New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 06:11 AM

Books and Documents ( 31 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 16) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: حکایت برھما


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

حکایت اے رام چندر ایک بار برھما اپنا ون

۲؎ مراد اخلاق  ذمیمہ اور رواہیات خواہشوں سے ہے ۱۲ عقل ۱؎ اس کی تاویل اور تعیر کو نہیں پہنچی کہ رات کہ وقت  اور کیلاس پہاڑ پر لے جانے سے کی مراد ہے ۱۲

(158)

پورا اور عالم کو معدوم کر کے سورہا ۱؎  جب صبح کے وقت سوتے سے اُٹھا تو صبح کی پوجا کر عالم  کی آفرینش کے ارادے سے آکاس کی طرف نظر کی ایک ہوا دیکھی نہایت فراخ اور میدان وسیع چاہا کہ تمام عالم کو اُسی دستور سے ظہور میں لانے کی  جس طرح پیشتر پیدا کیا تھا یہ ارادہ کیا ہی تھا کہ تمام عالم جیسا تھا برھما کے دلی خیال اور سنکلپ سے موجود ہوگیا اور جب برھما نے یہ سب موجودات ہیئت مجموعی کے ساتھ یکجا دیکھے تو اچنبھے میں ہو کر تصور کیا کہ میں ذرہ بھر قدرت او ر قوت اپنے اندر نہیں دیکھتا کہ یہ تمام آثار عجائب غرائب مجھ سے ظاہر ہوں دریائے وجود میں بت قا ضائے محبت ذاتی اور صفت رجوگن کے ایک جنبش کا سایہ آپ ہے آپ پیدا ہوا اس سے میں نکلا اور وہ سایہ وجود خارجی نہ رکھتا تھا بلکہ

۱؎ برھما کا مرنا جہاں کہیں مذکور ہو اُس سے مراد یہ ہے کہ حق کی ذات ثابت اور صفات نغی ہو یعنی علم آلٰہی ظاہر سے متوجہ باطن کی طرف ہو او ریہی قیامت کبری ہے اُس وقت آسمان اور ستارے وغیرہ کل کائنات معدوم ہوجائے یعنی عالم شہود سے باطن کی طرف میل کرے اور برھما کا سونا یہ ہے کہ برھما کی توجہ اپنی عینیت اور کلیست کی طرف اور مستفرق ہونا ذات  واجب تھا لے کے مشاہدہ میں ہی اس حالت میں افلاک اور ستارہ قائم رہیں  لیکن مخلوقات زمین کی کرہ زمین کے ساتھ پانی میں ڈوب جائے اور یہ قیامت صغریٰ ہے کہ ہندی زبان میں اول کو مہا پر لی اور دوسرے کو پرلی کہتے ہیں ۱۲

(159)

معدوم محض تھا اور میں اُس سے بھی زیادہ معدوم اور مجھ سے زیادہ میرا دل معدوم ہے اور مدار دنیا کے ظہور کا دل کے سنکلپ پر ہی پھر یہ معد ومات لا انتہا جو ایک دوسرے پر بندھے جکڑے ہیں کیا میں اور کیوں کر میں اور حکمت اس کی کیا ہے او رنہایت حیرت سے جو اس تمام موجود ات برھما نڈ کو دیکھ کر ہوئے خود سورج  کی طرف متوجہ ہوا ور کہا اے نیر اعظم اور اے عالم کے نورانی کرنے کرنے اولے رات کی چھپائی چیزوں کے ظاہر کرنے والے کچھ معلوم ہے تجھے کہ سب چیزیں جو ہم تم دیکھتے ہیں کیا ہیں اور میں کون او رتم کون او رکائنات کیا ہے سورج نے برھما کو نمسکار کر کے کہا عالم کے  خلاق تم ہی ہو او رعالم کی حقیقت آپ سے بڑھ کر کون جانے تعجب ہے کہ یہ بات مجھ سے اپ پوچھتے ہیں اگر مہربانی کی راہ سے میری بات سننے کی  طرف رغبت ہو تو کسی قدر اپنی حقیقت کا ذکر تا ہوں اور کہا جنبوویپ یعنی ہندوستان کے گوشہ میں کیلاش پہاڑ کے نیچے تمہارے بیٹوں نے ایک شہر آباد کیاتھا  جن کے نام مریچ واتر وانگر اوپلُت وملہ وکرت وبسشٹ دوچھ وبھرگ ہیں اور اُس شہر کا نام  سرن حب تھا اور وہاں ایک برہمن اندر نامے کسب بن  مریچ بن برھما کی اولاد سے رہا کرتا تھا اُس کی ایک عورت تھی جان سے زیادہ عزیز لیکن بانجھ تھی اور لڑکا اُس کے نہیں ہوتا تھا

(160)

جیسے ماڑ دوار کی سرزمین میں درخت نہیں جمتا اور اُن دونوں کو فرزند کی تمناّ ستایا کرتی اور اسی رنج میں کیلاس پہاڑ کے گوشے میں جاکر ریاضت کرنے لگے گھر ان کا سایہ ایک درخت کا تھا اور خوراک صرف پانی ایک مدت بعد مہادیو مہربان ہوکر ان کے پاس آیا اور کہا میں تم سے راضی ہوں جو مراد تمہاری ہو مجھ سے مانگو کہا دس بیٹے کمال والے ہم چاہتے ہیں مہادیو دس بیٹوں کی بشارت ان کو دے کر چلا گیا برہمن او ربرہمنی اس بشارت سے خوش ہوکر اپنی جگہ گئے اور د س بیٹے اُن کے ہوئے جیسے  چاہتے تھے ایک عرصہ بعد والدین  اُن کو کم عمر چھوڑ دنیا سے رحلت کر گئے لڑکوں نے باہم مشورہ کیا کہ ہمارے کوئی پیشہ اور کار نہیں ہے بہتر ہے کہ ایک مطلب دل میں گانٹھ کر کیلاس پہاڑ کو جائیں اوروہاں عبادت اور ریاضت کریں تاکہ مطلب ہاتھ لگے سب بالا تفاق وہاں گئے اور سوچے کہ جو کام ہماری عزت آبرو کا ہو اُس کے حصول میں سعی اور تدبیر کریں اور بولا پند دیہات میں رئیس ہوں تو اچھا دوسرا بولا کہ ایک لاکھ شہر کی ریاست اس سے بہتر ہے تیسرا بولا کہ ایک ملک کی راجائی اُس سے بھی بہتر ہے چوتھا بولا چکر ورتی یعنی سلطان ہفت اقلیم  کا ہونا راج سے بڑھ کر ہے پانچواں بولا اندر ہونا اُس سے بالا تر ہے چھٹا بولا کہ برھما ہونا اُس سے اعلیٰ ہے

(161)

کہ برھما کے ایک دن میں چودہ اندر بہم پہنچتے ہیں اور سب نے اسی پر اتفاق کیا کہ ایسی کوشش او رتلاش کیجئے کہ ہم سب برہما ہوجائیں بڑے بھائی نے کہا کہ چاہیےہم میں سے ہر ایک اپنے دل میں یہی تصور جمائے کہ میں برہما ہوں اور دنیا کی پیدائش میرے سپرد ہے سب برہمن زادوں نے ریاضت اور مجاہد ے شروع کیے جس طریقہ سے بڑے بھائی نے ہدایت کی چند روز میں سب کے سب برھما ہوگئے۱؎ اُن برہما ؤں نے دس برھمانڈ نکالے اور ہر ایک برھمانڈ میں ایک سورج ہے اور ایک برھمانڈ کا سورج میں ہوں اور چونکہ یہ سورج اسی برھما کے برہمانڈ اندر برہمن کے بیٹوں میں سے ایک ہے بسشٹ فرماتا ہے کہ  اے رام چندر یہی دل خالق ہے اور صاحب قدرت اور جو کچھ دل کرے وہی معتبر ہے بدن کا کام چندان معتبر نہیں چنانچہ اسی بدن سے بی بی اور بہن کو پیار کرتے ہیں فرق صرف دل کے ارادہ کاہے اے رام چندر ایک ہی قدرت دل کی دیکھوں کہ برہمن زادے دل کی قوت سے برہما ہوئے اے رام چندر جیو آتما ۲؎

۱؎ نہیں تجھ سے باہر جو عالم ہیں ۔  طلب آپ سے کر جو درکار ہو۱۲ جیو آتما نفس ناطقہ کو کہتے ہیں اور پرم آتما حق کو کہتے ہیں ۱۲

(162)

اور دل بدن سے بالکل بیگانگی رکھتے ہیں بجر ظاہر کے ان میں مناسبت نہیں اور اسی بیگانگی کا سبب  ہے کہ ایک تکلیف سے دوسرے کو تکلیف نہیں ہوتی اس تقدیر پر لازم آتا ہے کہ بدن کے کٹنے اور جلنے سے جیو آتما اور دل کو درد اور تکلیف نہیں پہنچتی لیکن فقط کمال اختلاط کی راہ سے جو ظاہر میں معلوم ہوتا ہے خصوصاً عوام کے نزدیک جو علیحٰدگی اُن کی نہیں سمجھتے اور بدن کے افعال کو آتما سے نسبت دیتے ہیں اور کہتے ہیں میں کھاتا ہوں او رمیں چکھتا ہوں او ر حقیقت یہ ہے کہ جو کھاتا ہے اور چکھتا ہے وہ اور ہی ہے اور اگر کوئی شخص عقل اور دلیل  اور ارشاد مرشد کامل اور ریاضت کے زور اور قوت سے جیو آتما اور دل کو بدن سے جدا سمجھے اور خدا جانے اور یہ بات خوب ذہن نشین اور خاطر نشان اپنی کرلے وہ بدن کے آزاد سے ہر گز دردمند نہ ہو جس طرح پوشاک کے ٹکڑے ہوجانے سے بدن زخمی نہیں ہوتا  اور لیک کے زخم کھانے سے دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچتی اور ریاضت او رمجاہد ے کے نیتجے جو خدا شناس موحد کو حاصل ہوتے ہیں یہ ہیں کہ روح اور بدن کے درمیان بیگانگی کو پہچانے تاکہ دنیا اور آخرت کی تکلیف اُن کے نزدیک نہ آئیں اگر چہ نشانہ اُن کے تیر قصد کا ازل سے سوا ئے گانگی او رتوحید کی

(163)

تحقیق کے نہیں ہے مگر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عنایت آلٰہی ہو اورریاضت کی خاصیت ہےکہ حقائق عالم کا علم آپ ہی آپ حاصل ہوجاتا ہے جس طرح کرامات کہ ان کے چشم حق بین کو منظور نہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی سے وقتاً فوقتاً ان لوگوں سے ظاہر ہوجاتی ہے اکثر آدمی دو اہم  باطل میں پھنس جاتے ہیں اوّل یہ ہے کہ ایک کودو دیکھتے ہیں دوسرا یہ ہےکہ دو کو ایک خیال کرتےہیں ان کے کاموں کا مدار انہیں دو وہم پر آکر ٹھہر ا ہے اور ان کی دنیا اور آخرت کا نقصان اسی سے ہے اس واسطے کہ حق او رکائنات فی الحقیقت ایک ہے اور دو جانتے ہیں اور روح اور بدن تعین اور ظہور میں دو ہیں یہ لوگ ایک تصور کرتے ہیں خلاصہ کلام  یہ ہے کہ جس نے دل کو بدن سے جدا کیا اُسے کوئی درد دُکھ نہیں پہنچتا ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---16)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-برھما/d/8122


Loading..

Loading..