New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 09:37 AM

Books and Documents ( 15 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 27) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: کابل میں اکال


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اُس راجہ کے عہد میں ملک کا بل کا ایک راجہ تھا ہرکھ نام اور دونوں نام راجہ یار  تھے ایک دفعہ کابل میں  اکال پڑا رعیت حیران وپریشان ہوئی  ہرکھ رعیت کی خرابی  او رآوارگی نہ دیکھ سکا اور جنگل میں گیا او رعبادت کرنے لگا او رایک ہزار سال ریاضت کی اور سوُکھی پتی  درختوں کی کھاتا اس واسطے ہرماد نام پایا ( او رہرنادلغت میں سوکھی پتی  کھانے والے کو کہتے ہیں ) اور اس ریاضت کے طفیل معرفت کے مرتبہ کو پہونچا جب چاہتا  تھوڑی توجہ میں  آکاس او رپاتال چلا جاتا  اور ا س حالت میں راجہ گھر اُس کی ملاقات کو آیاہر مارنے اُس کی تواضع تعظیم کی او رکہا جتنی آپ نے بعنایت آلہی معرفت کی دولت پائی میں نے بھی پائی آپ فرمائیے کہ اب خاطر جمع سے دنیا کا کام کرتے ہو یا نہیں  رگھ نے جواب دیا کہ جو شخص معرفت کے درجہ کو پہونچا دنیا کے لاکھ کام ہوں اُس کی حضوری کو مانع نہیں بسشٹ نے فرمایا اے رام چند جس طرح یہ دوراجہ معرفت پاکر راجائی کرتے تھے تو بھی عارف ہوکر

(260)

راج کے کام کاج کیا کر اس باب میں ایک اور حکایت بیان کرتا ہوں حکایت دکن کے ملک میں ایک پہاڑ ہے جو کہ اتر پسر برھما کا مسکن تھا  وہاں دوعابد  مرتا ض رہتے تھے ہرایک کا ایک ایک بیٹا تھا ایک کا نام بیاس دوسرے  کا نام بلا س اوران  دونوں لڑکوں میں  باہم کمال الفت او رمحبت تھی ہر ایک باپ کے مرنے پر گوشہ علیٰحدہ اختیار کر عبادت میں مشغول ہوا اور سالہا سال اس طور پر گذرے ۔ ایک روز دونوں بھائی ملے بلاس نے بیاس سے کہا  بھائی سلامت رہیے اس مُدت جو مجھ سے تم علیحٰدہ رہے کیسی گذری او رتمہاری عبادت کے باغ میں  پھل آیا یا نہیں  بیاس نے کہا کہ دید ار تمہاراسلامتی  اور عافیت ہے لیکن انجانی جانی گئی او رہستی عالم کی حقیقت نہیں  ملی اور نفس نے آرام نہیں پایا عافیت  کہاں ہے تمام عالم کامیل جول بسو چکا کی بیماری ہے اور اس بیماری  کا علاج پرم آتما کی شناخت ہے جب تک کسی نے اپنی بیماری کا علاج نہیں پایا اُسے آرام اور قرار کہا ں اے رام چند دونوں یا رایک دوسرے کی صحبت سے معرفت کو پہنچے اور نیک صحبت کے بہت اثر ہیں رام چند نے پوچھا نیک صحبت کون سی ہے او ربرُی صحبت  کون سی۔  بسشٹ نے فرمایا کہ تنہا روح کی صحبت جس میں  جسمانی لوازم بدنی نہ ہوں صحبت نیک ہے اور صحبت بدن اور اشغال حسی اور جسمانی کے ساتھ

(261)

صحبت بد ہی اے رام چند ہم سب اور بشن روحی تعلق میں شریک ہیں ہم بدن کی صحبت او ر میل جول سے پستی  کی حالت میں رہ گئے اور بشن بے تعلقی کی وجہ سے تینوں لوک کا مالک ہوگیا جو کوئی نادانی سے  تعلقات میں بندھ جکڑ گیا وہ جہاں کہیں تھوڑا سامان دنیا کا دیکھتا  ہے جھٹ اس پر گر پڑتا ہے جیسے گدِّ جہاں مرد ار گوشت کا ٹکڑا دیکھا اور اُس پر گرا اے  رام چند جو شخص عارف اور گیانی  ہوگیا اُس کو دسار نا کے اقسام دل او ردماغ میں اور دونوں ابرو اور ناک کے سرے او رآنکھ کی پتلی میں اور من آکاش میں اور آتما میں او رجہا ں کہیں جائے میسر  ہیں اور دھار نا آٹھوں اعمال جوگ میں سے ایک عمل ہے کہ ان کو اشٹ انگ کہتے ہیں اور یہ تصور کا جمانا ایک خاص چیز پر ہے اور آٹھ اعمال جوگ کے یہ ہیں اوّل جم دوسرا نیم تیسرا آسن چوتھا پرانا  یام پانچواں پرتیاہار چھٹا دھارنا ساتواں دھیان آٹھواں سمادہ اور ان اعمال کے مراتب کی تحقیق نہایت تفصیل کے ساتھ جوگ شاستر میں مذکور ہے او رمجمل یہ ہے کہ جم چھوڑنا چیز وں کا ہے جو لائق چھوڑنے کے ہیں اور نیم لینا اُن چیزوں کا ہے جو قابل لینے کے ہیں تیسرا آسن بیٹھک فقیروں کی خاص مقررہ طور پر اور پرانا یام جس نفس کا نام ہے اور پرتیا ہار حواس  ظاہری  وباطنی کا ضبط ہے اور دھارنا ایک چیز

(262)

خاص  پرتوجہ کا جمانا او ردھیان توجہ کی استقامت ہے او رسمادھ اُس چیز میں  محو ہوجانا جس کی طرف متوجہ ہو ا ہے اور سمادھ کی دوقسم ہے ایک سنکلپ سمادھ کی دوقسم ہے ایک سنکلپ سمادھ یعنی انا الحق دوم نربکلب سمادھ جہاں شفل اور شاغل کی گنجایش نہیں اے رام چند ہر چند عارف بظاہر ہر مشغول کسی کام میں معلوم ہو لیکن دل اُس کا سمیر پہاڑ کی طرف جنبش سے خالی  ہے  ۔ رام چند نے پوُچھا کہ دل کی جنبش کس چیز سے برطرف ہوتی ہے بسشٹ نے فرمایا حرکت جو طبیعی دل کی ہے اُس کا جاتا رہنا دشوار ہے او رمحنت طلب ہے اور وہ  دو طریقہ پر منحصر ہے ایک جو گ کا طریقہ اور وہ یہ ہے کہ دل کی  تو جہات کو اُن چیزوں سے روکے جس کی طرف دل جاتا ہے او رمحققین نے کہا ہے کہ دل کی حرکت حرکت پر ان باے سے وابستہ ہے اگر جوگ کی قوت سے پران بائے کو قید کرے دل بھی حرکت سے باز رہتا ہے رام چند نے پوچھا کہ پران بائے سارے بدن میں جاتی ہے او رہمیشہ حرکت میں ہے اس کا قید کرنا مشکل ہے اُس کے قید کرنے کا طریقہ فرمائیے بسشٹ نے فرمایا کہ جس ترتیب سے بزرگوں نے او ر کاملوں نے عمل کیا ہے کوئی عمل کرے تو آسان ہے او رعمل  کی ترتیب یہ ہے کہ اول  یافت کا اور دریافت کا عشق اُس کے باطن میں پیدا ہو دوم جوگ کا طریق جوگ شاستر سے سیکھے اور اس کو استا د عاہل او رکامل ارشاد فرمائیے تیسرے رسوم او رعادات سے

(263)

درگذر ے چوتھے ہمیشہ شغل برابر کرتا رہے ۔  طریق دوسرا گیان اور گیان کا خلاصہ  یہ ہے کہ سمجھ لے جتنی دنیا نظر آتی ہے اور عقل او روہم او رخیال میں آتی  ہے وجود خارجی  اُس کو نہیں ہے او رپرم آتما کے سوا او رکوئی چیز موجو دنہیں  ہے اے رام چند جب اس بات کو تونے خوب سمجھ لیا دل کی  جنبش سے خلاصی  پائی  او رکمال درجہ مطلب کو پہونچا اس بات میں ملّبھب رکھیشر کی حکایت  تجھ سے کہتا ہوں حکایت ملّبھب رکھیشیر بندھ پہاڑ میں  عبادت کیا کرتا جب  اُس کا مطلب ظاہر  کی عبادت سے نہ نکلا تو جوگ کے طریقہ میں آیا اور دوسرا گوشہ اُس پہاڑ میں اپنی مشغولی کے لیے پسند کیا او رجوگ کا سامان مہیّا کر مراقبہ میں بیٹھا او رتین سو برس تک اپنے سے اور کائنات سے خبر نہ ہو ا گویا ایک صورت پتھر کی تراشی  ہوئی تھی ایک بار مِنہ بہت برسا اور ہر طرف سے مٹی کیچڑ اُس پر جمع ہوگئی اور اُس کے بدن کو ڈھک لیا جب تین سو برس گذر گئے  اور افاقہ ہوا بدن کو خاک میں چھوڑا سی وقت دوسرے بدن سے تعلق حاصل کیا اور جیون مکُت پائی  اور سوبرس گندھر پ اور ساٹھ لاکھ چالیس ہزار برس اندر رہا اور چار ارب بتیس کروڑ سال مہا دیو کا چیلہ بنا اور ان کی خدمت کیا کرتا اُس کے بعد اسے پہلے بدن کی باد آئی جو خاک میں چھوڑ آیا تھا اور ہیکل شاگرد آفتاب کی امداد سے اُس کو

(264)

خاک سے نکالا اور اس بدن کو پہلے کی نسبت خوبصورت دیکھ کر حال کا بدن چھوڑ اُس میں آگیا اور عبادت اور ریاضت میں مشغول ہوا ایک دن اُس نے کہاکہ اے یار دوستوں اور اے خوشی وناخوشی اور اے شادی اور غم اور اے عبادت اور نیک اعمال تم سب کو سلام جاؤ کہ میں جاتا ہوں او ربدیہہ مکُت ہوتا ہوں رام چند نے پوچھا  کہ اگر موحدیں اور جیون مکُت کے لوگوں صاحب تصرف  ظاہر نہیں اور آکاش و پاتال جانے کی قدرت نہیں رکھتے او رجال الغیب  کی باتیں  نہیں سُنتے  تو یہ کیا بات ہے بسشٹ نے فرمایا کہ عارف لوگ تعلق خاطر ان چیزوں سے نہیں رکھتے او رنہیں  چاہتے کہ کوئی  تصرف کریں اور اگر ان کو تعلق اُن کے ساتھ ہو عارف نہیں ہیں کشف و کرامات اور تصرفات  اعمال کا نتیجہ  ہے اور بعضے ان میں  سے ابتدائی شلوک سے سخت محنت کرتے ہیں لہٰذا اس قسم کے تصرفات بعضے اوقات ان سے ظہور میں آجاتے ہیں رام چند نے پوُچھا کہ جو گشرون نے بڑی عمر کس واسطے پائی بسشٹ نے فرمایا کہ موت اور فنا دل اور پر ان  باہی کی جنبش سے ہے چونکہ رکھیشر وں نے دل اور پران باہی کو قید میں رکھا  ہے او رہلنے نہیں دیتے تو موت سبب ان میں موجود نہیں ہوتا موت ان کے اختیار میں  ہے رام چند نے پوچھا کہ آپ نے مکر رفرمایا کہ جیون مکُت نفس کے برطرف کرنے سے ہی اور جب

(265)

نفس برطرف ہوا صفات نیک جو اُس کے لوازم سے ہیں کس چیز سے قائم رہتے ہیں  بسشٹ نے فرمایا کہ نفس کا برطرف ہونا دوطریق سے ہے ایک سروپ دوم اروپ جب کہ صاحب جیون مکت سے صفت رجوگن او رتموگن کی برطرف ہوتی ہے جو بڑے فضائل کے سبب ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ اُس کا نفس برطرف ہو او رنہ حقیقت میں سروپ نفس کا برطرف نہیں ہوتا  اور ستوگن جو صفات نیک کی موجب ہے او رکمالات انسانی کی مدار علیہ ہی عارف میں بحال رہتی  ہے اور صاحب بدیہ مُکت کانفس اروپ ہے اور بدن کے ساتھ فنا ہوتا ہے اور یہ جو عرف وعادت میں کہتے ہیں کہ عارف کا نفس مرُدہ  ہے سخن ظاہر ی  تحقیق ہے نہیں جب تک آدمی زندہ ہے عارف ہو یا غافل نفس ممکن نہیں کہ مرجائے ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL for Part-24: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236

URL for Part-25:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---25)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--راجہ-بل-کی-حکایت/d/8259

URL for Part-26:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---26)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--اودھ-میں-ایک-برہمن-کی-حکایت/d/8269

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---27)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--کابل-میں-اکال/d/8292


Loading..

Loading..