New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 01:02 AM

Books and Documents ( 6 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 22) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 22

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

دور علوی کا اقتصادی جائزہ

علی حیدر رضی اللہ عنہ کا انتخاب

علی حیدررضی اللہ عنہ کا انتخاب غیر معمولی حالات میں ہوا تھا ۔ انہیں نہ عثمان غنی  رضی اللہ عنہ نے خلیفہ مقرر کیا تھا نہ بڑے صحابہ کے کسی انتخابی پینل نے  بلکہ ان لوگوں کے ہاتھوں وہ اس عہدہ پر فائز ہوئے تھے جنہوں نے چالیس دن عثمان غنی کی حویلی کا محاصرہ کر کے انہیں قتل کر ڈالا تھا ۔ جیسا کہ گذشتہ اوراق میں بیان کیا جا چکا ہے ، پہلے ابوبکر صدیق اور پھر عمر فاروق کے خلیفہ ہونے پر بطور احتجاج مدینہ کے سیاسی افق پر تین پارٹیاں نمودار ہوگئی تھیں ۔ سب سے بڑی اور طاقتور پارٹی علی حیدر رضی اللہ عنہ کی تھی، دوسری طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی اور تیسری زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کی ۔

یہ پارٹیاں اپنے اپنے امیدوارانِ خلافت کا راستہ ہموار کرنے کے لئے خلیفہ اور ان کی حکومت  پر نکتہ چینی  اور اپنے امیدوار وں کے استحقاقِ خلافت کا پروپیگنڈا کرتی تھیں ۔ دورِ فاروقی میں اس تحریک کو اتنا فروغ حاصل ہوچکا تھا کہ ایک موقع پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےمنبری نبوی  سے صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا : لوگو! لعن طعن سے اجتناب کرو، اگر میں مسجد کے دروازے بند کراکے کہوں کہ کوئی ایسا شخص باہر نہ جائے جو (میری ذات اور میرے کاموں پر) لعن طعن نہ کرتا ہو تو ایک شخص بھی مسجد سے باہر نہ جاسکے گا۔ ایھا الناس إیا کم والطعن ، فلوأ مرتُ بأ بو اب المسجد فأ خذت و قلت  لا یخرج أ حد یقال فیہ لَما خرج أحد ۔عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نکتہ چینی  ، خوردہ گیری اور پروپیگنڈے نے بڑی وسعت اور شدت اختیار کرلی تھی ۔ اس کے کئی سبب  تھے : ابو بکر صدیق کی سادہ اور عمر فاروق کی روکھی زندگی سے عثمان غنی کی زندگی بہت مختلف  تھی، وہ مالدار اور کنبہ پرور آدمی  تھے ،ان کی اور ان کے متعلقین کی غذا ، لباس اور ہائش کامعیار بلند تھا،  ان کی پرُ آسائش نکھری اور دولت  سے بھر پور زندگی نیز ان کی کنبہ پروری  نے بہت سے دلوں میں جلن پیدا کردی تھی اور وہ ان کے بد اندیش ہوگئے تھے ۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ سخت گیر آدمی تھے ، ان کی نظر یں تیکھی رہتی تھیں ، وہ ہر بات پر احتساب کرتے تھے اور ایک کوڑے سے جو ہمہ وقت ان کے ہاتھ میں رہتا ہر واقعی یا خیالی  کوتاہی پر سزا دیتے تھے ، ان کا ایسا  رعب تھا کہ یگا نے اور بیگانے سب ان سے ڈرتے اور ان کی سزا سے خائف رہتے تھے ، نہ تشدد پسند، نہ خوردہ گیر، ان کے ہاتھ  میں کوڑا بھی نہیں رہتا تھا ۔ ان کے بارے میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ بعض موقعوں پر غصہ کے عالم میں انہوں نے کسی کو زبان سے سخت  و سست کہا یا ہاتھ سے سزا دی  تو غصہ اتر نے پر اس سے معافی مانگ لی، یا پٹنے والے کے قدموں پر پٹنے کے لئے جا بیٹھے ۔ عثمان غنی کی ان صفات نے مخالف پارٹیوں  کے بے باک اور گستاخ بنا دیا تھا اور وہ مخالفانہ سرگرمیوں میں دلیر ہوگئی تھیں۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ممتاز صحابہ اور خاص طور پر امیدوار ان ِ خلافت کو مفتوحہ ملکوں  اور عرب فوجی مرکزوں میں جا کر رہنے یا تجارت کرنے یا جائداد خریدنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ، انہیں اندیشہ  تھا کہ یہ لوگ مقامی عرب اکابر کو ہموار کر کے اپنی یا اپنے کسی امیدوار کی خلافت کے لئے جد وجہد  شروع کردیں گے یا عربوں میں اختلاف و افتراق کے بیچ بو دینگے۔

محدث شعبی : عمر فاروق کا جب انتقال ہوا تو لو گ ان کی زندگی  سے تنگ آچکے تھے ، انہوں نے اکابر قریش کو مدینہ میں محصور کر رکھا تھا ، کسی کی مجال نہ تھی کہ مدینہ سے باہر قدم نکال سکتا ، عمر فاروق کہتے تھے : عرب قوم کی سلامتی  اور عافیت کے لئے مجھے کسی بات سے اتنا اندیشہ نہیں جتنا  آپ کے باہر جانے سے ہے ۔ اگر کوئی مہاجر قریش باہر جاکر جہاد کرنے کی اجازت مانگتا تو وہ  کہتے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جہاد کر چکے ہو وہ تمہاری  سر خروئی کے لئے کافی  ہے، اس وقت جہا دکے مقابلہ  میں یہی بہتر ہے کہ نہ تمہیں سر خروئی کافی ہے ، اس وقت جہاد  کے مقابلہ میں یہی بہتر  ہے کہ نہ تمہیں  دنیا دیکھے نہ تم دنیا کو ۔ عثمان غنی  رضی اللہ  عنہ نے خلیفہ  ہوکر مہاجرین قریش کو ڈھیل دے دی اور وہ مفتوحہ ملکوں  کو جانے لگے او ر وہاں  کے باشندے ان کی وفاداری  کادم بھرنے لگے ۔

لم یُمت عمر رضی اللہ عنہ  حتی ملّتہ قریش وقد کان حصر ھم بالمدینۃ فا متنع علیھم وقال : إن أخوف ما أخاف علی ھذ ہ الأ مۃ انتشار کم فی البلاد ، فإن کان الرجل لیستأ ذنہ فی  الغزو وھو ممن حُبس با لمدینۃ من المھا جرین فیقول : قد کان لک فی غزوک مع رسول اللہ ما یُبلغک و خیر لک من الغزو الیوم ألا تری الدنیا ولا تراک، فلما وُ لّی عثمان خلّی  عنھم ، فاضطربوافی البلاد و انقطع الیھم الناس ۔ دوسری صدی ہجری  کو شیخ تاریخ  سیف بن عمر : عثمان غنی  خلیفہ  ہوئے تو انہوں نے عمر فاروق  کی طرح اکابر قریش  کی باہر جانے سے روک تھام نہیں کی چنانچہ  انہوں نے مفتوحہ ملکوں میں  آناجانا شروع کردیا۔ انہوں نے وہا ں کی دنیادیکھی او رمقامی عربوں نے ان  کو تو وہ لوگ جنہیں  معاشرہ  میں وجاہت و عزت  حاصل نہ تھی ان اکابر سے وابستہ ہوگئے اور ( ان کی خلافت  کے لئے جد وجہد کے ارادہ سے) ٹولیاں بنالیں اور اکابر کو خلافت  کی امیدیں  دلانے لگے اور ان کے لئے  کوشش شروع کردی ، وہ کہتے : اگر یہ خلیفہ ہوگئے تو ہم ان سے اچھی طرح واقف ہو ں گے اور ان کے مقرب بن چکے ہوں گے۔ یہی تھی پہلی کمزوری جو اسلام میں داخل ہوئی او ریہی تھا  پہلا  فتنہ جس نے مسلمانوں  میں سر اُٹھا یا ۔فلما وُلّی عثمان لم یأ خذ ھم بالذی کان عمر یأ خذھم بہ، فا نساحوافی البلاد ، فلما رأ وھاور ا؁ٔ واالدنیا وراء ھم الناس انقطع ( الیھم) من لم یکن لہ  طَول ولا مَزیّۃ فی الإ سلام فکان مغمورا (فی الأ صل مغموما) فی الناس و صار وا أوزا عَا إلیھم و أمّلُوھم و تقد موافی ذلک فقالوا: یملکون  فنکون قدعر فناھم و تقد منا فی التقرب والإ نقطاع الیھم، فکان أولَ وھن دخل علی الإ سلام وأرل فتنۃ  کانت فی العا مۃ لیس  إلا ذلک ۔

عہد عثمانی میں  قریش کے جن ممتاز اشخاص  نے بیرونی عرب مرکزوں  میں جاکر اپنی یا اپنے امیدوار ان خلافت کے لئےمہم چلائی اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ او ران کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈ ا کیا، ان میں یہ پانچ خاص شہرت کے مالک ہیں : طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ۔ انہوں نے عراق میں کوفہ کے قریب ایک بڑی  جائداد  حاصل کرلی تھی او رکوفہ میں داد و دہش کے ذریعہ عربوں کو اپنی خلافت کی جد وجہد  کے لئے ہموار کرلیا تھا ۔ (2)  زبیر بن عّوام رضی اللہ عنہ ۔ مدینہ کے باہر ان کے حمائیتوں  کا مرکز بصرہ تھا جہاں انہوں نے دو کوٹھیاں بنوالی تھیں اور مقامی عربوں  کو مالی عطیات  دے کر اپنی خلافت  کے لئے  ان  کی اخلاقی اور عملی تائیدحاصل کرلی تھی ۔ (3) عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ ،محمد بن ابی حُذیفہ رضی اللہ عنہ اور محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ ۔ ان تینوں  کو عثمان غنی  رضی اللہ عنہ سے ذاتی رنجش تھی، اس رنجش کے زیر اثر عمّان بن یاسر رضی اللہ عنہ علی حیدر رضی اللہ عنہ کی خلافت  کے سر گرم کارکن بن گئے تھے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کو اس منصب سے بر طرف کرنا چاہتے تھے ۔

 محمد بن ابی حُذیفہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پرور دہ تھے اور ان سے عہدہ کی فرمائش کرتے تھے ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے محمد کی نا اہلی اور عدم تجربے کے پیش نظر جب عہدہ نہیں دیا تو وہ بگڑ کر مصر چلے گئے ۔ محمد بن  ابی بکر کی ماں سے جو ابوبکر صدیق کی بیوہ تھیں علی حیدر رضی اللہ عنہ نے شادی کرلی تھی، محمد کی پرورش بچپن سے علی حیدر کے زیر سایہ ہوئی تھی ۔ ان کی تمنا تھی کہ علی حیدر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوں اور انہیں شاندار عہدہ دیں ۔ ان کے ذمہ ایک بڑا ( غالباً مالی ) مواخذہ آپڑا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ خلیفہ ان کے ساتھ خصوصی رعایت سے کام  لے کر مواخذہ ٹال دیں اور جب ایسا  نہیں ہوا تو وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے سخت  رنجیدہ ہوگئے ۔ان تینوں نے مصر کو اپنا ہیڈ کواٹر بنا لیا تھا ۔ وہاں کے عربوں  میں عثمان غنی کی مذمت کرتے اور ان کے اور ان کے گورنروں کے خلاف اشتعال پھیلاتے ، علی حیدر کے مناقب بیان کرتے اور ان کی خلافت کے لئے خاص و عام کی تائید حاصل کرتے۔

عثمانی دور میں مرکزی  آمدنی ہر پچھلے دور سے زیادہ بڑھ گئی تھی اور سرکاری خرچ نسبتاً کم ہوگیا تھا ۔ وجہ یہ تھی کہ پڑوس کے تینوں  خوش حال ملک ۔ عراق  ، شام  او رمصر ، فاروقی دور میں فتح ہوچکے تھے اور وہ بڑے بڑے معر کے ختم  ہوچکے تھے جن پر مرکزی خزانہ کو عظیم مصارف کرنا پڑتے تھے اور جن کے بار سے مرکزی حکومت  ہمیشہ کے لئے  سبکدوش ہو چکی تھی ۔ اس کے علاوہ آمدنی بڑھانے کے لئے فاروقی دور میں جِزیہ اور لگان کے ترمیمی  ضابطے نافذ کردیئے گئے تھے جن کے ماتحت مفتوحہ علاقوں  میں مقیم عرب فوج  خود کفیل  ہی نہیں ہوگئی تھی بلکہ  بہت سا روپیہ  اور مال و متاع پابندی کے ساتھ مرکزی خزانہ میں آنے لگا تھا ۔ اس پر مستزادوہ آمدنی تھی جو عثمانی دور میں خراسان اور شمالی افریقہ میں فوج کشی اور ترکتاز کے نتیجہ  میں مرکزی  خزانہ کو حاصل ہونے لگی تھی ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ اس فراوان دولت سے ضرورت مندوں او رکار گذار افسروں کو ان کی حسن خدمت  سے خوش ہوکر یا ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مالی عطّیے دیا کرتے تھے ، اس سے وہ اپنے  خستہ حال یا اقتصادی  دوڑ میں  پچھڑے ہوئے رشتہ داروں  کی بھی مالی مدد کرتے تھے ۔ ان کی رائے تھی کہ جس طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس یا زکات یا خالصہ املاک سے ضرورت مندوں او راپنے ہاشمی و مطلبی اعزا کی اعانت  اور کار گذار افسروں کی ہمت افزائی کرتے تھے اسی طرح  انہیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کی حیثیت سے سرکاری روپیہ  میں اس طرح کے تصرف کا حق ہے ۔

بڑھی ہوئی فوجی ضرورت او رمحدود آمدنی کے باعث ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ دونوں ناداروں  کی مالی امداد اور کار گذار افسروں کی اعانت  کم ہی کرتے تھے اور اگر کرتے تو مقدار عثمان غنی  کے عطیات سے کم ہوتی تھی ۔ جہاں  تک مجھے  معلوم  ہے شیخین  نے سرکاری روپے سے اپنے رشتہ داروں کو عطیے نہیں دیئے اور اگر کبھی  ان پر سرکاری روپیہ صرف کیا بھی تو قرض  لے کر کیا جو بعد میں ادا کردیا گیا ۔ یوں  تو عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہوتے ہی مخالف پارٹیوں  نے ان پر اور ان کے افسروں پر احتسابی  نظریں گڑودی تھیں اور ان کے اعمال  کی کبھی مبالغہ آمیز ، کبھی غلط  او ر کبھی بگڑی ہوئی تعبیر کر کے خاص  و عام میں خلیفہ او ران کے افسروں  کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کی مہم چلادی تھی لیکن مالی معاملات میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی فراخ روی  اور شیخین کے طریق کار سے انحراف اور دوسری طرف بڑے عہدوں پر اموی  عزیزو اقارب کی تقرری نے ان کی مخالف کی تحریک کو سب سے زیادہ تقویت پہنچائی اور امیدوارانِ خلافت  اور ان کی حامی  پارٹیوں کے ہاتھ میں  پروپیگنڈے کا  نہایت موثر ہتھیار دے دیا ۔ مخالف پروپیگنڈا حقیقت سے اتنا بے پرواہ ہوگیا تھا کہ اگر عثمان غنی رضی اللہ عنہ  ذاتی روپے سے بھی کوئی  کام کرتے تو مشہور ہوجاتا کہ خزانہ کا روپیہ خرچ کیا گیا ہے اور اگر فوری  ضرورت کے وقت بیت المال سے قرض لے کر کسی رشتہ دار کی مدد کرتے تو خبر  اڑادی جاتی کہ سرکاری روپیہ سے کنبہ پروری کی جارہی ہے لیکن جب عثمان غنی رضی اللہ عنہ لی ہوئی رقم خزانہ میں لوٹا دیتے تو کوئی اس کاچرچا نہ کرتا ۔

 عثمان غنی کے خاندان ( بنو اُمیّہ) نیز قریش و انصاری عمائد کی ایک مختصر جماعت کو چھوڑ کر سارا مدینہ ان سے منحرف ہوکر تینوں  امیدوارانِ خلافت۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ ، طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کا حامی و ناصر ہوگیا تھا ۔ تینوں امیدوار وں کے کارکنوں نے بیرونی عرب   مرکزوں میں خلیفہ اور ان کے  عُمال کے خلاف  فضا مسموم کر دی تھی ۔

35 ؁ ھ میں امیدواران خلافت کے ایما پر بصرہ، کوفہ اور مصر سے ہزار بارہ سو آدمیوں کے جتھے مدینہ آئے ۔ ان کی صفوں میں مدینہ کی مخالف جماعتوں کےبہت سے طرفداروں اور غلاموں نے جگہ لے لی ۔ انہوں نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ خلافت سے دست بردار ہوجائیں  اور جب انہوں نے یہ مطالبہ رد کردیا تو ان کی حویلی  کامحاصرہ کر لیا ۔مصری جتھے کی تعداد چھ سو او ربقول بعض ایک ہزار تھی اور اس کا اثر و رسوخ بھی بصرہ اور کوفہ کے جتھوں سے زیادہ تھا کیوں کہ اس کی قیادت کئی ممتاز صحابی کررہے تھے جن میں عما ر بن یاسر رضی اللہ عنہ اور علی حیدر رضی اللہ عنہ کے پروردہ محمد بن ابی بکر پیش پیش تھے ۔ یہ گروہ علی حیدر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بناناچاہتا تھا ۔ مدینہ کے ہاشمی گھرانے  ،تھوڑے سے انصاریوں اور مہاجرین کو چھوڑ کر بیشتر انصار جن میں بدری اور اُحدی صحابہ  شامل تھے ، علی حیدر رضی اللہ عنہ کے طرفدار تھے۔

  چالیس دن محاصرہ کے بعد محمد بن ابی بکر مصری جتھے کے چند افراد کے ساتھ پڑوس کے ایک انصاری کی چھت سے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حویلی  میں اتر پڑے اور انہیں قتل کر ڈالا ۔ محاصرہ کے دوران باغیوں نے حویلی  میں میٹھے پانی ، پھل اور ترکاری تک کی سپلائی بند کردی تھی ۔عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کا سارا کنبہ گھر کے کنوئیں کا کھارا پانی پینے پر مجبور تھے ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ کے کیمپ کے انصار نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے شہر کی مٹی دینے سے بھی انکار کردیا ۔ بہزار مشکل تین دن بعد رات کے اندھیرے میں چند غیر اُموی افراد خلیفہ کی لاش جان ہتھیلی  پر رکھ کر قریب کے ایک نخلستان لے گئے اور سپرد خاک کر آئے ۔

مدینہ میں علی حیدر رضی اللہ عنہ کی پارٹی طلحہ  بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ کی پارٹیوں سے زیادہ بڑی اور بااثر تھی  اور بیرونی جتھوں میں علی حیدر کا حامی جتھا بصرہ اور کوفہ کے جتھوں سے تعداد اور رسوخ میں زیادہ تھا اس لئے دوسری پارٹیاں  کمزور پڑ گئیں اور علی حیدر خلیفہ منتخب کر لئے گئے ۔ عثمان غنی کے کچھ عزیز بھاگ کر امیر معاویہ کے پاس  شام چلے گئے اور کچھ نے اپنے آبائی وطن مکہ جاکر پناہ لی! نو دس انصاری جو عثمان غنی کے مرہون کرم تھے علی حیدر کی بیعت  سے محترزر ہے اور چند قُرشی  اکابر  نے  جن میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  اور سعد بن عوّام رضی اللہ عنہ  سے زبر دستی بیعت لی گئی بیعت کے بعد طلحہ بن عبیداللہ نے کوفہ  کی گورنری مانگی اور زبیر بن عوّام نے بصرہ کی لیکن علی حیدر رضی اللہ عنہ  اس  کے لئے تیار نہیں ہوئے ۔

 انہیں اندیشہ  تھا کہ یہ دونوں سب سے بڑے عرب مرکزوں کے حاکم ہوکر اور وہاں دولت سے بھر پور خزانوں  پر متصرف  ہونے کے بعد اپنی خلافت  کی خواہش  پروان چڑھا نے کی کوشش کریں گے۔ طلحہ  بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ  اور زبیر بن عوّام  رضی اللہ عنہ  نے بزور شمشیر خلافت کے لئے قسمت آزمائی کاعزم صمیم کر کے پہلی فرصت میں مکّہ کا رخ کیا ۔ اس عزم کے پشت پرد ہ عظیم خدمات تھی جس  کے یہ دونوں  مالک تھے اور وہ بہت سے حمایتی  اور ہوا خواہ جو بصرہ  اور کوفہ میں ان کی داود دہش اور ترغیب و تلقین نے پہلے سے تیار کرلئے  تھے ۔ حج سے فارغ ہوکر ام المومنین  عائشہ رضی اللہ عنہ  مدینہ چلی آرہی تھیں کہ انہیں راستہ  میں عثمان  غنی رضی اللہ عنہ  کے قتل اور حیدر رضی اللہ عنہ  کے خلیفہ ہونے کی خبر ملی ۔ان کا دل دونوں کی طرف سے مکدر تھا اور وہ دونوں  کی مذمت کیا کرتی تھیں ۔

شخصی شکایتیں  اور خاندانی رنجشیں اس کدورت کی ذمہ دار تھیں ۔ ان کی خواہش  تھی کہ  خلافت کے شاندار منصب  پر طلحہ  بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فائز ہوں جو ان کے ہم قبیلہ ، چچازاد بھائی  اور بہنوئی تھے  اور جن سے ہر سال انہیں پانچ ہزار روپے ( دس ہزار درہم) کا عطیہ بھی ملتا تھا ۔وہ عثمان غنی کے ہمدرد ہوگئیں او رمکّہ لوٹ کر باشندگان شہر کو جمع کر کے جوشیلی تقریر میں کہا کہ علی حیدر نے ایک گمراہ اور باغی پارٹی  کی مدد سے ایک مرد صالح (عثمان غنی ) کو قتل کر کے خلافت پر ناجائز قبضہ کرلیا ہے اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ان ناحق خون کا انتقام لینے کے لئے کھڑا ہوجائے ۔ ام المؤمنین  کی تقریر  کا خاطر خواہ اثر ہوا ۔ جلد ہی طلحہ  بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ ام المؤمنین  سے آملے ۔ متمول اموی اکابر کی ایک جماعت  بھی عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انتقام لینے اور علی حیدر رضی اللہ عنہ کی خلافت ناکام بنا دینے کےلئے اٹھ کھڑی ہوئی اور ان تینوں  کے ساتھ ضم ہوگئی ۔ جنگ کی تیاری  ہونے لگی ۔ اتحادیوں نےبصرہ کو ہیڈ کواٹر بنانے کا فیصلہ  کیا جہاں  ان کے بہت سے حمایتی  موجود تھے او رجہاں کا خزانہ روپے پیسے سےبھرپور تھا ۔ انہوں نے طے کیا کہ علی حیدر سے عثمان غنی کے قاتلوں کو طلب کیا جائے اور اگروہ یہ مطالبہ رد کردیں تو اعلان جنگ کردیا جائے ۔

 خلیفہ منتخب ہونے کےبعد علی حیدر رضی اللہ عنہ نے شام کے طاقتور گورنر امیر معاویہ  کوبیعت کے لئے تاکیدی مراسلہ بھیجا تھا ۔ امیر معاویہ نے لکھاکہ میں عثمان غنی  کا ولی ہوں اور  بحیثیت  ولی کے اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک ان کے قتل  کا انتقام نہ لے لوں ، اس لئے ضروری ہے کہ پہلے آپ  مرحوم خلیفہ  کے قاتلوں  کو میرے حوالہ کردیں ۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اتحادیوں  کا یہ مطالبہ ماننا علی حیدر کے بس سےباہر تھا کیونکہ  جن لوگوں کو سزا کے لئے طلب کیا جارہا تھا انہی  کی کوشش اور تعاون  سے علی حیدر خلیفہ بننے میں کامیاب ہوئے تھے ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ  نے اتحادیوں اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کامطالبہ کردیا ، دونوں  طرف لڑائی ٹھن گئی ۔

علی حیدر رضی اللہ عنہ نے پونے پانچ سال حکومت کی ۔ یہ سارا زمانہ مسلمانوں  کی باہمی جنگ  کازمانہ ہے ۔ اس میں دو ہولناک لڑائیاں ہوئیں ، ایک جنگ  جَمَل اتحادیوں اور علی حیدر کے درمیان، اس میں طلحہ  بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ  اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے علاوہ بیس اور بقول بعض تیس ہزار مسلمان مارے گئے ، دوسری جنگ  صِفّین علی حیدر  رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ۔ اس میں ستر ہزار جانیں تلف  ہوئیں اور وہ گتھی  پھر بھی نہ سلجھی جس کے لئے یہ خونریزی ہوئی تھی ۔ اسلامی دنیا  کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ بڑے ٹکڑے پر اوّل اوّل علی حیدر کا راج تھا اور چھوٹے یعنی شام پر امیر معاویہ کالیکن علی حیدر کی گرفت اپنی قلمر و پر تیزی سے ڈھیلی ہوتی گئی ۔ خراسان ، فارس اور کرِمان کے رئسیوں نے جزیہ اور لگان بند کردیا، امیر معاویہ مصر پر قابض ہوگئے اور علی حیدر کے دوسرے صوبوں پر ہاتھ ڈالنے لگے ، علی حیدر رضی اللہ عنہ کے کیمپ میں پھوٹ پڑ گئی اور ان کے بہت سے فوجی کمانڈر اور قبائلی  و مذہبی زعیم ان کی بڑھی ہوئی انانیت  ، استبداد رائے ، جنگ کوشی اور تدبر کی جگہ تشدد کی  پالیسی  سے تنگ آکر جس کے نتیجہ  میں ہزاروں  عورتیں  بیوہ اور ہزارو ں بچے یتیم ہوگئے تھے اور ہزاروں  بیوگی اور یتیمی  کے زد میں آگئے تھے  ان سے بد دل ہوگئے اور امیر معاویہ کے ساتھ ایک دوسری بڑی جنگ کی حیدری  دعوت ٹالنے  لگے یہاں تک  کہ ایک قاتل کی تلوار نےان کی نا کام خلافت  کا خاتمہ  کردیا ۔

URL for part 21:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-21)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-21/d/56001

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-22)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-22/d/56017

 

Loading..

Loading..