New Age Islam
Wed Jan 27 2021, 03:45 PM

Books and Documents ( 2 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 18) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 18

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

اقتصادی ترقی کے نئے وسائل

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت عراق، جِسال، خوزستان، فارس، میسوپوٹامیہ ، شام، مصر اور اَذربی جان پر عربی تسلط قائم ہوچکا تھا ۔ ان آٹھوں فارسی اور بزنطی صوبوں یا ان کےسرحدوں پر فاروقی فوجیں مقامی بغاوتوں کی روک تھام اور نئے علاقوں کی تسخیر کے لئے مامور تھیں ۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلافت کی باگ ڈ ور سنبھالتے ہی پورے عزم کے ساتھ تسخیری کارروائی کی طرف متو جہ ہوگئے ۔ انہوں نے شام،مصر، بصرہ اور کوفہ کے گورنروں کو لکھا کہ نئی فتوحات کے لئے اپنے اپنے پڑوسی علاقوں میں فوجیں بھیجیں ۔ ہر طرف بڑے پیمانے پر عسکری سرگرمیاں شروع ہوگئیں ۔ عرب چھاؤنیوں کے سپاہی اور سرحدی رسالے حرکت میں آگئے، غیر مسخر علاقوں میں ترکتاز کابازار گرم ہوگیا ۔ مشرق میں ساسانی حکومت کے جنوبی صوبے فارس پر،اس سے متصل دوسرے صوبے کرمان پر، اس سےملحق تیسرے صوبے مُکر ان اور اس سے ملحق چوتھے سوبے سِجستان (موجودہ افغانستان) پر ادران سب کے شمال میں لمبے چوڑے اور زرخیز صوبے خراسان پر عرب فوجوں نے یورش کردی ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات پر اذربی جان میں بغاوت ہوگئی تھی اور وہاں کے رئیسوں نے معاہدہ کے چار لاکھ روپے ۔ سالانہ دینار بند کر دیئے تھے ۔ عثمان رسالوں نے ان کی ایسی خبر لی کہ ان میں سالانہ رقم بحال کرنا پڑی۔ اَذربی جان سے متصل مشرق میں دو فارسی صوبوں طبرستان اور جُرجان پر عربی اقتدار قائم کرلیا اور اَذربی جان سے متصل مغرب میں اَر مینیہ کا بزنطی صوبہ بھی باجگذار بنا لیا ۔ شام سے کئی فوجیں  اٹھیں اور انہوں نے بزنطی سر حد پر دھاوے مارے ، اور ایک فوج ترکتاز کرتی قیصر روم کے مستقر قسطنطنیہ کی خلیج تک پہنچ گئی ۔ مغرب میں عثمانی وسالوں نے لیبیا ، تُونس ، الجیریا اور مراکش کو زر کوب کر ڈالا۔ گورنر شام معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشرقی بحرِ روم کے دو اہم جزیروں قُبُرس(Cyprus) اور روڈس  (Rhoodes ) پر قبضہ جما لیا ۔ یہ سارے علاقے عثمانی خلافت کے ابتدائی آٹھ سالوں میں مدینہ کے سیاسی و اقتصادی تسلط میں آگئے ۔ ان کی تسخیر سے پہلے بیسیویں جنگیں ہوئیں  بیشتر علاقوں شہروں  ، قصبوں اور قلعوں  کے رئیسوں نے عرب تلوار سے ڈر کر لڑے بغیر یا معمولی جھڑپوں  کے بعد سالانہ رقموں کے رئیسوں کے بالمقابل حملہ آوروں  سے صلح کرلی  ۔ جو شہر اور گاؤں قصبے بزور شمشیر فتح ہوئے ان پر جزیہ اور لگان لگادیا ۔ عثمانی دور میں مفتوحہ علاقوں اور بالخصوص سرزمین فارس کے رئیس اور بڑے زمیندار عرب تسلط سے نجات پانے کے لئے جلد جلد بغاوتیں کرتے رہتے تھے اور ان بغاوتوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے عرب فوجیں آئے دن ترکتاز یوں میں مشغول رہتی تھیں اور اس طرح غنیمت  کی راہ سے حاصل ہونے والے سہام کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا تھا ۔

عثمانی دور کو درجنوں فتوحات اور سیکڑوں ترکتازیوں سے حاصل ہونے والی دولت کاکوئی موٹا تخمینہ لگانابھی ممکن نہیں ہے، ہمارے رپورٹر اس طرح کے مبہم اور مجمل اشارے کرنے پر اکتفاکرتے تھے : فسَبی و غَنم ، فأ صاب من أموالھم وغَنِم وشنّو ا الفاراتِ فأ صاب الناس ماشا ؤ امن سَبْی و ملمٔوا أید یَھم من المغنم فأ صابو اغنا کثیرۃ و آستا توا من المواشی ماقد رواعلیہ ۔تاہم ہمارے مراجع میں عثمانی فتوحات سے متعلق زر معاہدات کی جو تصریحات موجود ہیں ان میں سے جستہ جستہ کے اعداد و شمار یہاں بیاں کئے جاتے ہیں:

اَذربیِ جان ۔ چار لاکھ روپے سالانہ ( ثمان مئۃ ألف درہم وزن ثما نیۃ ) جُر جان ( بحر خَزََر Caspron  سے متصل جنوب مشرق میں ) ۔ ایک لاکھ روپے ( دو لاکھ درہم )

مَرد (خُراسان) ۔ گیارہ لاکھ اور بقول بعض پچیس لاکھ روپے ( ألف ألف درہم و مئۃ ألف أدقیۃ) اور بقول بعض پانچ لاکھ روئے مع دو لاکھ جریب گیہوں اور جو ۔

مَرد رُوذ ( پایۂ تخت خراسان ۔ تیس ہزار روپے ( ستون ألف درھم) اور بقول بعض تین لاکھ رستمئۃ ألف درھم  

طُوس (خُراسان ) تیس ہزار روپے دستون الف درھم

اَبِیَو رد (خراسان)۔ دو لاکھ روپے ( اربع مأۃ درھم )

نساء  (خراسان)۔ ڈیڑھ لاکھ روپے ( ثلاث مأۃ درھم)

نیشا پور (خراسان) ۔ پانچ لاکھ روپے ( ألف ألف درھم )

ہَراۃ ، بُو شنج اور باوغیس (خراسان) ۔ پانچ لاکھ روپے (ألف ألف درھم   )

ہَلخ (خراسان)۔ دو لاکھ روپے اور بقول بعض ساڑھے تین لاکھ (أربعمئۃ ألف دیقال سبعمئۃ ألف درھم )

قُو ہستان ( جنوب مغربی خراسان سے ملحق صوبہ) ۔ تین لاکھ روپے ( ست مأۃ ألف درھم )

زر نج ( پایۂ تخت سجِتان) پہلی صلح کاز رمعاہدہ ۔ ہزار غلام اور ہر غلام کےہاتھ میں سونےکا پیالا

زرنج ( پایۂ تخت سجِتان ) ۔ دوسری صلح کا زر معاہدہ ۔ دس لاکھ روپے  اور دو ہزار غلام ( ألفا ألف درھم و ألفا و صیف )

تُونس ، الجیر یا اور مراکش پر ترکتاز کے دوران  ( خمس نکالنے کے بعد ) مال غنیمت کاحصہ ۔ ہر سوار کو پندرہ ہزار روپے ( تین ہزار دینا ) اور ہر پیادے کو پانچ ہزار روپے ( ہزار دینار )

تونس ، الجیریا او رمراکش کے گورنر سے صلح کاز رِ معاہدہ ۔ سواکروڑ روپے ( ألف ألف دینار و خمسمئۃ ألف دینار )

فاروقی اور عثمانی فتوحات میں کچھ بنیادی فرق تھے ۔ دور فاروقی میں عرب فوجیں عراق، شامی اور مصری حکومت سےبڑے بڑے معرکوں میں لڑکر جیتی تھیں ۔ ہزیمت کے بعد ان حکومتوں کے سربراہ یا تو ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے یا انہوں نے عربوں کےسامنے گھٹنے ٹیک کر خود کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔ عربوں نے اُن سے جزیہ اور لگان کامطالبہ کیا اور باوجود یکہ جزیہ ذلت کا ایک بد نما نشان تھا اور لگان کی شرح بھی سابقہ لگان سے زیادہ تھی،انہیں مجبوراً دونوں قبول  کرنا پڑے گا ۔ جن  علاقو ں  کے حاکم بغیر  لڑے یا معمولی جھڑپوں کے بعد صلح کے لئے تیار ہوگئے تھے اُن سے بھی جزیہ اور لگان طلب کیا گیا تھا اور چونکہ وہ بھی فارس، شام اور مصر کی عظیم الشان حکومتوں کے سقوط سے مبہوت تھے اور عرب طاقت سے مرعوب ، اس لئے انہیں  یہ دونوں مطالبے قبول کرنا پڑے تھے ۔ عثمانی دور میں عربوں کے مد مقابل بڑی بڑی حکومتیں نہیں تھیں بلکہ علاقائی گورنر ، رئیس اور بڑے زمیندار تھے جو عرب ترکتاز کے وقت بالعموم قلعوں اور محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لے لیتے تھے ۔ عرب ان کے قلعوں کامحاصرہ کر لیتے اور کوشش کرتے کہ محصور گورنر یا رئیس کھلے میدان میں لڑنے کے لئے نکلیں تاکہ انہیں شکست دے کر ان پر جزیہ اور لگان لازم کریں لیکن یہ لوگ باہر نہ آئے اور اپنے اپنے علاقوں کو عرب دستبرد سے محفوظ رکھنے کے لئے سالانہ رقموں کے بالمقابل صلح کی پیش کش کرتے ۔ عرب غازی کچھ اس وجہ سے کہ ان کی مالی  بھوک سابقہ فتوحات سے بڑی حد تک آسودہ ہوچکی تھی او رکچھ اپنے مرکزوں سے دور طول طویل محاصروں کی پریشانیوں اور غربت کی سعوبتوں سے نجات پانے کے لئے معقول رقموں پر صلح کرنے کو تیار ہوجاتے تھے ۔ یہ رقمیں  جزیہ اور لگان کی نسبت کم ہوتیں  اور پابندی سے ادا بھی نہیں کی جاتی تھیں کیونکہ  معاہد حکّام ، عرب افواج کےہٹنے پر بالعموم معاہدے توڑ دیتے تھے ۔ اندر ین حالات عثمانی فتوحات  سے لگی بندھی  آمدنی اس پیمانہ پر حاصل نہ ہوسکی جس پر فاروقی دور میں ہوئی تھی تاہم چونکہ عثمانی  خلافت  میں سابقہ دور کی نسبت عرب  ترکتاز کاتناسب سب بہت بڑھا ہوا تھا اس لئے اس بات کا قرینہ ہے کہ مال غنیمت فاروقی دور سے زیادہ بڑے پیمانہ پر حاصل ہوا ہو۔ اس کے خمس میں زر معاہدات نیز بزور شمشیر فتح کی ہوئی اراضی کے لگان اور جزیہ کا خمس شامل ہونے کے بعد ایک خاصی بڑی ثروت بن جاتی تھی جو مدینہ کے خزانہ میں جمع ہو جاتی تھی ۔ حکومت کی فوجی مشین  فاروقی خلافت میں بڑی حد تک خود کفیل ہوگئی تھی ، اس لئے مرکزی آمدنی کا ایک قلیل حصہ سے فوجی سرگرمیوں پر صرف ہوتا تھا، باقی دولت یا اس کا معتدیہ حصہ سالانہ  تنخواہوں او رماہانہ راشن کے علاوہ مدینہ کے باشندوں میں بانٹ دیا جاتا تھا حسن بصری: لڑکپن میں مجھے عثمان غنی کی تقریریں سنے کا بارہا اتفاق ہوا،  میں نے کسی مرد یا عورت کے چہرہ  پر ایسا نور اورایسی تازگی نہیں دیکھی جیسی ان کے چہرہ پر تھی ۔ کبھی وہ اعلان کرتے : لوگو، صبح آکر اپنی تنخواہیں  لے لو۔ لوگ صبح کو آتے اور اپنی تنخوہیں پوری لے جاتے کبھی  ان کو کہتے  سنا: لوگو، صبح آکر اپنے لباس لے جاؤ وہ آتے اور جوڑے ( حُلّے) ان میں تقسیم کردیئے جاتے ، خدا کی قسم کہ میرے  کانوں نے خلیفہ کا یہ اعلان بھی سنا:  مسلمانوں، صبح آکر گھی اور شہد لے جاؤ وہ آتے او رگھی نیز شہد ان میں تقسیم کردیا جاتا ۔ کسی دن عثمان غنی رضی اللہ عنہ اعلان کرتے : مسلمانو، صبح آکر خوشبو لے جاؤ ۔ وہ صبح کو آتے اور مشک ، عنبر اور دوسری خوشبو دار چیزیں ان میں تقسیم کردی جاتیں ۔

فاروقی خلافت میں قومی آمدنی کے غیر معمولی اضافہ اور اس کے زیر اثر عربوں کی قوتِ خرید کے بڑھنے سے اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا تھا ۔ عثمانی دور میں دولت کے مزید اضافہ سے چیزوں  کے بھاؤ حیرت ناک حد تک بڑھ گئے تھے جیسا کہ حسن بصری کی اس تصریح سے ظاہر ہوتا ہے: عثمانی عہد میں دولت برابر بڑھتی رہی حتی کہ ایک کنیز  کی قیمت اس کے ہم وزن چاندی کے برابر ہوگئی ، ( عربی) گھوڑا پانچ ہزار روپے ( دس درہم ) میں بکنے لگا اور ایک اونٹ اور ایک درخت کھجور کی قیمت پانچ سو روپے ( ہزار درہم) ہوگئی ۔ ر پورٹر بتاتے ہیں کہ ایک بڑا لیمو یا کھٹا ( اُتر نجہ ڈیڑھ   روپے میں آتا تھا ۔ زمین ، مکان اور اراضی  کی قیمتوں  میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگیا تھا ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے داماد قریشی  رئیس زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے وادی فار میں جو مدینہ  سے چند میل  مغرب میں واقع تھی پچھتر ہزار روپے ( ایک لاکھ ستر ہزار درھم ) میں ایک زمین خریدی تھی ۔ ان کے قتل  کے بعد 36 ؁ ھ میں یہ زمین بیچی گئی تو اس کی  قیمت آٹھ لاکھ روپے ( سولہ لاکھ درہم) اٹھی یعنی قیمت  خرید کی نسبت تقریباً گیارہ گنا زیادہ گراں، شہر اور شہر سے قریب کی جائداد یں  اور زیادہ مہنگی  تھیں ۔

URL for part 17:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-17)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-17/d/45962

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-18)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-18/d/55963

 

Loading..

Loading..