New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 06:30 PM

Books and Documents ( 4 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 20) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 20

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی مالی حالت

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاتعلق قریش کے مشہور خاندان بنو اُمیّہ (عبد شمس) سے تھا ۔ ان کی ولادت ایک ایسے گھر میں ہوئی تھی جو دولت  سے مالا مال تھا۔ ان کے والد عَفّان خوش حال تاجر تھے ۔ عَفّان کے تین بچے تھے، ایک عثمان غنی اور دو لڑکیاں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ وجیہہ و خوش رو آدی تھے۔ میانہ قد ، گندمی رنگ چوڑا سینہ، بری داڑھی ، سر پر گھنے بال ، با مروّت ، صلح جو مستعد اور باشعور ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لڑکیاں  ان کو بیاہی تھیں ، تجارتی گروں سے خوب واقف تھے ۔ ایک خبر ہے کہ ہجرت کر کے جب وہ مدینہ آئے تو ان کے پاس صرف ساڑھے تین ہزار روپے ( سات ہزار درہم) تھے لیکن جلد ہی انہوں نے کاروبار میں غیر معمولی ترقی کرلی ۔ وہ تجارتی قافلے حَبشہ ، یمن اور شام بھیجا کرتے تھے ۔ نفع میں شرکت کر کے تجارت کے لئے روپیہ قرض دتیے ، غلاموں سے تجارت کراتے اور زر مخلصی لے کر آزاد کرتے، سستے داموں جائدادیں خریدتے اور خوب منافع لے کر بیچتے ۔ بڑی اُجلی  او رنکھری زندگی  بسر کرتے تھے ۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے نو عقد کئے ۔ چھ ہجرت سے  پہلے او ر تین ہجرت کے بعد، ان کی ایک اُم وَلدبھی بتائی گئی ہیں بچے سترہ اور بقول بعض انیس تھے ، نو لڑکے اور آٹھ لڑکیاں ، بعض راوی لڑکے دس بتاتے ہیں اور لڑکیاں نو ۔ ہجرت سے پہلے کی چھ بیویوں میں سے صرف تین نے ہجرت کی تھی۔ ان میں سے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکی رُقیہ تھیں ۔ رُقیہ کا 2 ؁ ھ میں بعارضیہ چیچک انتقال ہوگیا ۔ باقی دو مہاجر بیویاں عثمان غنی کی وفات  تک ان کے ساتھ تھیں ۔ عثمان غنی کی صورت ، سیرت اور دولت مندی سے متاثر ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رقیّہ کے بعد اپنی دوسری لڑکی ام کلثوم رضی اللہ عنہ کی بھی ان سے شادی کردی اور شادی کے موقع پر کہا کہ اگر میری دس لڑکیاں ہوتیں تو ان سب کی ( موت کی صورت میں یکے بعد دیگرے) تم سے شادی کردیتا ۔ ام کلثوم کا 9 ؁ ھ میں انتقال ہوگیا ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ ایسی نکھری ،اجلی اور پرُ آرام زندگی بسر کرتے اور اپنے بال بچوں کو اتنی اچھی طرح رکھتے کہ بڑے آدمی ان سے ازدواجی رشتہ کے خواہش مند رہتے تھے ۔ رقیّہ رضی اللہ عنہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہ کا انہوں نے کتنا مہر باندھا ؟ اس سوال کاجواب دینے سے ہم قاصر ہیں۔

 پیش نظر مراجع سےاس باب میں کچھ نہیں معلوم ہوسکالیکن ان کی بعض دوسری بیویوں کے مہر کے اعداد و شمار عربی روایت میں محفوظ ہیں ۔ قرشی رئیس شبیہ بن ربیعہ کی لڑکی رُملہ کا جس سے مکہ میں عقد ہوا تھا پندرہ ہزار روپے اور بقول بعض بیس ہزار مہر تھا، ایک دوسرے ممتاز قرشی ولید بن عبد شمس کی لڑکی فاطمہ کامہر پندرہ ہزار تھا ، اس سےبھی مکہ  میں شادی ہوئی تھی ۔ مولفۃ القلوب جماعت  کے ایک نجدی رئیس عُیینہ بن حصن فَزاری کی لڑکی ئلیکہ سے ڈھائی ہزار مہر پر شادی ہوئی تھی ۔ عمر فاروق کی وفات کے بعد عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی لڑکی فاطمہ کو شادی کا پیغام دیا اور پچاس ہزار روپے بطور مہر پیش کئے لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ  نے جو فاطمہ کاعقد اس کے چچازاد بھائی سے کرناچاہتے تھے پیغام واپس کر دیا ۔ عثمان غنی کی آخری شادی 28 ؁ ھ میں ایک باشعور عیسائی خاتون نائلہ  سے دو غلاموں  اور پانچ ہزار ۔مہر پر ہوئی جب ان کی عمر ستر سے متجاوز تھی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی میں کئی موقعوں پر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسلامی خدمت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی کے لئے ہر دوسرے صحابی سے زیادہ دل کھول کر روپیہ خرچ کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھی ہجرت کر کے مدینہ آئے تو و ہاں کا پانی انہیں پسند نہیں آیا شہر کے باہر ایک اچھے پانی کاکنواں تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کااشارہ پاکر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نےیہ کنواں دس ہزار روپے او ربقول بعض دو ہزار میں خریدلیا ، ایک ماخذ میں کنویں کی قیمت ساڑھے تیرہ ہزار روپے اور دوسرے میں ساڑھے سترہ   ہزار بتائی گئی ہے۔ رسول اللہ نے شام پر چڑھائی  کے لئے چالیس ہزار فوج تیار کرنے کامنصوبہ بنایا جس میں دس ہزار گھوڑے میں شامل تھے ۔ منصوبہ کی تکمیل کے لئے چندہ کی ضرورت پڑی ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دو دو روپے، مالدار تاجر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے چار ہزار اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سو اونٹ   مہیا کئے  اور ایک خبر ہے کہ پچاس ہزار روپے دئیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے سارے ہی مہاجر رشتہ داروں  اور ساتھیوں  کو مدینہ سے نکالے ہوئے یہودیوں کی زراعتی  اراضی ، نخلستانوں اور خیبر کے خالصہ باغوں اور فارموں سے جاگیریں او رکھجور و اناج کے حصے عطا کئے تھے لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کوئی جاگیر یا حصہ نہیں دیا ۔ ان کی غیر معمولی دولت مندی کے سوا اس کی اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی ہمارے رپورٹر اس باب میں  بالکل خاموش ہیں ۔عربی اخبار و آثار میں عثمان غنی کی تنخواہ کے بارے میں بھی کوئی تصریح نہیں پائی جاتی  لیکن اس بات کی و افر شہادت موجود ہے کہ وہ وقۃً فوقۃً سرکاری روپیہ سے اپنے رشتہ داروں کو عطیات دیتے تھے۔ ان کی دلیل تھی کہ مدنی قرآن  میں مقرر کردہ ذوی القربی کاحصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاشمی ومطلبی اعزا کو دیا کرتے تھے اور چونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے جانشین  ہیں اور ان کے قائم مقام اس لئے انہیں بھی اس بات کا حق ہے کہ وہ یہ حصہ اپنے ذری القربی یعنی عبد شمس کے ضرورت مند اشخاص پر صرف کریں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ : إن رسول اللہ کان یُعطی قرابتہ و أنافی رَھط أھل عَیْلۃ و قلۃ معاش، فبسطتُ یدی فی شئی من ذلک المال لمکان ما أ قوم بہ فیہ ورأیت أن ذالک لی ۔ (قاضی داتدی ) وأعطی أقاربہ و قأربہ وتأ وّل فی ذلک الصلۃ التی أمر اللہ بہا   صحابی عمر بن اُمیّہ ضَمری قریش کے بوڑھوں کو خزیرہ ( ایک قسم کا کھچڑ)بہت مرغوب تھا ایک دن رات  کےکھانے پر میں نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ  خزیرہ کھا یا جو نہایت اچھا پکا تھا، بکری کے گوشت ، گھی اور دودھ سے تیا رکیا گیا تھا ۔ عثمان غنی نے مجھ سے پوچھا : کیسا ہے خزیرہ ؟ میں نے کہا : کیا کہنا ، اس سے اچھا میں نے کبھی نہیں کھایا ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ : خدا رحم کرے ابن خطّاب ( عمر فاروق) پر کبھی ان کے ساتھ بھی تم کو خزیرہ کھانے کا اتفاق  ہوا؟ میں نے کہا: جی ہاں لیکن ان کا خزیرہ اتنا روکھا تھا کہ اس کالقمہ منہ تک لے جانامشکل  تھا، اس میں نہ گوشت ہوتا، نہ دودھ ، بس گھی  ہوتاتھا ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ تم نے سچ کہا عمرو ،بخدا عمر کے نقش قدم پر چلنے والے کو سکھ میسر نہیں ہوسکتا ، انہیں خشک اور روکھی  زندگی  پسند تھی ۔ بخدا میں یہ خزیرہ  مسلمانوں  کے پیسہ  سےنہیں اپنی کمائی سے کھا رہا ہوں۔تمہیں معلوم ہے کہ میں قریشی  سودا گروں میں سب سے زیادہ مالدار ہوں اور میری تجارت سب سے زیادہ فروغ پر رہی ہے او رمیں بچپن ہی سے اچھی اور نرم غذا کھانے کا عادی رہا ہوں اور اب تو میرا بڑُھا پا ہے ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بھتیجے عبید اللہ بن عامر بن کُریزہ میں رمضان میں عثمان غنی کے ساتھ افطار  کرتا تھا ۔ وہ ہمارے لئے مرغن اور لذیذ کھانے منگواتے تھے ۔ ان کے دستر خوان پر ہر دن عمدہ میدہ کی روٹی اور بکری کے بچے کا گوشت  ہوتا تھا ۔ میں  نے عمر فاروق کو کبھی میدہ کی روٹی کھاتے نہیں  دیکھا، نہ بچے کاگوشت وہ ہمیشہ بڑی راس  کاگوشت کھاتے تھے ۔ میں نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے کھانے کا ذکر کیا تو وہ بولے : عمر کی برابری کون کرسکتا ہے سُلیم ابو عامر : میں نے عثمان غنی کو یمن کی بوٹے دار چادر اوڑھے دیکھا جس کی قیمت پچاس روپے تھی ۔  ایک دوسرا عینی  شاہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اپنی بیویوں  کے لباس  پر دل کھول کر خرچ کیا کرتے تھے میں نے عثمان غنی کے جسم پر بوٹے دار  ٹسری شال ( مُطرف خز) دیکھی جس کی قیمت سو روپے تھی ۔ انساب الاثسراف میں اسی شاہد کی سند پر شال کی قیمت  پانچ سو روپے بتائی گئی ہے۔

عثمان غنی نے مرتے وقت ایک بڑی دولت چھوڑی  جس کی تفصیل  یہ ہے: ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے نقد ( ثلاثون ألف ألف درھم و خمسمئۃ ألف درھم و مئۃو خمسون ألف دینار ) یہ سارا روپیہ ان پر قاتلانہ حملہ کے بعد مدینہ  ، بصرہ ، کوفہ اور مصر کے ان عربوں  نے لوٹ لیا جو ان کی حویلی  کامحاصرہ کئے ہوئے تھے اور انہیں زبر دستی معزول کرنا چاہتے تھے ۔

(2) ہزار اونٹ ۔ سعودی نے اونٹوں کے ساتھ گھوڑوں کا بھی اضافہ  کیا ہے۔ وخلَّف خیلا کثیراً و إیلا 

(3) ایک بڑی حویلی جو پتھر اور چونے سے تعمیر  ہوئی تھی اور جس کے کواڑ ساگون اور عَر عَر کے تھے ۔

(4) مسجد قُبا کے قریب بئرِ اَریس ، خیبر  اور وادی القری کی اراضی و نخلستان جن کی قیمت دس لاکھ روپے تھی ( مِئتا ألف دینار) عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ ساری جائداد بال بچو ں کے لئے وقف کردی تھی ۔ کان لعثمان عندخازنہ یوم قُتل ثلاثون ألف ألف درھم و خمسمئۃ ألف درھم و خمسون مئۃ ألف دینار   فانتھبت و ذھبت و ترک ألف بعیر الریزۃ ( سرکاری چراگاہ) و ترک صَدَقاتٍ کان تصدق بہا بَبر ار یس ( صحیح بئرا ریس ) رخیبر و وادی القری تیمۃ مائتی ألف دینار

URL for part 19:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-19)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-19/d/55980

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-20)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-20/d/55985

 

Loading..

Loading..