New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 10:52 AM

Books and Documents ( 9 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 23) جوگ بسشت: استھت پرکرن: واشور برہمن کی حکایت



Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

اب واشور برہمن  کی حکایت سُنو حکایت مکھ کے ملک میں ایک بیان ہے جس میں سایہ دار درخت اور خوش آواز چڑیاں بہت ہیں وہاں ایک برہمن تھا واشور نام سولوما کا بیٹا رہتا تھا جو مشہور رکھیشر تھا باپ  بیٹوں نے جُگوں اس بیاباں میں عبادت کی اتفا قاً باپ مر گیا راشور باپ کے مرجانے سے بہت ر ویا پیٹا اور حد سے زیادہ بے قرار ہوا اس درمیان ایک عورت دیبیون سے اُس کے پاس آئی جس کو بن دیوتا  کہتے ہیں  اور جنگل میں رہتی ہے اور جنگل کے ہر ایک قطعہ کی حفاظت ان میں سے ایک ایک کے سپرد ہے اور نظر نہیں آتیں اور کبھی دکھلائی دی جاتی ہیں

(222)

اور اپنے کو ظاہر کر باتیں کرنے لگی کہ آپ پنڈت ہیں اور دانا دنیا کی ناپایداری کی کیفیت سے کس واسطے بے خبر ہیں جس طرح کوئی جاہل کہ حقیقت کار سے آگاہ نہ ہو گریہ دزاری کر ے نہیں جانتے کہ دنیا میں جو آیا چند روز دنیا میں رہ کر دوسرے عالم کو چلا جاتا ہے جیسے سورج نکلا اور مغرب میں تھوڑے وقت بعد جا چھپا داشور نے بن دیوتا کی بات سن کر کسی قدر تسلی پائی اور ماتم او رغم سے نکلا باپ کی تجہیز و تکفین کرنے لگا پھر بدستور قدیم عبادت اور ریاضت اور طہارت میں بسر کرتا  اچھے اعمال اور صفائے عبادت سے اس کی طبیعت پر لطافت اور پاکیزگی غالب ہوئی اور کہا کہ روئے زمین نجاست کے سبب میرے بیٹھنے کے لائق نہیں ہے ایسا ہو کہ درختوں کی لچکتی ڈالیوں پر چڑیاں کی طرح بیٹھا رہوں اور اس نیت سے آگ کی پوجا شروع کی اور اپنے گوشت کے تکہ تکہ کر تا اور آگ میں ڈالتا ایک عرصہ بعد آگ کی رو حانیت صورت  مجسم پکڑ اس کے سامنے آئی اور بولی اس ریاضت اور مشقت سے تیرا کیا مطلب ہی بیان کر کہ تیرے لیے وہ موجود کروں وہ بولا میں چاہتا ہوں کہ درخت کی نازک ڈالیوں پر بیٹھا عبادت کیا کروں آگ کی روحانیت نے اُڑ نے کی قوت جو کہ چڑیوں کو ہوتی ہے اُسے بخشی بعد ازاں واشور درخت کلاں جو اونچے

(223)

پہاڑوں پر تھے اپنا مکان قرار دے کر وہاں جا بیٹھا اور انواع اقسام کی ریاضت اور عبادت دل کے سنکلپ سے بلا غرض بے مطلب کی اور اُن اعمال پسندیدہ کی برکت سے آپ ہے آپ بے مرشد اور استاد کے معرفت کے درجے کو پہونچ کیا اور باطن اُ س کا نورانی ہوا اب بن دیوتا جو پیشتر باپ کے واقعہ میں نصیحت اور ماتم پرسی کو آئی تھی پھر آئی اچھی صورت تحفہ پوشاک سے جو پھُول کی پتی کے موافق نازک اور لطیف تھی ظاہر ہوئی واشور نے پوچھا تو کون ہے اور کیا تیرا مطلب ہے بن دیوتا نے جواب دیا کہ میرا جو مطلب ہے تو ایسے بزرگوں سے حاصل ہوسکتا ہے اور اس بیابان کی جس کا یہ درخت حضور کی نشست سے رونق پر ہے بن دیوتا ہوں اس بیابان کی حفاظت میرے ذمہ ہے ایک دن بسنت کے موسم  میں کہ کا مدیو کی پوجا کا وقت ہے تینوں لوک کی عورتیں نندن بن میں جمع ہوئیں تھیں اور سب کی گود میں لڑکے تھے اور میرے لڑکا نتھا غیرت کی آگ سے میں جلی اس لیے میں تمہارے پاس آئی  ہوں آپ جو قدرت طوبی رکھتے ہیں ایک لڑکا مجھے عنایت فرمائیے اور جو یہ آرزو میری پوری نہ ہو آگ جلا کر اُس میں جل مروں گی واشور بن دیوتا کی بات سن کر مہربان ہوا اور ایک پھول اس کے ہاتھ دیا اور کہا مہینے بھر میں لڑکا تیرے پیدا ہو چونکہ لڑکا

(224)

تا مس یعنی غصہ سے تونے حاصل کیا ہے دیر میں عارف ہوگا بن دیوتا نے ایک مہینے  میں ایک لڑکا جنا پرورش اور تربیت اس کی کرنے لگی جب بارہ سال کا ہوا تو داشور کے سامنے لائی اور کہا یہ لڑکا مجھ سے اور تم سے پیدا ہوا ہے اس مدت میں تمام علوم میں نے اُسے سکھلا دیے اب تمہاری باری  ہے داشوربولا کہ یہ میرا لڑکا ہے میرے پاس اسے چھوڑ چلی گئی داشور  مدت تک اُس کو تعلیم کرتا رہا علم بیدہ بیدانت میں اُس کو کامل کردیا بسشٹ نے فرمایا کہ ایک شب  میرا گذرا اُس جنگل میں ہوا اور اس درخت کے قریب پہنچا جہالت داشور تھا او رگفتگو جو  لڑکے سے کررہا تھا کہ ایک نمکین بات او رنئی داستان عالم کی حقیقت میں تجھ سے کہتا ہوں ہوش کے کان سے سُنو حکایت دنیا میں ایک راجہ ہے سونہ نام جو تینوں لوک میں نامور ہے دنیا کے راجہ لوگ اس کے حکم کو جواہرات کی طرح سر پر رکھتے ہیں اور کوئی راجہ قوت ہمت اور شجاعت میں اُس کا ہمسر نہیں ہوسکتا اُس کی شکوہ اندر وبشن ومہا دیو کے حوصلہ میں نہیں سماتی  اور شان اُس کی بڑے بادشاہوں ہوش اُڑاتی ہیں روح اُس کی تین بدن سے تعلق رکھتی ہے اعلیٰ اوسط ادنیٰ اور وہ آکاش میں

(225)

ظاہر ہوتا ہے اور وہیں رہتا ہے اور وہیں چھپ جاتا ہے اور اُس نے آکاش میں شہر آباد کیا ہے کہ اُس کے  چودہ کوچہ ہیں اور ہرکوچہ  ہیں اور ہر کوچہ میں موتیوں کی مالائیں پڑی ہیں اور اُس کے ایک کوچے میں سات بڑے حوض اور ناف شہر میں جنگل اور باغ او رپہاڑ  بہت ہیں کہ دولت مند اور بادشاہوں کے عیش کامقام ہے اور راجہ کے تمام گھر تلہتے ہیں بعض اوپر بعض نیچے اور بعض درمیان او رہرگھر میں سفید لکڑی لگائی اور لکڑیاں مٹی گار ے میں رکھی ہیں اور ہر گھر میں پانچ چراغ روشن اور ہر ایک گھر میں نودروازہ اور کھڑیان بے شمار اور ہر ایک کا ایک چوکیدار مقرر ہے کہ گیان کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے راجہ چوکیدار وں کے ساتھ ان گھروں میں سیر کرتا ہے اور جس گھر میں سیر کرتے کرتے تھک جاتا ہے اُسے چھوڑ جاتا ہےاور کبھی چاہتا ہے کہ ناتیار گھر  میں آئے یہ ارادہ  کیا اور گھر بن گیا داشور کے بیٹے نےباپ سے پوچھا کہ راجہ سو نہ اور اُس کے شہر کی جو کیفیت آپ نے بیان کی اُس کی حقیقت واضح تر  فرمائیے داشور نے کہا کہ اول چیز جو چدآکاش میں آپ ہی آپ نمودار ہوئی اور متصوفہ اُس کو سنکلپ کہتے ہیں راجہ سونہ وہی ہے اور اس کا ظہور مادہ ظہور

(226)

عالم کا ہے اور اُس کی فنا سے سب عالم فنا ہوجاتا ہے۔    بشن مہادیو اور اندر اُس آفتاب کے ذرّے  ہیں او رتھوڑے ارادہ میں  کہ میں برھما بن جاؤں وہ برھما ہو جاتا ہے اور شہر برھما نڈ ہے اور تین بدن راجہ کے ایک سوگن دوسرا رجوگن تیسری تموگن مشہور ہے ۔  ستوگن صفت بقا ہے کہ اُس کا مظہر خاص بشن ہے اور رجوگن صفت ایجاد ہے جس کا مظہر برھما ہے اور تموگن صفت افنا کی ہے کہ اس کا مظہر مہادیو ہے شہر کے چودہ کوچے چودہ لوک ہیں یعنی چودہ ملک کے نیچے کے سات لوک کے نام مہاتل اتل تبل سُنتل تلاتل رساتل او رپاتال ہیں اور بیچ کے ایک لوک کو بھولوک کہتے ہیں او راوپر کے چھ لوک انتر چھ لوک سرُ لوک مہالوک جن لوک تپر لوک سرُ لوک ہیں اور موتی کی مالائیں جو اوپر ذکر کی گئیں  او ردریا او رنہریں کہ چودہ لوک میں جارہی ہیں اور سات حوض سات سمندر ہیں اور بیابان باغات پہاڑ جن کو بادشاہوں  کا عیش باغ بتلایا کیلاس سُمیرہ وغیرہ ہیں اور دو مشغل کیا ہیں ایک چاند دوسرا سورج او رہلتے گھر اہل جہاں کے ابدان ہیں اوپر نیچے تمام دیوتا  اور آدمی اور حیوانات ہیں اور سفید لکڑی مٹی میں استخوان گوشت میں لگے ہیں اور ہر گھر کے پانچ چراغ پانچواں حواس ہیں او رنودروازہ دوسوراخ آنکھ کے اور دوسوراخ کان کے

(227)

اور دو سورا خ ناک کے او رمنھ او رپیشاب اور پاخانہ کی راہ کے ہیں  اور ہر ایک گھر کا چوکیدار آہنکار ہے اور ارادہ بغیر ہلنے گھر میں آنے کا ارادہ تعلق حاصل کرنے کا نئے بدن کے ساتھ ہے اے صاحبزادہ یہ شہر بنایا سنکلپ کا جو درست فکر کے ساتھ سنکلپ کو دور کرے تمام شہر خراب اور نیست نابود ہوجائے اے لڑکے لاکھ برس زمین یا سرُگ لوک میں  یا پاتال میں تو عبادت اور ریاضت کرے جب تلک سنکلپ کی آنکھ تیرے اندر باقی ہے خلاصی تجھے نصیب نہ ہوگی بیٹے نے پوچھا کہ سنکلپ کس طرح پیدا ہوتا  ہے او رکس طرح زیادہ ہوتا ہے او رکس تدبیر سے فانی ہوتا ہے داشور نے کہا کہ تھوڑی نگاہ چتین سروپ کی سنکلپ کا بیج ہے اور جب وہ بیج ہرا ہوا چت اُس کا نام ہوا اور جب بڑا درخت ہوا پورا سنکلپ وہی ہے اور سنکلپ خود بخود ہوتا ہے او رخود بڑا ہوتا ہے اورخود بخود جاتا رہتا ہے بسشٹ نے فرمایا باپ بیٹے کی باتیں سن کر میں بہت خوش ہوا اور ان کے پاس گیا میری تواضع تعظیم کی او ر رہنے  کو جگہ دی تمام رات صحبت رہی صبح کے وقت اُن سے رخصت ہوکر اشنان کے لیے گنگا پر گیا اے رام چند اہل دنیا میں دوکمال ذاتی مشہور ہیں ایک کرتا بو ون کہ جس طرح کے کام او رصنعت کا ارادہ کرے وہ تھوڑی

(228)

توجہ میں پورا ہو جاتا ہے اور دوسرا اکرتا بودن کہ اُس سے کوئی کام نہ ہوسکے ان دو کمال سے جو تمہیں پسند ہو مبارک ہے اگر تم کرتا ہوتے ہوتو معلوم ہوگاکہ تم کو ذات مقدس  آلہی میں کامل فنا ہوئی  ہے اور ہر حال میں تم نور پاک ہوکہ اہل عالم کی عقل کو تمہاری صفت کے ادراک میں ہر گز راہ نہیں ہے کمال اول مرتبہ الوہیت ہے اور دوسرا کمال مرتبہ حقیقت ذات صرف کا ۔  اے رام چند جس نے روح کے وصال کا مزہ پایا ہے دنیا بھر کا  مزہ اُس کے سامنے بے مزہ اور نا پسند ہے جس طرح کہ ایک شخص خوبصورت رمرشناس ظریف عورت کے ساتھ صحت رکھنا ہی یقین ہے کہ بھونڈی صورت بے شعور عورت کی صحبت اس کی  طبیعت کو مکر وہ معلوم ہوگی اےرام چندر عقل سے بہرہ اُسی کو ہی کہ جس طرف کو نگاہ کرے پانچ عنصر کی پیدائش کے سوا اور کچھ نہ دیکھے اور سب طبیعت خاصیت میں یکساں ہیں طبیعت صحیح اور فطرت سلیم اُسے آگاہ کرتی ہے  کہ کب تلک اِن مکروہ او ربے  مزہ چیزوں میں ملت پت او رمبتلا رہے گا کوئی نئی چیز نہیں  کہ عقلمند کو اُس سے لذت حاصل ہو او رموقع نعمت اور لذت اُٹھانے کا ملے اے رام چند کج بیٹا بر ہسپت کا جو مراقبہ کرافاقہ  میں آیا اُس نے ایک اشلوک پڑھا جس کا یہ مضمون ہے کہ

(229)

کہاں جاؤں کیا کروں کو ن سی  چیز لوں او رکون سی چیز چھوڑوں کُل عالم اندر باہر مجھ سے مملو ہے پھر کیا مانگوں کہ تحصیل حاصل ہے اور سب میری حقیقت کو لازم ہے اور کس سے نفرت کروں اور بھاگون اور اپنی حقیقت سے کیو نکر باہر آؤں بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چند کچ کی یہ گفتگو تفریح طبع تھی نہ کہ وحشت او رنفرت کی راہ سے کہ عارف ہمیشہ خوش وقت رہتا ہے اور شگفتگی اُس کی طبیعت کو لازم ہے شادی کا دن غم کی رات اُسے یکساں ہے جیسے سونے کا نیلوفر رات دن  کھلا رہتا ہے اور معمولی نیلو فر رات کو بند ہوجاتا ہے ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL for Part-20: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175

URL for Part-21: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---21)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--باسنا-میں-پھنسنا/d/8193

URL for Part-22:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---22)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--اودّیا-کا-دور-کرنا/d/8200

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/شہزادہ-محمد-دارا-شکوہ/(--yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---23)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--واشور-برہمن-کی-حکایت/d/8222


Loading..

Loading..