New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 12:02 PM

Books and Documents ( 5 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 21) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 21

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

مسلمانوں کی اقتصادی حالت

(1)  عام عرب

عثمانی خلافت میں بیرونی فتوحات کے لئے جزیرہ نمائے عرب کے نادار عربوں کے بھرتی ہونے کا وہ عمل جاری رہا جس کی ابتداء صدیقی دور میں ہوئی تھی اور جو فاروقی دور میں اپنی معراج کو پہنچا تھا ۔ ہزار عربوں پر جو ریگستانی دیہاتوں میں عسرت کی زندگی گذار رہے تھے خوش حالی کے دروازے کھل گئے  اور وہ ریگستان کے روکھے اور پرُ مثقت ماحول سے نکل کر اسلامی فتوحات کی نعمت  بھری دنیا میں جینے لگے ۔

پیش نظر ماخذ سے یہ نہیں  معلوم ہوسکا کہ عثمانی دور میں بھرتی ہونےوالے مسلمان کی مجموعی تعداد کیا تھی، لیکن تونس الجیریا او رمراکش پر فوج کشی کے موقع پر  بھرتی ہونے والے عربوں کی تعداد رپورٹر وں نے دس ہزار بتائی  ہے ۔ ان میں غالباً دو چار سو مدینہ  کے قرشی اور انصاری  مجاہد تھے ، باقی دیہاتی عرب  تھے جن کی اکثریت مضافات مدینہ سے بھرتی ہوئی تھی جیسا کہ بَلا ذُری کی تصریح سے ظاہر ہے ۔ وخرج فی ھذا الغزوممن حوال المدینۃ من العرب  خلق کثیر   صدیقی اور فاروقی فتوحات میں  شریک ہونے والے عرب جو مفتوحہ شہروں  اور نئی چھاؤنیوں میں بس گئے تھے با تسخیری  سرگرمیوں میں مصروف تھے، عثمان خلافت میں اور زیادہ خوش حال ہوگئے ۔ ان کے اور ان کے بال بچو ں کی تنحواہوں میں پچاس روپے سالانہ کااضافہ ہوگیا تھا ، مفتوحہ علاقوں میں روز افزوں بغاوتوں اور غیر مفتوحہ علاقوں میں فاتحانہ پیش قدمی کی بڑھتی  ہوئی رُکاوٹوں سے عثمانی  دور میں عرب ترکتاز یوں میں نمایاں  اضافہ ہوگیا تھا، اور ان کے زیر اثر عرب افواج کی مالی یافت سِہامِ غنیمت کی شکل میں خوب بڑھ گئی تھی ۔ عثمانی دور میں سرحدوں  کی عرب افواج کو جاگیر یں بھی دی جانے لگیں  جس سے ان کی دولت مندی کا دائرہ  وسیع ہوگیا ۔ اس دور میں سر حد پار کر کے دشمن عربوں کے قبضہ سے اپنی قلمر د واگذار کرانے یا ان سے انتقام لینے یا ان کی فوجی مشین پر ضرب لگانے کے لئے کھوتے ہوئے علاقوں  پر حملہ  کرنے لگے تھے ۔ ان کی روک تھام کے لئے عثمانی حکومت  نے سر حد پر جگہ جگہ فوجی چوکیاں قائم کردیں جن کا کام دشمن  کی ٹوہ لینا، اس کے اچانک حملہ  کامقابلہ کرنا او ر متعلقہ  حاکموں  کو اس کی فوجی نقل و حرکت کی خبر دینا  تھا ۔ عربوں کے لئے وطن سے دور پرُ خطر سر حدی رہائش میں کشش پیدا کرنے کے لئے حکومت نے تنخواہوں اور راشن کے علاوہ سر حدی فوج کو ایسے مکانات و زمینیں اور باغ عطا کردیئے جن کے مالک بھا گ گئے تھے ۔

(2) انصار

عثمانی دور میں انصار کی اقتصادی ترقی، خلافت کے سیاسی، فوجی او ر سِول عہدوں  کے ذریعہ تقریباً مسددور ہی انصاری قریشی مہاجر سالاروں کی ماتحتی میں رسالوں  ، فوجی دستو  ں ۔ مرکز کی طرف سے مرسلہ کمک کی سالارہی پر فائز ہوئے اور کئی ایک کو غیر فوجی عہدے بھی دیئے گئے ۔ لیکن  عثمان خلافت میں سیاسی فوجی افق انصار سے خالی نظر آتا ہے ۔ سِول عہدوں پر بھی انکی جھلک نہیں دکھائی دیتی ۔ فارس، کرمان، مُکران ، سجستان  ، خراسان اَوُرَ بی جان اور آر مینیہ کے درجنوں فوجی کمانڈروں کی فہرست میں کوئی انصاری نام نہیں ملتا ۔ نہ اِس وسیع محاذ کے سفیروں ، کمک سالاروں اور گورنروں کے حلقوں  میں 27 ؁ ھ میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دس ہزار سپاہیوں کا ایک شاندار لشکر مدینہ سے مصر روانہ کیا تاکہ وہاں کی فوج میں ختم ہوکر تونس، الجیریا اور مراکش پر چڑھائی کرے ۔ اس فوج میں مدینہ کے ممتاز مہاجر صحابہ کے لڑکے موجود تھے جن کے نام فرداً فرداً ویول نے بیان کئے ہیں لیکن ان میں نہ کسی انصاری صحابی کا نام ہے نہ اس کے لڑکے کا ۔ ایک اطلاع سے یہ ضرو ر معلوم ہوتا ہے کہ مرسلہ لشکر میں انصاری صحابی موجو دتھے ۔ نخرج الی مصر عشرۃ آلاف من قریش و الاَنصار والمہا جرین لیکن ان کے کسی زعیم کے نام کا جنگ سے پہلے یا اس کے دوران یا جنگ کے بعد ذکر نہ ہونے سے متبادر ہوتا ہے کہ انصار کا فوج میں کوئی قابلِ ذکر تناسب نہیں اور انصاری عام عرب سپاہیوں  کی طرح جہاد کےلئے گئے تھے ۔ خلافت کی سرگرمیوں  سے انصار کی علیحدگی کے کئی  سبب تھے۔ ایک تو وہی  جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے یعنی  مہاجرین قریش کی تمام پالسی  کہ انصار کو خلافت کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی عہدو ں سے الگ رکھا جائے تاکہ  وہ قریش  کی برابری کا دم نہ بھریں اور اپنی خلافت  کے لئے مہم نہ چلا سکیں ۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ بہت سے انصاری  عمائد عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے انتخاب سے ناخوش تھے اور ان کی حکومت پر نقد و تعریف کرتے تھے ، ان کی ہمدردیاں علی حیدر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں اور وہ انہیں صدر نشین خلافت دیکھنا چاہتے تھے ۔ ان انصاری لیڈروں نے جو عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے حق میں  تھے جب دیکھا کہ نئی حکومت میں ان کو عہد ے نہیں  ملے اور حکمران طبقہ سرد مہری سے کام لے رہا ہے اور خلیفہ کا رجحان  خویش پروری  کی طرف ہے تو ان  کےبھی تیور بدل گئے اور وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ  کے  کاموں  پر کڑا نقد کرنے لگے ۔ تیسری  وجہ یہ تھی کہ ۔۔۔۔۔ انصار کی ایک خاصی بڑی جماعت دورِ صدیقی اور فاروقی میں حکومت کی ۔۔۔۔۔۔۔بے اعتنائی سے ناراض ہوکر احتجاجاً خلافت کے معاملات سے بے تعلقی ظاہر کرنے لگی تھی اس کو یہ گوارانہ تھا کہ خلافت  کے تسخیری معرکوں میں انصار اپنی جان کی بازی  لگائیں اور فتوحات  اور ان کی مادی برکتوں سے قریش کا قبیلہ  پہرہ ور ہو۔ اندررین حالات انصار کو عثمانی حکومت  کا اعتماد اور خوشنودی  حاصل نہیں تھی ۔ پرُ منافع سرکاری عہدوں سے محرومی کے باوجود عثمانی دور میں انصار نے خوب اقتصادی ترقی  کی، ان کے چار طبقے تھے : بڑے زمیندار ، متوسط درجہ کے زمیندار ، چھوٹے جاگیر دار او رمعمولی  حیثیت  کے کاروباری لوگ ۔ بڑے زمیندار وہ تھے جن کے پاس ہجرت نبوی سے پہلے وسیع زراعتی فارم اور نخلستان تھے اور جب 7 ؁ ھ میں خیبر اور وادی القریٰ بزور شمشیر فتح ہوئے تو انہیں  غنیمت میں مزید فارم اور باغ مل گئے تھے ۔ متوسط درجہ کے زمیندار وہ تھے جن کے پاس ہجرت سے پہلے چھوٹے فارم اور نخلستان تھے اور عہد نبوی میں خَیبر اور ودای القُریٰ کے معرکوں میں شرکت کےبعد ہارے ہوئے یہودیوں کی املاک سے بھی جن کی ایک جماعت کے قبضہ میں جاگیریں آگئی تھیں ۔ چھوٹے زمینداروں میں وہ لوگ تھے جو ان ہی دو بستیوں میں جاگیریں  پا چکے تھے او ربعد میں خلافت کے چھوٹے عہدوں پر بھی فائز رہے تھے ۔ معمولی حیثیت  کے لوگ جن کی اکثریت تھی مختلف قسم کاکاروبار کرتے تھے ۔ عہد فاروقی  میں دیوان العطاء کے  ماتحت تنخواہوں اور راشن کی لگی بندھی آمدنی نیز خلافت  عثمانی میں ہر سابقہ دور سے زیادہ غنیمت  کے سہام سے مزید تقویت پا کر ان تینوں طبقوں نے اپنے فارموں اور باغوں کی پیداوار خوب بڑھالی اور چوتھے طبقہ نے اپنے کاروبار کو زیادہ وسیع اور سود مند بنیادوں پر استوار کر لیا ۔

(3) ہاشمی قریش ( بنو ہاشم)

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاعہد حکومت سازی خلافت راشدہ میں اقتصادی ترقی کا روشن ترین دور تھا، اس میں اس اقتصادی ارتقاء کے ثمرات پوری طرح ظاہر ہوئے جس کی ابتدا نبوی میں ہوئی تھی اور نشو و نما  کےمراحل  صدیقی  اور فاروقی  دور میں طے ہوئے تھے ۔ فتوحات کے دائرہ میں وسعت کےساتھ  اس دور میں تجارت ، زراعت اور باغبانی میں بھی مدینہ  کےعربوں نے جن میں بنو ہاشم داخل تھے خوب ترقی کی ۔ انصار کی طرح بنو ہاشم بھی خلافت کےاسٹیج  سے الگ تھلگ رہے تھے ۔ اور اس علیٰحدگی کے کم و بیش  وہی اسباب تھے جنہوں نے انصار کو دور رکھا تھا ۔ خلافت اور اُس کے پرُ منفعت عہدوں سے محروم ہوکر اس خاندان کا رجحان پوری طرح تجارت ، زراعت اور باغبانی کی طرف ہوگیا تھا ۔ ہاشمیوں  نے بہت سے غلام فراہم کر لئے تھے اور با صلاحیت غلاموں کو ان سے زر مخلصی لے کر یا احساناً آزاد کر دیا تھا اور ان دونوں کی محنت اور کاؤش سے اپنی زراعت ،باغبانی اور تجارت کا کاروبار چلارہے تھے ۔ جوں جوں ان کی آمدنی بڑھتی گئی اس کا روبار میں ترقی ہوتی گئی ۔  عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں دیوان العطا ء کی لگی بندھی تنخواہوں اور راشن سے بنو ہاشم تینوں شعبوں کو مزید وسعت دینے پر قادر ہوگئے ­۔عثمانی خلافت میں تنخواہوں کے اضافہ اور آئے دن ہاتھ آنے والے غنیمت  کے سہام سے ان کی اقتصادی  ترقی کو اور زیادہ تقویت حاصل ہوئی ۔ بنو ہاشم کے تین خاندان  دولت مندی میں پیش پیش تھے ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ کا خاندان، عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا خاندان اور جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا خاندان ۔ علی حیدر کو چار جاگیر  یں اور باغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا کئے تھے اور ایک بڑا نخلستان  ( بمقام ینبع) ان کے داماد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیا تھا ۔ ان چاروں میں ان کے غلام اور موالی کارندوں نے زراعتی فارم اور نخلستان بنا لئے تھے جن کی پیداوار بڑھتے بڑھتے عثمانی خلافت میں پچاس ہزار روپے سالانہ  تک پہنچ گئی تھی ۔ عن أبی جعفر ( امام باقر) ما فُتل ابن عَفّان حتی  بلغت غلۃ علّی مئۃ ألف ۔ ایک اطلاع سے معلوم ہوتا ہے کہ علی حیدر کی زکوٰۃ ہی کی مقدار میں ہزار روپے تھی ۔ اس اطلاع کے بعد ناقل چالیس ہزار درہم کی جگہ چالیس ہزار دینار بتاتے ہیں ۔ اس زمانہ  میں ایک دینار دس درہم یا چاندی  کے پانچ روپے کے برابر ہوتا تھا ۔ اس حساب سے چالیس ہزار دینار چاندی کے دو لاکھ روپے کے مساوی  اور علی حیدر رضی اللہ عنہ کی اصل دولت  اسی لاکھ روپے کے بقدر ہوئی ۔ ہجرت  سے پہلے عباس  بن عبدالمطلب متوفی 32 ؁ ھ ایک تجربہ کا ر اور خوش حال تاجر تھے ۔ ہجرت کے  بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وقۃً فوقۃً جاگیریں ، نخلستان ، غلام اور زر وسیم دیتے رہتے تھے ، مدینہ میں انہوں نے اپنا تجارتی کاروبار خوب بڑھایا لیا تھا ۔ ان کی دولت یا زکات کاکوئی اندازہ  ہم نہیں لگاسکے لیکن  ایک خبر یہ ہے کہ انہوں نے مرتے وقت ستّر غلام آزاد کئے تھے ۔

(4) غیر ہاشمی قریش

عثمانی خلافت میں ا س طبقہ نے ہر دوسرے طبقہ سے زیادہ شاندار اقتصادی ترقی کی منزلیں طے کیں ۔ غیر ہاشمی قریش میں سب سے بڑا اور با حوصلہ خاندان بنو اُمیّہ کاتھا جس کے ایک ممتاز رکن خلیفہ وقت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔ مدینہ ، حجاز اور پڑوسی  ملکوں سے ہونے والی معتدبہ تھوک تجارت اسی طبقہ کے  ہاتھ میں تھی ۔ اس طبقہ کے ایک گروہ  نے مفتوحہ  علاقوں  میں جائدادیں  بھی حاصل کرلی تھیں ۔ بنو امیّہ کے کچھ خاندان تجارت میں مشغول تھے او ر کچھ  سرکاری عہد وں پر فائز تھے ۔ حکومت  کے بیشتر اعلیٰ  پرُ منفعت مناصب  پر یہی  خاندان چھایا ہوا تھا ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق اور عمر فاروق  کی طرح اپنے کسی لڑکے کو کوئی سرکاری عہدہ نہیں دیا لیکن دوسرے اقارب کو بڑے بڑے منصب تفویض  کئے اور فراخدلی  سے ان کی مالی  مدد بھی  کی ۔ ان اقارب  میں ان کے چچا  حَکَم بن عاص اور حَکَم کے لڑکے خاص طور پر مشہور  ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کے بعض  بد عنوانیوں  سے ناراض  ہوکر انہیں مع بال بچوں کے مدینہ سے طائف  جلا وطن کردیا تھا ۔ یہ جلا وطن  صدیقی  اور فاروقی دور تک چلتی رہی ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ  نے خلیفہ  ہوکر حَکَم اور ان کے بچوں کو مدینہ  میں آنے  کی اجازت د ے دی ۔ جلا وطنی کے باعث حَکَم اور ان کے لڑکے خلافت کی مادی برکتوں سے بالکل  محروم رہے تھے  اور طائف کے نامساعد حالات میں اپنی  معاشی  سطح بلند نہ کرسکتے تھے ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ  نے حَکَم کوبعض قبیلوں  کا زکاتِ کلکٹر مقرر کردیا اور ان کے پانچ لڑکے کو بازار مدینہ کا نگراں بنادیا اور دس کو اپنی دولت سے پانچ پانچ ہزار روپے عطا کئے اور اقتصادی ترقی کی دوڑ میں قسمت آزمائی کے قابل بنا نے کے لئے سرکاری خزانہ سے بھی ان کی معاونت کی ۔ عثمان غنی کی رائے تھی کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سرکاری آمدنی سے اپنے متعلقین و اقارب (ذوی القربیٰ) کی حاجت روائی کرتے تھے اسی  طرح ان کے جانشین کے لئے بھی اپنے  نادار اور ضرورت  مند اعزاء کی مدد کرنا جائز ہے۔ عثمانی خلافت  میں بنو اُمیّہ کے بڑے اور شاخ در شاخ قبیلہ  نے مختلف راہوں  سے اقتصادی  ترقی  کی۔ وہ اُمَوِی جن کو پہلے عہدے نہیں  ملے تھے اور عثمانی دور میں  اس پرُ منفعت  اعزاز سے بہر  ہ یاب ہوئے ، اقتصادی دوڑ کے میدان میں  شد و مد کے ساتھ گھس پڑے ، وہ اُمَوِی جنہیں عہدے نہیں ملے حکومت او رمالدار  رشتہ داروں کی اعانت  سے مختلف قسم کے کاروبار میں لگ گئے ۔ اور اپنی معاش کامعیار بلند کرلیا ۔  دور سابق میں موذن بلال رضی اللہ عنہ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ  سے شکایت کی تھی کہ ان کے سالار ان  شام پرندوں کا گوشت اور میدہ کی روٹی کھا تے ہیں اور خود عمر فاروق  نے اپنے شامی جنرل  امیر معاویہ کو قیمتی  شاندار پوشاک میں ملبوس دیکھ کر اعتراض کیا تھا ۔ عثمانی  دور میں اچھی  غذا، اچھی پوشاک اور شاندار رہن سہن  ، سالاروں اور گورنروں  تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ عام اقتصادی ارتقا ء کے زیر  اثر غیر سرکاری طبقوں میں بھی رواج پاگئی ۔ رپورٹروں  نےاس دور کے متعدد قریشی رئسیوں کو دولت کی تفصیل بیان کی ہے جو یہاں درج کی جاتی ہے:

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف اور بڑے تاجر متوفی 32 ؁ ھ اسلام سےپہلے مکہ میں ان کا سرمایہ چالیس ہزار روپے ( آٹھ ہزار دینار ) بتایا گیا ہے ۔ مرتے وقت انہوں نے جو عظیم دولت چھوڑی اس کے اعداد و شمار حسب ذیل ہیں:

بارہ لاکھ اسی ہزار اور بقول بعض سولہ لاکھ ۔ نقد کے علاوہ اس ثروت میں جائداد ، ایک رہائشی حویلی، سو گھوڑے ، ہزار اونٹ اور تین ہزار اور بقول بعض دس ہزار بکریاں  شامل تھیں ۔ ترک عبد الرحمٰن بن عوف ألف بعیر و ثلاثۃ آلاف شاۃ بالبقیع ومئۃ فرس تَرعیٰ بالبقیع وکان فیما  ترک ذھبُ قُطع بالفؤوس حتی مَجَلَت أیدی  الرجال منہ و ترک أربع نسوۃ فأ خرجت امرأۃ من رُبع الثمن أیثما نین ألفا وفی روایۃ أ خری: أ صابت تُما ضرُ بنت الأ صبغ ربع الثمن فأ خرجت بمئۃ ألف وھی إحدی الأ ربع ۔ عبدالرحمٰن بن عوف نے ہزار اونٹ  تین ہزار بکریاں بقیع (صحیح ۔ نفیع بالنون ، سرکاری محفوظ چراگاہ )  میں چھوڑیں اور سو گھوڑے جو بقیع ( صحیح ۔ نقیع بالنون ) میں چرتے تھے ۔ ان کے ترکہ میں سونے کی سلیں تھیں جنہیں  کلہاڑیوں  سے کاٹتے  کاٹتے  لوگوں کے ہاتھوں میں چھالے  پڑ گئے تھے ، مرتے وقت ان  کی چا ربیویاں  موجود تھیں ، ہر بیوی کو میراث کا ثمن  چالیس ہزار روپے (اسی ہزار درہم) دیا گیا ۔ دوسری روایت : تُما ضِر بنت  اَصبغ  کو عبدالرحمٰن  کی میراث  سے پچاس ہزار  ( ایک لاکھ درہم) ملے جو ربع ثمن کے برابر تھے ۔

(2) طَلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمزلف ، ابو بکر صدیق کے داماد، تاجر اور زمیندار ( متوفی 36 ؁ ھ )

نقد۔ اکیس لاکھ روپے   اور بقول بعض گیارہ لاکھ ۔

جائداد ۔ ایک کروڑ انتالیس لاکھ اور بقول بعض ڈیڑھ کروڑ روپے (ثلاثون ألف ألف درھم ) عراق کی ایک جاگیر سے ہر دن چھ سو روپے سے زیادہ کی یافت تھی، مسعودی نےمروج  الذہب   میں اس جاگیر کی آمدنی پانچ ہزار روپے یومیہ ( ألف دینار)   بتائی ہے اور طَبقَات ابن سعد میں اس سے سالانہ آمدنی کی مقدار دو ڈھائی  لاکھ روپے درج ہے۔ حجاز  کے مشرقی  سرے پر پہاڑ ی علاقہ سَراۃ کی جاگیر سےکم و بیش پچاس ہزار روپے کی آمدنی تھی، اس کے علاوہ اَعراض (مدینہ کے آس پاس کے زر خیز علاقہ) میں واقع جاگیروں سےبھی آمدنی ہوتی تھی ۔  ترک من العین ألفی ألف و مئتی ألف درھم و مئتی ألف دینار قُتل و فی بدخا زنہ ألفا ألف درھم و مئمتا ألف درھم و قُتّومت أصولہ و عقارہ بثلا ثین ألف ألف درھم کان یُغلّ کل یوم  من العراق  ألف درھم وافٍ و دانقین ۔ وفی روایتۃ  أخری : کان یٔغل بالعراق مابین أ ربعمئۃ ألف إلی خمسمئۃ ألف و یُغل با لسَّر اۃ عشرۃ ألاف دینار أوأقل أو أکثر و بالأ عراض  لہ غلات ۔ان کی ایک کوٹھی  مسعو دی  کے وقت تک  ( 232 ؁ ھ) کوفہ میں موجود تھی ۔ ایک رہائشی حویلی  مدینہ میں  تھی جس کی تعمیر چونے سے ہوئی تھی اور کواڑ کڑیاں (ہندوستانی ) ساگون کی تھیں ۔

(3) زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپی زاد بھائی  اور ہمزلف ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے داماد، صاحب جائداد تاجر (مُتوفیٰ 36 ؁ ھ )

طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوّام رضی اللہ عنہ دونوں خلافت کے آرزو مند تھے ۔ عثمان غنی کو قتل کرنے کے بعد باغیوں نےعلی حیدر  رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا اور طلحہ بن عبیداللہ اور زبیر بن عوام کو علی حیدر رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے پر مجبور کیا بیعت کے  بعد یہ دونوں مکہ چکے گئے اور وہاں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے انتقال کی مہم چلا دی ۔ چونکہ خوب مالدار تھے اس لئے علی حیدر سے جنگ  وقتال کے لئے فوج تیا کرنے میں زیادہ وقت پیش نہ آئی ۔ زبیر بن عوام کے پاس جتنا روپیہ تھا وہ سب انہوں نے ہتھیاروں اور دوسری جنگی ضروریات  فراہم کرنے پر خرچ کر ڈالااور بہت سا روپیہ قرض بھی لیا ۔ علی حیدر کا دونوں  کی فوجوں نے بصرہ  میں مقابلہ ہوا ۔ زبیر بن عوّام میدان  چھوڑ گئے اور ایک عرب نے یہ کہہ کر ان کو قتل کردیا کہ جنگ  کی آگ بھڑ کا کر ایک بھاگے جاتے ہو۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ جنگ میں ایک کاری زخم کے زیر اثر ہلاک ہوئے ۔

قرضہ گیارہ لاکھ روپے ۔

میراث ۔ اس کی مالیت  کے مختلف اعداد وشمار بیان کئے گئے ہیں : ایک کروڑ چھہتر لاکھ، دو کروڑ ، دو کروڑ پچیس یا ساٹھ لاکھ   روپے ۔ میراث کی تفصیل حسب ذیل ہے:

(1)  مدینہ میں گیارہ مکان ، بصرہ میں دو حویلیاں اور بقول بعض ایک حویلی ۔ کوفہ ، مصر اور اسکندر یہ میں متعدد کوٹھیاں ۔ ایک خبر ہے کہ ہر جگہ صرف ایک ایک حویلی تھی ۔ مسعود ی نے 332 ؁ ھ میں ان کی بصرہ والی حویلی دیکھی تھی جس سے ہوٹل کاکام لیا جاتا تھا او رجہاں سمندر ی تاجر نیز مالدار لوگ قیام کرتے تھے ۔

(2) ہزار غلام ایک مقررہ یومیہ ٹیکس  ادا کرتے تھے ۔ کان للزبیر ألف مملوک تُؤ دی إلیہ الخراج ۔

( 3) ہزار گھوڑے۔

(4) ایک پکی رہائشی حویلی جس کے کواڑ کڑیاں (ہندوستانی ) ساگون کے تھے ۔ کان للزبیر أربعۃ نسوۃ و رُبّع الثمن فأ صاب کل امرأ ۃ ألف ألف رمئۃ ألف فجمیع مالہ خمسۃ و ثلاثون ألف و مئتا ألف و فی روایۃ: انفسم میراث الزبیر علی اربعین ألف ألف ، وفی روایۃ اُخری ، کانت تیمۃ ماترک الزبیر أحداً و خمسین أ و اثنین و خمسین ألف ألف و فی العقد الفرید : وجمیع مالہ مئۃ ألف ألف وسبعمئۃ الف وکان للزبیر بمصرخِطَط و بالا سکندریۃ خِطَط و بالصرۃ خِطَط وکانت لہ غَلاَّت تقدم علیہ من اُعراض المدینۃ ۔ فتح الباری : کان للزبیر احدیٰ عشرۃَ داراً بالمدینۃ و داران بالبصرۃ ۔ مسعودی : خلّف ألف فرس وألف أَمۃ و خِطَطاً۔

اس عظیم دولت مندی  کے مقابلہ  میں زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے ابتدائی ایک دو سالو ں میں جو زندگی گذاری اس پر ناداری کی چھاپ لگی ہوئی تھی جیسا کہ اس رپورٹ سے ظاہر ہے: اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ  مکہ میں سترہ مسلمانوں کے بعد اسلام لائیں ، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ  نے ان سے شادی  کرلی ۔ ہجرت  کے وقت ان کے پیٹ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے اور جب اسما ء رضی اللہ عنہ ( مدینہ کی بیرونی  بستی ) قُبا پہنچیں تو عبداللہ کی ولادت ہوئی ۔ اسما ء رضی اللہ عنہ زبیر نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس نہ روپیہ پیسہ تھا نہ اونٹ، نہ غلام ، بس ایک گھوڑا تھا، میں گھوڑے کو راتب کھلاتی ، چراتی اور اسکی دیکھ بھال کرتی ۔ میں اس کے لئے کھجور کی تر گٹھلیاں کوٹ کر باریک کرتی تھی ۔ گٹھلیاں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا کردہ) زبیر کی ایک زمین سے لایا کرتی تھی ۔ پھر ابو بکر  ( والد) نے ایک غلام خدمت کے لئے بھیج دیا او رمیری بجائے  وہ گھوڑے کی دیکھ بھال اور اس کے کھانے پینے کا انتظام کرنے لگا ۔ تزوجنی الزبیر و مالہ فی الأ رض مال ولا مملوک ولا شئ غیر فرسہ ، فکنت أعلت فرسہ و أکفیہ مئو نتہ وأسوسہ و أدُقّ النّویٰ الناصحۃ وکنت أنقُل النَّویٰ من أرض الزبیر حتی أ رسل إلیَّ ابوبکر بعد ذالک خادما فکفتنی  سیاسۃ الفرس ۔

URL for part 20:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-part-20)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-20/d/55985

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-21)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-21/d/56001

 

Loading..

Loading..