New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:12 AM

Books and Documents ( 13 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 2 جوگ بسشت: بیراگ پرکرن: بسوامترا رامچندر مکالمہ (حصہ دو


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian

by Prince Mohammad Dara Shikoh

(17)

جس کی لہر یں جو اوپرتلے آتی ہیں دل کی پریشانی کی باعث ہوتی ہیں بعد ازاں بشوا متر نے کہا اے رام چندر دلی درد جو چوہے کہ طرح دل کے گھر میں سوراخ کرتے ہیں کیا ہیں اور کتنے ہیں او رکس چیز سے پیدا ہوتے ہیں او رکہاں رہتے ہیں اور اس حقیقت کے دریافت کرنے کا سبب یہ ہے کہ ہم سے تمہیں وہ چیز ملے گی جو تمہارا درد دُکھ دور کرے جیسی آرزو تیری ہے ویسی ہی تو دیکھے گا۔ رام چندر کا بشوا متر کی باتیں سننے سے  رنج اور غم جاتا رہا جس طرح بادل کی آواز سن کر مو ر کا غم برکھا کی جدائی سے دور ہوجاتا ہے اور بشوامتر کی باتیں آبدار جواہرات کے موافق تھیں ان کے جواب میں رسائیں سے کہا اے حضور جو کچھ پوچھنا تھا وہ سب مجھ سے آپ نے پوچھا اور میں اگرچہ لیاقت اس کی نہیں رکھتا کہ آپ کے سوال کاجواب دوں لیکن تمہارا حکم مان کر کہتا ہوں کہ جو بظاہر مجھے دیکھتے ہو کہ باپ کے گھر میں پیدا او ربڑا ہوا اور علم حاصل کر کے بزرگوں کے طریقہ پرچلا ا س سے میرے دل میں یہ فکر پیدا ہوئی کہ دنیا ناپائدار ہے جو پیدا ہوتا ہے وہ مرتا ہے او رعدم میں نہیں ٹھہرتا پھر وجود میں آتا ہے او رمال اسباب جو دنیا میں ہی بلا اور محنت کے سبب ہیں جب دنیا اور دنیا داروں کاحال یہ ہوتو دنیا کی زندگانی کچھ خوشی اور آرام کی چیز نہیں ہے

(18)

اچنبھے کی بات ہے کہ دنیادار اسے دولت اور آرام کا کام سمجھتے ہیں عورت مرد مال متاع اور سب موجود ات کہ باہم جمع ہوگئے ہیں ایک دوسرے سےمیل نہیں رکھتے جس طرح لوہے کی سیخیں کو اکٹھی باندھ دی جائیں ا ور اس خیال سے کہ یہ چیز وہ چیز میری اور اس کا اور ڈھمکا میرا ہے آپس میں ظاہری جوڑ مل جاتا ہےاے اُستاد فرمائیے مجھےدولت اور سلطنت سے کیا نسبت اور کیا اُس سے لگاؤ ہے میں نہیں جانتا کہ کون ہوں اور یہ تمام عالم جو دیکھنے میں آتا ہے اور اس سے نفع نقصان کیا ہے ایک چمکتی ریت کی حالت ہے کہ نہ پیاس بجھا تاہے اور نہ کوئی اس میں ڈوبتا ہے ۔ اے برہمن ایسے فکر اور اندیشوں نے میرے دل میں  گھر کر رکھتا ہے اور کسی شے سے میری الفت باقی نہیں اور سب سے بیزار کردیا جیسے ماڑواڑ کی راہ کا مسافر جو نپنیان ملک دیکھ کر سفر سے بیزار ہوجاتا ہے ۔میرا غم مثل آتش کے ہے جو درخت کی جڑیں لگی ہو اور وہ مجھے جلاتا ہے میں نہیں جانتا کہ اس کا علاج کیا کروں اور یہ شورش کس طرح بیٹھے ۔ جو تفرقہ اور قبض کہ کثرت کے دیکھنے سے ہے اس سے میرا دل ایک ٹھوس تھپر کی حالت ہوگیا کہ مسام تک اس میں نہیں یعنی اتنی بھی سانس اس میں نہیں رہی

(19)

کہ حقیقت کی یافت اس میں آوےاس سبب سے دل میں روتا ہوں او رقوم کی شرم سے آنسو نہیں گرنے پاتا گھر جس میں مال اور اسباب دنیا کا بھرا ہوا اور حقیقت اور معرفت کی مایا سے خالی ہے میرا آرام گاہ ہرگز نہیں جیسے ایک غریب کا گھر جس کے ارلا د بہت ہوآرام کی جگہ نہیں لچھمی یعنی دیوتا  کی عورت جو دولت کی موکل ہے سب کو پھسلا تی ہے۔

عوام مقلد جو تعصب  مذہبی سےدوسرے مذاہب کے لطائف اور علوم شریفہ کی خبر نہیں رکھتے ان کو ہند کے حکما اور عارفون کے رمزواشارت کی خبر نہیں ہے اس واسطے اعتراض کا مقام ہے کہ فرشتوں کو عورت سے کیا مناسبت کسی طرح ممکن ہے کہ جس پر ہندوؤں کو عقیدہ ہےکہ ہر فرشتہ کی ایک عورت اس کے جنس سے ہے اگر کسی کو ذوق تحقیقات واقعی کا ہوتو مجھ سے اس کا سر سماعت کرے کہ جس طرح حکما اشراقین کے عقل کل کو باپ معنوی اور نفس کل کو مادر معنوی کہا ہے فعل اور افعال کے ذریعہ سے کہ عقل کل فیض اور نفس کل فیض پذیر ہے اس گروہ نے بھی اسی صفت کے اعتبار سے فرشتہ کو اس کی ذات کی نسبت عورت نام رکھ لیا جس طرح لغت میں فرشتوں کیے عورت کو شکست کہتے ہیں اور شکست کے معنی قدرت کے ہیں جس طرح لچھمی موکلہ دولت عورت بشن کی ہے اور بشن اصطلاح میں ان کی نام ہی صفت الوہیت حق سبحانہ تعالیٰ کا اور ظاہر ہے کہ دولت سے پرورش خلق کی ہے۔ اسی طرح فرشتہ کی عورت جہاں کہیں بولیں قیاس کرنا چاہئے اور اس گروہ کے عقائد پر اعتراض نہ کرنا چاہئے بقول مولانا ئے روم کے  ہر یکے را اصطلاح دادہ اند ۔ اور بشن منجملہ تین صفات کمال حق تعالیٰ کے ہیں ایک برہما صفت ایجاد دوم بشن صفت القاسوم مہیش صفت افنا اور انہیں صفات کو جو د جود الحسان میں کہ عالم صغیر ہے نفس ملکی وشہوی و محضبنی نام رکھا گیا ہے۱۲۔

(20)

مگر کہیں ٹھہرتی نہیں اور درحقیقت کسی کو خوشحال نہیں کرتی اور عیب ہنر کے بغیر دیکھے جہاں جی چاہا مقام کو دینی ہے اس کی مثل ایسے راجہ کی ہے کہ اسےتمیز نہ ہو اور دانا لوگوں سے اس کے انعام اکرام مخصوص نہیں اور دولت کاہاتھ لگنا نیک کام کرنے پر نہیں موقوف رکھّا ۔بسا اوقات اس سے لڑائی جھگڑا زیادہ ہوتا ہے جس طرح سانپ کے دودھ دینے سے زہر اس کا بڑھتا ہے آدمی جب تلک مفلس ہے سب سے مل کر چلتا ہے اور نرمی سے پیش آتا ہے اور جیوں ہی دولت پاگیا اپنے بیگانے سب سے بگڑ تا ہے اور پتھر کا دل بنا لیتا ہے جسے ہوا نرم برف کو پتھر بنا دیتی ہے ۔ اور دانشمند شکر گزار خرد مند اور سچے  آدمی  اسی وقت تلک زندگانی کا مزہ پاتے ہیں کہ دولت کارُخ ان کی طرف نہیں ہوا دولت کی آمد ان کو نادان  ناشکر بے تمیز اورجھوٹا بنادیتی ہے اور دولت دل کی روشنی اور باطن کی صفائی کو گندہ اور میلا کرتی ہے جیسے لعل یا قوت کو مٹی میں رکھ کر چھوڑیں اور مٹی میں بھرنے سے بے آب ہوجائے ۔ دولت مند جو نایستہ کا موں سے پرہیز کرے اور راجہ جو اپنے تئیں اور مخلوقات کے برابر سمجھے دونوں دنیا میں نایاب ہیں مثل اس بہادر کے جو اپنی  تعریف نہ کرے اکثر دولت ایسی ہے کہ برُے کام سے ہاتھ لگ جایتی ہے اور انجام اس کا اچھا نہیں اور جلد زوال کو پہنچتی ہے جس طرح ایک ہری بونٹی جو سانپ کی بانبی سے پیدا ہوا اور سانپ کے زہر سے پالی گئی ہو

(21)

اور کمال نرمی اور تازگی کے سبب دم کے دم میں ٹوٹ جائے عمر جس پر دولت کا  مدار ہے خود آدمی کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے جس طرح کہ پتے کی نوک پر پانی کے قطرے کا حال ہو کہ اب گرا اب گرا اور جو کوئی عمر کا دراز اور دنیا کی اینچا تانی اس کے ساتھ ہو اس کی یہ  مثال ہےکہ جیل خانے میں مدت دراز تک رہے اور قید اس کی بامشقت ہووہی دانا ئے زمانہ ہر گاہ دل میرا دنیا ئے دون کے تعلق سے حلاوت نہیں پاتا عمر سے جو بجلی کی طرح ایک دم چمکے اور پھر ندارد مجھے کیا مزہ ملے  اور کیا امید ہو جیسے ہوا کو ہاتھ میں نہیں پکڑسکتے اور آکاش میں اُڑ نہیں سکتے اور جواہرات کی موجوں کو جس طرح ایک لڑی نہیں بناسکتے اسی طرح عمر کی نگہداشت بھی نہیں ممکن ہے عمر کو قیام نہیں جیسے اخیر برسات کا رونگڑا اور بغیر تیل کا چراغ ہو۔ جو لوگ عمر کے خواہش مند ہیں لیکن معرفت الہی کی پناہ میں نہیں آئے ان کی عمر خود ان کی وبال جان ہے جیسے گدھیا جو گھوڑے سے

آکاس لفات علمی اہل ہند میں اسے کہتے ہیں کہ حکما اشراقیہ یونانی اس کو مکان کہتے ہیں اور مکان ان کے نزدیک ایک بُعد مجرد موجود ہے کہ جہات مین منقسم ہے اور  بُعد ذی مکان کے ساتھ برابر ہو اس طرح کہ منطبق اور برابر ہو اس کے ساتھ اس طرح کہ بُعد مکانی کا ہر جزو سریان کیے ہو ہر جزو ذی مکان میں اور بُعد استدادی دو چیز کے درمیان  او رخلاکے معنی میں ابعاد کہ مجرد مادہ سے ہوں اور حکما ر ہند کے نزدیک آکاس پانچواں عنصر ہے کہ تمام اجسام کب عنصر میں موجود ہے ۱۲

(22)

حاملہ ہو نہیں بچتی اور عمر وزندگی کا فائدہ یہ ہے کہ جو کچھ قابل حصول ہے پاوین جس کی یافت ہمیشہ کی خوشی کا سبب ہے ظاہر ی زندگی نباتات حیوانات بھی رکھتے ہیں مگر حقیقی زندگی اُسی کو ملے جو حقیقت کے ساتھ زندہ ہے ۔سچی اور اچھی زندگی انہیں  کے واسطے ہے جو دوسری بار دنیا میں نہ آئیں ورنہ چاہے کتنی چاہے کتنی بڑی عمر کسی کی ہو مگر ایک بوڑھے گدھے کی مثال ہوگا کہ بوجھ لادنے کے بھی کام نہ آوے ۔علم اور کتابیں جس کو معرفت نہیں سر بوجھیے ہیں اور یہی حال ہی عقل اور ادراک کا اس کے حق میں جو حواس کو اپنے قابو میں نہ لائے۔ اور بدن اور زندگی اس کے حق میں کہ جو حقیقت روح کی نہ سمجھے ۔جوانی آدمی کو جلد اپنے سے الگ کردیتی ہے جس طرح سمجھ دار آدمی نکّمی شے کو فوراً پھینک دیتا ہے۔ دنیا میں کوئی چیز عمر کے برابر عیب دا رنہیں ہے عمر موت کا گھر ہے جس کو ثبات اور قرار نہیں اور نہ آرام کی شئے ہے ۔اہنکار یعنی اپنے تئیں کچھ جاننا اور یہ کہ ہم ہیں اور یہ یہ کام ہم نے کیے آدمی دشمن ہی میں اس سے بہت ڈرتا ہوں کہ بے حقیقت ظاہر ہوئی اور بے حقیقت قیام گیر ہے۔اور

۱؎مرزا عبدالقادر بیدل کا قول ہے  توگر خود مانہ بینی نیست عالم غیر دید ارش

خوری آئینہ دار د کہ محرومیت اظہار ش۔ نبودی انیقدر رہا کن خدائے محفل امکان ۔ کہ افتادی بحپندین جہد درفکر خروبارش ۱۲

(23)

ہرگاہ میں سمجھ چکا ہوں کہ  دہنگار جانی دشمن ہی کھانا پینا مجھے نہیں بھاتا اور مزے کا تو کیا ذکر ہے اپنے تئیں کچھ سمجھنا ظاہر اور باطن کے رنج اور غم کا سبب ہے اور وہ ان کرنے کام کراتا ہے لیکن جب تلک میں اپنے تئیں دیکھتا تھا جو کھاتا اور پیتا تھا سب اکارت تھا جب مجھ سے یہ صفت جاتی رہے سمجھا میں کہ بہبود یہی ہے۔ جب تلک خودی کا بادل برستار ہے حرص کا پھول رنگین تازہ او رکھلتا ہوا ہے۔ میرے استاد ؟ ہر چند میں نے اپنے مقدور بھر خود بینی کو چھوڑ دیا مگر درد اور پریشانی ستیہ ہے جو علاج مناسب ہوبتلائیے کہ آپ سب طرح سے تعلیم اور ہدایت کے مرتبے پر ہیں اور رمن جس کانام دل ہی دنیا کے دھندھون کی الجھن سے بزرگوں کے طریق پر نہیں ٹھہرتا جو مقام آزادی ہے جس طرح پرند کا پر راستے ہوا سے بکھرتا ہے دل بھی ہر خطرہ (مایا سنام کے ساتھ بے فائدہ دنیا کے چوطرفہ گھومتا ہے جیسے کتا کہ جس طرف آواز سنی اور دوڑا جس کے دل میں

عرفی شیرازی کا قول ہے ۔ زخود گرویدہ بربندی چکو یم جان بینی ۔ ہاں کز اشتیاق دید نش زادی جاں بینی ۔ بخواب خوددر آتا قبلہ روحانیا ں بینی ۔ جین در آئنہ تا آتش صدخان دہان بینی ۔مراد آینہ سے گو ہرمقدس نفس نالھہ ہے کہ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ۱۲ من لغت سنسکرت میں دل کو کہتے ہیں لیکن تلفظ اسکا ان حروف سےنہیں  نہیں ہے اس کے تلفظ کا ادا کرنا فارسی حرفوں میں صحیح طور پر ناممکن ہے اس لیے  من لکھا ہے۱۲

(24)

قناعت نہ ہو خواہ ہزاروں پائے مگر جی اس کا  نہیں بھرتا جس طرح ایک جھّوا خواہ اس میں کتنا ہی پانی بھریں مگر وہ لبریز نہیں ہوتا ۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927


Loading..

Loading..