New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:39 AM

Books and Documents ( 26 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 12) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: جیون مکُت کا گیان


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

رام چندر نے کہا کہ اے عالم علم بیدانت اتپت پر کرن کے فحوائے معلوم ہو اکہ جو اس طول عرض کےساتھ ہے وجود خارجی نہیں رکھتا

(100)

اس کی ۱؎ تصدیق کس طرح ہوسکتی ہے جیسے کوئی کہے کہ سمیر پہاڑ اس عظمت اور جسامت کے ساتھ رائی کے دانہ کے اندر آگیا کوئی عاقل اُس کے ماننے پر آمادہ نہیں ہوسکتا بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چندر اگر آپ کو مرشد کامل کی صحبت اور الٓہیات کے باریک مسائل کا مطالعہ کیا حقہ حاصل ہوتو آپ چندروز میں جو ایک مہینے سے بھی کم ہوں مکُت اور معرفت کے مقام پر پہنچ جائیں گے او ریقین ہوجائے گا کہ عالم بالکل نمود بے بود ہے اور وجود سے نام کے سوا کچھ نہیں رکھتا اور آپ تحقیق جانتے ہیں کہ احکام جو الٓہیات میں مذکور ہیں وہ یہی ہیں

۱؎ وسفر کہیں سے کہیں ہوا نہ جنون کا کچھ بھی قدم بڑھا ۔  تجھے اپنے آپ نہیں کھلا کہ وطن کو چھوڑ سفر میں ہے۔   نہ عدم سے تو ہے جدا ہوا نہ قدم ہے تیرا ذری بڑھا ۔  یہ خیال ہے تجھے آگیا کہ سفر سے اب تو حضر میں ہے ۔وہ جو خاص ہے محفل کبریا ہے اُشی کا کرتا سروش ندا۔  کہ ہے خلوت ادب وفا تو پلٹ نہ جانے کے در سے آ۔عاقل نکتہ دان کو معلوم ہے کہ موج اور حباب دریا سے جد ے نہیں ہیں بلکہ ان کا وجود عین دریا ہے جب تک لہر تعینات شکستہ نہ ہوں موج اور حباب کے درمیان امتیاز ہے وگرنہ ہر حال میں دریا ہے اور امواج اور حباب کی حرکت دریا کی امداد سے ہے اور موج وحباب کو اپنی ذات کے وجود وعدم یا حرکت وسکون میں بلا امداد دریا کے اختیار ومدار اور قرار نہیں ہے فقط ایک اعتبار  موہوم ہے کہ اُسی دریا میں جُدا جُدا نام رکھتے ہیں ورنہ موج و حباب کچھ نہیں ۔  ہستی حقیقی دریا کو ہے اور بس ۱۲

(101)

کہ میں تم سے کہتا ہوں اور اس کی سماعت سے جیون مکُت جس کو ہر گز فنا اور زوال نہیں خود بخود تمہارے دل کو روشن کرتی ہے۔  آگاہ ہوکہ مکُت یعنی فنا فی اللہ دوقسم کی ہے ایک جیون مکُت کہ بدن ہوتے ہوئے مکُت کے مقام کو پہنچے دوسری بدیہہ مکُت کہ بدن سے خلاص کلی  پاوے ۔  او ر جومکُت کہ اِن باتوں کے سننے سے حاصل ہوتی ہے اگر چہ جیون۱؎ مکُت ہے لیکن مرتبے کی  بلندی سے بد یہ مکُت

۱؎ چونکہ ان عارفان حقیقت آگاہ کے نزدیک اور متحقق ہے کہ اس عنصری بدن نے بھی اہنکار یعنی پندار  اور انانیت وجود حاصل کیا ہے اور اہنکار سے بھی قائم ہےاور جب تک انانیت اور پندار نفس سالک کی بالکل رفع نہ ہوجائے فنا مطلق اور اتحاد حقیقی مبدار کے ساتھ محال ہے اس واسطے جیون مکت کے مرتبہ پر بدیہ مکُت کے مقام کو ترجیح دی ہے اور حکما اشراقین اور حضرات صوفیہ کامل کا یہی مذہب ہے کہ جب تک نفس کسی قدر بابھی مادیات سے لگا و رکھتا ہے اور ہیولیٰ کے نقصان اور قصور سے ملوث ہے تب تک بانصرہ ورمحجوب ہوگا اور صفائی اور خلوص گوہر کی حقہ اس  وقت ہوگی کہ جسم سالک فنا ہوجائے چنانچہ حکیم ارسطا طالیس کے مذہب حکما ءقدیم کاکہ اُس سے پیشتر سب اشراتی سمجھے اُس کتاب میں جو فضائل نفس کے اندر تالیف کی ہےلکھا ہے اور ابوعثمان دمشقی نے اُس کو یونانی سے عربی میں ترجمہ کیا اور ابوعلی مسکو یہ نے کتاب الطہارت میں اُس کا ذکر کیا اور اُس سےخواجہ نصیر ملوسی نے اخلاق ناصری کی فصل سعادت میں اس کا بیان کیا اور ارسطو کا مذہب بھی نقل کیا ہے کہ اُس کا قول ہے کہ اہل سعادت کو بقا جسم کی حالت میں بھی فنا کا مرتبہ بیشی متصور نہیں حاصل ہوتا ہے درحقیقت ۱۲

(102)

اس کو کہہ سکتے ہیں اور جسے جیون مکُت حاصل ہو ساری دنیا اور دنیا والے حالانکہ اپنی جگہ پر ظاہر ہیں نظر شہود سے غائب اور مستور ہوجاتے ہیں رام چندر نے کہا اے برہمن مکُت اور بدیہ مکُت کا نشان واضح تراس سے بیان کیجئے ۔  بسشٹ نے فرمایا کہ جیون مکُت کانشان یہ ہے کہ جس کو یہ مکُت حاصل ہو وہ دنیا کے کاروبار سے دست بردار نہیں ہوتا اور تمام عالم میں حق کے سوا نہیں دیکھتا اور رنج وراحت میں رنگ روغن اُس کے چہرہ کا یکساں رہتا ہے اور اکثر اُس کے اوضاع واطوار اہل عالم کی راہ رسوم سے جدا گانہ ہوتے ہیں اور وہ سکھپت کی حالت میں بیدار جو اور جاگرت میں خوابیدہ (سکھپت بیہوشی یا غفلت کی نیند کو کہتے ہیں اور جاگرت بیداری کو) اور کوئی شخص اُس کی صحبت سے اور وہ کسی کی صحبت سے آرزو کی نہیں ہوتا خواہ کسی قدر صحبت کو طول ہو اور کسی دوست کے آنے سے خوش نہیں ہوتا اور نہ کسی دشمن کے دیکھنے سے رنجیدہ اور خوفناک چیزوں سے نہیں ڈرتا اور اپنے کاموں کو ایسا کرتا ہے جیسے کسی دوسرے کاکام کرتا ہو۔ اور نشان بدیہ مکُت کا یہ ہے کہ فانی فی اللہ مرنے سے پہلے

۱۲؎ ارسطو نے اشراقین کے نفس موہوم کی حقیقت نہیں  پائی اور کس طرح ریاضت بغیر کشف اور اسراق کو حاصل کرتا ۱۲

(103)

جیون مکُت کے مقام کو پہنچا ہو او رمرتے دم  چھوڑنے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہو اور مرنے ۱؎ کے بعد روح اس کی دوسرے بدن سے متعلق نہ اور مرنے سے ۲؎ دوری ظاہر نہ کرے اور ہر گز مر نے کے قابل نہیں اور صورت نہیں رکھتا اور صو رت سے خالی بھی نہیں ہے اور اشارہ  حشی سے نہیں دریافت کرسکتے کہ ایسا اور ویسا ہے اور دیکھنے اور دیکھنے والے اور آنکھ سے باہر ہے یعنی ایک نور ہی کہ اُس کے ساتھ دید حاصل ہوتی ہے اور ہر محیط سے زیادہ ہے یعنی عین حق ہی کو تمام اشیا کا احاطہ کلّی رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کو محیط نہیں ہوتی اور سب صفات کمال کا منشا ہے او رکوئی صفت نہیں رکھتا ۔ رام چندر نے کہا کہ حقیقت پر ۲؎مارتھ یعنی مقصود اعظم کی جو توحید ہے دوبارہ واضح تر اس سے بیان کیجئے کہ اطمینان کا مل حاصل ہو بسشٹ نے فرمایا کہ ہستی محفل کہ قیامت کبری کے بعد باقی رہتی ہے اس کی حقیقت تم سے بیان کرتا ہوں

۱؎ یعنی میل اور رغبت روح کی عالم محسوس اور جسم اور جسمانیات سے بالکل قطع ہوگئی ہو اور تناسخ جاتا رہا ہو اس واسطے کہ ان کے نزدیک ثابت ہے کہ جب تک ایک ذرہ خطرہ محسوس کا نفس میں باقی ہوگا بالضر ور ایک جسم اُس کے لیے پیدا ہوگا معنی ۲؎ پر مارتھ مقصد اقصیٰ ہیں یہ لفظ مرکب ہے ارتھ مقصد او رمطلب اور مدعا ہے ۱۲؎ اور پرمراعلی اور بزرگ تر اور معنی پورے لفظ مارتھ کے مقصد اقصی ہیں اور وہ طالبان کے لیے حق ہے ۱۲

(104)

دل کے کان سے سنو او رآگاہ ہو کہ حق ایک ہستی ہے ست چدا ٓنند یعنی عین دانائی اور سرور اگر انانیت ۱؎ اور پندار کو تو اپنے سے دور اور نفی کرے اوردل کو حرکت سے باز رکھے ا ور وجود کی نسبت یقین کے ساتھ حاصل کرے اور یہ تو نہ کہےکہ میں نے ایسا کیا ہے کوئی چیز ہستی کےسوا باقی نہیں رہتی اور اگر تو اپنے ادراک کو محسوسات سے نگاہ رکھے اس طرح چیر کہ محسوسات کی تغیر و تبدیلی تجھ میں اثرنہ کرے اور باوجود حیات اور جس ظاہر کے اگر ٹھنڈی ہوا یا سورج کی گرمی تیرے بدن کو پہنچے اس کی کیفیت تجھے معلوم نہ ہو کہ کیا ہے اور ایسا تو ہوجائے کہ تیرے حال کو نہ خواب دیکھنا کہہ سکیں اور نہ سکھپت جو دانائی اور نادانی دونوں سے خالی ہے اور برُی نیند جس سے مراد بیداری عوام ہے وہ بھی اس کو نہ کہہ سکیں یعنی ۲؎ معام ترُی اوستھا میں تو متمکن اور قائم ہوجائے اس صورت میں دانائے لطیف کے سوا جو تغیر اور زوال سے پاک ہے کچھ باقی نہیں رہتا اور وہ عین حق ہے اور چین سروپ اسی کو کہتے ہیں اور اگر تعینات حق جیسے برہما بشن

۱؎ خود بین تو جب تلک ہے عرفان سے تو الگ ہے۔  نکتہ تجھے بتاؤں بخیود ہو اور خوش رہ ۱۲ تری ۲؎ بالضم اوستھا وہ حالت ہے جس میں کمال استغراق مشاہدہ جمال حق میں ہو اس حالت والے کو محسوسات سے بالکل نقطاع ہوتا ہے ۱۲

(105)

مہا دیو ۔ سورج۔ اندر اور تعین سدا شیو یعنی تعین  الوہیت جس کو ایشر کہتے ہیں ان سب کو ایک دفعہ صفحہ خاطر سے  تو محو اور دور کرے کچھ باقی نہیں  رہتا الاّ سرور خالص کہ عین حق ہے پس عارف کو اِن مراتب کے ضبط کے بعد تین مختلف معنی ظاہر ہوتے ہیں کہ تینوں ایک ذات پر دلالت کرتے ہیں اختلاف اعتباری ہے ۔ اے رام چندر اگر پہاڑ کو ادراک کی صفت حاصل ہوتی آتما یعنی حق کو جو عقل اور نفس کے تصرف سے خالی ہوتا ہے تشبیہ دیتا اس سبب سے کہ نہایت ثبات اور استفرار رکھتا ہے ۔ اے رام چندر اب منڈپ پاکھان کی حکاپت سنوُ جو گوش ہوش کے حق میں زیور ہے اُس کی سماعت سے یقین کامل اور آرام تمام تیرے دل کو حاصل ہوگا ۔ ( منڈپ گھر کر کہتے ہیں او رپاکھان داستان ہے اور وجہ تسمیہ اُس کی یہ ہے کہ اس حکایت میں ذکر ہے کہ ایک عورت نے اپنے شوہر مردہ کو گھر میں رکھ چھوڑ ا اور اُس کے جلانے میں کوشش کی اور انجام کو اس کے گھر کی ہوا میں ایک شہر اور گھر نمودار ہوا)۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---12)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--جیون-مکُت-کا-گیان/d/8071


Loading..

Loading..