New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 02:49 AM

Books and Documents ( 24 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 11) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: فلسفہ اتپت


Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

Prince Mohammad Dara Shikoh

 

رام چندر نے بسشٹ سے کہا کہ اکاسج کے احوال اور

۱؎ حکما یونان نے عقل اول کو نررخ وجوب و امکان کا قرار دیا ہے اُس کے داہنی طرف وجوب اور بائیں طرف اس امکان ہے اور سچ ہے حضرت قدوس سے ایساہی پاک گوہر پیدا ہونا چاہئے تھا عاقل دقیقہ رس سمجھتا ہے کہ ہیو ئی اور صورت ملک کس قدروسائط کثیر درمیان میں واقع ہوئے ہیں اس واسطے کہ لطیف بے سائقہ کثیف کے ساتھ نہیں مل سکتا اگر چہ ہیولی اور صورت کوبھی غیر نہیں سمجھ سکتے ہر صافی کو دور لازم ہےجس طرح نفس ناطقہ انسانی اپنے تقدس ذاتی کے سبب حواس ظاہری سے متعلق نہ ہوسکا بلا واسطہ حواس باطن کے  جو ملائکہ مقربین کے موافق ہیں ۱۲سوائے ۱۳؎ پرداز داستان کے ایسی صاف اور صریح صورت برہما کو دوسرا نہیں دکھلا سکتا خوب تصویر اُتاری ہے ۱۲

(94)

صفات جو آپ نے بیان فرمائے اُن سے پایا جاتا ہے کہ مراد اکا سج سے برھما ہے کہ یہ صفات یقینیہ اُس کی ہیں  بسشٹ نے کہا کہ اے رام چندر ٹھیک سمجھے یہ برھما کی حکایت تھی کہ تجھ سے کناتًیہ میں نے بیان کی برمھ کی ذات کہ عین علم اور تمام اشیا پر حاوی ہے اور عین اور ہی اور اُس کا اول آخر اور وسط نہیں ہے بمقتضا اپنے علم اور حکمت کے وجود حادث کے تعین میں ظاہر ہوا اور اُس وجود نے سونہیں ہوا اور برھما  نام پایا اور اس کے درحقیقت صورت شکل اور جسم نہیں بلکہ ایک حالت صورت کے مشابہ اُس پر چھا گئی ہے یعنی ایک روح مجرو ہے کہ جسم اُس کے نہیں اور اگر اعتراض کریں کے روح جسم بغیر کس طرح قرار پائی ہے اس کا یہ جواب ہے کہ برھما کا جسم ہمارے کیشف اجسام کےمثل نہیں ہے لیکن لطیف جسم اس کا ہے رام چندر نے پوچھا کہ تمام ارواح دوطرح کے جسم رکھتی ہیں ایک لطیف دورم کیشف اور برھما کا صرف ایک جسم لطیف ہے کیو نکر ہی بسشٹ فرمایا جو موجود کہ عناصر سے پیدا ہوا ہو جسم کیشف اُس کو لازم ہے اور جس کی پیدائش اِن عناصر سے نہیں ہے اُس کو جسم لطیف کے سوا اور جسم نہیں ہوتا  برھما کا وجود عناصر سے نہیں بنا اگر اعتراض کریں عناصر سے دل پیدا کیا گیا اور چونکہ تمام عالم کسی نبکات سے دل کے ظہور میں آیا تو عناصر بھی دل سے پیدا ہوا او ریہ محال اور غیر ممکن ہے اس کا جواب یہ ہےکہ دل ہرن گربھ سے

(95)

نکلا ہی نہ عناصر سے اے رام چندر برھما مثل  آدم کے تصوری یعنی خیالی اور وہمی ہے عناصر سے مخلوق نہیں عین ذات ہے کہ پیدا کرنے والا اور نکاہدار کائنات کا ہے اور اس لحاظ سے اُس کو دل کہہ سکتے ہیں رام چندر نے سوال کیا کہ ہر گاہ دل صانع عالم ٹھہرا تو دل اور حق میں کیا فرق ہے کہ دل بھی مثل حق کے موجود اور مستقل ہو بسشٹ نے فرمایا کہ دل نام ہی نام ہے ایک نور ہے کہ حق سے ظاہر ہوا حق سے جدا نہیں اور وہ سب جگہ ہے اور خارج میں اُس کا وجود نہیں ہے اگر اعتراض کریں جب دل کا وجود خارجی نہیں ہے تو جوگ اورر یاضت میں کس واسطے اُس کی تسخیر اور تطہیر کا امر فرمایا ہےکہ معدوم ۱؎ شئے کے لیے فرورت قابو میں لانے کی نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ یہ امر اس کے واسطے ہے کہ اس حقیقت کو نہیں سمجھا ہے او رجو سمجھ گیا وہ اس تکلیف سے بری ہے سنکلپ دل کی حرکت سے مراد ہے باین ارادہ کو  میں اپنے کو بہت دکھلاوں اور اوّدیا ، سنسرت  چت، مل ، بندہ تم سب نام دل کے ہیں کہ سنکلپ

۱؎ دل  کے وجود کر امر معدوم اس سبب سے کہا کہ اس کے وجود کی حقیقت نفس ناطقہ کے ارادہ کی حرکت جانب ظہور وشہود کے ہیں۔  جب نفس ناطقہ اس ارادے سے بازرہا تو وہ اپنی ذات کی حقیقت کو جو عین نور اور سرور اور علم محض ہے پہنچ جاتا ہے اور دل خود بخود فانی ہو جاتا ہے اور جسم وحواس دل کے لوازم اور توابع سے ہیں ۱۲

(96)

اُس سے حاصل ہوا (سنکلپ ۱؎ ایک طرح کی شعبدہ بازی ہے یعنی ایک بھان متی کا کھیل ہے جب یہ کھیل یا تماشا سامنے سے اُٹھ گیا خالی برمھ ۲؎ رہ جاتا ہے کہ اصلی مطلب ہے اگر کوئی اعتراض کرے کہ برھما کی ریایت کس راہ سے ہے جب کہ پورپ پچھم اُتر دکھن زمین آسمان اور سب مخلوقات فنا ہو جائیں گے اس کاجواب یہ دیتا ہوں کہ برھما تب اس طرح رہتا ہے جس طرح فنا ئے معلوم کے بعد علم اور آئینہ کے زوال صورت پر صفائی او رمرئیات کےدور ہونے پر ضو شمس رہتی ہے اے رام چندر مکُت یعنی فنافی اللہ کا ہارج اور روکنے والا دل کے سوا کوئی نہیں ہے اچنبھے ۳؎ کی یہ بات ہے کہ خود داخل موجودات نہیں اور

۱؎ نیت اور ارادہ ایک کام کرنا اور خطرہ اور اندیشہ اپنے آپ کرنا ۲؎ حق رہ جاتا ہے اور بس یعنی عالم کبیر میں  جب کہ دل یعنی برھما جو عقل اول ہے فانی محی اللہ  ہوجائے کل عالم او رکائنات فنا ہوگی اور عالم اور عالم کبیر کی طرح جس وقت دل انسانی حضرت نفس مذلقہ میں فنا ہو جائے اس طریقہ سے کہ مشاغل محسوسات سے روکا جائے اور خطرات وانانیت دور ہو اس وقت حواس اور حواس کے جملہ خواص اور جسم وجسمانیات فوراً معدوم ہوجائیں اور اسی  کی طرف اشارہ ہے کہ موتو القبل ا ن تموتوا ۔  پس مبدا کے ساتھ اس کا عین  ہے متحد ہوجاتا ہے ۔  تفرقہ اور تعین اسی قدر تھاکہ رفع ہوگیا اور یہی حجاب تھا جو دور ہوگیا

 

موج دریا ئے ہوس انیجا غبار سینہ سست                          جوں شود این آب ساکن تختہ آئینہ سست

 

میں دشمن جاں ڈھونڈھ کے اپنا  جو نکلا                                          سوحضرت دل سلمہ اللہ تعالیٰ

 

منزل معشوق کوکوئی نہیں ہے جانتا                                   ہاں مگر اتنا کہ آواز جرس ہے گونجتی ۱۲

(97)

دنیا کی محسوسات کہ وہ بھی وجود نہیں رکھتی ایک قسم کی موجودات معلوم ہوتی ہے کہ کسی عاقل کو شک اور تردو کے سوا نہ ہو جس طرح کوئی خواب بین دیکھے کہ میں خواب سے بیدار ہوا اور ایسا خواب دیکھیں اور تعبیر اُس کی اسی اور ویسی ہےپس دوسرا خواب جس کو بیدار ی خیال کرتا ہے خواب اول کی تصدیق کرتا ہے اور ایک خیال دوسرے خیال سے ثبات اور قیام پاتا ہے دل با آنکہ  اُ س کو وجود نہیں اپنے آپ کو موجود دکھلاتا ہے اور قوت ناطقہ اُس کو نہیں اور بسیار گو ہے پانوں اُ س کے نہیں اور دم کے دم میں ایک عالم سے دوسرے عالم میں جاتا ہے او رمحتاج نہیں او رہمیشہ ایک چیز مانگتا ہے اور خوش نیص اور چزح مارتا ہے اور جسم نہیں اور غرق ہوتا ہے ہتھیار نہیں اور ایک جہاں کو قتل کرتا ہے بوقلموں رہبا کے موافق دبہدم رنگ بدلتا ہے اور ایک جال میں نہیں رہتا بے قرار ہے اور بچپن اور جب یہ بے قرار درمیان سے کیا آفتا ب باقی رہے گا کہ ہر گز اس کو غروب نہیں ہے اور وہ سرور کہ ہرگز غم سے نہیں بدلتا او روہ ہستی کامل القدرۃ کہ تمام اوقات کام کرتی ہے اور وہ خدا وند عظیم الشان کو عظمت اور کبریائی اُس کی تقریر اور بیان میں  نہیں آسکتی اور احاطہ علمی اُس کے ارد گرد نہیں پھٹکتا اور جو کوئی اعتراض کرے کہ جب  قصعاً یے سب کام کرتا ہے تووے کام دوحال سے خالی نہیں اگر ان میں کوئی

(98)

مطلب اور صلحت نہیں تو عبث محض ہے اور اگر ہے تو غیر سے اس تک مال لازم آتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ خداوند جس کا احاطہ عالم آلہیات میں کرسکتا اور اس کی ذات کی کنہ کو بیان نہیں کرسکتا اس کو عارف لوگ بجراس کے نہیں پاتے حقیقت میں اسمارا ور صفات نہیں رکھتا اور یہ جو برمھ آتما کرتا وغیرہ نام اُس کے ہیں وہ اعتباری امور ہیں کہ اغراض او رمصلحتوں کی خاطر مقرراور مشہور ہوئے ہیں اور ان اسما کے معالی صفات ذاتی حق سے نہیں کہ اُ س کی تکمیل کے موجب ہوسکیں اور جو یہ اعتراض کریں ہر گاہ علم آلہیات اُس کے احاطہ اوصاف کو نہیں پہنچتا پھر جس کو عقل اور معرفت نصیب نہیں ہوئی ہو وہ کس دلیل پر بھروسہ کر کے اُس کی ہستی کا یقین حاصل کرے جو اب اُس کا یہ ہی کہ علم الٓہیات اور تمام شرایع اور شاستر اور تمام مذہب اور ملت ہر چند ذات پاک کی حقیقت کو نہیں پہنچتے مگر اُس کی ہستی پر آواز بلند سے گواہی دیتے ہیں اور ہزاروں زبان سے اُ س کی حقیقت کا اقرار کرتے ہیں۔  کل روشنی کی اصل حق ہے او رہر ایک روشن سے وہ روشن تر ہے۔ چیزیں آفتاب کے نور سے دکھلائی دیتی ہیں اور آفتاب کا نور کیا ہے معنی کا سراغ لگا الفاظ کے وسیلے سے اور الفاظ کی طرف راہ کا پانا عنایت حق سے ہے دل علم اور معرفت کی دلیل ہے اور دلیل دل کی حق ہے اگر سوال

(99)

کیا جائے کہ ہر گاہ حق اس روشنی اور ظہور کے ساتھ ہو تو اہل حق اُس کی ہستی پر دلیل کے محتاج کیوں ہوتے ہیں اور اہل ملل ونحل اس میں خلاف اور نزاع رکھتے ہیں جو اب اس کا یہ ہے کہ جس کسی کی عقل کے الٓہیات کے معنی سمجھنے میں کمال نہیں حاصل کیا اور یقینی دلیلیں اُس کی خاطر نشان نہیں ہوئیں اُس کی نظر میں ہست نیست معلوم ہوتا ہے اور نزدیک دور پرکرت یعنی طبیعت اور اددیا یعنی جہل اور نادانی ایک درخت ہے کہ دل اس کی جڑ ہے اور پتے اُس کے حواس میں اور میوے اس کے برھما نڈ ہوا جو اس درخت کو شببش دیتی ہی حق ہے اور ہر صا جدل کادل جواہرات کی ڈبیا کے مشابہ ہے جو ہر اس ڈبیا کے لائق ہے حق ہے اور حواس اور قوی بڑے نہروں کے موافق ہیں بادشاہ جو ان شہر وں کا محافظ ہے وہ حق ہے اور وہ چھوٹوں میں چھوٹا اور بڑوں میں بڑا جس نے اُس کو دیکھ لیا گرہ اُس کے دل کی کھل گئی اور تمام اُس کے شک او ر شبھیے عین الیقین سے بدل گئےاور افعال کی نسبت اپنی طرف نہیں کرتا اور اس کے افعال اثر نہیں پیدا کرتے اگر نیک ہیں تو اُس کو ثواب کی امید نہیں اور اگر برُے ہیں تو عذاب کا خوف نہیں ۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/801

URL for Part-10:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---11)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--فلسفہ-اتپت/d/8049


Loading..

Loading..