر ادا کرنے  کو اُٹھو جو تمہیں نصیب  ہوئی ہے اور خلق اللہ کے کام میں مشغول ہورام چند ر نے کہا کہ استاد  کا حکم سر وچشم پر ہے  اور آپ کے حکم سے چارہ نہیں  ہے اس سبب سے  خلائق کی کارسازی کو قبول کیا او ردیوتا لوگ بھی  مجلس میں حاضر  تھے سب نے مبارکباد دی اور بسشٹ کی تعریف اور تحسین  کی بعد اس کے رام چند باپ کی

(319)

اجازت سے بشوامتر  کے ساتھ ہوا اور راستہ طے کرکے اس کے عبادت خانہ میں جو ملک  بہار میں  تھا پہونچا  اور بسشٹ نے بشوا متر  کے ساتھ جاتے وقت رام چند سے کہا  کہ اے رام چند جب کبھی  طالب صادق تیرے پاس آوے حق  تعالیٰ کے اس شکرانہ  میں کہ اس نے اپنی طرف  راہ دی  ہے اُسے اپنی طرف راہ دینا  اور ہمارا طریق اُس کو بتلانا کہ جو کچھ اس راہ سے ہم نے آپ سے کہا محض خدا کے واسطے تھا تو میں  بھی خدا کے لیے اُس کے طالبوں سے دریغ نہ کرنا  کہ سچے طالب کو مطلوب حقیقی  تک پہونچا نا عارف اور واصلوں کا کام ہے صاحب طالع اور اقبال وہ شخص  ہے کہ بندۂ خدا کے کشود کا ر کا سبب ہو اُسے مطلب کو پہو نچا نا ہے کہ وہ بندہ بھی خوش  ہو او رخدا بھی اس بندہ سے راضی ہو بالمیک  فرماتا ہے کہ جو شخص اس کتاب کو ایک دو بار پڑھے او رسمجھے خدا تعالیٰ سے امید وار ہوں کہ خدا تعالیٰ اُس کے دل کو صفائی اور نور عطا فرمائے اور جو شخص اس کتاب کو خوب مطالعہ کرے اور درست اعتقاد کے ساتھ اس کے مطالب میں فکر کرے کمال معرفت کو پہنچے

خاتمہ از جناب مولوی ابوالحسن صاحب مترجم

شکر ہے اور احسان اس واجب الوجود وحدہ لا شریک کا جس نے اپنی حب ذاتی کے اقتضا سے صور علمیہ کو لباس رنگا رنگ دے کر عالم شہود میں جلوہ دیا اور حقیقت محمدی کو برزخ کبریٰ  تنزلات کا  کیا بے نیاز  ہی ذات اُس کی او ربلند ہے شان اُس کی کسی کی مجال نہیں کہ اُس کی حمد سرائی کا دعویٰ کرے اور کس کی ہستی  ہے کہ اُس کے حبیب  پاک کے نعت گستری کا دم بھرے حمد آلہی  جل شانہ اسی حدیث پر ختم ہے کہ لا احصی ثنا علیک انت کما اتنیت علی نفسک اور نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی آیت پر کہ لولاک لما خلقت الافلاک ناظرین بات مکین پر منکشف ہو کہ سنہ ایک ہزار چھیاسٹھ ہجری  میں سلطان وقت محمد داراشکوہ خلف شاہجہاں  بادشاہ نے کتاب جوگ بسشٹ کے ترجمہ کو بن پیشتر زبان سنسکرت سے فارسی میں ہوا تھا نہایت اہتمام کے ساتھ مکمل او رمہذب کیا تھا اور اب تلک اسی زبان میں رہی  از بسکہ علم تصوف میں یہ کتاب نہایت عمدہ  او رحاوی تمام اصول اور فروع سلوک کو ہی اس لیے میرے سامنے پیش ہوئی  کہ ترجمہ اس کا ارد و زبان میں ہوتا کہ فائدہ اس کا عام ہو ہر چند مجھے اس علم میں دستگاہ نہیں  او رنہ اس کے مسائل کو کما حقہ بیان کرسکتا ہوں لیکن بمقتضا ئے وقت اس نازک کام کو اپنے ذمہ  لیا او رجہاں تک ہوسکا عبارت کو سمجھ کر  ترجمہ کیا او رمنہاج السالکین  نام رکھا میں نہیں عرض کرسکتا اور یہ کام پورا اور درست ہو لیکن التماس ہے کہ اگر پسند ہو تو ذکر خیر سے ناظرین یاد فرمائیں  اور اگر سقم پائیں تو عین کرم سے اغماض کریں خوشی کی بڑی بات اس وقت میں ہے تو یہ ہے کہ آج کے دن کار خانہ نول کشور پریس اپنی عظمت اور شان کے ساتھ آمادہ ہے اس پر کہ جو قدیم فائدہ بخش کتابیں  خواہ کسی زبان اور خواہ کسی مذہب کی ہوں انہیں  چھاپ کرشائع تمام ہند او راطراف ہند میں  کرے ایسا بخت یار اور مدد گار مالک مطبع منشی  نول کشور صاحب کا ہے کہ اس ارادے میں ہمیشہ ان کو کامیابی ہوئی اور یہ ثمرہ اُن کی نیک نیئتی اور سیرت  صلح کُل کا ہے اور اسی واسطے ہر ملت او رمشرب کے لوگوں کے ممدوح ہیں اللہ تعالیٰ ایسے  مطبع اور مالک مطبع کو قائم رکھے

خاتمۃ الطبع از جانب کا ر پرواز ان مطبع

سیا حان وادی  معرفت و سباحان قلزم حقیقت واقف و آگاہ ہیں  کہ جوگ بسشٹ فن تصوف میں ایک اعلیٰ  درجہ کی کتاب  بزبان سنسکرت مشہور عالم او رہردل عزیز ہے ۔  اکثر مصنفان با مذاق  نے نہایت طوالت سے سنسکرت و بھاشا میں اس کتاب کی تصنیف کے منشا کو وسعت دی ۔  آخر میں  یہ کتاب  فیض انتسا ب بزبان فارسی  ترجمہ ہوئی جس کا  تذکرہ خاتمۂ کتاب کی عبارت  از جانب مترجم میں درج  ہے چونکہ یہ کتاب  الادارلوجود تھی اور عموماً شائقین زمانہ  اس  امر کے مترصد شے لہ اس کا ترجمہ عام فہم زبان  اردو میں  ہو جو آجکل تمام ہندوستان کے اطراف و جانب میں اشاعت پذیر ہے۔   لہٰذا کمل العلما افضل الفضلا عالم باعمل واقف اسرار تصوف ومعرفت کا شف معضلا طریقت و حقیقت حضرت مولانا مولوی ابوالحسن صاحب  فرید آبادی تربیت  و صحبت یافتہ سیّد مظفر علی شاہ صاحب قدس سرہ نے جو کسی زمانہ میں مدرس اول فارسی  آگرہ کالج تھے اور پھر تحصیلدار  ی ملک اودھ کے عہدہ  پر مامور ہوئے تھے اور اپ پنشز سرکاری  ہیں حسب خواہش مالک مطبع نہایت توجہ خاص اورشوق دلی سے ایسا عام فہم زبان اردو میں  اس کا ترجمہ فرمایا اور موز تصوف کے مذاق کی ایسے سہل ترین الفاظ میں تصریح کردی کہ عام قبولیت کا درجہ اس ترجمہ کو حاصل ہوا اور اول ودوم مرتبہ کی چھپی  ہوئی کتاب  ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئی ۔  شکر اور احسان پروردگار کا کہ بارسوم یہ ترجمہ  جوگ بسشٹ  جس کا نام جناب مولانا مترجم نے منہاج  السالکین  رکھا ہے مطبع نامی منشی  نول کشور واقع لکھنؤ میں بعالی ہمتی جناب منشی پراگ نراین صاحب  مالک مطبع موصوف بماہ اگست 1898 ء اشاعت پذیر ہوئی ۔ امید ہے جلد تر چوتھی  مرتبہ پھر شائع ہو ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

 URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL for Part-25:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259

 URL for Part-26:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---26)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--اودھ-میں-ایک-برہمن-کی-حکایت/d/8269

URL for Part-27:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---27)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--کابل-میں-اکال/d/8292

 URL for Part-28:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---28)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--اودّیا-کی-اقسام/d/8304

 URL for Part-29: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---29)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--بسشٹ-کاکیلاس-پہاڑ-کے-اندر-عبادت/d/8366

 URL for Part-30: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---30)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--راجہ-بھاگیر-تھ-کی-حکایت/d/8375

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---31)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--سرب-تیاگ/d/8392


Loading..

Loading..