New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 11:03 PM

Books and Documents ( 10 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 5) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ5

 

خورشید احمد فارق

اقتصادی ترقی کے وسائل

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کاعہد خلافت اگر چہ بہت مختصر تھا اور  لڑائیوں  سے بھر پور اس کے باوجود اس زمانے میں مسلمانوں  نے انفرادی  اور اجتماعی دونوں  اعتبار سے اقتصادی ترقی کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اسلام صرف جزیرہ  نمائے عرب تک محدود تھا، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایام  میں اس کا نفاذ و اقتدار عراق اور شام کے سرحدی شہروں اور بستیوں تک وسیع ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جزیرہ نما سے زکاۃ اور جِزیے کی مدوں  میں جو ز روسیم اور سامان آتا تھا ان کی وفات پر بند ہوگیا تھا، ابوبکر صدیق نے اِن مدوں  کو بزورشمشیر بحال کر لیا، باغی اور منحرف عربوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی  کے دوران بہت سا مال غنیمت  مجاہدین  اسلام  کے ہاتھ آیا اور بہت سا  بصورت خمس  مدینے  کے خزانے میں جمع ہوگیا ۔ عراق  اور شام کی اکثر سرحدی بستیاں بزدر شمشیر فتح ہوئیں  اور معدودے چند نے ایک مقررہ رقم کے عوض صدیقی  فوجوں سے اپنی  جان او رمال  کے لئے امان  لے لی ۔ ان بیرونی  جنگوں میں بڑی مقدار  میں مال غنیمت  حاصل ہوا ،اس کے چار حصے شریکان جنگ نے آپس میں بانٹ لئے اور پانچوں  حصہ مدینے  بھیج دیا اور  جہا ں جہاں  بغیر لڑے رقموں کے بالمقابل جان و مال کی امان لی گئی  تھی وہ کل کی کل رقمیں  مدینہ  کے بیت المال کے لئے مخصوص  ہوگئیں ۔ زو وسیم ، مویشی اور سامان کے علاوہ  ہر محاذ سے عرب اور غیر عرب  قیدی بھی خمس کی مد میں مدینے بھیجے جاتے اور حکومت  کی طرف سے بیج ڈالے جاتے یا اہالی شہر میں  بطور غلام تقسیم کردئے جاتے تھے، ان غلاموں  کو یا تو اُن کے مالک اپنے باغوں  او رکھیتوں  کی دیکھ بھال  یا اپنی جاگیر وں کو قابل زراعت بنانے کے کاموں میں لگا دیتے یا گھریلوں خدمت  کے لئے رکھ چھوڑ تے یا بازار میں بیچ کر قیمت وصول کر لیتے ۔ اس بات کی بھی شہادت  موجود ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  قیدیوں کو زر مخلصی  لے کر آزاد کر دیئے تھے  اور زر مخلصی مسلمانوں  میں بانٹ دیتے تھے ۔ ہمارے ماخذوں  سے اس بات کا کوئی اندازہ نہ ہوسکا کہ ابو بکر صدیق نے اپنے سو اور سو سالہ دور خلافت میں زکاۃ ، جزیے خمس اور معاہدوں کی مدوں  سے کتنی دولت حاصل کی لیکن قرائن سے اس بات کی پوری تائید ہوتی ہے کہ یہ دولت گراں قدر تھی ۔ اپنے قول کی توثیق کے لئے ہم عہد  صدیقی کے مشہور معرکوں سے حاصل ہونے والی غنیمت ، خُمس اور جزیے سے متعلق  عرب مؤرحوں کے بیانات غیر ضروری  تصریحات  نکال کر پیش کرتے ہیں ۔

 

غنیمت

1۔ صلح یمامہ سے فارغ ہوکر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بنو حنیفہ  کے قلعوں  میں اپنے سپاہی بھیج دئیے اور (ان کے نمائندے ) مُجّاعہ   کو قسم دے کر وعدہ لیا  کہ ایسی کوئی چیز جو صلح میں داخل ہے نہیں چھپائے گا اور اگر کوئی دوسرا ایسا کرے گا تو اس کی اطلاع دیگا ۔ اس کے بعد قلعے  کھول دیئے گئے ، وہاں سے بڑی مقدار میں ہتھیار لائے گئے، خالد بن ولید نے ان کا الگ ذخیرہ کر لیا، پھر سونا چاندی  لایا گیا، خالد نے اسے علیحدہ  جمع کیا، پھر جتنے گھوڑے ملے انہیں یکجا کر لیا، اونٹ اور گھریلو سامان چھوڑ دیا، اس کے بعد غلامو ں کے پانچ حصّے کئے اور قرعہ ڈال کر پانچواں  حصّہ لے لیا ، اسی طرح گھوڑوں اور زرہوں  کا بھی پانچواں  حصہ الگ کرلیا، سونا چاندی  تول کر ان کا بھی خمس نکال لیا ۔ باقی حصے مجاہدین میں بانٹ دئے، گھوڑے کو اس کے مالک  کی نسبت  دوہرا حصہ دیا اس کے بعد سارے مال غنیمت کا خمس  لے کر خالد بن ولید ابو بکر صدیق  کے پاس چلے گئے ۔ دلما نرغ خالد من الصلح أمر بالحصون فأ لز مہا الرجالَ د حلٔف مُجّلمۃ با للہ لا یُغیّب عنہ شئیا مما صالحہ علیہ ولا یعلم أ حداً غیّبہ إ لا فعہ إ لی خالد۔ ثم فُتحت الحُصون فأ خرج سِلا حا کثیر انجمعہ خالد علی حد ۃً و أ خرج ماو جد فیہا من دنا نیر و دراھم فجمعہ علی حدۃ وجمع کُراعہیم و ترک الخف فلم یُحرکہ ولا الرَّثّۃ ، ثم أخرج السَّبْیَ و قسمۃ قسمین ثم أ ترع علی القسمین فخرج سہمہ علی أحد ھما ، ثم جزا الکُراع و الحلقۃ ھکذا ودزن الذھب و الفضۃ فعزل الخمس وقسم علی الناس أ ربعۃ الاُ خماس و أ سہم للفرس سہمان ولصا حبہ سہما وعزل الخُمس من ذالک کلہ حتی قدم بہ علی أبی بکر الصدیق رحمہ اللہ ۔

2۔ دو بستیوں  کے علاوہ  سارے یمامہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  سے صلح کرلی تھی  جس کی تفصیل  اوپر بیان  کی گئی ۔ خالد بن ولید نے ان بستیوں  پر جن  کے نام عِرض اور قُرَیہَّ تھے چھاپہ مارا اور بہت سی عورتیں  اور بچے  غلام بنالئے  ، اُن  کا خُمس  جو انہوں نے ابو بکر  صدیق  کے پاس  مدینہ بھیجا پانچ سو راس پر مشتمل  تھا ۔ صالح خالد بنی  حنیفۃ جمیعاً إلا ماکان بالعِرض  و القُرَیُّۃ نإ نہم سُبُو ا عندا نبثات الغارۃ ، فبعث إلی أبی بکر ممن جری علیہ القسم  بالعِرض والقُریَّۃ من بنی  حنیفۃ أ و قیس بن ثعلبۃ أو یَشکُرّ خمسما ئۃ رأس     

3۔ (عُمان کے پایۂ تخت اور تجارتی ساحلی شہری دَبا میں) مجاہد ین اسلام نے دشمن کے دس ہزار سپاہیوں  کو مار ڈالا اور بھاگنے والوں کا پیچھا  کر کے ان کو بھی ٹھکانے لگا دیا ، دَبا کی عورتوں بچوں کو غلام بنا لیا ، دَ با کا سارا بازار لوٹ لیا اور جو مال و متاع ہاتھ لگا آپس میں بانٹ لیا، دَبا کاخمس جس میں آٹھ سو  عورتیں اور بچے شامل تھے ، ابو بکر صدیق کو بھیج دیا گیا ۔ فقتلوا منھم فی المعر کۃ عشرۃَ آلاف ورَکِبو ھُم حتی أثخنُوا فیہم و سَبَر االذَّرادیٔ و تسمو ا الا موال علی المسلمین  و بعثو ا بالخمس إ لی أبی بکر، وکان الخمس ثما نما ئۃ رأس و غنِمو ا السوق بحذ افیر  ھا   ۔

4۔ (عُمان سے متصل جنوب میں ساحلی علاقے) مَہرہ میں مجاہدین اسلام نے دشمن کو جس طرح چاہا قتل کیا اور جو چاہا پایا، مال غنیمت  میں دو ہزار ( تیز رفتار ) اونٹنیاں بھی تھیں ( اسلامی فوج کے کمانڈر) عِکرمہ بن ابی جہل نے غنیمت  کا خُمس  ابو بکر صدیق  کو بھیج دیا اور باقی مجاہدین میں تقسیم کردیا ۔ نقتلوا منہم ماشاؤ ا وأ صابوا ماشا ؤا دأ صابو افیما أ صابوا أ الفی نجیبۃ فخمس عِکْر مۃُ الفیَٔ فبعث با لأ خما س إ لی أ بی بکر وقسم  الأ ربعۃ الأ خماس  علی المسلمین ۔

5۔ (مَہرہ سے متصل جنوبی علاقہ  حَضْرَ موتَ کے  قلعے) نُجَیر ( کے محصورین نے پانی اور خوراک کے توڑ سے مجبور ہوکر ) جب دروازے کھولے تو عرب  مجاہدین  قلعے  میں گھس گئے اورجتنے نوجوان ملے اُن سب کو قتل کر ڈالا، قلعے  میں ایک ہزار عورتیں تھیں، انہیں اور ان کے بچوں کو گرفتار کر کے ابوبکر صدیق کے پاس مدینہ بھیج دیا گیا، انہوں نے نُجیرَ کا مال غنیمت  اور عورتوں  بچوں  کا خمس نکال کر شہر کے لوگوں میں  بانٹ  دیا اور باقی نُجیر کی محاصر فوج میں تقسیم کردیا ۔ فلما فتح الباب اقتحمہ المسلمون  نلم یَدَ عُو ا فیہ مقاتلا إ لا قتلوہ، ضربو ا أ عنا قھم صبراً و وأ حصی أ لف اصرأ ۃ ممن فی  النُّجیر وا لخندق دوضع علی السَّبی والفئی  الأ حراس و قسم أ بوبکر فی الناس الخمس و اقتسم الجیش الأ ربعۃ الأ خماس ۔

 6۔ حیرہ کے شمال مغرب میں عرب۔ عراق سرحد  کے قلعہ بند شہر  عین التَمرد کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  نے بزور شمشیر فتح کر کے اہل قلعہ  کے سارے  بالغ اور لڑائی  کے قابل مردوں  کو قتل کردیا، عورتوں  اور بچوں کو غلام بنا لیا اور قلعے  کے سارے  سامان پر قبضہ جما لیا ، قلعے کے گرجا میں انہیں چالیس عیسائی جوان ملے جو ایک کمرے  میں انجیل پڑھتے تھے ، خالد  رضی اللہ عنہ  کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر گئے  اور جب جوانوں  نے بتایا کہ ہم تارک الدنیا  راہب  ہیں تو خالد نے انہیں گرفتار  کر کے فوج  کے بہادروں  میں تقسیم کردیا اور مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینے بھیج دیا، یہ پہلے  فارسی غلام تھے جو عہد  صدیقی  میں مدینے  کے باشندوں  میں تقسیم کئے گئے ۔  فضرب (خالد) أ عناق أ ھل الحصن أ جمعین و سَبَی کل منی  جوی حصنہم و غمِ مافیہ ورجد فی بِیعَتھم  أر بعین غلامہ یتعلمون الا نجیل علھیم باب مُغلق فکسرہ عنھم وقال : ما أ نتم ، قالو ا: رُھن ، فقسمھم فی أ ھل البلا ء وبعث با لسَّبی إ لی أبی بکر دُکان اوّل  سَبی قدِم المدینۃ العجم  ۔

7۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ  نے جنوب  مغربی میسو پوٹامیہ کی قلعہ بند بستی ثَنِّی پر تین طرف سے شب خون مارا اور وہاں کی فوج کو تلوار کے گھات اُتار دیا، ایک متنفس تک ان میں سے جان بچا کر نہ بھاگ سکا، عورتوں او ربچوں  کو غلام بنا لیا ، دوسری بستی  زُمَیل پر بھی انہوں نے تین سمتوں سے رات میں حملہ کیا او روہاں کے جوانوں  کو تلوار کا لقمہ بنا کر بستی کے سارے مال و متاع  پر قبضہ  کرلیا اور دونوں بستیوں کا خمس ابوبکر صدیق  کو بھیج دیا ۔  نیَّتہ (خالد) من ثلا ثۃ أو جہ بَیا تا ومن اجتمع لہ و إلیہ و من تأ شَّب لذا لک من الشُّبّان فجر د و ا فیھم السیوف نلم بُفلت من ذالک الجیش مُخبر واستبی الشَّرْخَ و بعث بخمس اللہ إ لی أ بی بکر۔ فبیَّتھم  ( أھل الزُّمیل) مبثلھا غارۃً شعواء َ من ثلاثۃ أو جہ فقتل متھم مقتلۃ عظیمۃ لم ُ یقتَلو ا قبلھا مثلھا وأ صابوا منھم ماشاؤ انبعث با لأ خماس إلی أ بی بکر ۔ 

جِزیہ

( عرب۔عراق سرحد کی متعدّد بستیوں  کو جزیہ گذار کرکے ) خالد رضی اللہ عنہ  نے اپنی فوج  کے ساتھ  حیرہ  میں پڑاؤ ڈالا، حیرہ کے اکابر ، قَبِیصہ بن اِیاس طائی کی سرکردگی  میں جسے کسری نے نعمان بن منذر کے بعد حیرہ  کا والی مقرر کیا تھا،خالد سے ملنے آئے ۔ خالد رضی اللہ عنہ نے قبِیُصۃ اور اُس کے ساتھیوں سے کہا : میں تمہیں  اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، اگر اسلام قبول کرلوگے تو تمہیں  وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو ہیں اور تمہارے وہی واجبات ہوں گے جو ان کے ہیں۔ اگر اسلام قبول  نہیں گروگے تو تمہیں  جِز یہ دینا ہوگا اور اگر اس سے کہیں انکار کروگے تو بتائے دیتا ہوں کہ میرے ساتھ ایسے جانباز ہیں  جنہیں  موت  اس سے کہیں  زیادہ عزیز  ہے جتنی  تم کو زندگی  ہے، ہم تم سے لڑیں گے یہاں تک  کہ خدا  ہمارے  اور تمہارے  درمیان  فیصلہ کردے گا۔ قَبِیصہ نے کہا : ہم لڑنا نہیں چاہتے ، ہم اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہتے ہیں اور جزیہ دینے کے لئے تیار ہیں ۔ اس کے بعد اکابر حیرہ نے خالد بن ولید سے پینتالیس ہزار روپے   (نوے ہزار درہم) پر صلح کر لی اور یہ ان بستیوں کے جزیے کے بعد جن پر ابن صَلُو با نے صلح کی تھی اور یہ پہلا (بڑا) جزیہ تھا جو عراق سے وصول ہوا ۔ ثم أقبل خالد بن الولید بمن معہ حتی نزل الحیرۃ فخرج إلیہ أشبر ا فُھم مع قَبِیصۃ بن إیاس بن حَیّۃ الطّائی و کان أ مّرہ علیہا  کِسری بعد النعمان بن المنذر، فقال لہ خالد و لأ صحابہ: أدعو کم إلی اللہ و إلی الا سلام فإن أجبتم إلیہ فأ نتم من المسلمین  لکم ما لھم و علیکم ما علیھم  فإن أبیتم فالجز یۃ فإن أ بیتم الجزیۃ فقد أتیتکم بأ قوام ھم أ حرص علی الموت منکم علی الحیاۃ ، جا ھد ناکم حتی  یَحْکُم اللہ بیننا و بینکم ، فقال لہ قَبِیْصۃ بن إیاس ، مالنا  بحریک من حاجۃ ،بل نقیم علی دیننا  و نُعطیک الجزیۃ ، فصا الحھم علی تسعین ألف درھم وکانت أوَّل جزیۃ وقعت بالعراق ھی والقُریّات التی صالح علیھا ابن صَلُو با   ۔

مذکورہ بالا ذرائع آمدنی کے علاوہ عہد صدیقی میں کئی ایسے عربی  علاقے  بھی فتح  ہوئے جہاں چاندی  کی کانیں تھیں اور اُن سے بڑی  مقدار  میں چاندی  مدینے کے خزانے میں آنے لگی تھی ۔ طبقات  ابن سعد میں ہے:  جب ابوبکر صدیق اپنے مکان واقع سُخ   سے مدینے والے مکان میں آکر مقیم ہوئے تو انہوں نے خزانہ بھی اسی مکان میں منتقل  کرالیا ۔ ان کے پاس بہت سی چاندی قَبِلیۃّ کی کان اور (قبائل ) جُہَیَنہ کی کانوں سے آگئی تھی ،اس کے علاوہ ان کی خلافت میں بنو سُلیم کے علاقے میں واقع چاندی کی کان بھی فتح ہوئی تھی، اور اس کی نکاۃ بیت المال میں جمع ہوتی تھی ۔ ابوبکر صدیق چاندی کی ڈلیاں اہل مدینہ میں تقسیم کردیتے تھے اور سو آدمیوں کو ایک مقررہ مقدار میں یہ ڈلیاں دیتے تھے ۔ وہ سرکاری روپیہ اور دوسرا سامان مساویانہ تقسیم کرتے تھے یعنی آزاد، غلام ، مرد، عورت، چھوٹے بڑے سب کو برابر برابر دیتے تھے ، وہ اونٹ ، گھوڑے اور ہتھیار خریدتے تھے اور مسلمانوں کو مسلح کر کے ان جانوروں  پر جہاد کے لئے بھیجتے تھے ۔ ایک سال انہوں نے مخملی  چادریں جو بادیہ   سے لائی گئی تھیں خرید کر سردی کے موسم میں بیواؤں میں تقسیم  کیں ۔ فلما تحول اُبوبکر إلی المدینۃ حوّالہ ( بیت المال) نجعل بیت مالہ فی الدارالتی کان فیھا وکان قدِم علیہ مال من معدِن القَبلِیَّۃ ومن معادن جُہَیْنۃَ کثیرُ و انفتح معدِن بِنی سُلَیم فی خلافۃ أ بی بکر فقدم علیہ منہ بصَدَ قتہ ، فکان یُو ضَع ذالک فی بیت المال  فکان أبو بکر یَقسِمہ علی الناس نُقَرا فیُصیب کل مائۃ إنسان کذا و کذا و کان یُسوّی بین الناس فی القسم  الحرُّ والعبدُ و الدّ کرُو الأ نثی  والصغیرو الکبیر فیہ سواء وکان یشتری الا بلّ و الخیل و السلاح فیمِل فی سبیل اللہ، و اشتری عاماً قطائف أ ُتی بہا من الباد یۃ فقر تہا فی أ رامل أ ھل المدینۃ فی الشتاء  

بعض رپورٹر بتاتے ہیں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے عہد میں ایک لاکھ روپیہ ( دو لاکھ درہم) مدینے کے خزانے میں جمع ہوا، یہ اطلاع اس طرح بیان کی گئی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص مدینے میں چاندی  سونے کے  سکّے تولا کرتا تھا ، یہی شخص ابو بکر صدیق کا نقد روپیہ بھی وزن کر تا تھا ، کسی نے اس سے پوچھا کہ ان کی خلافت میں کتنا روپیہ خزانے میں آیا تو اس نے جواب دیا : دو لاکھ درہم (ایک لاکھ روپیہ) ۔ کان بالمدینۃ وزّان علی عہد رسول اللہ و کان یَزِن ما کان عندأ بی بکر مِن ، فسئل الوزان کم بلغ ذالک المال الذی و رد علی أ بی بکر ، فقال مائتی  أ لف   ہمارے خیال میں یہ رپورٹ حقیقت حال کی صحیح ترجمانی نہیں کرتی، اس کی تائید نہ تو قرائن سے ہوتی ہے نہ اُن بیانات سے جو غنیمت  ، جزیے او رکانوں سے حاصل کی ہوئی چاندی  کے بارےمیں ابھی پیش کئے گئے ۔ ایک دوسری اطلاع سے جو ہمارے ماخذوں  میں ام المومنین  عائشہ رضی اللہ عنہ  کی زبانی بیان  کی گئی ہے ، ظاہر ہوتا ہے کہ ابو بکر صدیق نے اپنی خلافت کے پہلے سال سرکاری آمدنی کا روپیہ اہل مدینہ  میں بانٹا  تو ہر آزاد اور غلام مرد عورت کو پانچ پانچ روپیے ملے اور اگلے سال ہر شخص کےحصے میں دس دس روپے آئے ۔ قسم أبی أدل عام اُلفیٔ فأ عطی الحّر عشرۃ وأ عطی المملوک عشرۃ والمرأ ۃ عشرہ و أ متھا عشر ثم قسم أبی فی العام الثانی فأ عطا ھم عشرین عشرین   بی بی عائشہ رضی اللہ عنہ کی تصریح کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ دس دس اور بیس بیس درہم کے حساب سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے اور دوسرے سال جو رقم باشندگان مدینہ میں  تقسیم کی ان کی کل سرکاری  آمدنی پر مشتمل تھی، مدینے  کے خزانے کی کل سالانہ یافت بلاشبہ ایک گراں قدر ثروت تھی جو اندرون ملک کے معرکوں اور عراق و شام کی سرحد پر ترکتازیوں  سے بشکل غنیمت ، جزیہ اور زر و معاہدات نیز زکاۃ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خالصہ نخلستانوں  اور زراعتی  فارموں سے حاصل ہوتی تھی اور جس کا بیشتر حصہ ابو بکر صدیق جنگی  تیاریوں  اور عسکری اقدامات پر صرف کردیتے تھے ۔ اہل مدینہ میں تقسیم کیا ہوا روپیہ جس کی شہادت ام المومنین  عائشہ نے دی ہے اُس دولت کا ایک قلیل حصہ تھا جو سارے سول اور فوجی اخراجات کے بعد خزانے میں بچ رہا تھا ۔

URL for part 4:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-4)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-4/d/35661

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-5)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ5/d/35696

 

Loading..

Loading..