New Age Islam
Sun Sep 27 2020, 07:53 AM

Books and Documents ( 7 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 23) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 23

  

 

خورشید احمد فارق

علی حیدر رضی اللہ عنہ کی مالی حالت

ہجرت سےپہلے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی مالی حالت او رمعاشی سرگرمیوں  سے ہم بے خبر ہیں،بظاہر ایسا  معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کوئی  مستقل ذریعہ نہیں تھا اور وہ اپنے والد ابو طالب کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر کفالت زندگی بسر کرتے تھے ۔ ہجرت کے بعد جب ا ن کی عمر بائیس تئیس سال سے زیادہ نہ تھی دو ڈھائی بر س تک وہ سخت عسرت میں مبتلا رہے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے فی کھجور ایک ڈول کے حساب سے کسی  یہودی کےکنوئیں سے پانی کھینچ کر پیٹ بھرا ۔ 2 ؁ ھ میں ان کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہ سے طے ہوئی تو وہ بالکل تہی دست تھے ۔ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ایک زرہ بکتر تھی جسے بیچ کر مہر ادا کیا اور ایک قول یہ ہے کہ مہر میں ایک میلی چادر اور بکری کی کھال کے سوا کچھ نہ تھا   ۔

 2 ؁ ھ کے اَواخر سے جب مدینہ کے یہودیوں کا اخراج شروع ہوا اور ان کامال ومتاع ،زر وسیم ، نخلستان اور زراعتی فام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آئے اور انہوں نے اپنے نادار رشتہ داروں  نیز مہاجرین قریش میں تقسیم کئے دوسرے ہاشمیوں کی طرح علی  حیدر کی مالی حالت میں سدھر نے لگی اور اگلے پچیس تیس سال میں ان کی دولت نخلستانوں اور مزروعہ اراضی کی شکل میں اتنی بڑھی کہ وہ خوب مالدار ہوگئے اور اپنے غیر معمولی تمول کاہجرت کے ابتدائی ڈیڑھ دو سال کی تہی دوستی  سے مقابلہ کر کے حیرت کیا کرتے تھے جیسا کہ ان کے فوجی  کمانڈر محمد بن کعب قرظی رضی اللہ عنہ کی اس شہادت سے ظاہر ہے ۔ میں نے علی حیدر رضی اللہ عنہ کوکہتے سنا : مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب میں عہد نبوی ( یعنی ہجرت کے ابتدائی زمانہ ) میں بھوک سے بے تاب ہو کر پیٹ سے پتھر باندھے رہتا تھا اور آج ( میری دولت مندی کا یہ حال ہے) کہ سالانہ بیس ہزار روپے زکات اداکرتا ہوں ۔ دوسری روایت میں زکات کی مقدار دو لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔

علی  حیدر کی بیویاں ، امہاتِ اولاد اوربچے ہر سابق خلیفہ سے زیادہ تھے ۔ انہوں نے آٹھ شادیاں کیں ۔  ان کی چہیتی کنیزوں کی تعداد سترہ بتائی گئی ہے ۔ بچے اکتیس تھے جن میں لڑکیوں  کی تعداد سترہ تھی ۔ متعلقین کی اتنی بڑی تعداد بھی ان کے تمول کی واضح دلیل ہے۔ کوئی نادار اتنی بیویوں کامہر اور نان  نفقہ ، اتنی کنیزوں کاخرچ، اتنےبچوں کی پرورش اور شادی بیاہ کے مصارف ادا کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا  ، ازدواجی زندگی  میں جن لوگوں نے علی حیدر رضی اللہ عنہ  کو دیکھا تھا وہ بتاتے ہیں کہ ان کارنگ  گہرا سانولا تھا، قد درمیانہ سے کسی  قدر کم، آنکھیں بڑی اور بھاری ،داڑھی کندھوں تک پھیلی ہوئی، پیٹ بڑا، سر صاف۔ اُن کے لباس و طعام کا معیار خاصہ بلند تھا ۔ رپورٹر بتاتے ہیں کہ خلافت سے پہلے ایک موقع پر وہ لال رنگ کے دو کپڑوں (ثوبان مُمصَّران ) میں ملبوس تھے ۔انتخاب کے دوسرے دن عام بیعت کے لئے مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو یہ لباس زیب تن کئے ہوئے تھے : تہبند (ازار) کاہی گاؤں (طاق) ٹسر (خز) کاعمامہ ۔

 خلافت کے اوائل میں ایک دن وہ اپنے  پایۂ تخت کوفہ  کے محل  سے بر آمد ہوئے تو کڑھے حاشیہ کی دو لال چادروں ( برُ دان قطر یّان) میں ملبوس تھے ، ایک دوسرے موقع پر عمدہ دھاری دار نجرانی چادروں میں (برُدان نجرانیان ) ، ایک تیسرے موقع پر انہیں زدر  رنگ کے تہبند او رکڑھے حاشیہ کی سیاہ چادر ( خمیضۃ سوداء) میں دیکھا گیا ۔ اَنَس بن مالک رضی اللہ عنہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عمر فاروق اور ان کے لڑکے عبداللہ کے علاوہ ہر شخص نے خز (ٹسر) کالباس پہنا ۔ انس بن مالک کی اس تصریح سےبھی ظاہر ہوتا ہے کہ علی حیدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح خز اور اسی پایہ کا قیمتی  اور خوش وضع کپڑا استعمال کرتے تھے لیکن جنگ صِفّین ( 37 ؁ ھ) کے بعد جب علی حیدر رضی اللہ عنہ کی فوج میں پھوٹ پڑی اور ان کے بیشتر فوجی سالاران کا حکم ٹالنے لگے اور دوسری طرف تیزی سے ان کی قلمرد سکڑنے لگی اور خلافت  کے افق پر ہر طرف اندھیرا چھا گیا تو ان کا انبساط خاطر انقباض میں بدل گیا اور اس کے زیر اثر ان کا لباس بھی روکھا ہوگیا چنانچہ وہ کبھی دو روپے  ( چار درہم) قیمت کی ڈھیلی ڈھالی سوتی قمیض  (قمیض سُنبُلانی )  اور ڈھائی روپے کے تہبند میں نظر آتے ۔

زر وسیم اور دوسرے سامان کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں  کے املاک سے یہ چار نخلستان مع متعلقہ مزروعہ اراضی علی حیدر رضی اللہ عنہ  کو عطا کئے  تھے : فَقیراَن ، بئر قیس اور شجرہ 3 ؎  7 ؁ ھ میں جب خیبر کا وسیع اور شاداب علاقہ فتح ہوا اور اس کا تقریباً نصف حصہ خالصہ ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حصہ سے علی حیدر رضی اللہ عنہ  کے لئے سوا پانچ سو من ( سو وسق) کھجور اور جو اور ان کی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لئے ایک ہزار پچاس من ( دو سو وَسق) کھجور نیز سوا پانچ سو من ( سو وسق) گیہوں  مقرر کردیا ۔ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد یہ دونوں حصے علی حیدر رضی اللہ عنہ کو ملتے رہے ۔ علی حیدر اور بی بی فاطمہ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں  نواسوں حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے لئے بھی خیبر کی پیداوار سے  حصے مقرر کردیئے تھے ، ان کی مقدار کا ہمارے مراجع  میں ذکر نہیں ہے لیکن اس بات کا غالب  قرینہ ہے کہ ہر بھائی کا حصہ سو سو وسق یا سوا پانچ  سو من سے کم نہیں ہوگا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے علی حیدر رضی اللہ عنہ  کی تالیف  قلب  اور خلافت  سے محرومی پر ان کا غم و غلط کرنے کے لئے مدینہ کے مغرب میں ساحل قلزم کے قریب  یَنبع نامی ایک سر سبز وادی عطا کی تھی ۔

ایک خبر ہے کہ علی حیدر نے خود یَنْبُع کی فرمائش کی تھی ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ نے غلاموں او رموالی  کی مدد سے یَنْبُع میں کئی نئے  نخلستانوں کا اضافہ کر لیا جن میں عین ابی نیزر اور بُغَیبغہ سےہم واقف ہیں ۔ ابو نیز ر اُن کا مولیٰ تھا جس کی زیر نگرانی یہ نخلستان وجود میں آیا تھا ۔ انتقال  کے وقت رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے قبضہ میں یہ تین خالصہ  املا ک تھے ۔ یثرب سے نکالے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ یہودیوں  کے نخلستان اور فارم، فدک کے نخلستان اور نصف خیبر کے نخلستان  اور فارم ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  خلیفہ  ہوئے تو بی بی فاطمہ اور علی حیدر رضی اللہ عنہ  نے ان  سے کہا کہ یہ تینوں خالصہ  املاک  جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث ہیں ہمارے حوالہ کر دیجئے ۔ ابو بکر صدیق نے ان کامطالبہ رد کردیا او رکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں تصریح  کردی تھی کہ انبیا کا ترکہ ان کی اولاد اور متعلقین  میں بانٹا نہیں جاتا بلکہ امت کے لئے وقف ہو جاتا ہے ۔

لا نُو رِث و ماترکنا ہ صَدَ قۃ4؎  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا میں  خالصہ املاک سے تم دونوں کی حسب ضرورت مدد کرتا رہوں گاجیسا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ۔ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہ اور علی حیدر رضی اللہ عنہ نےنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب قول تسلیم کیا او رنہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیش کردہ مالی اعانت قبول کی۔ وہ بری طرح روٹھ گئیں  اور ابو بکر صدیق اور ان کے کنبہ  والوں سےبول چال بند  کردی ۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مترو کہ خالصہ  املاک  سے محرومی کا اتنا قلق  ہوا کہ چھ ماہ بعد جب ا ن کی عمر چھبیس ستائیس سال سے زیادہ نہ تھی دنیا سے کوچ کر گئیں اور وصیت کردی کہ ان کے جنازہ کی نماز ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نہ پڑھائیں ۔

خلافت سے محرومی کے بعد  اس دوسری ناکامی نے علی حیدر رضی اللہ عنہ کی طبیعت سخت منغص کردی،حکومت کے خلاف ان  کے تیور چڑھ گئے اور زبان طعن کھل گئی ۔ ان کی طرح  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےچچا عباس رضی اللہ عنہ بھی خالصہ املاک سے اپنے حصہ کے طلبگار تھے اور یہ دونوں دلیل  و بر ہان ، ناراضی و خفگی ، سفارش و دباؤ کا سہارا لے کر ان املاک  کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے دو سال بعد جب عراق و شام کی فتوحات سے سرکاری آمدنی کے دو عظیم سوتے کھل گئے تو خالصہ املا ک کاسب سے چھوٹا حصہ جو حریق کے سات نخلستانوں پر مشتمل تھا علی حیدر اور عباس بن عبدالمطلب کی مشترکہ نگرانی میں دینا منظور کرلیا اور ان سے وعدہ لیا کہ وہ اس کی آمدنی اسی طرح ٹھکانے لگائیں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لگاتے تھے یعنی اس کاکچھ حصہ خود لیں گے او رکچھ جہادی سر گرمیوں پر صرف کردیں گے لیکن زیادہ دن نہ گذرے تھے کہ علی حیدر رضی اللہ عنہ  سارے نخلستانوں  پر قابض ہوگئے اور ان کی کل آمدنی اپنے صرف میں لانے لگے ۔

ایک اطلاع یہ ہے کہ یَنبُع کے علاوہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے علی حیدر رضی اللہ عنہ کو رَحبہ کُردُوس بن ہانی نامی جائداد بھی دی تھی ۔ یہ تصریح مقریزی  نےاپنی خِطَط میں بغیر اسناد کی ہے رَحبہ کُردُوس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ بکری  کی  مُعجم سے بھی اس پر کوئی روشنی نہیں پڑتی ۔مدینہ کے باہر علی حیدر رضی اللہ عنہ کا ایک نخلستان سُویقہ نامی تھا ۔ یا قوت نے لکھا ہے کہ علی حیدررضی اللہ عنہ نے اسے بھی (یَنبُع وغیرہ کی طرح) وقف علی الاولاد کردیا تھا ۔ رپورٹروں نے مصر میں بھی ان کے ایک مکان کی نشان دہی کی ہے ۔ نصب الرایہ میں ہے : وتصدق علی بأ رضہ فی یَنبُع و دارہ مبصرَہ بأ موالہ با لمدینۃ علی اولادہ ۔علی حیدر نے ینبع کی جائداد ، مصر میں واقع ایک مکان اور مدینہ کے نخلستان اپنے بچوں کے لئے وقف کردیئے تھے ۔ شرح نہج البلاغہ میں وصیت کا جو متن درج ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائداد صرف لڑکوں کے لئے وقف تھی ۔ بیویاں او رلڑکیاں اس میں داخل نہیں تھیں ۔ وصیت  کے اہم اجزاء  کا ترجمہ حسب ذیل ہے: یہ وصیت  ہے عبدا اللہ علی بن ابی طالب امیر المومنین  کی اپنی جائداد کے بارےمیں  کہ حسن ابن علی اس کےمتولی ہوں گے، وہ اس کی آمدنی خود بھی مناسب طریقہ  پر کھائیں گے اور دوسروں پر بھی صرف کریں گے، اگر انہیں حادثہ موت پیش آجائے اور حسین رضی اللہ عنہ زندہ ہوں تو وہ جائداد  کے متولی ہونگے اور اسی مناسب طریقہ پر اس کی آمدنی خرچ کریں گے جیسا  کہ حسن رضی اللہ عنہ کرتے تھے ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ان دو لڑکوں کا حصہ آمدنی میں اتنا ہوگا جتنا علی رضی اللہ عنہ کےباقی لڑکوں کا ۔

 جائداد کےمتولی پر لازم  ہے کہ نخلستانوں کے درخت  نہ کاٹے اور صرف ان کے پھلوں  کی آمدنی حسب وصیت خرچ کرے۔ نخلستانوں میں اگنے والی کھجور کی  پود بیچنے کابھی حق متولی  کونہیں ہے الایہ کہ پود کی کثرت  سے نخلستانوں میں نقل و حرکت مشکل ہوجائے ۔میری جن کنیزوں سے لڑکے ہیں یا ہونے والے ہیں وہ انہی لڑکوں کے ہاتھ بیچ دی جائیں گی اور ان کی قیمت لڑکوں کو میرے ترکہ سےملنے والے حصوں  میں محسوب کرلی جائیگی۔

ھذا ما أ مربہ عبداللہ علی بن أبی طالب أمیر المؤمنین فی مالہ ، فإ نہ یقوم بذالک الحسن بن علی یأ کل منہ بالمعروف فإ ن حدث بحسن حدث و حسین حیّ قام با لأ مربعدہ و أ صدرہ مصدرہ و إن لِا بْنی فاطمۃَ من صَدَقۃ علیّ مثل الذ لبنی علیّ و یشترط علی الذی یجعلہ إلیہ أن یترک المال علی أصولہ و یُنفق من ثمرہ  حیث أمربہ و یُہدی لہ و أن لا یبیع من أ ولاد النخیل وَدِیۃ حتی یُشکل أ رضھا غرا ساً رمن إ مائی اللاتی أطوف علیھن لہاد لد أوھی حامل فتُمسک علی ولد ھاوھی من حظہ ۔

علی حیدر رضی اللہ عنہ کو ڈھائی ہزار روپے سالانہ گریڈ اوّل کی تنخواہ ملتی تھی جو عمر فاروق نےمجاہدین بدر کے لئے مقرر کی تھی اور ان کی نیزاہل بیت کی تالیف قلب کے لئے یہی تنخواہ ان کے دونوں صاحبزادوں  حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو بھی دی تھی جب کہ دوسرے بدری مجاہدین کے لڑکوں کی تنخواہ ہزار روپے سالانہ تھی ۔ عثمانی خلافت میں علی حیدر رضی اللہ عنہ کی آمدنی صرف نخلستانوں اور زراعتی پیداوار سے پچاس ہزار روپے سالانہ تک پہنچ گئی تھی جیسا کہ ان کے پر پوتے ابو جعفر امام باقر کی اس تصریح سے ظاہر ہے : ما قُتل بن عَفّانَ حتی بلغت غَلَّۃُ علیّ مئۃ ألف ۔ محمد بن کعب قُرَظی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک بار علی حیدر رضی اللہ عنہ نے جب وہ خلیفہ  تھے اپنے موجودہ تمول کا جنگ بدر سے پہلی  ناداری سے مقابلہ کرتے ہوئے کہا : ایک وہ زمانہ تھا جب عہد نبوی ( یعنی ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں بھوک سے بیتاب ہوکر میں  پیٹ سے پتھر باندھے رہتا تھا اور ایک زمانہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔  میری دولت  کی زکات بیس ہزار روپے ( چالیس ہزار درہم) ہے ۔

اس روایت کے بعض ناقلوں کی رائے  ہے کہ علی حیدر رضی اللہ عنہ نے زکات کی مقدار دو لاکھ روپے ( چالیس ہزار دینار ) بتائی  تھی ۔ بظاہر یہ ساری  زکات علی حیدر رضی اللہ عنہ  کے نخلستانوں  کی پیداوار  سے نکلتی تھی جو حجاز میں واقع تھے اور جہاں آب پاشی  کنؤوں  سے ہونے کے باعث زکات کی شرح پانچ فیصد تھی ۔ اگر علی حیدر رضی اللہ عنہ کی زکات بیس ہزا ر روپے قرار دی جائے جیسا کہ پہلی روایت  میں تصریح ہے اور دو لاکھ روپے والا قول نظر انداز کردیا جائے تو پانچ فیصد شرح  زکات  کے  حساب سےان کی سالانہ آمدنی چار لاکھ روپے اور ماہانہ تینتیس ہزار روپے ہوتی ہے ۔

علی حیدر  رضی اللہ عنہ کے اخراجات بھی وسیع تھے ۔ متعدد بیویاں  ، سترہ سر اری ، خدمت گار ، غلام او رکنیزیں نیز ڈھائی  درجن بچے جن میں سترہ لڑکیاں  تھیں، علی حیدر رضی اللہ عنہ ان سب کے کفیل تھے ۔ نخلستانوں ، فارموں ، خیبر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کر دہ ہزاروں من کھجور  وار غلّے کے  حصّوں ، تنخواہ نیز غنیمت  کے سِہام کے علاوہ  جہاں تک  مجھے معلوم ہے علی حیدر رضی اللہ عنہ ان کے لڑکوں کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں تھا ۔  لڑکوں  اور لڑکیوں کی خاندانی  وجاہت کے شایان شان شادی بیاہ کے مصارف او رمَہر کی رقمیں  ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ہضم کرلیتی تھیں ۔ ان کے بڑے صاحبزادے حسن رضی اللہ عنہ خاص طور پر خراچ اور شوقین مزاج تھے ۔ اچھی غذا ، اچھا لباس اور شادی بیاہ سے انہیں بڑی دل چسپی تھی ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ انہیں مِطلاق ( کثیر الطَلاق) اور صاحب الجفۃ و الخوان کہتے تھے ۔

وہ آئے دن شادیاں کرتے اور آئے دن طلا ق دیتے ۔ ان کی کل شادیوں کی تعداد علی اقل التقدر پر ستر بتائی جاتی ہے اور یہ سب علی حیدر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں منعقد ہوئی تھیں ۔ یعنی 40 ؁ ھ تک روز روز کی شادی  اور مہر نیز بعد از طلاق  عطیات (مُتعہ) کاعلی حیدر رضی اللہ عنہ کی آمدنی پربھاری بوجھ تھا ۔ رپورٹر بتاتے ہیں کہ صاحبزادہ حسن رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر مہر میں سو کنیز یں اور پچاس ہزار روپے دیئے تھے اور ایک دوسرے موقع پر دومطلقہ بیویوں کو پانچ پانچ ہزار روپے اور ایک ایک مشکیزہ شہد بعد ازطلاق عطیہ (مُتعہ) کے طور پر بھیجا تھا ۔

URL for part 22:

https://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-22)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-22/d/56017

URL for this article:

https://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-23)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-23/d/56036

 

Loading..

Loading..