New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:19 PM

Books and Documents ( 9 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 24) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 24

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

مروجہ مالی نظام میں علی حیدر رضی اللہ عنہ کے تصرفات

علی حیدر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے مروجہ مالی نظام میں جو تصرفات کئے وہ ہماری معلومات کی حد تک حسب ذیل ہیں:

(1) ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی سو ا دو سالہ خلافت میں دو بار اہل مدینہ میں سرکاری  روپیہ تقسیم کرنے کا موقع ملا تھا اور انہوں نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام کو مساوی حصہ دیا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ صحابہ اور صحابیات میں مساویانہ تقسیم کے بعدجو روپیہ بچ رہا تھا اسے غلاموں میں بانٹ دیا تھا ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ تقسیم میں مساوات کے خلاف تھے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ غلاموں کوکچھ نہ دیا جائے اور مسلمانوں کا حصہ ان کے رتبہ اور خدمت کے لحاظ سے کم وبیش مقرر کیا جائے ۔ ابو بکر صدیق کی رائے تھی کہ اسلامی خدمات کی جزا خدا کے ہاتھ  ہے ۔ مالی معاملات میں یہی مناسب ہے کہ سب کے ساتھ ایک سا برتاؤ کیا جائے ۔ عمر فاروق اپنے موقف سے نہیں ہٹے اور خلیفہ ہوکر انہوں نے دیوان العطا قائم کیا تو غلاموں کو تنخواہ نہیں دی اور مسلمانوں کی تنخواہ ان کے سماجی رتبہ اور جہادی خدمات کے لحاظ سے مقرر کی ۔اسی طرح جب وہ سرکاری روپیہ مدینہ کے آزاد لوگوں میں تقسیم کرتے تب بھی فرق مراتب ملحوظ رکھ کر کسی کو کم دیتے تھے کسی کو زیادہ ۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں فاروقی سنت پر عمل کیا لیکن علی حیدر رضی اللہ عنہ کاطریق کار اپنے تینوں پیشرووں سے مختلف تھا ۔ انہوں نے نہ تو غلاموں کو کچھ دیا نہ مسلمانوں کے درمیان فرق مراتب قائم رکھا ۔ انہوں نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دیوان العطا کی درجہ بندی تو بر قرار رکھی لیکن نئی تنخواہیں مقرر کرنے میں فرق مراتب کا اصول ترک کردیا اسی طرح وہ اس روپیہ  پیسہ او رمال و متاع کی تقسیم میں بھی مساوات سے کام لیتے جو غنیمت کی راہ سے آتا یا تنخواہیں دینے کے بعد بچ رہتا تھا ۔ اس مساوات کا غیر عرب مسلمانوں یعنی موالی پر جنہیں عربوں  کے مقابلہ میں اب تک نصف حصہ ملتا رہا تھا ، بہت اچھا اثر پڑا۔ ان کےدلوں میں علی حیدر رضی اللہ عنہ کی قدرو منزلت بڑھ گئی اور اہل بیت سے ان کی وفاداریاں  گاڑھی ہوگئیں ۔ لیکن عرب اور بالخصوص صحابہ  کاطبقہ جو اپنے اسلامی تقدم اور جہادی  خدمات پر نازاں تھا اور فرقِ مراتب کو بڑی اہمیت دیتا تھا، علی حیدر رضی اللہ عنہ کی مساویا نہ تقسیم سے سخت بددل ہو گیا اور ان کا  حکم ٹالنے لگا ۔

(2) تقسیم میں مساوات کے علاوہ علی حیدر  رضی اللہ عنہ خزانہ میں روپیہ پیسہ  یا مال ومتاع جمع رکھنے کے بھی خلاف تھے اور اس معاملہ میں بھی ان کا طریق  کار اپنے تینوں پیش رو خلفاء سے مختلف تھا ۔ کسی اتفاقی غنیمت سے اگر روپیہ پیسہ یا مال و متاع ان کے پاس آتا یا سالانہ تنخواہوں اور ماہانہ راشن کی تقسیم  کے بعد بچ رہتا تو پس انداز نہیں کرتے تھے بلکہ فوج یا بالتساوی تقسیم کردیتے تھے ۔  ابن عبدالبر : کان علی لا یَد عُ فی بیت المالَ ما لاَ یبیت حتی یقسمہ إلا أن یغلبہ فیہ شغل ۔ ابن عبد ربہ : کان علی یقسم بیت المال فی کل جمعۃ حتی لا یُبقیَ منہ شیئاَ ۔ چونکہ خزانہ خالی رہتا تھا اس لئے وہ خود بھی اپنا خرچ سابقہ خلفا کے بر عکس خزانہ سے لینے پر قادر نہیں تھے ۔

 ان کے معاش  کا ذریعہ حجاز میں اس کے وسیع  املاک کی آمدنی، خیبر کے خالصہ علاقہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ ہزاروں  من کھجور اور غلّے کے حصّے ان کی اور ا ن کے متعلقین کی سالانہ تنخواہیں اور ماہانہ راشن نیز اتفاق  غنیمت اور تنخواہوں کے بعد بچے ہوئے روپے سےحاصل ہونے والے سہام تھے ۔

(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، شیخین اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ پانچ اونٹوں  پر ایک بکری زکات لیتے تھے ، دس پر دو، پندرہ پر تین، بیس سے چوبیس تک چار اور پچیس تا پینتیس پر ایک بنت مخاص  ( دوسرے سال میں اونٹ کابچہ) علی حیدر رضی اللہ عنہ بیس تا پچیس بکریاں لیتے تھے اور چھبیس تا پینتیس ایک بنت مخاض ۔

(4) عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عراق کی مزروعہ اراضی  پر حسب ذیل لگان وصول کیا تھا ۔

(1) گیہوں ۔ دو روپے ( چار درہم ) فی مربع جریب ( سولہ سو مربع گز)

(2) جو۔ ایک روپیہ فی مربع جریب

(3) انگور ۔ پانچ روپیہ مربع جریب

(4) کھجور ۔ پانچ روپیہ مربع جریب

(5) گنا ۔ تین روپیہ مربع جریب

(6) سبزی ۔ ڈھائی روپیہ یا ڈیڑھ روپیہ فی مربع جریب

(7) روئی ۔ ڈھائی روپیہ فی مربہ جریب

(8) تل ۔ ڈھائی روپیہ فی مربع جریب 

علی حیدر رضی اللہ عنہ نے عراق کے ایک وسیع زراعتی علاقہ سے جو کوفہ کے شمال مغرب میں دِجلہ اور فرات کے درمیان واقع تھا ، حسب ذیل لگان وصول کیا :

(1) گیہوں ۔ بارہ آنے والی فی مربع جریب ( اچھی فصل والی) مع ایک صاح ( تقریباً ساڑھے تین سیر) گیہوں۔

(2) گیہوں آٹھ آنے فی مربع جریب (متوسط فصل والی)۔

(3) گیہوں چھ آنے فی مربع جریب (معمولی فصل والی)۔

(4) جو ۔ چھ آنے فی مربع جریب

(5) کھجور اور دوسرے پھلوں کے باغوں سے  پانچ روپے فی مربع جریب ۔

(6) انگور ۔ پانچ روپے فی مربع جریب ۔

سبزی ، کھیرا ، دال ، تل اور روئی پرلگان معاف تھا ۔

علی حیدر رضی اللہ عنہ نےشرح  لگان میں کیوں تخفیف کی او رپیداوار کی کئی اہم صنفوں سے کاشتکاروں کو لگان کی چھوٹ کیوں دی؟ اس شرح کاعربی اخیار وآثار سے کوئی جواب نہیں مل سکا ۔ ممکن  ہے کہ اس علاقہ کےزمینداروں نے خلیفہ سے اپنی زراعتی مشکلات یا قلت پیداوار کی شکایت  کی ہو۔ ممکن  ہے کہ یہ تخفیف استثنائی حالات کے زیر اثر مؤقف طور پر کی گئی ہو۔

URL for part 23:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-23)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-23/d/56036

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-24)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-24/d/56059

 

Loading..

Loading..