New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 05:35 PM

Books and Documents ( 29 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 15) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: دوسرے آکاس میں سرستی اور لیلا



Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(125)

اپنے تنزل کے آٹھ سو درجہ سے خبر دار ہوئی یہ مطلب ہے کہ آٹھ سوبار میری روح طرح طرح کے بدن میں سے متعلق او رنوع انسانی اور اقسام اقسام کے حیوانات نباتات اور جمادات میں اُ س نے گذر کیا ہے بعد اُ س کے سرستی اور لیلا نے ارادہ دوسرے آکاس کے جانے کا کیا اور جس گھر میں راجہ کا بدن پھولوں میں رکھ چھوڑا تھا اُس میں داخل ہوئیں اور دیکھا کہ راجہ کی روح اپنے گھر کے آکاس میں ایک بدن کے تعلق ہوکر راجائی کرتی ہے اور مدرونہ اُس کا نام ہے اور ایک راجہ اُس کی لڑائی کو آیا ہے اور دونوں کی فوجیں جیسے دو دریائے موّاج

۱؎ ایک صاحب ادب اور کرم کا ہے یعنی نفس ملکی اور سیعی قابل ادب کے ہیں اور جلد لوب کرنے والے کا ادب قبول کرتا ہے اور تیسرا ادب سے خالی ہے جس کو نفس کہتے ہیں اور نفس بہیمی کاغلبہ تینوں قوت میں اسی سے قیاس ہوسکتا ہے کہ ہر گاہ اُس کا وجود حکمت بالغہ آلٰہی کے سبب بقا شخصی کا باعث ہے لڑکا پیدا ہوتے ہی دودھ پستان مادر سے چاہتا ہے حالانکہ اُ س کو تعلیم کسی نے نہیں کی پس ظاہر ہے کہ یہ قوت پہلے پہل ظہور کرتی ہے اور افلا طون کا اِن دونوں یعنی سبعی اور بہیمی کی بابت یہ قول ہے اما ہذہ فہی نمبزلہ الذہب فی اللین والا نعطاف داما تلک فی منزلہ الحدید فی الصلا تہ ولا متناع ترجمہ لیکن یہ نفس سبعی ہونے کے موافق ہے نرمی اور مڑجانے میں اور یہ بہیمی لوہے کی مثال ہے سخت ہونے میں اور قبول نہ کرنے میں چنانچہ لیلا کا بھی یہ قول ہے کہ تموگن یعنی سبعی کو چھوڑ رجوگن یعنی بہیمی میں رہی ہوں او ر ستوگن یعنی ملکی کو نہیں پہنچی ۱۲

(126)

ہوں مقابلہ پر تُلی ہوئی ہیں تیر۔ تلوار اور نیزہ سے جو ایک دوسرے پر ٹکرار ہے ہیں ہزاروں بجلیاں ۱؎ چمک دمک رہی ہیں اور گرجتی تو پوں کی صدا سے دیوتا ایک آسمان سے دوسرے آسمان کو بھاگے جاتے ہیں اورہاتھوں کے ۱۲؎ پاؤں کے دھمک سے پانی زمین کا اُبلتا ہے اور جن سر کے دھڑ   جا بجا مور کی طرح برکھا کی ہوا میں ناچ رہے ہیں(اور مشہور ہے کہ جب دس ہزار آدمی ایک میدان میں قتل ہوتے ہیں ایک بن سرکا  بدن سیدھا کھڑا ہوتا ہے پس اس لڑائی میں اندازہ کرنا چاہئے کہ کس قدر آدمی قتل ہوئے ہونگے) اور صبح سے شام تک طرفین کی سپاہ نے لہروں کی طرح پیہم ایک دوسرے سے جنگ عظیم کی شام کے وقت دونوں طرف کے وکیل آئے اور رات کا عذر پیش کیا اور اگلے دن پر لڑائی کا معرکہ موقوف رکھا راجہ ۲؎ بدرونہ نے رات کو وزیر اور امرا صائب رائے کے ساتھ نشست کی او رکہا دشمن بہت زبردست بلکہ ایک بلا نہایت سخت پر آئی ہے ایسا کر کرو کہ بچاو کی

۱؎ چونکہ ہندوں میں نثر کا دستور نہیں ہے او رعلوم بھی نظم میں بیان اور جمع کئے گئے اس لیے استعارہ او رمبالغہ اور اغراق شاعرانہ سب جگہ استعمال کرتے ہیں چنانچہ اس مقام میں کتاب پڑھنے والے کو معلوم ہوگا۱۲ بدر رونہ ۲؎ نام ہے مگر صحیح لفظ معلوم نہ ہونے سے نقطے نہیں دیے گئے اور اس حکایت میں جو نام آئے ہیں غالباً الفاظ با معنی ہونگے کہ سنسکرت کا علم اُس سے واقف ہوگا۱۲

(127)

شکل پیدا ہوا ور نجات کی راہ نکلے پھر فکر اور بے قراری میں  سوگیا اس درمیان سرستی اور لیلا راجہ کے خواب گاہ میں آئیں راجہ جاگ  اُٹھا جیسے مرُدہ آب حیات سےجی اُٹھے یکایک دیکھا کہ دوعورت دوتخت پر بیٹھی ہیں راجہ ہکّا بکّا ہوگیا کہ یے کون ہیں او ر کس راہ سے آئی ہیں اور اس محل میں کس طرح آسکیں بڑے تامل بعد سمجھا کہ نوع انسان نہیں دیبیاں ہیں نہایت حُسن اور لطافت میں ان کی تعظیم کے ارادہ خواب گاہ سے اُٹھا جیسے بشن سنگھ ناگہ کی پیٹھ سے اور ہاتھ میں پھول لے کر اُ ن کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا اور اُن کی مدح اور ثنا کر پھول اُن کے پاؤں پر نچھاور کیے سرستی نے خیال کیا کہ وزیر راجہ کی پیدا ئش کی حقیقت مشرح بیان کرے تاکہ لیلا جانے کہ میں اسی راجہ کی بی بی ہوں سرستی نے راجہ سے کہا کہ اپنے وزیر کو حاضر کرو چنانچہ راجہ کے حکم سے وزیر حاضر ہوا اور دیبیوں کو دیکھ تواضع تسلیم کی اُس سے سرستی نے پوچھا کہ راجہ تمہارا کس کا فرزند ہے اور کس طرح اور کب پیدا ہوا اور کتنے روز ہوئےکہ راجائی کرتا ہے وزیر نے جواب دیا کہ راجہ اچھواگ کی نسل سے ایک راجا تھا کندریہ نام  جس کے ہاتھ ابر مثال سے روئے زمین سرسبز تھی اور اُس کی تلوار آبدار نے فتنہ اور فساد کا غبار بٹھلا دیا اور اُس کی نسل سے ایک راجہ تھا صاحب کمال مبارک خصال شیل رتھ نام باپ ہمارے راجہ کا اور والدہ اُ س کی سُمرّ ا نام

(128)

اور یہ ماں باپ طینت لاولد تھے اور اس تمنا کے برآنے کے لیے اکثر اوقات ریاضت کش پیروں کی زیارت کو جاتے اور بہت کام نیک کیا کرتے حتیٰ کے اُن اُمور خیر کی برکت سے راجہ ہمارا پیدا ہوا اور جب دس سال کاہوا شیل رتہ باپ راجا کا راج گدّی اُسے دیکر خود عبادت کے لیے جنگلوں میں چلا گیا اس وقت سے یہ ہمارا نیک نام راجہ راج کرتا ہےاور خیرہوں کو دولت اور جاہ کے مقام پر پہونچا تا ہے پھر سرستی نے راجہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا تو اپنے تنزلات گذشتہ کو یاد کر راجہ نے سرستی کی مہربانی سے سب تنزلات یاد کیے اورکہا میں عجب حال دیکھتا ہوں کہ میرے مرنے سے ایک دن گذرا اور اور ستّر سال ہوئے کہ میں راج کرتا ہوں اور اس مدت میں جو کچھ کیا ہے دشمن کا مارنا ملک کا لینا اور ملک بندوبست اور رعیت کی حفاظت شادی لڑکوں کی اور امداد ی گانوں کی یہ سب میری خاطر میں ہیں سرستی نے کہا اے راجہ جب اجل تمہاری آئی اُسی زمان اور مکان میں عالم کو دیکھا اور ستّر برس اس طرح گذر گئے کہ جیسے ایک ساعت کےخواب  میں کوئی دیکھے کہ موبرس بسر کیے اور اس مدت میں ایسا اور ویسا کیا اور حقیقت یہ ہے کہ تم نہ بیدار ہوئے اور نہ مرے ہو اگرچہ تم شدّھ گیان اور سر آب تک یعنی معرفت خاص او رکلیت ذاتی کو نہیں پہنچے ہو لیکن تھوڑی جنبش

(129)

جو تمہاری جان میں پیداہوئی اُس سے یہ تمام عالم تمہاری نظر میں نمایاں ہو ا پس تم آپ کو اپنے اندر دیکھتے ہو یعنی جو عالم تمہاری جان کی جنبش سے ظاہر ہوا اور تمہاری صورت کے  بجائے  ہے اپنے آئینہ خیال میں دیکھتے ہو اور ناظر منظور ایک ہی انجان آدمی بیداری کے عالم میں پہاڑ ۔  دریا۔  شہر۔  گاؤں ۔  گھوڑے  ہاتھی کہ موجود جانتے ہیں اور اس سبب  سے طرح بہ طرح کی محنت اور آزاد پاتے ہیں جس طرح بچہ اپنی پرچھائیں کو دیو سمجھ کر ڈرتا ہے او رنہایت خوف سے مرنے کی حالت کو پہنچ جاتا ہے اور ہرن چمکیلے ریت کو دیکھ کرسوکھی زمین کو پانی خیال کرتے ہیں اور اُس طرف دوڑ کر اپنے تئیں رنج اور تکان میں ڈالتے ہیں  جو نظر حقیقت میں رکھتا ہے دوجانتا ہے کہ یہ عالم خواب کلاں ہے اور اہل عالم اپنا احوال دوقسم کا جانتے ہیں بیدار ی اور خواب جو بیداری میں دیکھتے ہیں اُس کو موجود سمجھتے ہیں اور جو خواب میں  دیکھتے ہیں اُس کو موہوم قرار دیتے ہیں اور محققین  کی نظر میں خواب اور بیداری کے حالات دنوں ایک قسم کے ہیں کوئی تفادت اور اختلاف ان میں نہیں ہے اور دونوں خواب ایک قسم کے ہیں کوئی تفادت اور اختلاف ان میں نہیں ہے اور

 دونوں خواب محض ہیں اور یہ جو عالم  بیداری میں چیزیں ٹھہری معلوم

۱؎ کسر اب بقیقہ یحیبہ انطمان ما حتیٰ اذا حاہ لم یجد ہ شأ ۔ ترجمہ جیسے چمکیلی ریت چٹیل میدا ن میں کہ پیاسا اسے پانی سمجھے جس وقت پاس پہنچا تو کچھ نہ پایا ہو۱۲

(130)

ہوتی ہیں اس کا اعتبار نہیں اس واسطے کہ خواب میں جو کچھ نظر آتا ہے اُس وقت ہر گز تصور نہیں کرتا کہ میں جو دیکھ رہا ہو وہم اور خیال ہے بلکہ اپنی آنکھیں موجود جانتا ہوں اور جاگنے کے معلوم کرتا ہے یہ کہ وہ حال وہمی اور خیالی تھا اسی طرح اس خواب کلاں سے بھی جب جاگے گا یعنی کمال معرفت کو پہنچے گا تو سمجھ جائے گا کہ جو کچھ پیشتر اس سے دیکھا تھا سب  وہم وخیال تھا( اور یہی معنی ہیں حدیث مشہور کے کہ لوگ سب خواب میں ہیں جب مرینگے تو بیدار ہونگے اور مرنا جیون مُکت کے معنی ہیں اور عارف  ایک مردہ ہے کہ زمین پر چلتا ہے اگر کوئی اعتراض کرے کہ ان خوابوں کا دیکھنے والا کون ہے وجود خارجی اس کا ہی محض وہم ہے اُس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ دید صفت دل کی جیسا کہ بیدا نتیان یعنی صوفیہ کا مذہب ہے کوئی اشکال لازم نہیں آتا کہ ایک موہوم موہوم کو دیکھتا ہے اور اگر روح کی صفت ہی جیسا کہ نیا یکان یعنی متکلمین کا مذہب ہے تو بے اختلاط نہ ہوگا اور روح اس دید میں بے استقلال ہے ہرگاہ واسطے اُ س کی دید کا ۱؎ امر موہوم ہے یقین ہے کہ غلطی اور خطا کے سوا

۱؎ اُس سے اشارہ ہے عالم کی طرف جو وجود حقیقی کے ساتھ موجود نہیں جس کا معائنہ خواب کے مشابہ کیا امر موہوم سے اشارہ دل کی طرف ہے اس واسطے کہ وجود دل کی حقیقت کیا ہے ایک حرکت ارادہ نفس ناطقہ کی ہے جو اپنی ذات کے ستجرد اور تنرہ اور توحد سے اپنے شہود اور  تکثر کی جانب ہے اسی واسطے دل اپنی ذات سے

 (131)

نہ ہوگا خصوصاً عوام کی روح کی غلطی جن پر وہم  غالب ہے اور اکثر جو چیزیں ادراک کرتے ہیں وہم ہی وہم ہے ہرگز اعتماد کے قابل نہیں اسی واسطے خاصان حق اور عارفین کا مل فرماتے ہیں کہ ہم اس عالم بیداری کے لوگوں کی بلا شک مثل عالم خواب وخیال اور وہم کے جانتے ہیں بلکہ یہ عالم ہمارے سامنے بعینہ خواب کا عالم ہے جو فرق کہ ان دونوں کے درمیان کیا جاتاہے درازی اور کوتاہی کے سوا نہیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ وہم وخیال اور جو نظرآتا ہے ایک خیال ہے جس کا نقش تونے خیال میں باندھا ہے ۔   بسشٹ نے فرمایا کہ سرستی نے کہا اے راجہ اُن لوگوں کو کہہ بیداری میں اُن سے صحبت اور احتلاط رکھتے ہو معدوم محض جانوں جیسے اُن آدمیوں کو کہ خواب میں نظر آتے ہیں اور وجود ۱؎ حقیقی نہیں ہے مگر حق عالیٰ کے واسطے اور پرسش تمہارے احوال کی وزیر سے اس عرض سے تھی

۱؎ وجود خارجی نہیں رکھنا جب نفس کا یہ ارادہ موقوف ہوجائے اور اس طرح سے اپنی ذات اور حقیقت کی طرف متوجہ ہوتو دل خود بخود فنا ہوجاتا ہے اور جسم اور جسمانیات اور حواس اور خواص حواس کے سب فانی ہوجاتے ہیں ۱۲ ۱؎ اے وصف تو سر دفتر اسرار وجود ۔  نقش صفت بردرد دیوار وجود۔  درپردہ کبریا نہاں گذشتہ زچشم ۔  نشبستہ عیان یپر بازار وجود ۔  عالم قدس سے جو ذات ہوئی ہے نازل ۔  اور تنزیہ سے تشبیہ طرف ہے مائل۔  سب کچھ یہ اسی لیے ہے تا انسان کو ۔  ان اربعہ عناصر سے کرے وہ کامل ۔  عارف نے کی دیر وکعبہ میں کامل سیر۔  ہر گز نہ ملا ان کو نشان رخ غیر۔  ہرجائے جمال حق ہے جلوہ آرا ۔ کو کی طرف جائے تو یا جانب ویر ۱۲

(132)

کہ لیلا کو حقیقت حال سے اطلاع ہو اب رخصت ۔ ہم جاتے ہیں راجہ بدرونہ نے کہا کہ اے دیبیوں ہمارے یہاں جو فقیر آتا ہے محروم نہیں جاتا میں تمہارے دیدار سے مشرف ہوا ہوں لہٰذا امید وار ہوں  کہ کچھ فیض تم سے مجھے حاصل ہو میری خواہش ہے کہ یہ بدن چھوڑ پہلا بدن یعنی راجہ پدم کا پاؤں اگر یہ تمنا ممکن ہوتو فرمائے کہ ظہور اس کا کبہ ہوگا سرستی نے کہا  کہ  تو اسی لڑائی میں مار ا جائے گا او رپہلا بدن پائے گا اور پھر راجہ بڑھ کر پہلے سے ہوگا اسی کلام میں تھے کہ فریاد کی آواز آئی کے نیئنم کی فوج نے شہر کو آگ لگادی اور گھر جل رہے ہیں اور پہاڑ کے برابر دُھواں اُٹھ رہا ہے او ر شہر کے لوگ تلملا رہے ہیں  راجہ اور وزیر سرستی اور لیلا مجلس سے اُٹھے اور دشمن کی فوج کا غلبہ دیکھا جس طرح سات دریا قیامت کے دن ایک ہوکر دنیا کو تباہ کرینگے اور رانی نے کہ اُس کا نام بھی  لیلا تھا لونڈیوں سمیت محل سے پراضطراب نکل کر کہا غنیم کے آدمی محل میں  اُگھسے او رپہرے والوں کو مار ڈالا او رمحل کے بعضے آدمیوں کو گرفتار کرلیا راجہ سرستی سے رخصت ہوکر باہر گیا لیلا نے جورانی کو اپنے ہمنام اور ہم صورت دیکھا سرستی سے پوُچھا کہ میں لیلا تو آپ کے ساتھ ہو یہ کون ہے جو میری صورت اور نام کی ہے  سرستی نے کہا جب راجہ پدم تیرا شوہر مرا جو

(133)

سنسکار اس کی تھی یعنی آرزو ہر ایک تعلق کی جو اُس مردہ کے خیال میں تھی سب ظہور میں آئی اور تو اُ ن میں سے تھی لازم ہے کہ تیرا پر تو بھی ظاہر ہوا ہے لیلا چونکہ بیدار ی میں خواب ایک وہم وخیال ہے اور مرنے کے وقت بیداری اور جنم کے وقت مرنا اور آئندہ موت کے وقت جنم عالم  میں یہ جو کچھ نظر آتا ہے اُسے نہ ہست کہہ سکتے ہیں نہ نیست کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایکبار کے دیکھے ہوئے کو دوبارہ دیکھتا  ہے خواہ ہو یا تھوڑے فرق فرق سے او رکبھی اُسے دیکھتا ہے جس کو پہلے  کبھی نہیں دیکھا اس سبب سے یہ لیلا تیری روش تیرے کردار اور تیرے نام اور تیری صورت اور بدن کی تیرے شوہر کے سنکلپ یعنی خطرات کے پر تو سے بن گئی اور یہ راجہ بدرونہ اسی وقت مارا جائے گا اور اُسی مکان میں ہوگا

۱؎ سنسکار سنسکرت لغت او رہندووں کی اصطلاح میں اُس شخص کو کہتے ہیں کہ اُس نے تمام عمر جو ملکات مذموم یا محمود محفس کے حاصل کیے ہوں خواہ برُے اعمال اور لذات دنیا میں مبتلا ہوا ہو یا علوم وحقائق بموجب مسئلہ تناسخ کے بعد فوت دوسرے جسم میں  ظہور کرتے ہیں اور انہیں ملکات گذشتہ کے موافق کسی قسم کے کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے اور جو ذخیرہ اُس کے نفس میں جمع ہے تھوڑے اشارہ میں اس کو قبول کرتا ہے یعنی اگر پہلے علم تھا تھوڑی تعلیم میں بہت جلد باریک مسائل کو پہنچ جائے  حاصل یہ ہے کہ نفس کا دہرو نہ ایک جون کا دوسری جون میں جو کچھ ہو اُس کو سنسکار کہتے ہیں ۱۲

(134)

جس میں تو نے رکھا ہے بدرونہ ۱؎ کی رانی لیلا نے یہ بات سن کر کہا کہ میں نے ایک مدت سرستی کی پوجا  کی تھی آپ کو اسی کی صورت پاتی ہو ں اگر تم واقعی سرستی ہوتو میری ناچاری او ر عاجزی پر خیال کردعا کرو کہ جب ہمارا راجہ بعد از قتل پھر راجہ ہو میں اسی جسم سے اُس کی رانی بنوں سرستی نے کہا تو اسی جسم سے اُس کی رانی ہوگی گیانی لیلا نے سرستی سے کہا کہ جب میں نے چاہا تھا کہ بسشٹ برہمن کے گھر جاؤں تو آپ نے کہا تھا کہ تو اپنا بدن چھوڑ کر وہاں جاسکتی ہے اور اس لیلا بدرونہ سے آپ نے کہا کہ اسی بدن سے راجہ کے ساتھ تو  رہے گی اس بات کا بھید کیا ہے سرستی بولی کہ میں کوئی چیز کسی کو نہیں دیتی جنتی آرزو

۱؎ بدرونہ نام راجہ کا ہے کہ لڑائی میں غنیم کے ہاتھ سے مارا گیا او ربدرونہ کی لیلا سے وہ مراد ہے کہ اس کے سنسکار سے پیدا ہوئی تھی سنسکار کی شرح پہلے ہوچکی اور یہ قدرت ذاتی نفس ناطقہ کی ہے کہ جس چیز کی طرف توجہ اور خواہش ہو موجود ہوجائے چونکہ دوسری لیلا کہ اب گیانی بولی جاتی ہے سابق میں راجہ پدم کی بی بی تھی اور راجہ پدم مرنے کے بعد راجہ بدرونہ ہوا تو خیال انس رانی  کا موجب لیلا ثانی کی پیدائش کاہوا اس لیے دوسری لیلا کو بدرونہ کی لیلا کہتے ہیں اور پہلی لیلا جو سرستی کے فیض سے عارفہ ہوگئی عارفہ کہتے ہیں یہ باطنی معاملات اہل اشراق ہی خوب سمجھتے ہیں چنانچہ تناسخ  کے قائل صوفیہ اور حکما ئے اشراق  یونانی او رعجم کے میں اور ہند ووں کا خود یہی مذہب ہے اور کوئی ہندو تاسخ کا سن کر نہیں اور متعدد مذہب کے لوگ ہند میں بہت ہیں ۱۲

(135)

اور جتنے مطلب ہیں سب سنکلپ ۱؎ اور ہمت دل کی دیتی ہے تونے سنکلپ کی تھی کہ گیان کے درجہ کو پہنچے سو پہنچی اور یہ خواہش نہ تھی کہ اسی بدن سے راجہ کے ساتھ محشور ہو اس لیلا نے مجھ سے خواہش کی کہ اسی بدن سے راجہ کے ساتھ رہے تو لا جرم جو مانگا سودیا مجھ سے جوکوئی مانگتا ہے وہی پاتا ہے القصہ راجہ بدرونہ سوار ہوکر میدان میں اس طرح آیا کہ جیسے مندر پہاڑ نے دریا میں آکر اُسے زیر زبر کیا او رلشکر وں کے ہجوم سے بہت گرد وغبار اُٹھا کہ میدان جنگ تاریک ہوگیا آدمی اور جانور وں کے قتل ۲؎ سے اس قدر خون رواں ہواکہ وہ گروہ

۱؎ ذاتی قدرت نفس ناطقہ کی ہے کہ جس چیز کی خواہش کی وہ موجود ہوگئی جو نفس کے فضائل سے واقف ہوجانتا ہے کہ اُ س کی حقیقت کیا ہے اور اُس کی نسبت کس کے ساتھ ہے اور اسی کا وجود کہا سے ہے۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ اُسی کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی پہچان خدا کی پہچان ہے مولانا جامی کا قول ہے (ترجمہ اسکا پہلے ہوچکا ) گرگل گذر دبجا طرت گل ہاشی ۔  وربلبل بے قرار بلبل ہاشی۔  تو جزوی و حق کل سے گر روزی چند۔  اندیشہ کُل پیشہ کنی کل باشی ۔  ۱۲ پہلے ۲؎ مبالغہ کیا کہ اس قدر لشکر کا ہجوم تھا کہ اُس کے چلنے سے اس قدر غبار اُٹھا کہ میدان تاریک ہوگیا پھر مقتولوں کی کثرت میں مبالغہ کیا کہ اُن خون سے وہ غبار بیٹھ گیا اور تاریکی ہتھیاروں کی چمک دمک سے دور ہوگئی۔  زبان سنسکرت میں کس قدر بلاغت خرچ کی ہوگی چونکہ سنسکرت میں نثر نہیں تو اس قدر بحرین ہیں کہ سب نظم میں معقول اور منقول اور کلیات کا بیان ہے اور شعری صنائع وبدائع سب جگہ صرف کیے ہیں  تصوف کے اس رسالہ میں بھی ترک نہیں کیے ہیں ۱۲

(136)

اور غبار بیٹھ گیا اور ہتھیار وں کی چمک دمک سےتاریکی دور ہوگئی دونوں لیلا نے سرستی سے کہا کہ راجہ ہمارا باوجود یہ کہ آپ کی مدد اُس کے ساتھ تھی کس واسطے مغلوب ہوا کہ غنیم نے بھی مجھ سے التجا کی کہ راجہ بدرونہ پر غالب آؤں اور تمہارے راجہ کی آرزو تھی کہ مجھے معرفت ملے دونوں کو جو جو اُنہوں نے مانگا وہ وہ دیا اسی بات چیت میں تھے کہ سورج نکلا یہ معلوم ہوتا تھا کہ لڑائی کا تماشا دیکھنے کو آیا اور عالم کو تاریکی سے نکالا اور طرفین کی فوجوں سے اس قدر جاندار مارے گئے کہ شمار میں  نہیں آسکتے اور راجہ بدرونہ اپنے ہاتھ تیر اندازی کر رہا تھا گویا سورج۱؎ اپنی کرن چھوڑ رہا تھا لشکر غنیم کے دل چلے زور کر فوج کو چیر راجہ بدرونہ کے سر پر آ پہنچے اور اُسے مار ڈالا اور بڑا تفرقہ اُس کے  لشکر میں پڑا اور شہر کا انتظام برہم درہم ہوگیا بدرونہ کی لیلا نے سرستی رخصت مانگی اور کہا راجہ کا یہ حال ہوا میں بھی اس کے پیچھے جاتی ہوں۔  چونکہ سرستی کی عنایت سے اُس نے معرفت اور قدرت حاصل کی تھی اور اللہ تعالیٰ کی صنعت دیکھنے کے قصد سے لمحہ بھر میں تمام لوک او رمنڈل یعنی کروُن اور آسمانوں چاند۔ سورج ۔ ستارے ۔برجا ۔ او ردیوتاسے گذر

۱؎ کیا خوب تشبیہ دی ہے کہ تیر کا چھوڑنا شعاغوں کا چھوڑنا ہے اور اس سے کمال میں رخ راجہ کا ظاہر ہے۱۲

(137)

اور محیط برھمانڈ کی سطح چیر کر اوپر پہنچی اور سات والوں سے بھی گذر گئی جو برھمانڈ کے  اوپر ہی دائرہ اول کہ برھمانڈ کو گھیرے ہوئے ہے پانی ہے دوم آتش سو م ہوا چہارم آکاس پنجم ۱؎ آہنکار ششم مہتت ہفتم پرکرت (اہنکار نفس کُل ہے او رمہتت عقل کل او رپرکرت اعتدال تینوں گنُ در جوگنُ) اور وہ مسافت کہ گڑڑ ایک کرو ر کلپ میں طے نہ کرسکے لیلا لمحہ بھر میں گئی ( اور کلپ برھما کے ایک دنگا نام ہے اور گڑڑ ایک جانور کا نام جو نہایت قومی ہیکل ہے اور جتنی مسافت چاہے پل بھر میں طے کرجائے اور وہ بشن کی سواری ہے برھما کا ایک دن چار ہزار جگ کا ہے کہ چار ارب بتیس کرور سال  اسکے ہوتے ہیں اور ارب سو کروڑ کا اور کروڑ سولاکھ کا ہے او رلاکھ سو ہزار سال کا  لیلا نے لاکھوں برھمانڈ دیکھ پہلے برھمانڈ مراجعت کی اور اُس گھر میں گئی مہان مُردہ راجہ پدم کو پھولوں میں رکھ چھوڑا تھا اور اور مرے راجہ کو دیکھ بول اُٹھی کہ یہ میرا شوہر ہے میں سرستی کی عنایت کے سبب اس کی

۱؎ اہنکار کے معنی پندار اور انانیت ہے مبدار کل میں یہ پندار اس سے  عبارت ہے کہ صوفیا اس وقت سے تعبیر کرتے ہیں علم حق باطن سے ظاہر کی طرف متوجہ ہو اور اپنے اھما وصفات کمال کی طرف کہ اعیان ثانیہ ہیں دیکھا اور علم حضوری اسی وقت اور حال سے نام پایا ہے اور حق تعالیٰ نے اس جال و کمال سے اپنے تئیں دیکھا ۱۲

(138)

زندگی سے پیشتر یہاں آئی ہوں اور مور چھل ہاتھ لے کر راجہ کی نعش سے مکھیاں اڑاتی تھی جب راجہ بدرونہ کی رو ح آکاس سدھاری سرستی اور لیلا گیانی دونوں اُس کے ساتھ تھیں سرستی نے اُس کی روح کو ادھر ادھر کے میلان سے روکا تاکہ اپنے بدن سے جا ملے اور بھول بھٹک کر دوسری جگہ نہ جائے گیانی لیلا نے سرستی سے کہا کہ میں اپنا پہلا بدن جو چھوڑا تھا نہیں دیکھتی ہوں سرستی نے کہا جس وقت تو نے اپنا بدن چھوڑ ا گھر والوں نے جانا کہ تیرے بدن میں روح نہیں اُسے چندن عود اور عطرمات کے ساتھ جلادیا اور اگر اتفاق پہلے بدن کے ساتھ تجھے دیکھتے تو اچنبھے میں آکر کہتے کہ لیلا دوسرے عالم میں گئی تھی پھر اس عالم میں آگئی یہ سر جس قدر پردے میں رہے بہتر ہے پھر لیلا سے گیانی اور سرستی نے ارادہ کیا کہ لیلا سے بدرونہ پر ظاہر ہوں یہ ارادہ کرتے ہی لیلا نے ان کو دیکھا سرستی نے کہا کہ تمہارے شوہر کو ابھی زندہ کرتی ہوں۔  راجہ کی روح کو چھوڑ دیا  جو اُس کی قید میں تھی جیسے پھول خوشبو کو چھوڑ دے اور روح اُس کی ناک کے راستہ سے بدن میں آگئی او ربدن تازہ کردیا اور سوکھے جوڑ توڑ اپنی اصلی حالت پر آگئے راجہ نے آنکھ کھول دی او ربولا کیا خبر ہے دونوں لیلا بولیں کہ خیر یت ہے کیا فرماتے ہیں آپ۔  کہا تم تینوں کون ہو گیانی

(139)

لیلا بولی کہ تمہاری قدیم خدمتی ہوں اور یہ دوسری عورت کہ میرے مثل او رہم نام ہے میں نے آپ کی خدمت کے لیے پیدا کی ہے۔  تیسری عورت سرستی ہے تینوں لوک کی مادر مہربان راجہ یہ بات سن کر سرستی کے قدموں میں گر پڑا سرستی نے اُس کا سر اپنے ہاتھ  سے اُٹھایا او ر دعا دی کہ سب بڑائیاں تم سے دور ہوں او رہمیشہ خوشی اور شادی تمہیں نصیب ہو اور خلفت تمہارے سایہ میں آرام کے ساتھ رہیں یہ کہہ کر غائب ہوگئی اور راجہ کے جی اُٹھنے سے نقد کے اور شادیا نے بجائے اور خوشیاں کیں اور وزیر ۔  وکیل ۔  اہالی موالی اپنے اپنے کام میں مشغول ہوئے اور راجہ نے اسیّ ہزار سال جیون ۱؎ مکت کے ساتھ راجائی کی۔ راجہ اور دونوں لیلا ۲؎ بدیہہ مُکت کو

۱؎ جیون مکُت اُس مرتبہ فنا  کو کہتے ہیں کہ ابھی حیات جسمانی اور تعلق بدنی رکھتا ہو اور چو  نکہ اب تلک اس فنا میں ایک گونہ مادیات اور محسوسات سے لوث او رلگا دی اس واسطے جیون مکُت کو ناقص جانتے ہیں نسبت بہ مرتبہ ہدیہ مکُت کے جو فنائے مطلق ہے ۱۲ بدیہہ ۲؎ مکُت فنا ئے مطلق کا نا م ہے یعنی  مبدا سے واصل ہونا اور روئی اور اہنکار سے بالکل الگ ہونا اور اس مرتبہ فنائے وصول کے وقت جسم باقی نہیں رہ سکتا اس لیے کہ جسم تعین کا تابع ہے اور تعین انانیت کا تابع ہے جس وقت ماومن کا پردہ اُٹھ گیا تعین بھی جاتا رہا اور جب تعین جاتا رہا جسم بھی معدوم ہوگیا اس واسطے کہ وجود اجسام کا اور قیام او رلوازم جسمانی  پہنچیں۔

(140)

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071

URL for Part-13:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---13)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--حکایت-منڈپ-پاکھان/d/8082

URL for Part-14:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---14)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--راچھسنی-یعنی-شیطانہ-کی-حکایت/d/8106

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---15)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--دوسرے-آکاس-میں-سرستی-اور-لیلا/d/8101


Loading..

Loading..