New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:46 AM

Books and Documents ( 5 Aug 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 20) جوگ بسشت: استھت پرکرن: شوکر کی حکایت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

تمام ہوئی اوتپت پرکرن اور چوتھا استھت شروع ہوا

عالم ایک تصویر ہے جس کا  نقاش کوئی نہیں یعنی پیدا کرنے والا اُس کا کوئی نہیں اور یہ اشارہ توحید کے مسئلہ کی طرف ہےاس واسطے کہ آفرنیس مقتضی  دوتائی کی ہے نہ اُس کے رنگ ہے کہ پرم آتما کو دکھلا دیتا ہے اور پرم آتما بے رنگی سے نہیں نکلا ہے نہ اُس کے مکان ہے کہ پرم آتما کو دکھلا دیتا ہے اور پرم آتما کو مکان نہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں کہ دل کے سوا کوئی شے نہیں ہے کہ یہ وہمی صورتیں دیکھے اور دل بھی امر موم ہے پس دل عالم کا آئینہ ہے اور آتما دل کا آئینہ جس طرح صورت اپنی آئینہ میں دیکھے اور اُس آئینہ یو اپنی صورت کے ساتھ دوسرے آئینہ میں دیکھے اور ان دو آئینہ میں

۱؎ یعنی مہترانی سے شادی کرنا اور اولاد ہونا اور اکال پڑنا اور اس گاؤں سے نکل جانا آخر حکایت تک جس میں بارہ سال گزر گئے۱۲

(194)

فرق یہ ہے کہ چونکہ آتما نرمل ہے یعنی نہایت روشن اور لطیف تو کوئی تصرف صورت میں نہیں کرتا اوردل کے آئینے میں کسی قدر دھند ھلاپن ہے اور آئینہ جو دھند ھلا ہو اچھی طرح صورت کو نہیں دکھلاتا اے رام چندر آئینہ کا اختیار صورت کی نما یش میں نہیں ہے اسی طرح حق عالم کے دکھلانے میں مختار نہیں بلکہ یہ نمود ۲؎  آپ ہی آپ ہے اور اس کے ظہور وجود کے لوازم سے ہے۔  اے رام چندر یہ عالم جو آئینہ حق میں نظر آتا ہے نہ کارن ہے یعنی خالق اور نہ کارج یعنی مخلوق اور  نہ انیسی شے ہے کہ دل بستگی اور تعلق خاطر کے لائق ہو پس اپنے دل کے آرام دینے کو وہی ایک طلب کر کہ جس کا یہ سب ظہور ہے اور اس کے سوا جو کچھ نظر آئے وہم اور خیال ہے جس طرح ایک پتھر کا تختہ کہ اپنی ذات میں کوئی نقش نہیں رکھتا بلکہ ہاتھ اور قلم کے تصرف سے ہزاروں نقش اُس میں ظاہر ہوتے ہیں اس مقدمہ میں شوکر پسر بھرگ رکھیشر کی حکایت سُنو حکایت اے رام چندر مند رپہاڑ میں جہاں رنگ برنگ کے پھول بھولتے ہیں بھرگ نامے رکھیشر عبادت اور ریاضت میں مشغول تھا اس کے ایک لڑکا تھا شوکر نام

یہی قول حکما ءراشرافین یونانی کا ہے کہ نہایت تقدس اور تنزہ حق سے اس عالم صورت تک و سابطہ کثیر درمیان ہیں اور عقل اول بززخ ہے وجوب اور امکان کے بیچ میں اُس کا داہنی طرف وجوب اور بائیں طرف اُس کے امکان ہے عقل اول سے دسویں عقل تک مراتب کا تفاوت بہت ہے ۱۲ یہ اشارہ ۲؎ مسئلہ ایجاب کے جانب ہے جو اختلافی ہے جو مشکل میں  اور حکما اورصوفیہ کے درمیان ہے ۱۲

(195)

نہایت عقیل اور دانا اور حسن صورت اور ادب میں موصوف دہ ہمیشہ باپ کی خدمت کیا کرتا اور نادانی اور غفلت کو چھوڑ کر معرفت کے مرتبہ کو نہیں پہنچا تھا ایک بار بھرگ  رکھیشر حواس کو قابو میں لاکر نرد کے مقام (یعنی استغراق بمشاہدہ) میں کلپ سمادھ بیٹھا تھا جس طرح کوئی راجہ ہوکہ دشمنو ں کو مغلوب کر شان شوکت کے مکان میں جلوس کرتا ہے اس درمیان میں اندر کی ایک پخنیار عورت جسے  اپسرا کہتے ہیں نہایت حسن ولطافت کے ساتھ عمدہ پوشاک پہنے اور طوبی کے پھول کا ہار گلے میں اور ہو اسے اُس کی زلفیں بکھری ہوئیں جیسے آسمان پر چمکتی بجلی ہوبن ٹھن کر چلی جاتی تھی یکا یک شوکر کی نگاہ اُس پر پڑی اور ہزاروں  دل اُس کا فریفیۃ ہوگیا اور عشق نے ایسا بے قرار اُسے کردیا کہ باپ کی خدمت سےمعذور رہا بے صبری اور بے قراری کے مارے دل کے سنکلپ یعنی خطرہ اور باطن کے تصرف سے اندر کی مجلس میں حاضر ہوا اور اندر کو سلام کیا اور اندر نے بھی اُس کی تعظیم اور توقیر کی اندر کی مجلس کو بھی حسین عورتوں نے بھر رکھا تھا کہ جس طرح باغ کی لچکتی شاخ کو رنگا رنگ اور خوشبو دار پھول بھرتے ہیں شوکر اُسی اپسرا کو وہاں دیکھ کر او ربھی مشتاق ہوا اور وہ بھی شوکر کو دیکھ عاشق ہوگئی اور ایک دوسرے کے خواہاں وصال ہوئے شوکر نے ہمت کو مصروف کر

(196)

تاریکی شدید پیدا ۱؎ کی جیسے مہادیو مہا پرلی کو پیدا کرے دیوتا ہر ایک اپنے ٹھکانے گئے اور تخلیہ ہوگیا شوکر اپنی معشوقہ کے ساتھ درخت طوبی کے سایہ میں بعیش وعشرت مشغول ہوا اور تین کرو ڑ پینتالیس لاکھ اور ساٹھ ہزار سال اسی حال میں بسر کیے پھر اس کے دل میں آیا کہ یہ سب کچھ چین چان ریاضت اور عبادت کی بدولت ہے شاید میری ریاضت کا عمل ختم ہوا ہو یہ خیال کیا  تھا کہ موٹا بھّدا بدن اُس کا آسمان سے زمین پر گر پڑا اور لطیف بدن  چاند کے آسمان میں گیا اور برف بن کر ملک نبگالہ کی طرف برسا اور شالی یعنی دھان نگیا اور اُس ملک میں ایک برہمن تھا اس نے ایک فرزند تولد  ہوا شوکر نام او رشوکر آب منی کو کہتے ہیں جب شوکر سن بلوغ کو پہنچا مرتا ضین اور منیشروں کی صحبت میں بیٹھا اور ان کے اثر صحبت سے عبادت کی توفیق پائی اور سمیر

۱؎ میں چاہتا تھا کہ اس داستان کو تاویل کردن مگر اس داستان کے  رموز وغوا مض پر خیال جاتا ہے  تو خاموشی بہتر معلوم ہوتی ہے ورنہ نر بکلپ میں سمادہ بیٹھنا بھرگ رکھیشر بلپ شو کر کا اور ابسراے اندر کا خطر سے گذرنا اور عاشق ہوجانا او رشوکر کا باپ کے خدمت سے باز رہنا اور اندر کی مجلس میں باطنی تصرف سے جانا او رزیادہ تاریکی پیدا کرتی اور ملایک کا دور کر دنیا اور معشوقہ سے خلوت کرنی سب کی تاویل کی جائے زہین لوگوں پر غالباً یہ اشارات مخفی نہ رہینگے ایسے مطالب کا داستان کے پیرایہ میں ادا کرنا حکما ہند پر ختم ہے ۱۲

(197)

پہاڑ میں تیس کرو ڑاور سرسٹھ لاکھ برس محنت کی اور وہاں ایک ہرنی سے اُس کے لڑکا ہوا اور پرورش اُس کی کرنے لگا اُس کی تمنا تھی کہ یہ لڑکا بڑا ہو اور بڑی عمر پائے اور گیانی اور دانشمند بنے لیکن بیٹے کی  تکمیل سے پیشتر باپ گذر گیا  اور چند تنزل او ردیکھ آخر کو ایک مرد مرتاض کے گھر میں تعین بسپری حاصل کیا جب بڑا ہوا تو ریاضت کرنے لگا اس درمیان میں بھرگ نے تین لاکھ ساٹھ ہزار سال کے مراقبہ سے افاقہ میں آکر دیکھا کہ بدن اس کے بیٹے شوکر مردہ کاسوکھ کر کانٹا ہوگیا ہے مگر عبادت اور ریاضت بھرگ کی برکت سے وہ جسم خاک نہیں ہوا اور بھرگ کے خوف سے جانور وں نے نہیں کھایا ہے بھرگ کے مراقبہ کی مدت کا حساب دیوتا ؤں کے ایام سے جن کا ایک دن ہمارے ایک سال برابر ہے ٹھیک ہوتا ہے ورنہ شوکر کے صحبت اپسرا کے ساتھ تین کروڑ پینتالیس لاکھ اور ساٹھ سال اس کی تیس کروڑ سرسٹھ لاکھ بھرگ کی مدت مراقبہ سے مطابق نہیں ہوتی یا کہ صحبت اپسرا اور ریاضت شوکر کے سنوات زمان کے بسط اور پھیلا و پر قیاس ہوں تاکہ دونوں مدتیں مطابق ہوجائیں القصہ بھرگ نے جو یہ حال بیٹے کا دیکھا تو کال یعنی روحانیت زمانہ پر غضب ناک ہوکر چاہتا تھا کہ نفرین اور بددعا کرے کال نے اپنی اصلی صورت چھ سر اور سو بازو سے بن کر

(198)

تلوار ہاتھ میں لی اور زرہ بدن میں پہنی بڑی محوج سے آن حاضر ہوا دیکھا کہ بھرگ بڑے غیظ وغضب میں دریائے  قیامت کے موافق عالم کے ہلاک کرنے کے درپے ہوا ہے اور کہا اے بھرگ آپ مرتاض برہمن ہیں میں جو یہاں آیا تو فقط آپ کے حفظ مرتبہ کی خاطر یہ نہ جاننا کہ آپ کی نفرین کے ڈر سے میں آیا ہوں آپ کو خود معلوم ہے کہ کوئی بددعا اور حادثہ مجھ پر اثر نہ کرے گا اور بہت سے برھمانڈ او ربرھما کو چکھ گیا ہوں کس نے مجھے نفرین کی جو تم کروگے آپ ایسا تصور کریں کہ میں بھوکا ہوں اور آپ میری غذا ہیں اگر شاستر کی راہ سے کرم بھوگ یعنی  سزا ئے اعمال کو ملا حظہ کرو ہر طرف لاکھ غذا او رلاکھ کھانے والے پڑے ہیں کائنات تمام غذا ہے اور اعمال بد کھا نے والے کوئی شئے عالم میں خواہ مزے کی قسم سے ہو یا الم کی قسم سے مگر نیتجہ نیکی کا نیکی او ربدی کا بدی ہے اور آپ دانا بینا ہوکر کس واسطے دیدہ وانستہ نادان بنتے ہو اور خیال نہیں کرتے کہ کس عمل سے تمہارے بیٹے کے سامنے یہ معاملہ پیش آیا اور جو حقیقت کی نظر سے دیکھو حادثات کے پیش آنے میں کردار ہو یا پاداش ہماری تمہاری تقصیر نہیں  نہ اُس میں کوئی تصرف ہے بلکہ یہ سب تقاضائے تنوعات وجود او رشیونات آلہی ہیں بیت دریا تو لہریں لیتا ہے اپنے محیط میں ۔  خس تنکے کو زعم ہے کہ کشل مجھے یہ دی

(199)

حاصل کلام یہ ہے کہ ہر شے ایک مظہر ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا اُس کو طعنہ دینا بعینہ حق تعالٰی کو طعنہ دینا ہے اور زمانہ کا بھرگ کو لعن طعن سے باز رکھنا اس بنا پر ہے کہ جو حدیث مشہور میں آیا ہے کہ زمانے کو گالی نہ دو کہ زمانہ خدا ہے کال یعنی روحانیت وہرنے کو کہا کہ اے بھرگ میں تمہارے بیٹے کا ماجرا اب بیان کرتا ہوں جس وقت آپ دریائے مشاہد ہ میں مستغرق تھے بیٹا تمہارا ابسرائے اندر کو جس کا بسوجی نام ہے دیکھ کر عاشق ہوگیا اُس کے پیچھے پیچھے اندر کے شہر من  پہنچا  اور اس کی صحبت میں رہا پھر وہ راجہ ملک ،وجین کاہوگیا او ر تھوڑے  اور تنز ل جھیل کر حا ل کے تنزلی میں ایک برہمن کا بیٹا بنا ہے باسدیو اس کا نام ہے نمکھیار کے دریا پر عبادت کررہا ہے اور آٹھ سو برس گذرے کہ وہاں سے جنبش  نہیں کی  جی چاہے تو مراقبہ کرو اور اسے دیکھو اور اُس کے  حال سے مطلع ہو بھرگ تھوڑی دیر مراقبہ میں بیٹھا اور بیٹا دیکھا اور اُس کے تتر لات سے آگاہ  ہوا او رمراقبہ بعد کال سے کہا اے بزرگ ہم تمہارے بچے ہیں او رہماری عقل تمہاری عقل کے ایسی ہے کہ جیسے بچے کی عقل ہو اور عقل تمہاری ایسی ہے کہ زمان ماضی حال اور استقبال کی خبر کو کہتے ہو کال یہ گفتگو سن کر ہنس پڑا اور بھرگ کا ہاتھ پکڑ وہاں سے چلتا ہوا ۔ اور دونوں نمکھیار کے دریا کنارے آئے

۱؎زمانہ حکما ئے کے ہند نزدیک ایک جوہر قائم بالذات ہے اور روحانی قدسی صفات ہے اور تغیرات اس کے اعتراض ہیں

(200)

اور لڑکا دیکھا اور اُسے مراقبہ سے افاقہ میں لائے لڑکا اور دونوں کی تعظیم تواضع کی او رکہا  میری جہالت جو شاستر کے پڑھنے اور رات دن کی عبادت سے نہیں  گئی تھی آپ کے دیدار سے  دور ہوئی تمہاری نظرمیں آب حیات کی خاصیت ہے اور میں گستاخانہ دریافت کرتا ہوں کہ  آپ دونوں صاحب کون ہیں اور کہاں سے تشریف لائے بھرگ نے کہا کہ تو اپنے مراقبہ اور مشاہدہ کی قوت سے دیکھ ہم کون ہیں باسد یو دوگھڑی مراقبہ میں گیا اور اپنے تنز لات سب یاد کیے اور جان  گیا کہ ان دونوں میں سے ایک بھرگ اُس کا باپ ہے او دوسراکال ہے اس کے بعد باسدیو نے تبسم اور تعجب کیا او رکہا کے سنکلپ او روہمی نظر کا بھی عجب ظہور ہے کہ اتنے عالم اور مرتبے اور زمانے او رمکانات اُس نے دکھلائے اب آپ کے دیدار پرُ انوار فیض آباد سے جو کچھ جاننا چاہئے تھا وہ میں نے جانا اور جو جو کچھ دیکھنا چاہیئے وہ دیکھا او رمعلوم ہواکہ عالم جو پہلے میں نے دیکھا وہ سب سنکلپ اور تصرف دل سے تھا اور یہ عالم جو اب نظر آتا ہے اُسی قسم کا ہے اور سب وہم وخیال ہے اور میں سمجھا کہ بغیر ازچتین سروب کے سب ہیج ہے اے والد بزرگوار اب میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں اور اپنے پہلے جسم کو دیکھوں بعد اس کے مندر پہاڑ کو گئے اور شوکرن نے اپنے

(201)

مردہ بدن کو دیکھ باپ سے کہا کہ اس بدن کو آ پ نے برُے ناز ونعمت سے پالا تھا اب دیکھیئے کہ کیسا خشک پڑا ہے لیکن کیا آرام سے بلا خطرہ اور سنکلپ کے ہیں کاش جیتے آدمی کا بھی یہ حال ہوتا  کال بولا اب تو اس بدن میں داخل ہو جیسے ایک بڑا راجہ اپنے آرام گاہ میں داخل ہوتا ہے اور بدستور سابق استادی شیاطین کی کرتا رہا او رکہا اے بھرگ اور اے شوکرفی امان اللہ ہم رخصت ہوتے ہیں شوکر باسد یو کا جسم چھوڑ کر اپنے قدیم جسم میں در آیا بھرگ نے اپنے آنجور ے کا پانی سوکھے بدن پر چھڑ کا وہ سوکھا بدن بدستور سابق ترو تازہ اور خوش رنگ ہوگیا اور باپ بیٹے دونوں اُسی پہاڑ میں رہنے سہنے لگے اے رام چندر بھرگ اور شوکر کی حکایت تجھ سے میں نے کہی اور حالات اور واقعات اُ ن کے ظاہر کیے اس واسطے کہ اس کام کی حقیقت سے مطلع ہوکر اپنے حال کی اصلاح میں کوشش کرے اور اپنی بہتری ہاتھ سے ندے اے رام چندر جس نے اپنی بہبود میں فکر کہ دست کیا اور حقیقت واقعی کو سمجھ لیا اور لذت لوک پرلوک یعنی دنیا وآخرت کی چھوڑدی اور خطرات اس کے برطرف ہوگئے اور اس کے دل کی چڑیا باسن کے جال سے چھوٹ گئی اور زلال اُس کی حقیقت کا امکان کے گندلے پن سے الگ ہوکر پاک صاف ہوگیا جس طرح کندلا

(202)

پانی نرملی کے ڈالنے سے صاف ہوجاتا ہے (اورنرملی ایک تخم ہی جس کو گھس کر پانی میں ڈالتے ہیں کہ پانی صاف ہوجائے) اور جو دل آرزو اور خواہش سے خالی ہوا اور غفلت کی قید سے نکلا جس طرح ایک جانور کہ پنجرہ کی بندی سے خلاص پائے اور چودھویں رات کے چاند کے موافق نورانی ہوگیا اور ستوگن ۱؎ کی صفت کہ اس کی اصل ہے ظاہر ہوئی۔ عمدہ اور اعلٰے درجہ کے دیوتا جیسے بشن برھما مہادیو اور اندر اُس کے التفات کے محتاج ہوجاتے ہیں بلکہ وہ اُن کے احوال پر تاسف کرتا ہے اور سب بندھے جکڑے عالم اور اہل عالم نظم اور انتظام کی قید میں ہیں اور فرصت ان میں سے جاتی رہی اور عارف عالم کے احوال کو بلا خواہش اور بغیر  آرزو کے دیکھنا ہے جس طرح کوئی بازار میں بیٹھے اور تماشا دیکھے اور جو سامنے سے گذرے اس کی طرف رغبت اور توجہ نہ رکھے بی بی بچہ کو خوب پہچان کر ان سے صحبت رکھتا ہے اور کسی طرح کا نقصان ان سے نہیں پاتا جیسے کوئی چور کو جان کر اس سے صحبت رکھتا ہے اور چو راسے آزار نہیں  پہنچا سکتا اے رام چندر جو شخص دل کو اپنے قابو کر رکھے او رتھوڑے جبر سے خوش رکھ سکتا ہے

۱؎ ستوگن وہ ہے جو کو اصطلاح حکما میں نفس ملکی اور اہل اسلام کی شرع میں نفس مطمنیر کہتے ہیں ۱۲ ۲؎ صفات کے یہی تعینات کہ برھما اور بشن اور مہادیو عالم کبیر میں مشہور ہیں عالم صغیر میں نفس ملکی وبہیمی وسبعی سے تعبیر کیے جاتے ہیں ۱۲

(203)

اور اگر اُ س کو اسی کے طور طریق پر چھوڑ دے دو عالم کی نعمتوں سے اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور مثل ایسے شخص کے ہیں جو قید میں رہ کر ہر غذا اور لباس پر قناعت کرے اور جو فارغ البال ہے  وہ کسی چیز سے جو ملے راضی نہیں بلکہ سات والایت کی سلطنت سے بھی سیر نہیں ہوتا اور ہمیشہ دوزخ کی طرح زیادتی کی خواہش رکھتا ہے ہیت کبھی تو سیر نہ ہو مثل معدہ دوزخ۔مگر کہ رکھے خدا پانوں تیرے دوزخ میں ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL for Part-16:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122

URL for Part-17:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---17)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--اندر-اور-اہلیا-کی-حکایت/d/8132

URL for Part-18:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---18)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کی-داستان/d/8151

URL for Part-19:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---19)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دل-کے-وجود-کا--سبب-اودّیا/d/8153

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---20)-جوگ-بسشت--استھت-پرکرن--شوکر-کی-حکایت/d/8175


Loading..

Loading..