New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:53 PM

Books and Documents ( 20 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 29) جوگ بسشت: پرمان پرکرن: بسشٹ کاکیلاس پہاڑ کے اندر عبادت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اور اس کو مجھے مہادیو نے تعلیم کیا ہے وہ تم سے بیان کرتا ہوں حکایت اے رام چند ایک بار میں کیلاس پہاڑ کے اندر عبادت کرتا تھا علمی کتابیں اور خوش رنگ پھول میرے سامنے رکھے تھے اور چار گھڑی رات سادن مہینے  کی بائیسویں تاریخ سے گذری تھی کہ دور سے ایک روشنی نمودار ہوئی مجھے القا ہواکہ مہادیو تشریف لاتے ہیں

(278)

دفعۃً  مہادیو پاربتی کے شانہ پر ہاتھ رکھے ہوئے آئے اور تھوڑے خادم انکا آگے کا راستہ دیو اور دپت سے خالی کرتےآتے تھے اپنے شاگرد وں کو مراقبہ سے ہوشیار کیا اور آپ پانی اور پھول لے کر ان کے استقبال کو دوڑا اور اُ ن کے پاؤں پر پانی او رپھول ڈالے اور نہایت تواضع وتعظیم سے مہادیو اور پاربتی کو اپنے جھونپڑے میں لایا۔  ایک ساعت بیٹھ کر مجھ سے پوچھا کہ اس پہاڑ میں خیر وعافیت سے ہو اور عبادت بے تفرقہ حاصل ہے اور دل خدا کے ساتھ آرام پائے ہوئے ہے اور کوئی خوف او ر وہم تو نہیں ہے اُس کے جواب میں میں نے عرض کی جو کوئی آپ کی یاد کا عادی ہے اُسے تفرقہ اور ہراس نہیں ہوتا اور کون مطلب ہے کہ وہ حاصل نہیں ہوتا بلکہ شہر او رمقامات میں سے بہتر وہی ہے جہاں میں آپ کی یاد کرتا ہوں جب یہ مقام آپ نے اپنی تشریف آوری سے روشن کیا ہے گستاخانہ پوچھتا ہوں کہ دیو پوجا کی حقیقت کیا ہے جس کے ساتھ  تمام کمالات اور سعادات وابستہ ہیں فرمایا کہ بشن برھما ومہادیو اور دیگر اجسام و ارواح کو دیو نہ جان دیووہ ہے جس کی ابتدا اور انتہا نہ ہو اور صورت شکل کو نہ قبول کرے اور کسی کا ساختہ پرداختہ نہیں ہے اور وہ ہستی محض ہے کہ آنند سروپ اور گیا ن سروپ  ہے اُس کی پوجا اور عبادت کیجئے اور صورت کی پرستش کی تلقین جو ہر ایک کو کرتے ہیں اُس کا یہ مطلب ہے کہ چونکہ اہل ظاہر عالم صورت

(279)

کو اپنے سے نزدیک جانتے ہیں اور معنی کوبہت دور ۔  استاد لوگ اور کاملین پہلی مرتبہ ایک صورت  کو ان کی نظر کے ساتھ کرتے ہیں کہ پریشان خاطر کو جمع کرے بعد ازاں آہستہ آہستہ اُس کی توجہ صورت سے پھیر کر مطلوب حقیقی  سے آشنا کرتے ہیں  جس طرح ایک منزل  کے تھکے ہوئے کو جس کے ذہن میں منزل دور ہے بتلاتے ہیں کہ تیری منزل کو س ایک ہے تاکہ تصور نزدیکی کا مسافت منزل کو آسان کردے۔  اے بسشٹ پانی پھول چاتول چندن عود چراغ یہ سب لوارم دنیا وی صورتوں کی پوجا کے ہیں ۔  اور حقیقی دیو کی عبادت کے لوازم اور ہی ہیں۔  پانی اُس کا علم ہے اورپھول اُ س کی توحید اور چانوں اُس کی قوت حلال اور چندن اُس کے باطن کی صفائی ہے اور عوداس کی حرارت عشق اور چراغ اُس کا روشنی دل کی ہے۔  جو ا س دیو کی صورت سرہاتھ پاؤں ثابت کرے اس کی صورت تمام کائنات ہے اور سر اس کا انتہا آکاش کی اور پاؤں اُس کے منتہی پاتال کی اور ہاتھ اُس کے جہات ستہ اور تمام آنکھیں  اور کان اُس کیا آنکھ کان ہیں اور دانااسی دیو کی عبادت کرتاہے او رعبادت اس کی یہ ہے کہ دیکھنے سننے سونگھنے چکھنے اور مساس کرنے جاگنے سونے سانس لینے میں اُس کو حاضر دیکھے یعنی جانے کہ دیکھنے والا سننے والا سونگھنے والا چکھنے والا مساس کرنے والا جاگتا سوتا  سانس لینے والا وہی ہے

(280)

ایک دم کی یاد میں اُس کی لا انتہا فائدے ہیں اگر پورا ایک دن تو اُس کی یاد کرے تو عارف ہوتا ہے  اور مکت کے مقام کو پہونچتا ہے جوگ یہی ہے اور یہی پوجا ہے اور اُس کی بہترین عبادت یہ ہے کہ اُس کو اپنے اندر تو دیکھے اور اپنا عین جانے اور شادی غم اور رنج راحت اور دولتمند ی ناداری میں اُس کو موجود جان کر تو ایک حال پر  رہے اُس کو کسی کام او رحال میں تو فراموش کرے اے بسشٹ اُستاد سے ہی نہ بے اُستاد اور نہ شاستر سے ہے نہ بے شاستر ۔  اے بسشٹ  دیو پوجا کی حقیقت تم سے ہم نے بیان کی اور اب تمہارا خدا حافظ میں چاہتا ہوں بسشٹ نے فرمایا اے رام چند جو طریقہ کہ مہادیو نے مجھ سے ارشاد فرمایا اسی کے مطابق میں اب تک عبادت کرتا ہوں اور اپنے سب کا بسمار کو رسم وعادت کے موافق انجام دیتا ہوں اور کسی چیز سے مجھے تعلق نہیں رام چند بولا کہ آپ کی توجہ ظاہر ی اور باطنی سے جو چیزیں جاننے کے قابل  تھیں سب میں نے جان لیں او رمیرے دل کو آرام ملا مگر تمہاری باتیں آب حیات کے مانند شیریں او رلطیف ہیں اور سننے والے کو پیاس زیادہ ہوتی ہے چاہتا ہوں کہ دوبارہ کہو اور دوبارہ سنو بسشٹ نے فرمایا کہ جو لذت شاگرد کو اُس کے کلام سننے سے حاصل ہوتی ہے اُس سے سیری نہیں ہوتی اور دوسرے لحظہ میں آرزو دوسرے کلام کے سننے کی ہوتی ہے اُس کا اعتبار نہیں اور

(281)

آرزو بڑی خراب صفت  اور دور کرنے کے قابل ہے اور مذامت آرام دم بھر کا لڑکے چاہتے  ہیں لائق یہ ہے کہ تو اس قسم کی لذت سے درگذرے اے رام چند دانا بے آرزو ہونا چاہئے  اور جب تلک کوئی پوری تہذیب اخلاق کے چیزدیگر اور حقیقت دیگر ہوجاتا ہے جیسےتابنا اکسیر سے کُندن ہوجاتا ہے رام چند نے کہا اے اُستاد اب کوئی ایسا مطلب جس سے خاطر کو تعلق ہو نام کو باقی  نہیں رہا اور انتظار اور تفرقہ درمیا ن میں نہیں اس قسم  کا سوال جو آپ سے کرتا ہوں محض تفریح خاطر کے لیے ہی بسشٹ نے فرمایا اے رام چند جس طرح ارجن نے کشن کے ارشاد سے چشم حقیقت میں حاصل حاصل کی تو بھی دنیا سے بے تعلق ہو رام چند نے پوچھا کہ ارجن اور کشن کب آئینگے اور کشن اُس کو کس طرح کا ارشاد کرے گا بسشٹ نے فرمایا کہ جم یعنی  ملک الموت کبھی جان لینے سے ملول ہوکر ریاضت میں مشغول ہوتا ہے اس مدت میں کوئی جاندار نہیں  مرتا اور زمین آدمی اور جانوروں سے بھر جاتی اور بوجھل ہوجاتی  ہے حکمت آلہی کے موافق دیوتا لوگ اُتر کر عالم کو ہلاک اور زمین کو ہلکا کرتے ہیں اور اس دنیا میں ہزاروں ہزار جم گذر گئے اور یہ جم ہمارے زمانے کا جو سورج کا بیٹا ہے ایک وقت ملول ہوکر ریاضت میں مشغول ہوگا اور زمین آدمی اور جانور وں کی کثرت

(282)

اور اپنے زیادہ بوجھ سے بشن کے سامنے فریاد کریگی اس واسطے بشن دو صورت میں تنزل کرکے کشتنی جو ہونگے اُن کو قتل کرے گا ایک تو بسد یو کے گھر میں بصورت کشن دوم ارجن کی صورت پانڈ کے گھر میں ظاہر ہوگا اور جب یہ ظاہر ہونگے واقعہ مہا بھارت اور دوسرے واقعات اور سانحات جو کرورون آدمی اور جانور کے مارے جانے کے باعث ہونگے پیش آئینگے اور ارجن غنیم کی صف میں نظر کر دیکھے گا کہ سب اُس کے عزیز واقارب ہونگے کشن سے کہتا ہے کہ میں ان کو کس طرح قتل کرو ں کشن اُس کو ارشاد کرتا ہے کہ یہ صورتیں اور یہ اجسام جو کہ تو دیکھتاہے وہم محض ہی خلاصہ  ان کا روح ہے او ر روح ازلی ابدی ہے اور اس کو کسی سے نسبت اور قرابت نہیں  ہے مرنا اور ہلاک ہونا ان وہمی صورتوں پر واقع ہوتا ہے نہ روح پر اور یہ قتل نہیں ہے الا رفع حجاب من وتو کا اے ارجن تو نے اب چھتّر ی کی قوم جنم لیا ہے جو تقا ضا اس منزل کا ہو عمل میں لانا چاہئے بہتر یہ ہے کہ لڑائی کے میدان تو منہ نہ موُرے  اے ارجن جوگ کے طریق میں استقامت کر اور ساتھیوں کو چھوڑ ظاہر باطن کی عبادت میں مشغول ہو اور جو گ میں استقامت کا نشان یہی ہے کہ نیک اور بد کو یکساں جانے اور ساتھیوں کے چھوڑنے سے یہ مراد ہے کہ حواس کی فرماں برداری چھوڑ دے جو کہ ہمراہیاں روح ہیں  اور ثمرات اور نتائج اعمال سے نظر کو اُٹھا لینا رضائے آلہی میں کہ اعمال کے ہمراہی اور

(283)

لوازم ہیں اور خلاصہ اعمال اخلاص ہے کہ عمل کو بے غرض او ربے مطلب توکیا کرے اور جب اس طرح کی کثرت اور مداومت تو کرے گا تو عین برمہہ ہوجائے گا اور روئے زمین کے لیے زینت پہونچا ئے گا اور جو شخص سنیاس جوگ اور گیان کی راہ میں کامل ہوتا ہے مکت اور نجات پاتا ہے اور شرح گیتا اور اس کتاب کی شرح میں لکھا ہے کہ ارجن نے پوچھا کہ ساتھیوں کا چھوڑنا کیا معنی  ہیں او ر عبادت میں اخلاص کیا ہے اور سنیاس جوگ کس طرح ہے اور گیان جوگ کیا چیز ہے کشن نے فرمایا کہ ساتھیوں کا چھوڑنا اقسام سنکلپ کا چھوڑنا ہے اور اخلاص عبادت میں یہ ہے کہ میں اور عالم اور عالم کے کام کاج اور عبادت میری سب حق ہے اور حق سے جدا نہیں اور سنیا س جو گ یہ ہے کہ تمام ریاضات سخت نے عرض اور بی مطلب کرتا رہے اور ثواب اُس کا نہ چاہے اور نتیجہ کی خواہش نہ کرے اور گیان جوگ یہ ہےکہ اپنے تئیں برمھ کی ذات میں توفانی کرے اے ارجن میری دو ہستی ہیں  ایک مطلق دوم مفید مطلق یکانہ دانا اور اننت ہے یعنی  اُس کا اوّل آخر نہیں اوّل ہر اوّل کا ہے اور ہر آخر کا آخر اور اُس کو پرم آتما اور برمھ آتما  کہتے ہیں او رمفید وہ ہے جس کی شکل رنگ ہاتھ پاؤں وگدا وچکر جیسے مجھے تو دیکھتا ہے (گدا اور چکر کشن کے ہتیار ہیں) اے ارجن اگر تجھے شغل اور توجہ پرم آتما پر اچھی  طرح میسر ہوتو میری صورت ہو اور ہمیشہ اسی صورت کا

(284)

تصور کرو اور جو ریاضت  عبادت کرے میرے واسطے  کر اے ارجن  جب تک پرم آتما کو تونے نہیں جانا  اسی طریقہ پرعمل کرتا رہ کہ رفتہ رفتہ اس کو جان لے گا اور جب اُسے جان لیا تو تنزل سےنجات پائے گا اے ارجن پنڈت اور دانا وہ شخص ہے کہ جو افعال و اعمال کہ قابل جزا ہیں  اُن سب کو گیان کی آگ میں جلادے اور اس آگ کا اعمال کو جلانا ایسا ہے کہ جانے میں  نے یہ اعمال ہی نہیں کیے ہیں روح مجرد ہوں اور یہ بدن کے کام ہیں اے ارجن جب تک اعمال کا عوض درمیان ہے گیانی مرد نہیں ہوتا پس جزا کے دور کرنے کا علاج کرنا چاہئے  اور علاج اس کا یہ ہے کہ اعمال کو اپنے ساتھ نسبت نہ دے اے ارجن دانائی کا یہ نشان ہے کہ اگر قیامت کی ہوا چلے او رپہاڑ اڑنے لگیں دانا استاد کی نصیحت اور شاستر کا حکم نہ بھولے بسشٹ نے کہا جب کشن یہا ں تک کہہ چکا ارجن ایک لحظ چپ ہوکر کہے گا کہ اے صاحب تینوں لوک کی تمہاری بات سننے سے میرے دل کو آرام ملا اور حقیقت کام کی سمجھی اور میرا دل باغ باغ جس طرح نیلو فر سورج کے نکلنے سے ہوا بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چند دوسری حکایت سُنو کہ خاطر حق  جو تیری تسلی پائے گی حکایت  ایک سنیاسی برہمن قدرت اور تصرف والا روشن ضمیر ایک دن اپنے بدن سے الگ ہوکر دوسرے کی صورت میں ظاہر ہوا اور

(285)

راجپوت اپنے تئیں  کہلوایا ایک وقت سوتا تھا تو خواب میں دیکھا کہ چند دیہات کا رئیس ہوگیا اور رئیس نے دیکھا خواب میں  کہ راجہ ہوگیا اور راجہ نے  خواب میں دیکھا کہ کسی ایک دیوتا  کی عورت بن گیا اور عورت نے خواب میں دیکھا کہ ہرنی ہوگئی اور ہرنی نے دیکھا کہ گھانس کی بونٹی بن گئی  اور گھانس نے دیکھا  کہ کالی برہنو کر نیلوفر کے پھول میں آئی تھی کہ ہاتھی نے اُسے جڑسے اُکھیڑ ڈالا اور برسمیت کھا گیا اور بر نے فنا کے وقت ہاتھی کی صورت کا ارادہ کیا تھا ہاتھی  بن گئی قید تنزل کے بعد برہما کی سواری ہوگئی  ان کے ساتھ مہادیو کی مجلس میں گئی  اور چند روز کے دل کے سنکلپ سے مہادیو  بن گئی  مہادیو کی صورت میں  عارف اور گیانی  ہوگئی تمام تنزلات کو اپنے یاد کیا پھر برہمن نے سنیاسی کے سرپر جاکر اُس کو جگا یا اور ان دونوں صورت نے راجپوت کے سرپر جاکر اُس کو جگایا اور تنزل مہادیو اور یہ سب صورتیں کہ اوپر شمار کہ جمع کیں مہادیو کی برکت سے گیانی اور عارف ہوگئیں  بسشٹ نے فرمایا کہ عارف کے علم میں نے نہایت عالم مندرج او رکھپے ہوئے ہیں اور عارف کادل جس چیز میں لگتا  ہے اس کی صورت پکڑ لیتا ہے لیکن یہ سب تصرف عارف کے مُراد اُس کی خاص توجہ کے ساتھ ہے رام چند نے پوُچھا کہ یہ صورتیں ایک شخص سے کس طرح ظہور میں  آئیں بسشٹ نے فرمایا جس طرح ایک ہستی  متکثر ہوکر لا انتہا صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اسی طرح

(286)

صاحب تصرف عارف جس صورت میں چاہے اپنے تئیں ظاہر کرے اے رام چند عارف نے اپنے تئیں او راپنے تمام صفات کو حق میں فانی کیا ہے او رمردہ کی صورت میں نظر آتا ہے لیکن  درحقیقت حق کے ساتھ زندہ ہے اور قدرت حق قدرت اُس کی  ہے اے رام چند اپنی عقل کو قرار وثبات دے کر جو کچھ تیرے سامنے  آئے خواہ بصورت خیر ہو یا بصورت شر اُ س میں انکار نہ کرنا اور راجہ بھا گیرتھ کے مانند اپنے میں راسخ رہنا تاکہ مشکل کام جن کو کوئی نہ کرسکے تیرے اوپر آسان ہوجائیں۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL for Part-25:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259

URL for Part-26:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---26)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--اودھ-میں-ایک-برہمن-کی-حکایت/d/8269

URL for Part-27:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---27)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--کابل-میں-اکال/d/8292

URL for Part-28:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---28)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--اودّیا-کی-اقسام/d/8304

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---29)-جوگ-بسشت--پرمان-پرکرن--بسشٹ-کاکیلاس-پہاڑ-کے-اندر-عبادت/d/8366


Loading..

Loading..