New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 10:50 AM

Books and Documents ( 13 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 8) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 8

 

خورشید احمد فارق

3۔ مکّی عرب (قریش)

(الف) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی اقارب

انصار کی  طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی اقارب بھی خلافت کے خواہش مند تھے اور چاہتے تھے کہ انکے بتیس سالہ نمائندے علی حیدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہوں تاکہ خلافت کے مذہبی وقار کے ساتھ اس کے مادی منافع کے بھی وہ پوری طرح متمتع ہوتے رہیں لیکن خلافت ان کے ہاتھ سے نکل گئی ۔ اس محرومی اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خالصہ املا ک سے دوسرمی محرومی کا سب سے زیادہ قلق علی حیدر رضی اللہ عنہ کی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ہوا اور ان کے دل و دماغ پر ایسی چوٹ لگی کہ وہ ابو بکر صدیق کی خلافت کے چند ماہ بعد عین عالم جوانی میں جب کہ ان کی عمر چھبیس ستائیس سال سے زیادہ نہ تھی دنیا سے کوچ کرگئیں ۔ علی حیدر نے بی بی فاطمہ کی حین حیات ابوبکر صدیق کی بیعت نہیں کی تھی اور یہی حال دوسرے ہاشمی اکابر کابھی تھا  ۔  غیر ہاشمی مہاجرین قریش کو ہاشمی قریش کی بے توازن دولت مندی اور اس سے نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت اور التفات خاص سے پیدا ہونے والی رعونت پہلے ہی کھل رہی تھی، بیعت  و خلافت کے معاملہ میں ان کی مخالفانہ روش سے وہ اور زیادہ چڑگئے ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقائے کار کے مشورہ  سے ذوی القربی کا وہ حصہ بند کردیا جو مدنی قرآن نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اور رسول اللہ خمس الخمس کے ذاتی حصے نیز خالصہ  نخلستانوں اور فارموں سے بنو ہاشم کی اقتصادی تقویت کے لئے وقتہً فوقتہً جو عطیے دیتے رہتے تھے وہ بھی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے موقوف کردئے ۔ اس خوف سے کہ مدینے سے دور ہوکر ہاشمی اکابر کے ہاتھوں کوئی بغاوت نہ ہوجائے نئی  حکومت نے انہیں اور اُن کے با حوصلہ جوانوں کو اعلیٰ فوجی اور رسول عہد ے بھی نہیں دئے ۔ صدیقی فوجوں او رمعرکوں میں ہاشمیوں کابہت ہی کم نام آتا ہے ، اس کی وجہ صرف یہی نہیں تھی کہ نئی  حکومت انصار کی طرح ہاشمیوں کوبھی بطور احتیاط اور اپنی ناراضگی کے اظہار کے لئے بڑے عہدوں سے محروم رکھنا چاہتی  تھی بلکہ خود ہاشمی خاندان کے افراد بھی عام سپاہیوں  کی طرح فوج میں بھرتی ہوکر غیر ہاشمی سالاروں کے ماتحتی  میں کام کرنا کسرِ شان سمجھتے تھے۔ اس کے علاوہ ہاشمیوں کی اور بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی اقارب کی مالی حالت اتنی بہتر ہوگئی تھی کہ ان کو فوج میں بھرتی ہونے کے چنداں ضرورت بھی نہیں تھی ۔

عہد نبوی میں بنو ہاشم  کی اقتصادی خوش حالی کے دو سر چشمے تھے (1) منقولہ دولت جو زر وسیم ، ہتھیاروں ، گھوڑوں  ، اونٹ ، غلّے او رکھجور پر مشتمل  تھی، یہ چیزیں انہیں خمُس الخُمس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطیات سےحاصل ہوتی تھیں ۔ (2)  غیر منقولہ دولت یہ ان زمینوں اور نخلستانوں پر مشتمل  تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے اور خیبر سے نکالے ہوئے یہودیوں کی املاک سے عطا کی تھی ۔ عہد صدیقی میں اگرچہ بنو ہاشم کو نہ تو جاگیر یں ملیں، نہ خمُس الخُمس او رنہ اس کے عطیات جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیا کرتے تھے، اس کے باوجود وہ عہد نبوی سے زیادہ متمول  ہوگئے ۔ خلافت و امارت سے محروم ہوکر ان کی بیشتر توجہ اپنی جاگیروں اور باغوں کو زیادہ پر منفعت بنانے کی طرف مبذول ہوگئی ، ان کے پاس غلام کافی تعداد  میں موجود تھے اور نقد روپیہ بھی وافر تھا جس سے زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور قابل کاشت زمینوں نیز نخلستانوں کی پیداوار بڑھانے کے لئے مزید غلام اور متعلقہ اشیاء خریدنے پر قادر تھے ۔ انہوں نے زمینوں اور باغوں میں محنت  مزدوری کرنے کے لئے غلام مامور کردیئے اور اُن کی نگرانی کے لئے کار گذار موانی مقرر کر دیئے ۔ ان سب  کی کوشش سے بنو ہاشم کے کھیتوں  او رباغوں کی پیداوار پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ۔ آبادی  ، پیداوار اور دولت کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی جاگیر وں اور باغوں کی قیمت  میں بھی اضافہ ہوگیا ۔ ایک دوسرے دروازے سے بھی خوش حالی ہاشمیوں  کے گھر میں داخل ہونے لگی، یہ تجارت ، مُضاربت اور مُکا تَبت کا دروازہ تھا ۔ بنو ہاشم تجارت میں جوان کے آباؤ اجداد کا محبوب مشغلہ  رہا تھا ماہر تھے لیکن سابق کی طرح وہ اب ملک ملک اور شہر کاگشت نہیں لگاتے تھے ، بانی اسلام کے اقارب کی حیثیت  سے ایسا کرنا ان کے شایان شان نہیں تھا۔ باغوں اور زراعتی فارموں  کی طرح تجارت کی ساری دوڑ دھوپ ان کے غلاموں  اور موالی  کے سپرد تھی ۔ نفع میں شرکت  کر کے تجارت کے لئے روپیہ قرض دینے  کو عرف عام میں  مُضارَبت کہا جاتا تھا او رمقررہ رقم یا سامان کے بالمقابل  غلام آزاد کرنے کا اصطلاحی نام مُکاتبت تھا ۔ بنو ہاشم کی ان دونوں  طریقوں سےبھی معقول  آمدنی تھی ۔

(ب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر ہاشمی اقارب

 ان کے دو طبقے تھے ، ایک وہ طبقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پر دادا ہاشم کے بھائی عبد شمس کی اولاد سے تھا اور اسلام سے پہلے تجارت ، اقتدار اور ریاست  مکہ کی دوڑ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پر دادا ہاشم کی اولاد کا حریف رہاتھا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے تحریک اسلام کی تن من دھن سے مخالفت کی تھی، جس کی قیادت میں بدر، اُحُد اور خندق کی لڑائیاں  ہوتی تھیں اور جو اِن لڑائیوں  کے بعد فتح  مکہ یعنی  8؁ ھ تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں  کرتا رہا تھا اور جس کو بالأ خر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی عسکری طاقت  کے سامنے جھکنا پڑا تھا ۔ دوسرے طبقے میں وہ غیر ہاشمی قریش گھرانے تھے جن کے بعض اشخاص شروع ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے ہوا خواہ رہےتھے۔جنہوں نے اسلام کی تقویت اور اشاعت کے لئے بھر پور کوشش کی تھی اور جن کی ایک مقرب جماعت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازدواجی تعلقات قائم کرلیے تھے ۔ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ،عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ ،طلحہ بن عبیداللہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اس طبقے کے ممتاز ترین نام ہیں یہ لوگ جب ہجرت کر کے مدینے آئے تو ڈیڑھ دو برس تک چند در چند مالی مشکلات میں مبتلا رہے، اس کے بعد جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ جاگیروں ، نخلستانوں اور غنیمت کے سامانوں  سے انہوں نے اقتصادی توانائی حاصل کرلی اور اسے مزید استحکام دینے کے لئے اپنے آبائی پیشے تجارت میں بھی تندہی سے لگ گئے۔ ان کی آمدنی کے اب دو بڑے ذریعے ہوئے : (1) نخلستان ، زراعتی فارم نیز غلّے او رکھجور کے وہ سیکڑوں من  سالانہ عطیئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی پیدوار  سے ان کے لئے مقرر کر دئے تھے   اور (2) تجارت ، مُضاربت  او رمکاتبت عہد صدیقی میں یہ دونوں ذریعے کَمیت او رکیفیت میں بڑھتے  رہے، اس طبقے  کے اکابر  نے ان دونوں راہوں سے جو حیرت انگیز اقتصادی ترقی حاصل  کی اس کی کچھ مثالیں اگلے اوراق میں پیش کی جائینگی ۔

پہلے طبقے (عبد شمس) کے اقارب نے اگرچہ  7 اور 8؁ ھ میں اسلام قبول کیا تھا اور اس مادی منافع سے محروم رہے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاشمی اقارب نیز غیر ہاشمی اقارب کے طبقہ دوم کو حاصل ہوئے تھے ، تاہم قبول اسلام کے بعد ہی ان لوگوں نے نئے معاشرے میں اپنے لئے ایک باوقار اور پرُ منفعت جگہ بنانے کی کوشش شروع کردی تھی۔ اس طبقے کی مستعدی اور اولوالعزی سے رسول اللہ اچھی طرح واقف تھے۔ انہوں نے کچھ تو اس کی تالیف قلب کے لئے، کچھ اُس نقصان کی تلافی  کے لئے جو اس کو جانی اور مالی طو ر پر نبوی جنگوں میں ہوا تھا او رکچھ اس کی مستعدی سے فائدہ اٹھانے کے لئے اس کی ایک باصلاحیت جماعت کو سرکاری عہدے عطاکئے ، ان میں مشہور قریشی زعیم او رمؤ لفۃ القلوب کے سر گردہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر ابو سُفیان ، ان کے دو لڑکے معاویہ اور یزید ، ابو جہل کے لڑکے عِکرمہ ، عاص بن اُمیہ کے لڑکے عمر و ،اَسید بن ابی العِیص بن امیہ کے لڑکے عَتّاب قابل ذکر ہیں۔

عہد صدیقی میں اس طبقے کو معاشی خوش حالی اور سماجی احترام حاصل کرنے کے مزید موقعے ملے، یہ طبقہ چونکہ اسلام دشمن رہا تھا اور بہت دیر میں مسلمان ہو ا تھا اس لئے اس میں اس طرح کی کوئی رعونت نہیں تھی جیسی کہ ہاشمیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خونی تعلق ۔ ان کے التفات خاص، اپنے تمول اور قدامت اسلام اور انصار میں اپنی اسلامی خدمات اور غیر معمولی جانی ومالی قربانیوں کے باعث پیدا ہوگئی تھی ، وہ ہاشمیوں اور انصار کی طرح خلافت کا دعویدار بھی نہیں تھا، اسلام کی ناقابل تسخیر قوت نے اُس کو سہارا دیا تھا اور وہ پوری طرح اس کے سامنے اپنا سر نیاز خم کر چکاتھا اور نیک نیتی  سے نئے نظام کی خدمت  کر کے اپنا کھو یا ہوا بھرم قائم کرنا چاہتا تھا ۔ اس کی نیاز مندی کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ابو سُفیان رضی اللہ عنہ کی کوئی بات ناگوار ہوئی تو انہوں نے آخر الذ کر کو طلب کیا اور وہ جب آئے تو بآواز بلند انہیں  ڈانٹنے ڈپٹنے لگے، ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے ماتھے پر نہ تو بل پڑا اور نہ وہ مشعل  ہوئے بلکہ سر جھکائے قصوروار وں کی طرح ڈانٹ پھٹکار سنتے رہے ۔ ابوبکر صدیق کے والد ابو قُحافہ سے اتنے بڑے آدمی کی ذلت نہ دیکھی گئی او رانہوں نے بڑھ کر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے احتجاج کیا: تم ابوسفیان رضی اللہ عنہ پر چیخ رہے ہو جوکل تک قریش کاسرتاج تھا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسکرا کر بولے : ابا، اسلام کی برکت سے خدانے ایک طبقے کواٹھا دیا ہے اور دوسرے کو گرادیا ہے ۔

بنو ہاشم نےانصار کی طرح رعونت دکھا کر ، خلافت کادعویٰ کر کے اوراپنے حکمرانوں سے بگڑ کر ان کااعتماد اور ہمدردی کھودی تھی، حکمرانوں کی نظریں ان کی طرف سے پھر گئیں اور انہوں نے خلافت کے اعلیٰ عہدے سے ان دو طبقوں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر ہاشمی اقارب کو سونپ دیئے  ، ان میں پہلا طبقہ ( عبد شمس کی اولاد) جو بنو اُمیہ کے نام سے مشہور ہے ، زیادہ چمکا، اس طبقہ نے اسلام سے پہلے مکہ کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی اسٹیج پر بھی امتیازی رول ادا کیا تھا ، اس کو ہاشمیوں  اور انصار کی نسبت  دنیوی معاملات کی سمجھ بوجھ بھی زیادہ تھی اور اُس کے اُن افراد کو ریکارڈ بےعیب رہا تھا جنہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عہدے دئے تھے ۔ یہ طبقہ عہد صدیقی اور پھر فاروقی و عثمانی دور حکومت میں برابر پھلتا پھولتا رہا اور اپنی  محنت، مستعدی اور نیاز مندی سے بیس پچیس سال کے عرصے میں خلافت کی کشتی کا ناخدا اور اسلامی معاشرے میں سب سے زیادہ  درخشاں اقتصادی خوش حالی کا مالک بن گیا ۔

URL for part 7:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-7)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-7/d/35736

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-8)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-8/d/35745

 

Loading..

Loading..