New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 11:14 AM

Books and Documents ( 12 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 7) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 7

 

خورشید احمد فارق

مسلمانوں کی اقتصادی حالت

1۔ عام عرب

بہت سے قبائلی عرب جو عہد نبوی تک اونٹ اور بکریاں چراتے تھے اور جن کے بہت سے ریوڑ رِدّہ لڑائیوں  میں  مسلمانوں  کے ہاتھ  آگئے تھے جس کے ان  کی معاشی  راہیں تنگ ہوگئی تھیں نیز وہ عرب جو اپنی موجودہ پر مشقت معاشی  زندگی سے پریشان تھے اور اسلامی فتوحات کے سایے میں قسمت  آزمائی  کر  کے بہتر  معاش کی تمنا  رکھتے تھے اپنے دیہا توں سے نکل آئے اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی فوجوں میں بھرتی ہوکر عراق اور شام کے مورچوں کو چلے گئے اور غنیمت کے جلد جلد ملنے والے سہام سے اپنی  معاشی  خوش حالی کی بنیادیں ہموار  کرنے لگے ۔

2۔ مدنی عرب (انصار)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر پہلے انصار نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا اور جب ابو بکر صدیق اور ان کے ساتھیوں  نے اسے مسترد کردیا تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک بار قریشی خلیفہ ہو  اور ایک بار انصاری تاکہ دونوں قبیلوں  کو خلافت اور اس کے اعزاز و منافع  سے متمتع ہونے کا یکساں  موقع مل سکے اور جب ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسے بھی ماننے سے انکار کردیا تو انصار اور غیر ہاشمی قریش کے تعلقات کشیدہ ہوگئے اور انصاری لیڈر سعد بن عُبادہ کو جو خلافت کے امیدوار  تھے اور جنہیں  انصار کے دونوں قبیلوں اَوس اور خزرج نے خلافت  کے لئے نامزد کیا تھا، اتنا غصہ  آیا کہ انہوں نے ابوبکر صدیق کی بیعت نہیں کی اور بگڑ کر گھر بیٹھ گئے ۔ انصار کے اس موقف سے اسلامی معاشرہ میں جس کی قیادت مہاجرین قریش کررہے تھے انصار کا وقار تو گراہی  ان کے اقتصادی فروغ کی راہوں  میں بھی رکاوٹیں  پیدا ہوگئیں ۔ خلافت و امارت میں سہیم و شریک بننے  کی خواہش اور اس کے لئے کشمکش نے حکمران قریش کا دل انصار کی طرف سے مکدّر کردیا، وہ ان کی طرف سے بد ظن ہوگئے اور انہیں بڑے عہدے دینے سے گریز کرنے لگے ۔ قریش حکمرانوں  کو اس بات کا اندیشہ  لاحق ہوگیا کہ گورنر یا کمانڈر بن کر انصار ی لیڈر اپنی خلافت  کے لئے رائے عامہ ہموار  کرلیں گے یا ان عہدوں  سے توانائی پاکر بغاوت  کر ڈالیں گے ۔ انصار کے بہت سے با امنگ لیڈر فوجی اور رسول مناصِب (گونر ی ، سپہ سالاری  اور کلکٹری سے) محروم ہوگئے اور وہ معاشی  سر بلندی حاصل نہ کرسکے جس کی انہیں  تمنا تھی اور اس کے ذریعہ ان کے بہت سے عزیز و اقارب کے لئے  اقتصادی بہبودی کی شان  دار راہیں  کھلنے  کی توقع تھی ۔ خلافت و سیاست کے بڑے عہدوں  سے الگ رکھنے کی جس پالیسی  پر ابو بکر صدیق نے عمل کیا اس پر حسب  ضرورت  جزئی  ترمیم  کے ساتھ عمر فاروق ، عثمان غنی اور پھر بنو امیہ  کے عہد میں عمل ہوتا رہا ، اس پالیسی کے زیر اثر انصار  ہمیشہ کے لئے خلافت  کے میدان  سے خارج ہوگئے  ۔ ہمارے  رائے کی توثیق ابو بکر صدیق اور ان کےجانشینوں کی تاریخ سے اچھی طرح  ہوجاتی ہے۔ عہد  صدیقی  کے گورنر وں، سپہ سالاروں ، کپتانوں او رکلکٹر وں (محصلین زکاۃ) کےنام تاریخ و آثار میں ملتے ہیں:

گورنر

(1) عِتّاب بن اَسِید (قریش) ۔ گورنر مکہ

(2) عثما ن بن ابی العاصی ( ثقیف) گورنر نرطائف

(3) مُہا جر بن ابی اُمیہّ (قریش) گورنر صنعا

(4) یَعلیَ بن اُمیہّ (حلیف قریش) ۔ گورنر خَولا ن (یمن)

(5) ابو موسی اَشعری ( اشعر) گورنر زَبِید درِ مَع ( یمن)

(6) حُذیفہ بن محِصَن (ازد) گورنر عُمان

(7) عَلا ء الدین حضرمی (حلیف قریش) گورنر بحرین

(8) زیاد بن لبید ( انصار ) گورنر حضر موت

(9) عبداللہ بن ثور (غَوث) گورنر جُرَش ( یمن)

(10) سعد بن اَبی  وقّاص (قریش) کلکٹر قبائل ہوازن ( نجد)

سپہ سالار

(11) خالد بن ولید ( قریش) نجدی باغیوں کے خلاف بھیجی  ہوئی فوج  کے سالار اعلیٰ

(12) جریربن عبداللہ ( بجیلہ) نجران بھیجی  ہوئی فوجی مہم کے سالار اعلیٰ

(13) عِیاض بن غنم ( اشعر) دومۃ الجندل بھیجی ہوئی فوجی مہم  کے سالار اعلیٰ

(14) مثنیٰ بن حارثہ (شیبان) بالائی عرب۔ عراق سرحد کی چھاپہ مار فوج کے سالار اعلیٰ

(15) سُوَید بن قُطبہ ( عِجل) زیرین عرب ۔ عراق  کی چھاپہ مار فوج  کے سالار اعلیٰ

(16)  ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ ( قریش ) شام کی حملہ  آور افواج کے سالار اعلیٰ

(17) خالد بن سعید رضی اللہ عنہ  ( قریش) سرحد شام پر پہلی صدیقی  حملہ  آور فوج کے سالار اعلیٰ

سالار

(18) ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ ( انصار ) نجدی باغیوں  کے خلاف بھیجی ہوئی  فوج میں انصاری دستے  کے سالار۔

(19)شر جلیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ ( کندہ) محاذ شام بھیجی ہوئی ایک فوج کے سالار۔

(20) عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ ( قریش) محاذ شام بھیجی ہوئی ایک فوج کے سالار۔

(21) یزید بن ابی سُفیان ( قریش) محاذ شام بھیجی ہوئی ایک فوج کے سالار۔

(22)  معاویہ بن ابی سفیان ( قریش) محاذ شام کی عَقَبی فوج کے سالار۔

(23) ولید بن عُقبہ ( قریش) محاذ شام کی عَقَبی فوج کے سالار۔

(24) صَفوان بن اُمیہ ( قریش) محاذ شام کی عَقَبی فوج کے سالار۔

(25) عِکرمہ بن ابی جہل (قریش) محاذ شام کی عَقَبی فوج کے سالار۔

(26) ہاشم بن عتبہ ( قریش) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(27) مَعن بن یزید ( سُلیم) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(28) سعید بن عامر ( قریش) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(29) حمزہ بن مالک ( ہمدان ) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(30) قیس بن مکشوح ( مراد) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(31) عَدِی بن حاتم ( طیّ) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(32) حبیب بن مسلمہ ( قریش) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

(33) ضَحّاک بن قیس ( قریش) محاذ شام بھیجی ہوئی کمک  کے سالار۔

رسالہ کپتان

(34) ربیعہ بن عامر ( بنو عامر)   شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(35) ضَحّاک بن سفیان ( بنو کِلاب ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(36) علقمہ  بن مُجزّز (کفانہ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(37) زیاد بن حَنظلہ ( تمیم) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(38) قعقاع بن عمرد ( تمیم) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(39) مذعور بن عدی ( عجِل) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(40) وحیہ بن خلیفہ (کلب) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(41) امرأ القیس بن عابس (کندہ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(42) یزید بن یحنس (؟)شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(43) حبیب بن مسلمہ ( قریش) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(44) ابولا عور بن سفیان ( سُلیم) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(45) ابن ذی الخماد ( ثصتیف) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(46) عُمارہ بن مُخَشّی (؟)شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(47) عبداللہ بن قیس (؟)شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(48) عمر بن عَبَسہ ( سُلیم ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(49) سِمط بن اَسود (کندہ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(50)  ذوا لگا رء (حمیر) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(51) مُعاویہ بن خدیج (سکون یا کندہ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(52) لَقیط بن عبدالقیس ( حلیف فزارہ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(53) حوشب ذو ظُلیم (حمِیر) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(54) قیس بن عمر و ( ہوَازن) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(55)  عصمہ بن عبداللہ ( حلیف انصار) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(56) ضرار بن ازدر ( اسد) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(57) مسروق بن فلان (؟)شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(58) عمر بن فلان (؟)شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(59) عُتبہ بن ربیعہ ( سُلیم ) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(60) جاریہ بن عبداللہ ( آشجع) شام کی ایک رسالہ فوج کے کپتان ۔

(61) قَبات بن اَشیم ( لیث) مقدمۃ الجیش کے کمانڈر

(62) ابو سفیان بن حرب ( قریش) فوج میں جہادی آیتوں  کے تلاوت انچارج

(63) ابودردا ( انصاری) قاضی عسکر

(64) عبداللہ بن مسعود ( ہُذیل ) غنیمت  انچارج

یہ ابو بکر صدیق  کے سوا پانچ  درجن عہد ے داروں کی فہرست ہے ، اس میں اونچے درمیانی اور چھوٹے درجے  کے منصب دار شامل  ہیں، بڑے عہدے داروں میں صوبائی گورنروں ، سپہ سالاروں  او ربڑے کمانڈروں کے بارے میں  تو بو ثوق کہا جاسکتا ہے کہ وہ سب کے سب اس فہرست میں داخل  ہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ متوسط اور چھوٹے  درجے  کے افسروں میں سے بعض کے نام رہ گئے ہوں، جن کا ذکر ہمارے  مراجع نے نہ کیا ہو یا جن تک ہماری رسائی  نہ ہوئی ہو۔ اس لمبی  فہرست  میں انصاریوں کے صرف تین نام ملتے ہیں ۔ ان میں سے ایک ثابت بن قیس بن شمّاس رضی اللہ عنہ خطیب  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، یہ  وہی ثابت  بن قیس ہیں جنہوں نے ان الفاظ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  نے انصار اکابر کی طرف سے ان کی بے اعتنائی اور فوجی عہدوں  سے انصار  کو الگ رکھنے پر احتجاج کیا تھا، قریشیو،کیا انصار میں کوئی شخص  تمہیں  اُن فرائض  کی انجام دہی کے لئے  موزوں نظر نہیں آتا جن کے لئے تم اپنے آدمیوں  کو موزوں سمجھتے  ہو؟ نجد ہماری آنکھیں وہ سب ( اندھیر) دیکھ رہی ہیں جو ہو رہا ہے اور ہمارے کان وہ سب باتیں  سن رہے ہیں جو ( ہمارے خلاف ) کی جارہی ہیں لیکن ہم صبر سے کام لیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبر کی تاکید کی ہے ۔ یا معشرَقریش ، أما کان فینا رجل بَصْلُحْ لما تَصْلُحُون؟ أ ما واللہ ما نحن عُمیًا عما نری ولا صُمًّا عما نسمح و لکن أ مرنا رسول اللہ بالصبر فنحن نصبر   اس احتجاج کے زیر اثر ابو بکر صدیق نے ثابت بن قیس کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( قریش) کی ماتحتی میں اس فوج کے انصاری  دستے کا کپتان مقرر کرد یا تھا جو مسیلمہ  اور دوسرے نجدی  باغیوں  سے لڑنے جارہی تھی ۔ فہرست  میں دوسرا نام زیاد بن لبید انصاری گورنر حَضر مَوت کاہے لیکن انہیں ابو بکر صدیق نے خود یہ عہدہ نہیں دیا تھا بلکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے حضر موت کے حاکم چلے آرہے تھے ، چوں کہ انہوں نے سَقِیْفہ بنی ساعدہ کے  ہنگامے اور انصار کی شورش خلافت میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا اور ابو بکر صدیق کی بیعت بر ضا ور غبت کرلی تھی اور حَضر موت کےباشندو ں کوبھی ان کی بیعت کرنے کا سچے دل سے مشورہ دیا تھا اس لئے ابو بکر صدیق نے انہیں بحال  رکھا ۔ تیسرا نام ابو دردا ء کا ہے ان کا عہدہ کسی اہمیت یا مادی  منفعت  کا حامل نہیں تھا ، یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ قاضی کے فرائض خود خلیفہ نے ان کے سپرد کئے تھے ، اس بات کا زیادہ قرینہ ہے کہ ابو درداء عام مجاہدوں کی طرح شام کی فوجوں میں گئے ہوں اور وہاں سپہ سالار فوج یا کسی دوسرے کمانڈر نے صوم و صلوٰۃ نیز قرآن سے ان کی بڑھی ہوئی دلچسپی دیکھ کر قانونی معاملات کے فیصلے  ان کے سپرد کردیئے ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ انصاری کے علاوہ متعدد دوسرے انصاریوں کو بھی عہدے دئے تھے جن میں عمر  و بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ ، عِبّاد بن بشر رضی اللہ عنہ، بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ ، اعجم بن سفیان رضی اللہ عنہ، اور مُعاذ بن جَبَل رضی اللہ عنہ زیادہ مشہور ہیں۔ عمر بن حز م نجران کے کلکٹر ( محصل زکاۃ) تھے، عبّاد بن بِشر بنو مُصطِلق کے ، بشیر بن سعد مضافات خیبر کی ایک فوجی مہم کے کمانڈر تھے، اعجم بن سفیان مدینہ کے مغرب میں آباد کئی قبیلوں ،عُذوہ، سَلامان اور بَلِّی کے کلکٹر تھے، مُعاذ بن جَبَل یمن کے ضلع  جَنَد کے کلکٹر   او رمعلم تھے اور ایک قول یہ ہے کہ سارے یمن  کی وصولی زکاۃ بھی ان کے ذمے تھی ۔ جہاں تک ہمیں معلوم  ہے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کسی کو بھی کوئی عہدہ  نہیں دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ انصار کے ساتھ حکومت کے بے اعتنائی کے اس طرح شاکی ہیں ۔

یا للر جال لِخِلفۃ الأَ طوار                و لِمَا ٔ اراد القوم بالأ نصار

لم یُد خلو امنا رئیساً واحداً              یا صاحِ فی نَقْضِ ولا إمرار

لوگوں، دیکھو اور حیران ہوکر حکمران قریش کی نظریں کیسی ہماری طرف سے بدل گئی ہیں اور وہ کیسی ہمارے ساتھ بے اعتنائی  برت رہے ہیں ۔ خلافت کے معاملات میں ہمارے کسی ایک لیڈر سےبھی صلاح مشورہ نہیں کرتے ۔

2؁ ھ ،    4؁ ھ اور 5 ؁ ھ میں تینوں یہودی قبیلوں ۔ بنو قَینُقاع ، بنو نَضِیرْ اور بنو قُریظہ کے اخراج پر جن کے ہاتھ میں شہر اور اس کے آس پاس کی بیشتر تجارت تھی، مسلمانوں  کے لئے تجارت کا ایک نیا میدان  کھل گیا تھا جس میں مدینے کے بہت سے تجارت پیشہ مہاجر  قریش داخل ہوگئے تھے او رمدینے نیز مضافات کی تجارت پر تیزی سے چھاتے جارہے تھے ۔ بڑھتی  ہوئی خوش حالی  کے زیر اثر تجارت کے نئے امکانات سے انصار نے کسی حد تک فائدہ اُٹھایا؟ اس سوال کا یقینی جواب نہیں  دیا جاسکتا لیکن اس بات کا غالب قرینہ ہے کہ انہوں نے تجارت سے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی اور سیاسی میدان کی طرح یہ میدان بھی قریش کےلئے چھوڑ دیا ۔ ہجرت نبوی کے وقت اقتصادی اعتبار سے انصار کے دو طبقے تھے : ایک کھاتا پیتا  اور دوسرا تنگ حال ، پہلے طبقے کا ذریعۂ معاش زراعت اور باغبانی تھا، دوسرے طبقے  میں جس کی اکثریت تھی، دستکار اور چھوٹے پیشہ ور داخل تھے، عہد نبوی میں انصار کے دونوں طبقوں  کے لئے ایک نیا اور منفعت ذریعۂ معاش جہاد کی شکل میں کھل گیا تھا جس سے ان کے سیکڑوں ہزاروں  افراد کی اقتصادی حالت سدھر گئی تھی، ان کے پاس قیمتی نخلستان اور جاگیر یں آگئی تھیں اور وہ اونٹ ، گھوڑوں نیز غلاموں کے مالک ہوگئے تھے ، جہاد کی آمدنی سے انصاری زمیندار زراعت اور باغبانی کو ترقی دینے لگے تھے یا بہتر طریقوں سے روزی کمانے لگے تھے ۔ عہد صدیقی میں انصار کی اقتصادی ترقی کی رفتار سُست پڑ گئی ، انہیں حکومت  کی طرف سے جاگیر یں یا نخلستان  نہیں ملے اور نہ وہ دو چار کے سوا اعلیٰ سرکاری عہدوں کی راہ سے مادی منافع حاصل کرسکے ۔ خلافت کی جنگوں میں بھی  ان کی شمولیت پہلے کی نسبت بہت کم تھی ،صدیقی دور کی جنگ یمامہ  میں ان کا دستہ چار پانچ سوکے درمیان تھا ، کسی دوسرے صدیقی معرکہ میں ان کے سپاہیوں کی تعداد اتنی بھی نہیں تھی، اس کا سبب یہ تھا کہ ایک طرف خلافت اور اس کے باعزت عہدوں سے ان کا اکابر محروم کردیئے گئے تھے جس سے ان کے حوصلے پست  ہوگئے تھے اور ان میں منفی رجحان پیدا ہوگیا تھا اور دوسری طرف قریشی سالار ان کے ساتھ قدر و منزلت کا ویسا  برتاؤ نہیں کرتے تھے جیسا کہ عہد نبوی  میں ان کے ساتھ کیا جاتا تھا ۔ اس لئے عام طور پر وہی انصاری صدیقی جنگوں میں شرکت کرتے جن کی مالی حالت خراب ہوتی اور جو اپنی معاشی خستگی سے نجات پانے کےلئے  غنیمت  کے سہام کا سہارا لینے پر مجبور تھے ۔

URL for part 6:

http://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-6)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-6/d/35716

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-7)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-7/d/35736

 

Loading..

Loading..