New Age Islam
Sun Jun 13 2021, 11:11 AM

Books and Documents ( 3 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 19) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 19

  

 

خورشید احمد فارق

اقتصادی معاملات میں عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے تصرفات

عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بدلتے ہوئے حالات  کے تقاضوں  کے زیر اثر رسول اللہ اور شیخیں کے مالی طریق کار میں جو تصرف کیا اس کی تفصیل ہماری معلومات کی حد تک حسب ذیل ہے:

(1)  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف جہادی سر گرمیوں کی کامیابی میں گھوڑے کی مرکزی اہمیت اور دوسری طرف اس کی گرانی و خوراک کی مشکلات ملحوظ رکھتے ہوئے گھوڑے پر زکات نہیں لگائی تھی ۔ اس چھوٹ کامقصد یہ تھا کہ مسلمانوں  میں گھوڑا پالنے کا حوصلہ بڑھے اور اونٹ کی جگہ جس کی میدان میں افادیت بہت محدود تھی گھوڑے پر بیٹھ کرجہاد کیا کریں جس کی چستی ، پھرتی اور تیز رفتاری اپنے سوار میں دفاع اور  حملے کی غیر معمولی  صلاحیت  پیدا کردیتی تھی ۔ شیخین کے عہد میں بھی گھوڑے پر زکات معاف تھی خواہ وہ جہاد کے لئے رکھا جاتا یاسواری کے لئے ۔ فقیہہ حجاز ابن شہاب زُہری ( مُتوفیٰ 124 ؁ ھ ) کی رائے ہے کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور شیخین کے عمل سے انحراف کر کے گھوڑے پر زکات لگادی تھی ۔ قانون کی قدیم ترین کتابوں  مثلاً شافعی کی اُم ، مالک کی مُوطاّ ، یحی بن آدم قُریشی او رابو یوسف کی کتاب الخراج او رابن سَلّام کی کتاب  الاّ موال نے اس خبر کا کوئی ذکر  نہیں کیا ہے اس کے باوجود خبر کے صحیح ہونے کے قرینے موجود ہیں ۔ ایک قرینہ یہ ہے کہ جزیرۃ العرب  اور دور و نزدیک کی کئی عظیم اور وسائل سے بھر پور ملکوں کی سیاسی و اقتصادی  تسخیر  کے بعد گھوڑے کی اتنی اہمیت باقی نہیں رہی تھیں جتنی ہجرت کے ابتدائی رسالوں میں تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مہاجر ساتھی دشمنوں اور مالی پریشانیوں  سے گھرے ہوئے تھے، دوسرا قرینہ یہ ہے کہ عرب فوجوں  کو حکومت کی طرف سے گھوڑے ملنے لگے تھے اور شخصی  طور پر گھوڑے رکھنے کی ضرورت نہیں رہی تھی ۔ تیسرا قرینہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مادی خوش حالی کے زیر اثر بہت سے مسلمانوں نے اونٹ اورگدھے یا خچر کی سواری ترک کرکے عربی اور ترکی گھوڑوں کی سواری  اختیار کر لی تھی اور اسے اپنے تمول اور شان کے اظہار کی علامت بنا لیا تھا ۔

(2) مدنی قرآن نے صرف یہود ونصاریٰ کو اہل کتاب میں داخل کیا ہے اور انہی سے جزیہ لینے کا حکم دیا ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں حکم ترمیم کر کے بحریں  ، قطر اور عُمان کے تاجر پیشہ فارسیوں سے بھی جزیہ وصول کیا تھا ۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے 18۔19 ؁ ھ میں میسو پوٹامیہ پر اسلامی تسلط قائم کیا تو سبعہ سیارہ کی تعظیم کرنے والی مصتامی صابئہ آبادی  کو اہل کتاب کے زمرہ میں داخل کر کے اس پر جزیہ لگادیا ۔ 67؁ ھ میں عثمان غنی  کے حکم سے تونس ، الجیریا اور مراکش پر چڑھائی کی گئی اور جب وہاں کے برَ بری قبائل نےاسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تو عثمان غنی انہیں اہل کتاب  کا درجہ دینے کے لئے تیار ہوگئے اور ان پر جزیہ عائد کردیا   بربری قبائل میں سے کچھ بربری قبیلے عیسائی ہوگئے تھے لیکن ان کا سواداعظم جو ستاروں اور مطاہر قدرت کی پر ستش کرنا تھا اپنے سابقہ  مذہب پر قائم رہا ۔

(1) رسول اللہ کے چار پر دادا تھے ۔ مطلب، ہاشم  عبدشمس اور نوفل اِن میں سے پہلے دو کی اولاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تحریک توحید خالص کی عملی اور اخلاقی تائید کی تھی اور آخری دو کی اولاد نے عملی یا اخلاقی مخالفت ۔ اس بنا پر مطلب اور ہاشم کی اولاد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی اور ہمدردی حاصل تھی اور عبد شمس نیم نَو فَل کی اولاد سے ( ناراض اور کبیدہ خاطر تھے ۔ ہجرت کے بعد مدینہ سے یہودیوں کے اِخراج اور یہودی بستیوں  و خیبر ، وادی القری اور فَدَک کے کلی سقوط کے بعد اور دوسری طرف مال غنیمت کےبڑھتے ہوئے سہام کی راہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دولت کے جوسوتے کھل گئے تھے ان سے انہوں نے اپنے ہاشمی اورمطلبی اقارب کو دل کھول کر نوازا تھا جس سے ان پر اقتصادی خوش حالی کے دروازے کھل گئے تھے ۔مدنی قرآن نے خمس کی مد سے بھی ذوی القربی کے لئےحصہ مقرر کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حصہ پابندی سے اپنے ہاشمی اور مطلبی رشتہ داروں کو دیا کرتے تھے اور اپنے دوسرے دو پر دادا عبد شمس اور نُوفَل کی مسلمان اولاد کو کچھ نہیں دیتے تھے ۔ اس کی شکایت عبد شمس اور نَوفَل کے دو ممتاز نمائندوں  ۔

 عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور مُطعم بن جُبیر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو انہوں نے ان دونوں گھرانوں  کے مخالفانہ رویہ اور معاندانہ طرز عمل کو ان کی محرومی کاذمہ دارقرار دے کر شکایت رد کردی تھی ۔ ہجرت سے پہلے خاندان عبد شمس اور نوفل کی تجارت جزیرہ نمائے عرب ، شام اور عراق میں فروغ پر تھی اور ان کے متعدد گھرانے خوب مالدار تھے لیکن ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدر، اُحد اور خندق کی جنگوں کی تیاری کے عظیم مصارف اور دوسری طرف ان کے ایک گراں  قدر تجارتی قافلہ کے مسلمانانِ مدینہ کے ہاتھوں  لٹنے نیز عراق وشام  کی تجارتی شاہراہوں کے مسلمان ترکتاز کے باعث مسدور ہوجانے سے ان کی خوش حالی  اور تجارت پر کاری ضرب لگی تھی ۔ ان کے جن افراد نے 7 ؁ ھ اور 8 ؁ ھ میں یعنی فتح مکہ  کے سال اسلام قبول کیا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی زر وسیم  ، جائداد ، غلہ یا کھجور کے عطیے نہیں دئے ۔

 ان ناموافق حالات کا نتیجہ یہ ہوا  کہ عبد شمس اور نَوفَل کے خاندان دولت و ثروت میں ہاشمیوں  سے پیچھے رہ گئے لیکن صدیقی اور فاروقی دور میں حالات  نے کچھ ایسا روپ بدلا کہ ان کی اقتصادی ترقی کے لئے ساز گار ماحول پیدا ہو گیا اور ان کے متعدد گھرانے خلافت کے زیر سایہ  سرکاری عہد وں کے سہارے اپنی مالی پسماندگی  دور کرنے پر قادر ہوگئے ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کاتعلق عبد شمس کی ایک بڑی شاخ بنو اُمیّہ سے تھا ۔ بنو امیّہ کے کچھ خاندان فاروقی دور میں  خوش حال ہوگئے تھے لیکن کچھ کو اُبھر نے او رمعاشی ترقی کرنے کا مو قع نہیں  ملاتھا ۔ ان میں ایک خاندان عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے چچا حَکُم کابھی تھا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم اور ان کے دس لڑکوں کو مدینہ سے طائف جلا وطن کردیا تھا ، وہاں  نا مساعد حالات  کے باعث یہ لوگ اپنی معاشی زندگی  کی سطح بلند  نہ کر سکے تھے ۔  عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے خلیفہ ہوکر حکم اور ان کے بال بچوں کو مدینہ  آنے کی اجازت دے دی اور انہیں نیز ان کے دس لڑکوں  کو معاش کی طرف سے بے فکر  اور آسودہ بنانے میں دل کھول کر ان کی مدد کی۔ عثمان  غنی بہت مالدار آدمی تھے ۔ وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کےبرخلاف خزانہ سےحق الخدمت کے طور پر کچھ نہیں  لیتے تھے لیکن کبھی کبھی  سرکاری روپیہ اور خالصہ اراضی سے مستعد افسروں اور ضرورت مندوں کو جن میں ان کے رشتہ دار بھی شامل تھے اور خاص طور پر ‘‘ حکم اور ان کے لڑکے’’ ،عطیے اور جاگیریں دے  دیا کرتے تھے ۔ شیخین نے بھی غیر رشتہ دار ضرورت مندوں  یا کار گذار اور وفادار افسروں  کو سرکاری روپیہ  اور زمینیں  عطا کی تھیں لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے اپنے قریبی عزیزوں کو اس طرح نہیں نوازا تھا ۔عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کی آندھی چل پڑی  ، امیدوار ان خلافت اور ان کی پارٹیوں  نے خاص طور پر عثمانی عطیات کو لعن طعن کا ایک اہم  موضوع بنا لیا اور خلیفہ  نیزاک کے غمال کے خلاف بے محابا پروپیگنڈہ شروع کردیا ۔

 عثمان غنی رضی  اللہ عنہ کو دلیل تھی کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرکاری آمدنی اور خالصہ املاک سے اپنے ہاشمی رشتہ داروں اور دوسرے مستحق لوگوں کی اعانت کرتے تھے اس لئے  ان کے جانشین  کو بھی اپنے رشتہ داروں ( ذوی القربی) اور دوسرے مستحق اکرام لوگوں کی سرکاری دولت سے مدد کرنے کا حق ہے، ان کی دوسری دلیل تھی کہ حکومت  کے سارے اخراجات نکال کر  جو روپیہ  بچ  رہتا ہے اسے خلیفہ حسب صواب دید ٹھکانے لگا  سکتا ہے ،  ان کی تیسری  دلیل تھی کہ خلافت کی عظیم ذمہ داریاں اور بلا معاوضہ انجام دے رہے ہیں اس لئے اگر خزانہ کے روپے سے اپنے  کسی رشتہ دار کی مدد کردیں تو اس پر نکتہ چینی نہیں ہونی چاہئے ۔ بیہقی :  عثمانی خلافت  میں مروان بن حکم کو فدک کے نخلستان جاگیر میں  دیئے گئے ۔ معلوم ہوتا ہے  عثمان بن عفان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کو سند بتا کر یہ جاگیر دی تھی ، جب خدا کسی نبی کے لئے کوئی  زمین یا جائداد خالصہ  کر دیتا ہے تو وہ اس  کے جانشین  کے لئے خالصہ ہوجاتی ہے اور چونکہ عثمان ( غنی) اپنے تموں کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالصہ اراضی کی آمدنی اپنے خرچ میں نہیں لاتے تھے اس لئے انہوں نے اسے اپنے اقربا کو دے دیا اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کی ( جس کا خدانے حکم دیا ہے) ۔ إنما أقطع مروان فَد کافی أیام عثمان بن عفان وکأنہ تأ وال فی ذلک ماروی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم : اذا أطعم اللہ نییا طُعمۃ فھی الذی یقوم من بعدہ وکان مستغنیاً عنھا یسا ٔلہ فجعلھا لأ قرباء ہ ووصل بھا رَحِمَھم ۔ مِسْور بن مخر مہ : عثمان (غنی) نے کہا : ابوبکر اور عمر سرکاری آمدنی سےاپنے اور اپنے  رشتہ داروں کے لئے حسب ضرورت لینا جائز سمجھتے تھے، میں سرکاری روپیہ  سے اپنے رشتہ داروں کی مدد کرنا بھی جائز سمجھتا ہوں ۔ 

إن أ با بکر و عمر کا نایتأ و لان فی ھذا المال ظِلفَ أنفسھما  و ذوی أ رحا مھما إنی تأ ولت فیہ صلۃ رَحِمی ۔عثمان غنی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرکاری روپیہ اپنے رشتہ داروں کو دیا کرتے تھے ، میرے کنبہ میں بھی نادار اور خستہ حال لوگ ہیں،  میں تھوڑا سا سرکاری  روپیہ  ان پر خرچ کردیتا ہوں  کیونکر میں بلا معاوضہ خلافت  کے فرائض  انجام دے رہا ہوں ۔ میری رائے ہے کہ مجھے  ایسا  کرنے کا حق ہے ۔  إن رسول اللہ کان یُعطی قرابتہ و اً نافی رَھْط اھل عَیلۃ و قِلۃ معاش فبسطتُ بدی فی شیٔ من ذٰلک المال لمکان  ما أ قوم بہ فیہ ورأیت أن ذٰلک لی ۔

URL for part 18:

https://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-18)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-18/d/55963

URL for this article:

https://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-19)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-19/d/55980

 

Loading..

Loading..