New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:15 PM

Books and Documents ( 14 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 9) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 9

 

خورشید احمد فارق

عہد فاروقی کا اقتصادی جائزہ

عمر فاروق کا تقرر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جانشین مقرر کئے بغیر دنیا سے رخصت ہوگئے تھے لیکن ابوبکر صدیق نےوفات سے پہلے اپنے معتمد خاص اور مشیر  عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لئے اپنا جانشین نامزد کردیا تھا ۔ سنت نبوی  سے اس انحراف کی وجہ یہ تھی کہ ابو بکر صدیق کے سامنے وہ پرُ اذیت ہنگامے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد انتخاب خلیفہ کے معاملہ  میں صحابہ  کے درمیان پید ا ہوگئے تھے ، جن کے نتیجہ  میں صحابہ کے تعلقات  کشیدہ ہوگئے تھے  ، مسلمانوں کی وفادار یاں بٹ گئی تھیں اور مدینہ میں کئی سیاسی پارٹیاں وجود میں آگئی تھیں جو ایک دوسرے پر نقد کرتی تھیں اور اپنے اپنے امیدوار وں کو مسند خلافت  پر متمکن دیکھناچاہتی تھیں ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تو امیدوار ان خلافت اپنے حمایتیوں کاسہارا لے کر آپس  میں لڑنے لگیں گے اور اسلام کے تسخیری مشن کو سخت نقصان پہنچے گا ۔ ان کی آخری علالت کے دوران ایک متمول اور بار سوخ مُہاجر قُرشی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عیادت کو آئے اور انہیں دیکھ کر بولے:  اب تو آپ کی طبیعت اچھی معلوم ہوتی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، میری طبیعت بہت خراب ہے اور آپ لوگوں کا طرز عمل میرے لئے مرض سے زیادہ تکلیف  دہ ہے، میری نظر میں جو شخص  سب سے زیادہ اہل تھا میں نے اسے اپنا جانشیں مقرر کیا تو آپ سب کامنہ پھول گیا، آپ میں سے ہر شخص خود خلیفہ بننا چاہتا ہے کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ دنیا امنڈ پڑی ہے ۔ واللہ إنی لشدید الرجع ولما ألقی منکم یا معشر المہا جرین أشد علی من وجعی، إنی وَلیتُ أمرکم خیر کم فی نفسی فکلکم ورِم أ نفُہ إرادۃ أن یکون ھٰذا الأَ مر لہ وذلک لما رأیتم الدنیا أقبلت ۔ ایک دوسرے قرشی رئیس اور امیدوار خلافت طلحہ بن عُبید اللہ رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تحریری فرمان کے ذریعہ عمر فاروق  کو اپنا جانشیں مقرر کردیا ہے تو وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے پاس آئے اور انداز برہمی  سے بولے : آپ نے عمر کو اپنا جانشیں مقرر کیا ہے حالانکہ آپ ان کو دست درازیوں سے جودہ آپ کے حین حیات لوگوں  کے ساتھ  کرتے رہے ہیں خوب واقف  ہیں ، آپ کے بعد ان کا کیا حال ہوگا ، خدا آپ سے پوچھے گا کہ رعیت  کو کس کے سپرد کیا ہے تو آپ  کیا جواب دیں گے ؟ إستخلفت علی الناس عمر و قدر أیت مایلقی الناس منہ وأنت معہ فکیف إذاخلا بہم و أنت لاق ربک فسادئلک عن رعیتک ۔

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کااشارہ کہ آپ میں سے ہر شخص خود خلیفہ  بننا چاہتا ہے ان پانچ مہاجر صحابیوں  کی طرف ہے : طلحہ بن عُبید اللہ، علی حیدر رضی اللہ عنہ ، زُبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ۔ یہ پانچوں قرُشی تھے اور خوب مالدار ، ان میں سے آخری دو اپنی مالی قربانیوں  ، اسلامی خدمات، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق خاص اور معاشرہ میں اپنی دولت مندی  نیز داد و دہش سے پیدا ہونے والے وقار  کے باعث  خود کو خلافت کا مستحق  ضرور سمجھتے تھے لیکن اس کے لئے ان کے دل میں کوئی غیر معمولی کشش نہیں تھی اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے خلافت کے لئے انہوں نے کوئی تحریک بھی نہیں چلا رکھی تھی ۔ دونوں  زندگی  کے اس دور میں تھے جب دنیاوی جاہ و جلال کی اُمنگیں  کمزور ہوجاتی ہیں ، مزید برآں وہ دونوں اپنے تجارتی کاروبار میں ہر طرح خوش ، مطمئن اور آسودہ حال تھے ۔ اِ س کے برخلاف علی حیدر رضی اللہ عنہ ، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ  اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کے دلوں میں خلافت کے پرزور امنگ تھی، یہ تینوں  اپنی عمر  کے وسطی مراحل  سے گذررہے تھے،جب بالعموم بلند مراتبت کی آرزو ئیں  دل پر چھاتی رہتی ہیں ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت لگ بھگ چھتیس سال ، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی اکتالیس اور زبیر عوّام رضی اللہ عنہ کی تینتالیس سال تھی ۔ علی حیدررضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ قدامت اسلام ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوہرے رشتہ اور ممتاز جہادی کا ر گذار یوں کے باعث و خلافت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں نیز یہ کہ اپنی آخری علالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تحریر لکھوا کر انہی کو خلافت کے لئے نام زد کرنا چاہتے تھے لیکن عمر فاروق نے انہیں ایسا  کرنے سے باز رکھا تھا ۔ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کے مقرب ساتھیوں میں سے تھے ، انہوں نے غزوات میں نمایاں حصہ لیا تھا اور جہادی  سرگرمیوں کی تقویت کے لئے فراخ دلی سے روپیہ پیسہ خرچ کرتے رہے تھے ۔ علی حیدررضی اللہ عنہ کو اپنے بااثر ہاشمی گھرانے نیز بہت سے انصار  یوں کی جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت سے غیر مطمئن تھے حمایت حاصل تھی ، طلحہ  بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کو اپنے اپنے خاندانوں  اور خیر اندیشوں کی ۔

پینتالیس سالہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو اس طرح کے ہنگا مے نہیں ہوئے جیسا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے وقت برپا ہوئے تھے لیکن اس بات کی قوی شہادت موجود ہے کہ نئے خلیفہ کے روکھے پن ، تشدد پسندی اور احتسابی نظر سے امیدوار ان خلافت بالخصوص اور صحابہ  بالعموم مضمحل اور بد دل تھے اور ان کی خلافت سے اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کےلئے کچھ  عرصہ تک ترک موالات  کرتے رہے تھے ۔ ابو بکر صدیق  کے عہد  میں عرب ۔ عراق سرحد پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی نگرانی میں سرحد کے عرب قبیلوں نے عراق  کی سرحدی فارسی بستیوں پر بڑے پیمانہ  پر ترکتاز شروع کردی تھی، جب عربوں نے ایک طرف حیرہ، انبار اور عینُ التّمر جیسے اہم سرحدی شہروں کو پامال  کر ڈالا اور دوسری طرف خالد بن ولید کو عراق  سے ہٹاکر شام کے مورچے پر بھیج دیا گیا تو عراق  کی فارسی حکومت عربوں  کی اپنی سرحد سے نکالنے کی طرف سنجیدگی سےمتوجہ ہوگئی ۔ اس نے اپنی سرحد قریب کی فوجی چوکیاں مستحکم  کرلیں اور اس کی کئی  فوجیں مستعد جنرلوں کی قیادت  میں عربوں کی اپنی سرحدی بستیوں اور شہروں سے نکالنے کے لئے پیش قدمی کرنے لگیں ۔ سرحد کے چھاپہ مار مسلم قبائل کمزور پڑ گئے ۔ او ران کے بڑے کمانڈر ثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ خلیفہ کو صورت  حال سے مطلع کر نے او رکمک  لینے خود مدینہ آئے، اس وقت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شمع حیات بجھنے والی تھی ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ ہوتے ہی ایک جلسہ منعقد کیا اور باشندگان مدینہ  کو عرب۔ عراق سرحد جاکر فارسیوں  سے لڑنے کی دعوت دی لیکن کوئی لڑنے کو تیار نہیں ہوا۔ تین دن تک عمر فاروق اہل  شہر کو سر حد عراق  جانے کی ترغیب و تلقین کرتے رہے جس کے زیر اثر کئی سو عرب جہاد  کے لئے تیار  ہوگئے لیکن  کسی ممتاز  یا بار سوخ  صحابی  نے جانے کی حامی نہیں بھری ۔ چوتھے دن عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے پھر عام جلسہ کر کے لوگوں  کو للکارا ۔کوئی صحابی اب بھی ان کی ماتحتی  میں فوجی قیادت  سنبھا لنے کے لئے تیار نہیں  ہوا ۔ جلسہ میں ایک ثَقفی  تاجر ابو عبید موجود تھے ۔ ہر طرف جمود دیکھ کر انہیں جوش آگیا اور انہوں نے کھڑے ہو کر اسلامی فوج کی قیادت کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ ابو عبید سے واقف تھے لیکن وہ نہ قرشی تھے نہ صحابی ، فوج کی سپہ سالار ی کے لئے ان دونوں صفات کا ہونا ضروری تھا ۔ صحابہ کی بے اعتنائی کے پیش نظر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےابو عبید میں ان دونوں  صفات کی عدم موجودگی کے باوجود ان کی پیش کش قبول کرلی او رانہیں سالار اعلیٰ بنادیا ۔ اس انتخاب پر صحابہ اور بالخصوص امیدوار ان خلافت کی طرف سے اعتراض ہونے لگے اور اصرار کیا گیا کہ سپہ سالار ی کا عہدہ صحابی کے سپرد کیا جائے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ اتنے کبیدہ خاطر تھے کہ انہوں نے اعتراض کی پرواہ نہیں کی اور ابو عبید ہی کی قیادت میں ایک ہزار فوج روانہ کردی جس کی  بڑی تعداد مدینہ  کے باہر کے بدوؤں پر مشتمل تھی ۔

سو ا دو برس پہلے جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلافت کا چارج لیا تھا تو جزیرۃ العرب میں اسلام کو نہ سیاسی استحکام حاصل تھا نہ مذہبی پایندگی ۔ ملک کے طول و عرض میں عربوں نے مدینہ کی بالادستی سے آزاد ہونے کا اعلان کر دیا تھا ۔ زکات بند ہوگئی تھی اور بیشتر جزیہ گذار عیسائی اور پارسی اقلیتوں نے جزیہ دینا موقوف کردیا تھا ۔ ملک میں کئی طاقتور حریف مدینہ کے اقتدار ختم کرنے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم کردہ اقتصادی وسائل سے دو برس کے قلیل عرصہ میں جزیرہ کے عربوں کو دوبارہ اسلام کا تابع اور مدینہ کا وفادار بنا لیا ۔ زکات بحال ہوگئی ، جزیہ کی مقررہ رقمیں حسب سابق خزانہ میں آنے لگیں ۔ جزیہ میں اسلامی اقتدار استوار کرنے کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پڑوس کی عراقی اور شامی سرحدوں پر ترکتاز اور فتوحات کرنے کے لئے وہ فوجیں بھیجیں  جو ردّہ  بغاوتوں سے فارغ ہوکر معطّل ہوگئی تھی ۔ انہوں نے عرب ۔ عراق سرحد کے بہت سے دیہات پامال کر ڈالے تھے اور کئی اہم شہروں اور فارسی چوکیوں ( اُلیس ، با نقِیا، بارُوسما) کو جزیہ گذار بنا لیا تھا ۔ سرحد شام کے بھی بہت سے گاؤں ، قصبے ان کی ترکتاز کے لپیٹ میں آگئے تھے او رمتعدد بستیوں نے جزیہ دے کر اپنے مذہب اور جان ومال کی امان لے لی تھی ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو ان کو کچھ عرصہ تک مدینہ کے بعض مہاجر و انصار اکابر کے عدم تعاون سے ضرور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ملک کے طول و عرض میں عرب  قبائل اور ان کے لیڈر پوری طرح مدینہ کےوفادار تھے ، سرحدوں پر لڑنے والی فوج اور ان کے سالاروں نےبھی عمر فاروق کی خلافت پر کسی عملی مخالفت کا اظہار نہیں کیا ۔ آمدنی کے وہ تمام سوتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھول گئے تھے جاری تھے ۔ عہد صدیقی میں سر حد شام و عراق پر مسلم ترکتاز سے برابر مال غنیمت  کا خمس حاصل ہوتا رہا ہے اور دونوں سرحدوں کے متعدد قصبوں اور شہروں کے اسلامی تسلط میں آنے سے بہ شکل  جزیہ مرکزی آمدنی کا ایک نیا دروازہ کھل گیا تھا ۔

نئے علاقوں پر سیاسی و اقتصادی غلبہ

خلافت کے وقت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عمر تقریباً پینتالیس سال تھی ۔ بھاری بھرکم اور خوب مضبوط آدمی تھے ، بڑے جوشیلے ، باحوصلہ اور اولوالعزم ۔ انہوں نے ساڑھے دس سال حکومت  کی اور اس عرصہ میں ان کی فوجیں شرق ا وسط کے بڑے رقبہ  میں سر گرم عمل رہیں ۔ زام حکومت ہاتھ میں لیتے وقت اسلامی تسلط عراق و شام کی سر حدی عملدار ی تک محدود تھا لیکن ساڑھے دس سال بعد ان کا انتقال ہوا تو مصر تا لیبیا،شام  ، عراق ، میسور پوٹامیہ :اوربی جان اور بیشتر فارس پر  ان کی فوجوں نے سیاسی اور اقتصادی غلبہ حاصل کر لیا تھا ۔سر حد عراق وشام پر کل ملا کر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی چالیس پینتالیس ہزار فوجیں مصروف جنگ تھیں لیکن عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عراق ، شام ، مصر اور فارس کی تسخیر کے لئے ان سے کئی گنا زیادہ فوجیں مہیا کیں ، ہتھیاروں ، گھوڑوں اور اونٹوں کی تعداد اضعافاً مضعفہ تھی، مفتوحہ علاقوں پر اسلامی غلبہ بر قرار رکھنے اور بغاوتوں کی روک تھام کے لئے انہوں نے اہم شہروں میں فوجی مرکز قائم کئے جہاں ہزاروں کی تعداد میں عرب فوجیں کیل کانٹے سے لیس ہر وقت جہاد کے لئے ڈٹی رہتی تھیں انہوں نے عراقی سرحد پر دو بڑی چھاؤنیاں (بصرہ اور کوفہ) قائم کیں جہاں عراق و فارس کی فاتح افواج متعلقہ علاقوں میں بغاوت دبانے اور نئے علاقے فتح کر نے کے لئے ہروقت تیار رہتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے گھوڑوں کے لئے نقیع نامی ایک سر سبز اور وسیع میدان مدینہ  کےمضافات میں محفوظ کر لیا تھا ، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہزاروں گھوڑے رہتے تھے ، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں رِدّہ بغاوتیں کچلنے میں نقیع کے گھوڑوں نے اہم ترین خدمت انجام دی تھی ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کثیر الجہات فوجی اقدامات کے مطالبے اتنے بڑھے کہ نقیع کی سپلائی نا کافی ہوگئی او رانہوں نے گھوڑے پالنے اور ان کی نسل کشی کے لئے ایک دوسری چراگاہ ریزرو کرلی جس کا نام شرف تھا ۔ ایک تیسرا طول طویل میدان انہو ں نے اونٹوں کے لئے مخصوص کرلیا ، اس کا نام رَبَذہ تھا اور یہاں زکات اور غنیمت کے اونٹ رکھے جاتے تھے اور فوجی سامان نیز سپاہیوں  کو میدان کا رزارتک پہنچانے کے کام لائے جاتے تھے ۔ اونٹوں او رگھوڑوں کے اس مرکزی اسٹاک کے علاوہ مفتوحہ ممالک کی چھاؤنیوں میں بھی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہزاروں گھوڑے بغاوتیں دبانے اور نئے علاقے مسخر کرنے کے لئے ہر وقت مستعد رہتے تھے ۔ سیف بن عمر: عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے چار ہزار گھوڑے (کوفہ میں) اتفاقی ضرورت کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے ، جاڑوں میں یہ گھوڑے قصر کوفہ  کے بالمقابل اور دائیں جانب کے میدان میں چرتے اور گرمیوں میں دریائے فرات اور کوفہ  کے مکانات کے درمیان واقع میدانوں میں ، اتنی ہی تعداد میں گھوڑے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ کی چھاؤنی  میں رکھے تھے ، انہوں نے مفتوحہ ممالک کے آٹھویں فوجی مرکزوں میں بھی چار چار ہزار گھوڑے تیار رکھنے کا بندو بست کیا تھا، اگر کوئی نا گہانی سانحہ ( بغاوت ) پیش آتا تو کل فوج کے تیار ہونے تک اس کا ایک حصہّ گھوڑوں پر سوار ہوکر تیز ی سے موقع واردات پر پہنچ جاتا تھا ۔  کان لعمراً ربعۃ آلاف فرس عُدّۃ لکون إن کان ، یُشتّیہا فی قبلۃ قصر الکوفتۃ و میسر تہ .....و یُر تبعہا فیما بین الفرات و الأ بیات من الکوفۃ ....... و با لبصرۃ نحو منھا و فی کل مصرمن الأ مصار الثمانیۃ علی قدر ھا ..... فان نابتھم نائبۃ رکب قوم و تقد موا إلی أن یستعدالناس ۔ رپورٹر بتاتے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک سال میں ساٹھ ہزار فوج مدینہ سے شام اور عراق کے محاذوں  کو چالیس ہزار اونٹوں پر سوار کر کے بھیجا کرتے تھے ۔ عن یحی بن سعید أن عمر بن الخطاب کان یحمل فی العام الواحد أ ربعین ألف بعیر ....... یحمل الرجل إلی الشام و یحمد الرجلین ابی العراق علی بعیر ۔

URL for part 8:

http://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-8)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-8/d/35745

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-9)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-9/d/35761

 

Loading..

Loading..