New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:02 AM

Books and Documents ( 23 Jul 2012, NewAgeIslam.Com)

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 10) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: عالم کی نمود اور ظہور کی ابتدا



Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by

 Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(83)

آغاز اتپت پرکرن یعنی تیسرا باب عالم کی نمود اور ظہور کی ابتدا میں

اے رام چندر جس کسی کو نجات کی خواہش ہو اُس کو جو کرناچاہئے پہلے پر کرن میں بیان ہوا ہے اس پرکرن یعنی باب میں پیدائش کی شروعات کاذکر  ہوگا انبہوت  ملدن وسرپ پت یہ تینوں لفظ پرتچھ سمیت ایک ہی معنی رکھتے ہیں اور پرتچھ کے بھی اصل میں ادراک حواس کے ہیں اور یہاں مراد اُس سے روح ہے جو پرم آتما کے نام سے مشہور ہےیعنی گروہ صوفیہ کے نزدیک اسی پرم آتما کو باین وجوہ کہ سب شے کے ساتھ موجود ہے برمھ کہتے ہیں اور اس وجہ سے پرش بھی اُس کا نام ہے کہ تمام مکان اُس سے پرہین اور اس وجہ سے اہنکار بھی اُ س کا ہے کہ سب   کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اس وجہ سے چتین بھی اُس کا نام ہے کہ تمام اشیا علم ازلی کا تعلق ہے ہر خیبر کانام اُس کا نام ہے بیت اسی کے نام پر جس کا نہیں نام۔  وہ بول اُٹھے کیسی کا لیجئے نام ۔  اور وہ علم چونکہ بے انتہا اور طرح طرح کا ہی اپنے آپ کو اوہام کے آئینوں میں جہاں اور اہل جہاں کی صورت  نمودار کرتا ہے جس طرح پانی لہر اور بلبلہ اور برف اوراولے کی صورت میں جلوہ گر ہے پس درحقیقت پانی ہے اور وہم میں لہر بلبلہ وغیرہ۔  اے رام چندر اگر کوئی اعتراض کرے کے برمھ صانع عالم نہیں ہے او رکوئی صفت ان میں سے نہیں رکھتی پھر یہ دونوں کس طرح ایک ہوں برمھ ازل میں صانع عالم نہ تھا اس نے چاہا کہ اپنے آپ کو بہت اور وحدت کو کثرت کر کے دکھلائے یہ حُب باعث ہوئی کہ بصورت عالم جو اُس کی ذات میں کھپا ہوا تھا ظہور کرے اور مرتبہ ذات میں بخر نور اور سرور کے جتنی صفات کمال ہیں سب ذات حق میں مخفی تھیں جس طرح ہوا میں جنبش ہو یہی  سبب ہے کہ ہوا میں کبھی

(84)

جنبش ہوتی ہے او رکبھی سکون ۔  اے رام چندر اگر کوئی  اعتراض کرے کہ عالم اگر عین حق ہوتو چاہئے کہ عالم کے اجزا انسان ۔  حیوان۔  نباتات جمادات وغیرہ کو بھی  حق کہیں اور حق جانیں اور نیز جو کچھ موجودات سے خاص زماں اور خاص مکان میں ظاہر ہوچاہئے کہ ہر زماں او رمکاں میں موجود ہوا گر سے جس طرح حق ہر زماں او رمکان میں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ ہر زماں او رہرمکان میں جو لباس پہنے ہوئے ہے غیر اُس لباس وزماں ومکان میں نمودار نہیں ہوتا اور اُس زماں او رمکان میں اُس لباس کے سوا نام نہیں دکھتا اور عالم  شہووقبل ازوجود ظاہری مثل حق تعالیٰ کے اکارن یعنی غیر معلول تھا یعنی صانع اُس کا کوئی نہ تھا اس واسطے کہ وہ مرتبہ علم کے اندر تھا اور صور علمیہ حق تعالیٰ جن کو اعیان ثاتبہ اور حقائق اشیا کہتے ہیں کسی کی پیدا کی ہوئی نہیں ہیں اور جب ارادہ ازلی نے چاہا کہ یہ علم ظہور کرے حق تعالیٰ پرتچھ یعنی شہود کے نام سے اُس کا صانع ہوا اور خصو صیت اس نام کے اسلیے ہے کہ پرتچھ  اصل میں جو اس ظاہری کے ادراک کو کہتے ہیں اور ۱؎ عالم میں جو کچھ نظر آتا ہے وجود نور حق ہے اور

۱؎ موج برقع ہے روی دریا کا ۔  اسم پردہ ہو اسمیٰ کا ۔  پہ پرواز غیر اسم نہیں ۔ فہم کر آشیانہ عنقاد کا ۔  حسن نیرنگ کے ہیں سب  ہیں جلوے ۔  دیکھتے ہو جو رنگ اشیا کا ۔  عصمت یوسفی نے

(85)

عالم نہیں ہے الاّ وہ چیز کو عقل اور تصور میں آتی ہے اور جو نہیں رکھتی پس ظہور عالم کا سبب کیا ہے حق تعالیٰ کا اپنے  ظہور کو دوست رکھنا ہے فقط اگر کوئی سوال کرے کہ میں نے قبول کیا کہ جس کو حواس ادراک کرتے ہیں عین حق ہے لیکن وہ علم کیا چیز ہے جو ادراک کے وسیلے سے حاصل ہوتا ہےجیسے شیدا اور انمان ۔ شد سے مراد دلیل نقلی ہے جس کی اصل علم الٓہیات اور کلام بزرگوں کے ہیں اور انمان دلیل عقلی کو کہتے ہیں مثلاً دھوین کو وجود آتش پر دلیل لانا ) جواب اُس کا یہ ہے

چاک کیا ہے ۔  پردہ تنگ سوزلیخا کا ۔  ذات ہے جو ظہور سے فارغ۔  اُ س سے جلوہ ہوا ہے اس کا ۔  ہرجگہ دیکھئے ہر اک ذرّہ ۔  دعوی ہی کررہا ثرما کا۔  سانس لے لے کر اُڑا رہا ہے دھواں ۔ سوز دل جائے کھُل ہو شیدا کا ۔  کھینچ چڈالی ذری  لقاب سحر ۔  چاک سینہ ہوتا کہ دیبا کا ۔  ہے نسیم بہار سے روشن۔معجزہ حضرت مسیحا کا ۔  شاخ سے ہر گل او ربوٹے کی ۔  کھل گیا بھید دست موسیٰ کا ۔  شوق حیران ہوا کہ حد ہی ظہور ۔ رہ گیا کیا بھرم ہی اخفا کا ۔  کس نے لاد کے دل میں ہے آخر۔  رکھ دیا ایک داخ سودا کا۔  کوہ سے کس نے بھید حیرت کا ۔  کہ دیا خون کیا جو خارا کا ۔  جادہ کھولے ہوئے ہے جو آغوش ۔  کیوں گریباں ہے چاک صحرا کا۔  دیکھ آفت جلوے حیرت نے ۔  کھو دیا نو رچشم بینا کا ۔  چشم ترنے بجھا دیے شعلے ۔  ابر سے بیٹھا جوش دریا کا۔  تھی قیامت کی قلقل بادہ۔  غل مچاپا گلا ہے مینا کا ۔  معرفت کا ہے سب کو کرشمہ وناز۔  کردیا بند لب ہی گویا کا۔  قضل ہے گنج دل کا خاموشی ۔   سیپ کہہ حال ا س معما کا ۔  گر تجھے معرفت ہے اے بیدل چھوڑ قصہ یہ سب  من وما کا۔  کیا ہے دنیا تجلی رخ یار ۔  من وما ہیں اضافت اے دلدار۔

(86)

شبد اور انمان چونکہ پرتچھ سے پیدا ہوتے ہیں پرتچھ میں داخل ہیں اور حاصل تقریر کا یہ ہے کہ پرتچھ شبد اور انمان سب حق ہے اور علم حق خواہ حق کی طرف منسوب ہو خواہ خلق کی طرف عین حق ہے غفلت میں پھنسا رہنا ماسوی اللہ کے دیکھنے کے سبب سے ہے اور حاصل ہونا مکُت کا ماسوی اللہ کے نہ دیکھنے سے  جس طرح خواب میں چیزیں نظر آتی ہیں اور سگھپت کی حالت یعنی خواب اگر ان میں نیست ہوجاتی ہیں اسی طرح عالم کی موجودات کثیر جو نظر آتی ہیں  معرفت ۲؎ کے مرتبے میں جو قیامت کے موافق ہے فانی ہو جائے گی پھر  اگر یہ سوال کریں کہ ہر گاہ تمام اشیا سکھپت کی حالت اور قیامت میں نیست نابود ہوجاتی ہیں  حالانکہ وہ سب حق ہیں اس صورت میں فنا اور عدم کی صفت بوجہ من الوجودہ حق سے تعلق پیدا کرتی ہے یا نہیں اُس کا جواب یہ ہے کہ حق تعالیٰ ہستی محض ہے اور عدم اُس کا نقیض ہے

۱؎ ہند والے خواب حالت دوطرح بیان کرتے ہیں جس حالت میں کہ واقعہ کوئی نظر آئے اُس کو خواب کہتے ہیں اور جو غفلت میں ڈوبے ہونے کی حالت میں دیکھا ہو اُسے سکھپت کہتے ہیں چونکہ عالم محسوس کا مشہود اس سبب سے ہے کہ نفس ناطقہ کی توجہ اور اس کا تصرف محسوسات میں ہوتا ہے جب اُس نے توجہ اس طرف اُٹھائی اور اپنی ذات کی طرف متوجہ ہوا عالم محسوس فانی ہوگا اور یہی صورت قیامت کی عالم کبیر میں ہے کہ علم حق ظاہر سے باطن کی طرف متوجہ ہوگا ۱۲

(87)

اور کوئی مفہوم اپنی  نقیض کے ساتھ جمع نہیں  ہوتا پس عدم اور فنا کسی طرح حق عزوجل کی ذات پاک کی طرف راہ نہیں پاتا بلکہ اُس کے صفات اعتبار ہی کے اثار کی طرف کہ عالم اس کا نام ہی راہ پاتا ہے  اور صفات کے آثار ہمیشہ معرض فنا اور زوال میں  ہیں اے رامچندر حق دنیا اور بزرخ اور قیامت وبہشت اوردوزخ میں سب جگہ ہے حرکت اُس کی اور انتقال ایک جگہ سے دوسری جگہ غیر ممکن ہے جیسے پہاڑ اپنی جگہ سے ہلتا ہستی محض ایک سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں مل سکتا اور اس کا نام ونشان نہیں ہے اور ادراک عقل اور حواس کا اُسے نہیں پہنچتا اس کے سوا اور کھوج اُس کا نہیں ملتا کہ ہے اور بڑی قیامت میں بجز ہستی ذات کے کوئی چیز نظر نہیں آتی اگر اعتراض کریں کہ حق تعالیٰ کی تنزیہ میں بیان ہوچکا  ہے کہ اس کا نام نہیں ہے پھر اتنے نام جو بید میں مذکور ہیں اور خلق اللہ کی زبان پر جاری ہیں کیا چیز ہیں اُس کا یہ جواب ہے کہ یے نام ضرورت کے لئے بولے جاتے ہیں یعنی اگر چاہیں کہ ہستی مطلق سے تعبیر کریں  بغیر اس کے اُس کےلئے کوئی نام مقرر کریں ممکن نہیں ۔ اور تحقیق کلام کی یہ ہے کہ ہرگاہ کنہ ذات حق سبحان تعالیٰ یعنی حقیقت اُس کی نہیں دریافت ہوسکتی اور نسبت علمی ہر گز اُس کا احاطہ نہیں کرسکتی تو اُس کا ایسا نام کہ حقیقت سے خبر دے نہ ہوگا اور نام

(88)

اس کے لئے منسوب نہ کرنا اسی وجہ سے ہے نہ کہ اُس کا ہر گز نام نہ ہو اگر سوال کیا جائے کہ عالم کا حال قیامت کے بعد کیا ہوگا آیا ہمیشہ معدوم رہے گا یا پھر صورت وجود اُس کو ملے گی جواب اُس کا یہ ہے کہ ہستی محض قیامت کے بعد ہرن گربھ کی صورت ظاہر ہوتی ہے (اور ہرن گربھ ایک روح کُلی ہے کہ وہ تمام لطیف ابدان سے تعلق حاصل کرتی ہے اور ابدان کثیر کے میل جول کے سبب کثافت اُس میں آجاتی ہے اور یہ روح کُلی اگر چہ درحقیقت سمندر کے موافق برقرار ہے لیکن جب چاہئے اپنے آپ کو بہت کر دکھلائے یہ خواہش حرکت کی صورت کو اُس میں پیدا کرتی ہے جس طرح لہریں کہ سمندر کو متحرک دکھلاتی ہیں اور اُس حرکت سے من حاصل ہوتا ہے جوکلیت میں ہرن گربھ کے مناسب ہے یعنی ایک دل کُلّی کہ جامع تمام دلہائے جزئی کا ہے اور یہ دل برھما ہے اور اس کی وساطت سے تمام ہونہار چیزیں کُلّی ہوں یا جزئی پھر بیابان بطون سے ظہور کے شرستاں میں آتی ہیں اگر یہ اعتراض کریں کہ جب حق او رخلق ایک ہیں دو محال یعنی دو امر غیر ممکن میں سے ایک محال لازم آتا ہے یا فنا کی صفت حق پر روا ہو یا خلق ہمیشہ کو ابدا لآ با د باقی رہے جواب یہ ہی خلق اگرچہ درحقیقت میں حق ہی مگر تعین کے معنی میں اُس کی غیر ہے اور خلق میں سے جوزوال

(89)

اور فناکے قابل ہے تعین اس کا ہے نہ حقیقت ۱؎ اگر یہ اعتراض ہوکہ ہر گاہ دل وہمی موجود ہو جس طرح ایک دیو کہ سایہ سے خیال میں آتا ہے اُس سے کیا کام نکل سکتا ہے اور کس طرح اس تمام کثرت کا خالق ہوسکتا ہے جو اب اُس کا یہ ہے کہ وہمی موجود سے دوسرا  وہمی موجود بن سکتا ہے جس طرح چمکیلی ریت میں  سے جس کو دھوکا کہتے ہیں لہر اٹھتی نظر آتی ہے حالانکہ دونوں نمود بے بود ہیں ادِّدِیا سنسکرت موہ ۔ بندّ دھر ۔ مایا ۔ مل۔ تم قد سب نام دل کے ہیں اے رام چندر گرفتاری کی حقیقت جو دنیا کی دکھلاوٹ کا نام ہے تم سے بیان کرتا ہوں تاکہ حقیقت نجات اور رستگاری کی تم پر کھل جائے اس واسطے کہ

۱؎ تعین اور ظہور اول یعنی برھما کو جو صفت ایجاد کا تعین ہے دل کلی کے ساتھ تعبیر کیا اس واسطے کہ دل مبدار اور منشا سب کا موں کا ہے اور اس دل کو موجودوہمی کہتے ہیں اس واسطے کہ اُس کے وجود کی حقیقت فقط ارادہ اور خواہش اظہار ہے اور عین ہی خارج میں اُس کا وجود نہیں ہے ۔  گویا موجود وہی ہے اور چونکہ تمام عالم ان بلند نظروں کے نزدیک جو واحد میں ہیں یعنی علما بید کے نزدیک موجود  وہمی ہے اور حق کے سوا ان پاک نزا دوں کی چشم بصیرت میں کچھ نہیں آتا اس لیے سائل کے شبہہ پر جواب میں کہا کہ ممکن ہے کہ ایک موجود وہمی سے دوسرا موجود وہمی پیدا ہو جس طرح دھوکے کے دریا سے لہر دکھلائی دیتی ہے یعنی دھوکے کی طرح وہ لہر بھی ایک نمود بے بود ہے اور سراب سے برھما یعنی دل کُلّی کو اور  سراب کے ساتھ عالم کو تشبیہ دی ۱۲

(90)

چیزیں اُس کی ضد ۱؎ سے پہچانی جاتی ہیں اے رام چندر محسوسات کو ہستی حقیقی ٹھہرانا گرفتار ی ہے اور ان سب کو معدوم جاننا مکت اور نجات ہے او ر وشٹ کے معنی  دیکھنا من وتو او ر تمام کائنات کا ہے  جب تلک یہ خیالات پیش ہیں تو مکُت نہ ہوگا اور ان  وخیال کا  جاتا رہنا مکُت ہے چاہے کہ سکھپت کی حالت یعنی غفلت کی نیند میں اور قیامت میں بھی جہاں کچھ سجھائی نہیں دیتا  مکُت حاصل ہو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم صغیر یعنی بدن میں دو قیامت ہیں ایک غفلت کی نیند اور ایک مرنا اور عالم کبیر میں ایک آخر ہونا برھما کے  دن کا ہے اور دوسری برھما کا مرنا ۲؎ سوبرس  اُس کی عمر کے بعد  پردا یعنی قیامت ہی کہ اثبات حق اور تقی عالم سے مراد ہے اگر چہ عالم سکھپت کی حالت اور قیامت میں نہیں رہتا مگر باسنا جو کہ عالم کی لطیف صورت ہے دیکھنے والے کے اندر بحالہ موجود ہے جیسے کڑدی اور باریک سبزی جو نیلو فر کے بیج میں ہوتی ہے اُس میں بوٹہ اور ڈالی او رپتی نیلوفر کی پوشیدہ ۳؎ ہے اے رام چندر کا سج کی

۱؎ یعنی علم ضد کا مت لزم دوسرے ضد کے علم کو ہی یعنی محسوسات کی حقیقت میں ذکر کرتا ہوں تاکہ حقیقت ہستی بحث کی روشن ہو یہ سابل مشہور نہیں ہیں اس کا حساب جگ کی تفصیل میں پیشتر ہوچکا ہے ۱۲ ایک ۲؎ سائل نے یہ سوال کیا کہ جب فنا کا حصول اور اپنے مبدا سے اتحاد اس پر منحصر ہے کہ محسوسات قطع تعلق کرے پس غفلت کی ۱۲

(91)

حکایت ۱؎ اگر تو سُنے اُتپت پر کرن کی حقیقت کو تو خوب سمجھے گا

نیند میں اور قیامت کے بعدکہ عالم محسوس اور شہود سے نشان باقی نہیں رہے گا چاہئے کہ مکُت حاصل ہو مرشد اس کو جواب دیتا ہے کہ باسنا ایک سبز اور باریک ریشہ کے موافق کہ کول گٹا یعنی  نیلو فر کے تخم میں ہوتا ہے اور تمام بوٹہ اور ڈالی اور پتی اُسی سبزی میں پوشیدہ ہے کہ ہر وقت اس سے نکلتی ہے اسی طرح صورت لطیف اجمال عالم محسوس کی  نفس میں جس طرح کی تھی حالات مذکورہ میں باقی رہتی ہے اور اُس کا دور ہونا قصد اور ارادہ کے ساتھ حیات فانی کی حالت میں منحصر ہے کہ حضرات صوفیہ نے اس کی طرف اشارہ اس قول سے کیا ہے۔  موتوا قبل ان تموتو ا ۔ یعنی مرد تم پہلے مرنے سے یعنی مردہ کرتا خواہشوں کا اور خطروں و ماومنی کی نفی اس قول سے مُراد لی ہے اورجب تلک کہ بالکل خطرے دور نہ ہوں اور ماومنی برطرف نہ ہوجائے فنا کے مرتبے کا حصول محال ہے تو بالضر ورخطر ہ محسوسات نفس کو جانب محسوسات لے جائے گا ۱۲حقائق ۲؎ اور معارف خواہ وقائق حکمت کو داستاں کے پردہ میں بیان کرنا حکما ہند کا خاص ایجاد ہے۔جس عہد سے کہ نوشیرواں کتاب کلیلہ دمنہ کو جو حکمت عملی کے باب میں  تالیف ہوئی تھی تدبیر وحیلہ کے ساتھ ہندوستان سے عجم میں لگ گیا اہل فارس وغیرہ میں بھی یہ طرز شائع ہوگیا۔  شیخ سعدی نے تہذیب اخلاق میں گلستاں اور بوستاں اور مولانا جلال الدین اور فریدالدین عطار نے حقائق اور معارف الہی میں مثنو مات تالیف فرمائیں اور اُ ن کے علاوہ اور بہت لوگوں نے اس راہ میں قدم رکھا خلاصہ یہ ہے کہ اکاسج برہمن کی داستان جس سے مراد برھما ہے اُس حضرت کی تقدیس اور تنزیہ کے بیان میں اُسی قسم کی خیال کرنی چاہئے چنانچہ اُس کی صفت داستاں کے درمیان لکھتا ہے کہ خدا سے نزدیک اور حاضر اور خلق خدا کے ساتھ دوست یعنی خود ۱۲

(92)

حکایت اکا سج ایک برہمن صالح خدائیاں کا مقرب اور آگاہ تھا اور حق تعالیٰ کی خلق کا دوست اور بھلا چاہنے والا بڑی عمر اُس کی ہوئی ایک دن موت نے جو ملک الموت کے خدمتیوں سے ہی اُسے دیکھ کر کہا کہ میں تمام عالم کو چرندم خورندم کرتی ہوں اس برہمن میں میری طاقت او ر قدرت اثر نہیں کرتی جس طرح تپھر میں تلوار کاٹ نہیں کرتی اپنی قدرت کے جتلانے کے لیے اس کے مارنے کے قصد میں پھرتی تھی اور اس کی دہشت سے بغیر کام کیے واپس آتی تھی ایک دن پکّا ارادہ کر جو نہیں اُس کے دروازے پر پہنچی ایک آتش گھر سے باہر نکل کر چاہتی تھی کہ اُس کو جلادے موت اسے بچا کر گھر میں داخل ہوئی اس قصد سے کہ اکاسج پر غالب آئے ہر چند جد وجہد کیے اور سوہاتھ سے اس پر حملہ کیا مگر غالب نہ آسکی اور تصرف اس میں نہ کرسکی موت کو بڑا اچنبھا ہوا حقیقت حال اس کی ملک الموت کے سامنے پیش کی ملک الموت نے کہا تو کسی کو نہیں مارتی بلکہ سب کو اسی کا عمل مارتا ہے ۔  جا اور اس کے عمل کی تلاش کر کہ کیونکر ہے موت نے اُ س کا

۱۲؎ صفت ایجاد کا تعیّن ہے ۔  رام چندر نے بھی داستان کے خاتمہ پر اس رمز کو ظاہر کیا ہے مطالعہ کرنے والے کو معلوم ہوگا بلند نظران صاحب بصیرت کو داستان کےاشارات اور موز مندر جہ سے پوشیدہ مطالب کے نفس کو پہنچ جانا مشکل نہیں ہے۱۲

(93)

عمل دریافت کرنے کے لئے تینوں لوک سیر کی  اور سب کسی سے احوال اُس کا پوچھتی پھری کہیں اُس کے برُے بھلے عمل سے خبر نہ پائی دوسری دفعہ ملک الموت کے پاس آئی او رکہا میں نے تمام عالم من گشت کیا اور اس باب میں تگا پو کی ہر گز اکاسج کے عمل کا پتہ نہ لگا ملک الموت نے کہا کہ دراصل اُس کا کوئی عمل نہیں ہے وہ جدا کاس سے بنا ہے جیسے کہ جدّا کاس نہایت نرِمل ۲؎ یعنی لطیف ہے کرم او رعمل نہیں رکھتا وہ بھی نہیں رکھتا مثلاً صورت جو پانی میں نظر آئے نرِمل ہے اور پانی سے علیحدہ نہیں اب کوشش اُس کے ہلاک میں  نہ کر کہ یہ فعل عبث ہے اور تیرا ہاتھ اُس تک نہ پہنچے گا موت اس سعی کو بیجا دیکھ کر اُس سے دستکش ہوئی۔

 

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910

URL for Part-2:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---2-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-ایک/d/7927

URL for Part-3:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---3)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--بسوامترا-رامچندر-مکالمہ-(حصہ-دو/d/7943

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---4)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--مہا-پرلے-کی-نشانیاں/d/7954

URL for Part-5:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---5)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن--رام-چندر-کا-کلام/d/7965

URL for Part-6:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---6)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن----سکھدیو-کی-حکایت/d/7978

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---7)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---کامدہین--اور-راجہ-ہر-چند-کا-واقعہ/d/7994

URL for Part-8:http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---8)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--نِت-اور-انِت-کی-تحقیقات/d/8003

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---9)-جوگ-بسشت--مجھ-بیوہار-پرکرن--شبم،-بچار،-سنتوکھ-اور-سادہ-سنگم/d/8018

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh---10)-جوگ-بسشت--اتپت-پرکرن--عالم-کی-نمود-اور-ظہور-کی-ابتدا/d/8031


Loading..

Loading..