New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 09:50 AM

Books and Documents ( 10 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 24) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: سدّھ کی باتیں


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

تمام ہوئی اشتحصت پرکرن اور پانچویں ایشم پرکرن شروع ہوئی

مایا یعنی آفرنیش عالم کی خواہش کہ باعث اُس کے ظہور کی ہے دوصفت رجوگن وتموگن  کے ساتھ کائنات کو پیدا کرتی ہے او رکائنات کا ایک ایک  ذرہ اُس کے ساتھ قائم ہے جیسے گھر ستون سے قائم ہوا اور یہ سب اودّیا ہے یعنی اثر غفلت کاکہ عارف کو اُس سے گذرنا  اور اس کو چھوڑنا چاہئے  اب رام چند آپ کو بھی چاہئے کہ جو مال متاع دنیا کا آپ کے پاس ہے اُس کے چھوڑنے میں زحمت برداشت نہ کرو کہ تمہارا غیر نہیں  ہے اور جو کچھ نہیں ہے   اُس کی تلاش میں کوشش نہ کرو کہ وہ تجھ سے الگ نہیں اور تیرے ساتھ ہے۔  اے رام چند معرفت کی دولت دو طریق سے

 (230)

ہاتھ آتی ہے ایک مشہور ہے کہ جو مرشد کے ارشاد اور شاستر کے پڑھنے او رنیک اعمال کے کرنے سے ملتی ہے اور دوسری محق عنایت آلہی سے کہ بے تلاش او رتردو کسی کو نصیب ہو جس طرح ایک میوہ کہ آسمان سے گر پڑے اور بے مانگے ہاتھ آئے اور اس طریقہ میں ایک حکایت تم سے بیان کرتا ہوں ہوش کے ساتھ سنو حکایت اے رام چند راجہ جنک بدیہ نگر ی کا بسنت کی فصل میں باغ کی سیر کو گیا تھا نوکر چاکر دن کو چھوڑآپ سبزہ او رپھولوں کے دیکھنے میں مشغول ہوا اتفاق سے ایک گروہ کامل عارفون کا باغ کے ایک گوشے میں بیٹھا باہم گفتگو کررہا تھاان کی باتوں کو سنا اور اُن کو نہ دیکھا ایک کہتا تھا کہ مرد خوبصورت عورت سے تعلق خاطر کرتا ہے اور اُس کے وصال میں سعی اور آخر کار اُس کے وصال سے کامیاب ہوتا ہے اُس معشوقہ کی صحبت کی لذت ایک ذرہ ہے اس سرورکا جس کا میں طالب ہوں اور دوسرا سدِّھ بولا کہ بنیش اور بینا اور دیدہ شدہ ان تینوں کو اُ ن کی باسنا سمیت چھوڑ پرکاش اور روشنی کا جو کہ ان سے پہلے ہیں اور سب کی اصل ہے میں طالب ہوں تیسرے سدھ نے کہا کہ جوشےہستی اور نیستی کے درمیان ہے اور دونوں جگہ ظاہر ہے اور نور زمین آسمان او رتمام کائنات ہے مجھے اُس کی طلب ہے چوتھے سدِّ ھ نے

(231)

کہا کہ سکاری جس کے ساتھ رُدّر ملا ہوا   ہے او رہکاری کہ اِ س کا پر لاسراہی اور اُس کو اجپا گا تیری کہتے ہیں اور ذات لطیف جو اس اسم اعظم کو دیوتا آدمی اور حیوانات میں لب وزبان بغیر     ہلائے ہمیشہ جپتا ہے اور سنُتا ہے میں اُ سکی تلاش میں ہوں اور سانس کی آمد رفت سے سوہن ظاہر ہوتا ہے یعنی وہ میں ہوں یعنی حق میں ہوں اور یہ ذکر ہمیشہ سوتے جاگتے بے اختیار ہر جاندار سے جاری ہے جو ا س ذکر کو سُنے اور سمجھے عارف ہے اور جو نہ سُنے اُس کا نہ سُننا مانع اس ذکر کا نہیں ہے چونکہ ابتدا اور حال میں حق پوشیدہ ہے اور سالک ظاہر پچھلا نفس جو پوشیدہ ہے وہ حق کی طرف اشارہ ہے اور اوپر کا نفس جو ظاہر ہے سالک سے مراد ہے او رہمیشہ کے شغل اور کثرت تکرار سے یہ تکرار پلٹ جاتی ہے ہنسو حاصل ہوتا ہے اور حق ظاہر اور سالک پوشیدہ ہوجاتا ہے اس لیے اس شغل کو ہنس منتر بھی کہتے ہیں پانچویں سِدّ نے کہا کہ دل خلوت خانہ خاص  اللہ تعالیٰ کا ہے جو شخص اس گھر کے مالک کہ بھوُل جاتا ہے اور دیوتاؤں کی طرف رجوع ہو  اس کی مثل یہ ہے کہ کو ستبھ من گھر میں اُس کے ہو اور کوڑی کی تلاش میں سرگردان پھر سے چھٹے سدّھ نے کہا کہ دنیا کا مال متاع حاصل کرنا مشقت اور ذّلت اُس کا محفوظ رکھنا تھرقہ او رمحنت  اور اس کا

(232)

جاتا رہنا افسوس اور حسرت کا موجب ہے جو اپنے دل کو اس طرح بلا میں ڈالے آدمی نہیں  گدھا ہے ساتواں سِدّھ بولا کہ حواس کی تمنا میں سانپ میں ان میں سے جو سر نکا لیں اُس کو کچلنا چاہئے اور جوشخص اس قدرت کا ہو وہ پورا مرد ہے او رباقی سب حیوانات ہیں یہ راجہ جنک درویشوں کی یہ باتیں سُن بے ہوش ہوگیا او رکانپا اور باغ سے باہر آیا اور ہمرا ہیوں کو رخصت کر محل سرائے میں داخل ہوا اور گھر کے کونے میں بیٹھ کر یہ اور زاری کے ساتھ کہتا تھا کہ بڑا افسوس ہے کہ عالم کے حوادث میں ایسا میں گرد ان ہوں جیسے راستے کے پتھر آدمیوں کی ٹھوکروں سے جنبش میں آتے ہیں اس لا انتہا زمانے  میں عمر میری  معلوم ہےکہ کس قدر ہے اور اس عرصے میں اگر مطلب  میرے ہاتھ نہ آئے تو میرے اوپر زوف ہے بادشاہت اور سرداری میں جی لگاناکوئی فائدہ نہیں دیتا اس میں جو باقی اور ثابت ہو اور نقصان اس میں نہ ہو مفقود ہے جو بہت بڑے ہیں جیسے برھما اور دُھرو وغیرہ بہ سب فنا ہوجائنگے آدمی کو بچپن میں نادانی پریشان کرتی ہے اور جوانی میں عورتیں اور بوڑھاپے میں اولاد پھر میں نہیں  جانتا کہ راحت اور خوشی  کا وقت کون سا ہے جو کچھ ہے اور نظر آتا  ہے انجام کو نیست ہوجائے گا  جس کو نیک کی صورت دیکھو

(233)

اس میں برائی کا اثر یو پوشیدہ ہے پھرکس چیز میں دل لگانا چاہئے  ایسا شخص جس کی آنکھ کھولنے سے تمام دنیا ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک ایک لحظ میں موجود اور آنکھ بند کرنے سے اُس کے قیامت قائم ہو وہ فنا ہوجاتا ہے یعنی برھما پھر ہم کس شمار قطار میں ہیں دل جو اودّیا اور نادانی کے درخت کی جڑ ہے ایک چھپا چور ہے کہ عمر کے نقد ہی کو چرُاتا ہے اب میں جاگا اور میں نے جانا کہ یہ چوٹاّ گردن مارنے کے قابل ہے اگر تدبیر کے ساتھ تقدیر موافق ہے تو اُس کو قتل کرتا ہوں راجہ جنک یہ باتیں کہ کر خاموش ہوا اور اُس کی یہ حالت ہوئی کہ اگلی پچھلی کوئی بات اُس کو یاد نہیں آتی تھی اے رام چند راجہ جنک نے معرفت کی راہ آپ ہی آپ بے مشقت اور ریاضت کے پائی اور آپ سے پائی نہ کہ دوسرے سے حقیقت میں معرفت کی دولت عقل کی صفائی اور باطن کے نور سے ملتی ہے اور دوسری شرطیں مثل تربیت مرشد اور ریاضت اور جوگ اور دھیان کے سب حیلہ اور بہانے ہیں یہی  فہم کی تیزی درکار ہے اور بس اکثر دنیا دار حصول دنیا کے لیے تدبیر اور تلاش کیا کرتے ہیں کاش اُس کی آدھی  کوشش عقل کی افزونی میں کریں کہ عقل کی کمی  غم اور الم کے لیے بیج اور رنج و محنت کا خزانہ ہے اور روشن عقل سے ہر مطلب عظیم کو پہنچ سکتے ہیں اور جس کی عقل کا مل ہے اُس میں حرص و ہوا کا غیب

(234)

نہیں ہوتا جیسے درہ پوش کہ اُس پر کوئی سلاح اثر نہیں  کرتا اے رام چند جو شخص مرتبہ بلند چاہتا  ہے اُسے لازم ہے کہ اپنی عقل کو تیز اور روشن کرے جیسے کاشت کار چاہتا ہے کہ  زمین سے حاصلات خوب لے اور وہ زمین کو نہایت درجہ کماتا ہے اے رام چند خاطر کا اس طرف تعلق  کہ اس کو لیجئے لینے کے لایق ہے اور اس کو چھوڑ دیجئے  کہ چھوڑنے کے قابل ہے عین گرفتاری ہے جس کی قسمت میں برھما کا دیدار بداہے اس کے سامنے یہ سب چیزیں یکساں ہیں اور ہمیشہ حق اُس کی نظر میں جلوہ گر ہے امید اور خوف اور گرفتاری اور آزادی اور آزادی سے  علیٰحدہ ہو سب کے ساتھ ہنسی  خوشی رہتا ہے اور جانتا ہے کہ میں روح لطیف  ابدی ہوں کہ کسی سے مخالفت اور بیگانگی نہیں ہے۔  اے رام چند عارف آدمی کھڑے ہونے میں اور بیٹھنے اور راہ چلنے اور سونے اور جاگنے میں سب وقت برمھ کو دیکھتا  ہے اور سمجھتا ہے کہ عالم فقط وہم ہے اے رام چند دل اپنی ذات کا شعور اور ادراک نہیں رکھتا  اور عقل کے واسطے سے تعلق محسوسات سے رکھتا ہے اور مزے اُڑاتا ہے جس طرح لومڑی آپ شکار نہیں کرتی اور شیر کے مارے شکار سے اپنے لیے قوت حاصل کرتی ہے اے رام چند ہمیشہ اس فکر میں  رہو کہ میں آکاش کا محیط ہو ں اور محسوسات سے نہیں  ہوں اور اہنکار کو چھوڑ اور پخنت بیٹھ رام چند نے کہا اے بزرگ

(235)

اہنکار سے بدن قائم ہے جس طرح درخت جڑسے جب اہنکار کو چھوڑ وں اور اُس کے دو طریق ہیں ایک تصور اور خیال جس طرح کوئی تو ہم کرے کہ بی بی بچے خویش آشنا اور معاش کے اسباب کو جب ترک کروں تو زندگی محال ہے جب اس وہم کو دور کیا اہنکار برطرف ہوئی اس اہنکار کے دور کرنے سے بدن بحال رہتا ہے دوسرے واقع میں جیسا  کہ جیون مکت کے حصول کے بعد ارادہ کرے کہ بدیہہ مکت کے مرتبے کو پہنچے اور اہنکار مطلق نہ رہے اس صورت میں بدن نہ رہے گا اور یہ عین مطلق ہے بسشٹ نے فرمایا اے رام چند اہنکار کی چار صورت ہیں اول یہ کہ میں ماں باپ سے پیدا ہوا ہوں اور اتنا بڑا ہوں دوم یہ کہنا کہ میں لطیف ہو اور بال سے بھی باریک ہوں اور فنا ہونے والا نہیں  ہوں تیسرے کائنات سب میں ہوں او رکوئی شئے اُس کی میرے سوا نہیں چہارم میں  او رکائنات سب سے سُنو یعنی خالی ہیں۔ پہلی قسم غفلت اور نادانی  کی بنیاد ہے اور تین قسم آخر مکت کے لوازم سے ہیں اے رام چند تمام کائنات شون یعنی ہیج ہیں اگر کہیں عالم کوشوں کس طرح کہہ سکتے ہیں  کہ یہ مذہب شون بادیو ں کا ہے ( اور شون بادی ایک بد مذہب گروہ ہے جو کہتے ہیں کہ خارج میں نہ حق کا وجود ہے اور نہ عالم کا )

(236)

اُس کا یہ جواب ہے کہ یہ الفاظ جو اہل مذہب اپنی اصطلاح میں طرح طرح کے معنی سے لاتے ہیں جیسے شون پرکرت مایا برمھ بگیان شیو پر سکھ ایشان آتما ہم اپنی گفتگو میں ان سب سے مراد حق لیتے ہیں شون اس لیے ہم کہتے ہیں  کہ آکار اس کے نہیں یعنی شکل اور رنگ اس کے نہیں اور پرکرت اس لیے کہتے ہیں کہ حواس سے نہیں پایا جاتا اور مایا اس لیے کہ بہروپیئے کی صفت اُس میں ہے اپنے آپ کو لاکھ صورت میں ظاہر کرتا ہے اور برمھ اس لیے کہ جو نظر آتا ہے  عقلی او روہمی اور خیالی صورت سے مقید ہوتا ہے اور حق اس سے بزرگ تر اور برتری اور بگیان اس لیے کہ گیان سروپ ہے یعنی  عین دانائی او ر شیو اس لیے کہ آنند سروپ ہے یعنی سروز وخوشی اور پرکھ اس لیے کہ آنند سروپ ہے یعنی عین سروزوخوشی اور پرکھ اس لیے کہ پورن یعنی سب  جگہ پر ہے اور ایشان اس لیے کہ لطیف ہے اور لطیف کیثف سب کا محیط ہے اور حاصل جواب یہ ہے کہ ہر چندشون کا لفظ اس گروہ کااصطلاح ہے کہ ان کے مذہب میں اہل حقیقت کی اصطلاح ٹھیک نہیں  لیکن ہماری مُراد اس لفظ سے دوسرے معنی  ہیں جیسے لفظ پرکرت اور مایا اور برمھ وبگیان وشیو وپرکھ وآتما یہ سب الفاظ اور اصطلاح میں دوسرے معنوں کے لیے بولے جاتے ہیں اور ہمارے نزدیک سب خدا کے نام میں لیکن مختلف اعتبارات سے جیسے کہ پہلے مفصل ذکر ہوچکا اور اس جواب میں اس کا اشارہ ہے کہ اہل مذہب میں اگرچہ بظاہر ایک کی

(237)

جدا گانہ اصطلاح ہے اور ایک دوسرے کے برخلاف باتیں اپنی کتابوں میں لائے ہیں مگر درحقیقت میں ان کی  باتیں ایک ہیں اور سب حق پر اور صوا ب  پر ہیں  اور راہیں ان کی اگرچہ بظاہر مختلف ہوں مگر سب کی  منزل ایک ہے اور بعضے محققون نے فرمایا ہے کہ  معرفت الہی میں بہت سے مذہب ہیں اور سب مذاہب کا مجمو عہ میرا مذہب ہے ریاعے

کافر  مجھے اس لیے ہوکہتےہیں ہر بار                               تاآنکہ مجھے رنج ہو پر ہی بیکار

 

ہفتا دو دوملت ہیں مرے مذہب ودین                             پستی وبلندی  ہے مجھے سب ہموار

او ریہی  ہیں کلام کے معنی  بسشٹ نے فرمایا کہ ایک جماعت بھید کی قائل ہے اور یعنی  حق جدا ہے اور عالم جُدا ہے یہ نیا یکان کا مذہب ہے اور ایک گروہ ابھید کا اعتقاد رکھتے ہیں یعنی ایک وجہ سے حق اور عالم ایک ہیں اور ایک وجہ سے جدا اور یہ مذہب پات بخلیاں کا ہے اور تینوں مذہب کا حاصل ایک ہے اور سب ایک ہی معنی  کی طرف جھکتے اور رجوع کرتے ہیں جس طرح لہروں کی صورت ہر جگہ علیٰحدہ ہے اور سب دریا میں جا ملتی اور اصل سب کی دریا ہے ۔  بسشٹ نے فرمایا اے رام چند اس تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ تجھے عالم سے جُدا رہنا چاہئے اور عالم کے ساتھ ایک پس عالم کے کام ظاہر میں کرو اور باطن میں آلودہ اُس سے نہ ہو اور ظاہر میں تبقاضا ی رسمی نستبوں کے کہو کہ یہ میرا بیٹا  اور وہ میرا

(238)

بھائی  ہے اور حقیقت میں نہ جان کہ بیٹے بھائی تیرے ہیں بلکہ عین اس مسئلہ میں ایک نکایت میں تم سے کہتا ہوں حکایت  جنبودیت میں مندر نام ایک پہاڑ ہے جس میں سے لعل اور یا قوت نکلتے ہیں  ایک رکھیشر و پرُکھ پتانامے وہاں عبادت کیا کرتا  اور اُس کے دو بیٹے تھے ایک بن دوسرا باون بن  عمر میں بڑا تھا اور کمالات فضائل میں معرفت کے مقام کو پہنچا ہوا اور باون کا مرتبہ متوسط تھا کسی قدر خواب غفلت سے جاگا تھا مگر اپنے کمال کو نہیں  پہنچا ان کے باپ نے اپنے اختیار سے تعلق جسمانی کو چھوڑ دیا جب کہ ضعف پیری نے اُس پر غلبہ کیا جس طرح پلہ دار اپنا بوجھا گرا دیتا ہے روح اُس کی صفائی اور لطافت کے ساتھ آکاش پر گئی  بیٹے باپ کے گذر جانے سے مفموم ہوئے خصوص چھوٹا بیٹا جو گیانی  نہ تھا زیادہ  ترغم اور ماتم میں گرفتار ہوا بڑے بھائی نے تجہیز و تکفین کر کے اپنے چھوٹے بھائی کو تسلی دے کر کہا کہ تیرا رنج اگر اس واسطے ہے کہ باپ کے حال پرتجھے رحم  آتا ہے تو یہ بیجا ہے اس واسطے کہ باپ نے مُکت اور نجات پائی اور حق سے جا ملا اور جو باپ کی نسبت سے توروتا پیٹتا ہے تو اسی قدر باپ تیرے مرے ہیں کہ جن کے شمار نہیں  کس کس کا تو ماتم کرے گا کتنی ہی بار انواع مختلف کی  فرزندی میں تو متعین ہوا ہے اور سب تیری نسبت پدری

(239)

اور مادری میں برابر ہیں ۔  ایک پرنوحہ کرنا او ردوسرے پرنہ کرنا مہمل بات ہے اگر تو حقیقت میں نگاہ کرے تو لطیف آتما  ہے یا باپ سے تجھے نسبت نہیں اور یہ سب بدن کے تعلق ہیں باون بڑے بھائی کی نصیحت اور ارشاد سے معرفت کے مرتبہ کو پہنچا بسشٹ نے فرمایا اے رام چند تمام ظاہری  نسبتیں بدن سے تعلق رکھتی  ہیں اور آتما کو کسی سے تعلق نہیں  ہے پچھلے کی حسرت اور آیند کی اُمید سے یہ تمام غم اور آلام بڑھتے ہیں اور جو ان سے اُنکھ بند کرلو تو کچھ بھی نہیں جس طرح لکڑی سے آگ بڑھتی اور بھڑکتی ہے او رجو لکڑی نہ ہوتو جلد ٹھنڈی او ر راکھ ہوجاتی ہے اے رام چند اپنے دل کو وسعت دے اور دل کی وسعت میں وہ لذت ہے کہ تینوں لوک کا راجہ ہونا اور خزانہ کامعمور ہونا اُس سے کچھ نسبت نہیں رکھتا تنگ مکان کشادہ دل کے ساتھ کشادہ ہے اور تنگ دل کے ساتھ وسیع جہاں ہوتو وہ بھی تنگ ہے اے رام چند دل جو تعلقات جسمانی  سے خالی  ہو ایک حوض ہے کہ ٹھنڈی ہوا میں پانی اُس کا صاف او ر لطیف  ہوجاتا ہے اور تعلق کا بھرا دل اگر بالفرض دریا ہو اُس کے پانی  کو گیا سہیل ستارہ سب پی گیا ہے اے رام چند پورے چاند اور دوودھ کے دریا اور دولتمند وں کی صورت کو وہ روشنی  نہیں ہے جو عارف کے دل کو ہے۔  اے رام چند جس طرح چاند کی خوبی کوبادل

(240)

چھپا لیتا ہے او رسفید کپڑے کوآلودہ ہاتھ میلا کرتا ہے اسی طرح خواہش اور آرزو روشن دل کو دھندھلا اور سیاہ کرتی ہے ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL for Part-23: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---24)-جوگ-بسشت--ایشم-پرکرن--سدّھ-کی-باتیں/d/8236


Loading..

Loading..