New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 09:57 PM

Books and Documents ( 11 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 6) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 6

 

خورشید احمد فارق

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مالی حالت

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  سوا دو برس کے لگ بھگ خلیفہ رہے، مرتے وقت ان کی عمر 63 سال کے قریب تھی ۔ اسلام سے پہلے وہ ایک ذمہ دار اور معزز قرشی تھے اپنے آباو اجداد  کی طرح تجارت کرتے تھے اور بسلسلۂ تجارت شام کے متمدن اور دل کش ملک کا بارہا دورہ  کر چکے تھے ، ایک بار شام کے تجارتی  سفر میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے ۔ صحت کمزور، جسم دبلا اور خاندان  مختصر تھا ، اس لئے تجارت کے میدان میں  زیادہ دوڑ و دھوپ نہیں کرتے تھے ، اس کے باوجود مر ذالحال تھے، قبول اسلام کے وقت ان کا تجارتی اثاثہ بیس   ہزار درہم (چالیس ہزار درہم) بتایا گیا ہے، اس رقم کا بڑا حصہ انہوں نے ہجرت سے پہلے تقویت اسلام سے متعلقہ  کاموں میں  صرف کر ڈالا تھا اور ہجرت کر کے وہ جب مدینے آئے تو ان کے پاس ڈھائی ہزار وپے ( پانچ ہزار درہم) سے زائد نہ تھے ۔

ممتاز صحابہ  میں ابو بکر صدیق  کے بیوی بچے  سب سے کم تھے ، انہوں نے کل چار شادیاں کیں، دو اسلام سے قبل اور دو اسلام کے بعد ، بچوں کی مجموعی تعداد 6 تھی جن میں سے ایک لڑکی ام کلثوم وفات کے بعد پیدا ہوئی ، ہجرت کے وقت ان کے ایک بیوی اُم روُ مان رضی اللہ عنہ زندہ تھیں ، ان کا 6 ؁ ھ کے بعد کسی وقت انتقال ہوا، اُم روُمان کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمٰن اور عائشہ رضی اللہ عنہ ۔ اُم روُ مان کے بعد ابو بکر صدیق نے مدینے کی ایک انصاری خاتون حبیبہ رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی اور 8 ؁ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی ترغیب پر ایک دوسری خاتون اَسما ء بنت عُمیَسُ سے عقد کیا ، اسماء کی سوتیلی  بہن میمونہ رسول اللہ سے منسوب تھیں ۔ ابو بکر صدیق کی لڑکی اسما رضی اللہ عنہ کی شادی ہجرت سے پہلے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سےہو چکی تھی، ان کا منجھلا لڑکا عبدا للہ 11 ؁ ھ میں فوت ہوگیا ، ان کی چھوٹی لڑکی عائشہ رضی اللہ عنہ  کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلیم سے عقد ہوا، عائشہ کے سگے بھائی  عبدالرحمٰن  خوش حال  تاجر تھے ، ابو بکر صدیق  کا سب سے چھوٹا لڑکا محمد 10 ؁ ھ میں اور سب سے چھوٹی لڑکی اُم اکلثوم رضی اللہ عنہ  ان کی وفات کے بعد پیدا ہوئی ۔

جہاں تک ہمیں معلوم ہے ہجرت کےوقت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کندھوں پر معاشی ذمہ داریوں کا کوئی خاص بوجھ نہیں تھا، بظاہر وہ اپنی بیوی اُم روُمان اورکم عمر لڑکی عائشہ  کے کفیل تھے ۔ آٹھ نو ماہ بعد شوال 1 ؁ ھ میں عائشہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہوئی تو ان کے کندھے اور زیادہ ہلکے ہوگئے ۔ 6 ؁ ھ میں اُم روُمان کی وفات  پر ابو بکر صدیق نے انصافی خاتون حبیبہ رضی اللہ عنہ  سے عقد کیا ، اُس سے ان کی وفات کے بعد ایک بچی پیدا ہوئی ، حبیبہ رضی اللہ عنہ سے شادی کے کئی سال بعد 8 ؁ ھ میں انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہ سے شادی کی ، ذو العقدہ 10 ؁ ھ میں اسما ء سے محمد نامی لڑکا پیدا ہوا ۔ ان تفصیلات  سے بتانا مقصود ہے کہ خلافت سے پہلے اور اس کے بعد بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے کندھوں  پر مالی ذمہ داریوں کا کوئی قابل بوجھ نہیں تھا، اس کے مقابلے  میں ان کی اقتصادی  بنیادیں  خوب مضبوط تھیں ۔ مدینے میں وہ دو مکانوں  کے مالک تھے جو ایک دوسرے سے میل سو ا میل دور واقع تھے، ایک مکان دخل تھا ۔ دونوں مکانوں  کی زمین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اور اس میں تعمیر غالباً خو د ابو بکر صدیق نے کرائی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مدینے سے نکالے ہوئے یہودی قبیلے بنو نَضیر کا ایک نخلستان (بئر حَجر ) بھی عطا کیا تھا اور خیبر کے خمسُ سے انکے لئے سوا پانچ سو من ( دو سو وَسق) اور بقول بعض ساڑھے دس  سو من ( دو سو وَسق) سالانہ غلہ کھجور مقرر کروا دیا تھا ان کی ایک جاگیر غابہ میں بتائی جاتی ہے جو مدینے کے مضافات  میں پانی اور چار ے سے بھر پور ایک لمبی چوڑی وادی تھی ۔ یا قوت تصریح کی ہے کہ جنوبی نجد میں ابوبکر صدیق کا ایک گاؤں بھی تھا جسے سوُارِقیہّ کہتے تھے ۔

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مال غنیمت  کے حصے  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف النوع عطیے بھی جن کا تعلق زر وسیم ، برتنے اور استعمال  کے سامان  سے تھاملتے رہتے تھے ، ان کے پاس گھوڑے، اونٹ اور بکریاں بھی تھیں جن کا دودھ وہ اور ان کے گھر والے پیتے تھے ۔ جاگیروں ، غلے، کھجور اور غنیمت  کے سہام نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطیات کے علاوہ  ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی آمدنی کا ایک منفعت ذریعہ  کپڑے  کی تجارت تھا، اس بات کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ ان تمام ذرائع  سے ان کی سالانہ آمدنی  کا اوسط کیا تھا لیکن اتنا ظاہر ہے کہ ان کے ذریعے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  ایک پر آرام اور مرفہ الحال زندگی بسر کرنے پر قادر تھے ۔

خلیفہ ہوکر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی مصروفیتیں اتنی بڑھیں  کہ انہیں تجارت چھوڑنا پڑی اور سار ا وقت خلافت کی ڈگمگاتی کشتی  کو سنبھالنے اور اسے طوفان حوادث سے  نکالنے پر صرف کرنا پڑا۔ تجارت سے بند ہونے والی آمدنی کی تلافی انہوں نے خزانے سے معاوضہ لے کر کی۔ اُم المؤمنین  عائشہ رضی اللہ عنہ : ابو بکر صدیق نے خلیفہ ہو کر کہا : میری قوم ( قریش) جانتی ہے کہ میں تجارت سے اتنا کما لیتا ہوں جو میرے ، بال بچوں کی ضرورت کے لئے کافی ہوتا ہے لیکن خلافت کی ذمہ داری  سنبھا لنے کے بعد اب میں تجارت نہیں  جاری رکھ سکتا ،اس لئے میرے بال بچے خزانے سے خرچ کریں گے او رمیں مسلمانوں  کی خوش حالی کے لئے اپنی صلاحیتیں کام میں لاؤں گا ۔  لما استخلف أبو بكر الصديق قال لقد علم قومي أن حرفتي لم تكن تعجز عن مئونة أهلي وشغلت بأمر المسلمين فسيأكل آل أبي بكر من هذا المال ويحترف للمسلمين فيه1؎ حمید بن ہلال بصری : جب ابو بکر صدیق خلیفہ  ہوئے تو صحابہ نے ایک دوسرے سے کہا : خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنی  تنخواہ مقرر کر دیجئے جو ان کو معاش کی طرف سے بے فکر  کردے۔ صحابہ :  بے شک ان کو دو چادریں ملنی چاہیئں جنہیں پرانا ہونے پر وہ بدل لیا کریں، سفر کے لئے سواری ملنی چاہئے او ربال بچوں  کی اتنی ضروریات  جتنی خلافت  سے پہلے انہیں درکار تھیں ۔ لما وَ لِیَ أبو بکر قال أ صحاب رسول اللہ : افرِ ضُو الخلیفۃ رسول اللہ ما یُغْنیہ ، قالوا: نعم بُر داہ إ ذا أ خلقھا وضعھا و أ خذ مثلَھا و ظَہرہ إذا سافر و نَفقَتہ علی أ ھلہ کما کان یُنفق قبل  أن یُستَخْلَف 2 ؎  

نقد کپڑے اور خوراک کے علاوہ جو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حسب  ضرورت لیتے تھے ، ان کی تصرف میں بیت المال  کی دو اونٹنیاں ، ایک غلام ، ایک کنیز اور ایک مخملی  چادر (قطیفہ) بھی بتائی گئی ہے ۔ اونٹنیوں کے دودھ سے ملاقاتیوں کی خاطر مدارات  کی جاتی تھی ، غلام اونٹنیوں  کی دیکھ بھال  کرتاتھا ، کنیز ان کے بچے  کو اپنا دودھ پلاتی تھی  اور مخملی چادر وہ غالباً رسمی ملاقات  کے موقع پر اوڑھتے تھے ۔

URL for part 5:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-5)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ5/d/35696

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-6)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-6/d/35716

 

Loading..

Loading..