New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 05:27 PM

Books and Documents ( 28 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 17) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 17

 

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

عہد عثمانی کا اقتصادی جائزہ

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب

جاہلی عرب معاشرہ میں روپیہ کمانے کا ایک طریقہ یہ تھاکہ با استطاعت لوگ غلام خرید لیتے تھے  او رانہیں ایک مقررہ یومیہ  ٹیکس کے بالمقابل محنت  مزدوری  کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔ غلام مضبوط ہوتا یا با ہنر اور دستکار تو اس سے کمزور او ربے ہنر غلام کی نسبت  زیادہ ٹیکس لیا جاتا تھا روپیہ کما نے کا یہ طریقہ قیام اسلام کے بعد بھی جاری رہا اور بہت سے مسلمان جن میں ممتاز صحابہ بھی شامل تھے اس طریقہ  سے روپیہ کماتے تھے ۔ گورنر کوفہ  صحابی مغیرہ بن شُعبہ رضی اللہ عنہ کامدینے میں ایک فارسی نثراد غلام ابو لُو لُو تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ لوہار ی او ربڑھئی کا کام جانتا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس سے پچاس روپیہ ( سو درہم ) ماہوار اور بقول بعض ساٹھ روپے ( ایک سو بیس درہم ) وصول کرتے تھے ۔ ابو لُو لُو کی رائے میں یہ ٹیکس بہت زیادہ  تھا اور  اس کا ادا کرنا وہ اپنے بس سے باہر سمجھتا تھا ۔ پہلے  اس نے اپنے  آقا سے تخفیف کی درخواست کی اور جب وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوئے تو اس نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے رجوع کیا ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی اس کی شکایت پر ہمدردی سے پیش نہ آئے، اُن کاخیال تھا کہ اُس جیسے ہنر مند غلام کے لئے مقررہ ٹیکس ادا کرنا آسان ہے۔ ابو لُو لُو کے سر پر خون سوار ہوگیا اور دو تین دن بعد فجر کے دھند لے میں جب عمر فاروق نماز پڑھارہے تھے تو اُس نے پہلی صف سے نکل کر جہاں وہ بھیس بدلے کھڑا تھا خنجر سے خلیفہ کو بری طرح گھائل کردیا، لوگوں نے پیچھا کر کے اس کو پکڑا تو اس نے خنجر سے خود کشی کرلی ۔

ابو لُو لُو کے قاتلانہ نہ حملہ  کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ چار دن زندہ رہے ۔ اس اثنا ء میں لوگوں نے ان سے کہا کہ اپنا جانشین مقرر کر دیجئے لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوئے ۔ ان کا خیال تھا کہ خلافت کے امیدوار بڑے صحابہ میں سے کسی ایک میں بھی وہ صفات موجود نہیں جن کا خلیفہ میں ہونا ضروری ہے ، انہیں اندیشہ تھا کہ اگر یہ لوگ خلیفہ ہوئے تو اپنے اپنے رشتہ داروں اور ہوا خواہوں  میں خلافت کے عہدے او رمادی منافع تقسیم کردیں گے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے انتخاب سے پیدا ہونے والی خرابیوں  کی ذمہ داری ان پر عائد ہو۔انہو ں نے مدینہ کے ۔۔۔۔۔۔ سب سے با اثر اور مالدار قرشی صحابہ کا ایک پینل  مقرر کردیا تاکہ وہ باہم صلاح و مشورہ کر کے اپنے درمیان سے  کسی ایک کو خلیفہ منتخب کرلیں ۔ اس پینل  کے ارکان تھے ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، علی حیدر رضی اللہ عنہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ۔ پینل کے ایک رکن طلحہ بن عبیداللہ اس وقت موجود نہ تھے اور کسی کام سے اپنی جائداد گئے ہوئے تھے جو مدینہ سے دور واقع تھی ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم سے باقی  پانچوں رکن ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کے کمرہ کے پاس جا بیٹھے اور انتخابی گفتگو ہونے لگی ۔ تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ آواز یں بلند ہونے لگیں اور پینل  کے ارکان خلافت کے لئے اپنی اپنی فضیلت ، جہادی خدمات اور اہلیت کا پرزور اظہار کرنے لگے، ایسا  معلوم ہوتا تھا کہ کوئی جھگڑا ہورہا ہے۔عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ کا چوتھا دن تھا ، خون بہنے سے وہ بے حد کمزور ہوگئے تھے اور چند گھنٹے کے مہمان تھے ۔ پینل کے اختلاف وشور سے ان کو اذیت ہوئی اور انہوں نے کہلابھیجا کہ میری موت تک انتخابی گفتگو ملتوی کردی جائے ۔ انہوں نے  ایک بڑے انصاری صحابی ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا کہ پچاس مسلح انصاری اپنے ساتھ لو اور پینل کے ارکان کو ایک مکان میں لے جاؤ اور مجبور کرو کہ اپنے درمیان سے کسی ایک کا انتخاب کرلیں ۔ اس کام کے لئے تین دن کی مہلت دیتا ہوں ، اس دوران اگر طلحہ لوٹ آئیں تو ان کو بھی انتخابی  کارروائی  میں شامل کرلیا جائے، اس سلسلہ  میں ایک بات اور یاد رکھو اور وہ یہ کہ اگر پینل  کے چار ممبر کسی ایک انتخاب پر متفق ہوں اور پانچواں اس سے اختلاف کرے تو اس کا سر اڑا دینا اور اگر پینل  کے تین رکن کسی ایک کے انتخاب پر اتفاق کرلیں اور دو اس سے احتلاف کریں تو ان کا بھی سر اتار لینا ۔ اگر پینل  کےنصف ارکان کو کسی ایک فریق  کی تائید حاصل ہو اور نصف کو دوسرے کی توخلیفہ اس فریق  کو بنایا جائے جسے عبدالرحمٰن بن عوف کی تائید حاصل ہو  اور اگر پینل  کے سارے ممبر باہمی اختلاف کے باعث  تین دن کے اندر اندر انتخاب کرنے سے قاصر رہیں انہیں  قتل کردینا

علی حیدر رضی اللہ عنہ خلیفہ کی یہ ہدایت سُن کر گھر گئے اوراپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے ہاشمی بزرگوں سےشکایت کی کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نےایسا پلان بنایا ہے کہ اس بار بھی  خلافت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گی ۔ چچا عباس : وہ کیسے؟ علی حیدر رضی اللہ  عنہ کسی ایک شخص کے با لا تفاق منتخب ہونے کا تو کوئی امکان ہی نہیں ، اس وقت میدان میں میں ہوں اور عثمان رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ،عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں او ر عبدالرحمٰن ،عثمان کے رشتہ دار، اس لئے یہ دونوں عثمان کو ضرور ہی ووٹ دیں گے اور اگر بالفرض پینل  کے باقی دو رکن ( طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ) مجھے ووٹ دے بھی دیں تب بھی خلافت مجھے نہیں مل سکتی کیونکہ عمر نے وصیت کر دی ہے کہ خلیفہ وہ فریق ہوگا جسے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کی تائید حاصل ہو ۔ بخدا اگر عمر جیتے رہے تو میں بتاؤں گا جیسی انہوں نے ہماری حق تلفی کی ہے اور اب اور پہلے جیسی جیسی ہمارے ساتھ بدسلوکیاں کرتے رہے ہیں اور اگر مر گئے جیسا کہ پورے آثار ہیں تو پینل کے باقی رکن یقیناً خلافت  سے ہمیں  محروم کردیں گے اور اگر انہوں نے ایسا کیا اور یقیناً وہ ایسا ہی کریں گے تو میں بھی ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دوں گا۔ واللہ لئن عمر لم یمت لأ ذکر تہ ما أتی الینا قدیما ولأ علمۃ سوء رأیہ فینا و ما أتی إلینا حد یثا والئن مات ویموتن لیجتمعن ھو لوء القوم علی أن یصر فو ا ھذا الأ مرعنا ولئن فعلو ھا ویلفحلُنّ لیرونی حیث یکر ھرن ۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تجہیز و تلقین کے بعد پینل کے پانچ رکن خلافت کی گتھی  سلجھانے ایک مکان میں جمع ہوئے ۔ مکان کے دروازہ پر عمر فاروق کی حسب ہدایت الیکشن نگران ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مع پچاس مسلح انصاریوں کے جگہ لے لی ۔ جب کافی وقت ردّ وقدح میں  گذر گیا اور کوئی فیصلہ نہ ہوسکا بلکہ گتھی سلجھنے کی  بجائے اور زیادہ اُلجھ گئی تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خلافت کی امیدواری سےدست بردار ہونے کا ارادہ کرلیا، اسی وقت اُن کی عمر چھیا سٹھ سال تھی ، رئیس آدمی تھے خوش خورد خوش پوش ، اعزار کے علاوہ خلافت میں ان کے لئے کوئی مادی کشش نہیں تھی ،بلکہ  وہ سمجھتے تھے کہ اگر میں خلیفہ ہوا تو عمر فاروق کی سی خشک اور دکھی زندگی بسر کرنا  میرے لئے نا ممکن ہے اور اگر میں نے ایسی  زندگی بسر نہ کی تو میری خلافت کامیاب نہ ہوسکے گی اور خلافت کے امیدواروں کے ہاتھوں  مجھے ہر گز چین و سکھ نصیب نہیں ہوگا۔ انہوں نے پینل کے ارکان سے کہا کہ میں خلافت سے دست بردار ہوتا ہوں اور اگر آپ لوگ راضی ہوں تو اپنی اور مسلمانوں  کی صواب دے دے جسے مناسب سمجھوں خلیفہ منتخب  کرلوں سب سے پہلے عثمان غنی نے اس تجویز پر اظہار و رضا مندی کیا پھر دوسرے ارکان نے ۔ علی حیدر نے کہا :میں غور کر کے جواب دوں گا۔ الیکشن نگران کو اس نئی اور امید افزا صورت حال کاعلم ہوا تو وہ علی حیدر سے ملے او ر سمجھا بجھا کر انہیں عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو تجویز ماننے پر آمادہ کرلیا ۔ علی حیدر نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بن عوف سے کہا:آپ حلف لیجئے کہ انتخاب میں اپنی رائے اور خواہش کو دخل نہیں دیں گے، نہ کنبہ اور رشتہ کا خیال کریں گے، حق اور انصاف سے کام لیں گے اور قوم کا مفاد پیش نظر رکھیں گے ۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ یہ حلف لے لیا ۔ اس کے بعد انہوں نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی خلافت سےدست بردار ہونے کے لئے تیار کرلیا ۔سعد رضی اللہ عنہ ، عبدالرحمٰن کے ابن عم اور سمدھی تھے ۔ سپہ سالار ی اور گورنری  کر چکے تھے ، مذہبی امانیت اور عرب شوریدہ سری کے تلخ تجربات نے ان کے دل میں امارت و خلافت کی کوئی پرزور للٔن  باقی نہیں  رکھی تھی ۔ زبیر بن عوام یہ سوچ کر دب گئے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی تائید سے محروم ہوکر ان کے لئے خلیفہ بننے کا کوئی امکان نہیں ہے، اب میدان میں علی حیدر اور عثمان غنی باقی رہ گئے ۔ تین دن تک عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ اہالی مدینہ ، اکابر قریش و انصار نیز ان گورنروں سے  ملتے رہے جو اس وقت مدینے  میں موجود تھے اور علی حیدر رضی اللہ عنہ و عثمان غنی رضی اللہ عنہ دونوں  کے بارے میں  ان کی رائے معلوم کرتے رہے ۔ اس وقت علی حیدررضی اللہ عنہ کے خاندان ( بنو ہاشم) کے سوا باقی سارے قریشی  ارباب  رائے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب چاہتے تھے انصار میں تین رجحان تھے : ان کا ایک بڑا گروہ علی حیدر رضی اللہ عنہ کا مؤ ید  تھا، ایک دوسرا لیکن پہلے سے چھوٹا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حق میں تھا اور ایک تیسری جماعت  غیر جانبدار تھی ۔

تین دن استصواب رائے کرنے کے بعد عبدالرحمٰن بن عوف نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ  منتخب  کرلیا ۔ سب لوگوں نے ان کی بیعت کرلی، صرف علی حیدر بیعت  سے گریزاں  رہے لیکن جب پینل کے دوسرے ارکان اور الیکشن نگران نے ان پردباؤ ڈالا اور عمر فاروق کی وصیت یاد دلائی تو انہیں بادل ناخوستہ بیعت  کرنا پڑی۔ ان کو شکایت تھی کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے جنبہ داری سے کام لیا ہے اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس لئے خلیفہ بنایا ہے کہ اپنے بعد وہ انہیں  ( عبدالرحمٰن ) خلیفہ نام رد کردیں ۔ علی حیدر کے کنبہ سے باہر جن لوگوں کو عثمان غنی کے خلیفہ ہونے پر سب سے زیادہ غصہ آیا ان میں ایک ممتاز شخصیت عمّا ربن باسر رضی اللہ عنہ  تھے جو یہ صدا لگاتے ہوئے سنے گئے تھے :لوگوں اسلام کا ماتم کرو، آج معروف کا جنازہ  اٹھتا ہے اور منکر کابول بالا ہوتا ہے ، بخدا اگر مجھے رضا کارمل جائیں تو میں عثمان کو خلیفہ بنانے والوں سے جہاد کروں!  وأقبل عمار بن یاسر ینادی: یا نا عیَ الاسلام تم فأ نعٔہ ، قدمات عُرف و بد اُنکر ، أماواللہ لوأن لی أعوانا لقا تلتھم ۔

خلافت کے پینل میں شمولیت کی خبر پا کر طلحہ بن عبیداللہ ہر ممکن عجلت کے ساتھ مدینہ روانہ ہو ئے لیکن  ان کے پہنچنے سے پہلے غنی کا انتخاب ہوچکا تھا ۔ وہ روٹھ کر گھر بیٹھ کئے ؟ انہوں نے اپنی غیر موجودگی میں الیکشن کو بے قاعدہ قرار دیا او رمطالبہ کیا کہ الیکشن پھر ہوتا کہ وہ بھی اس میں حصہ لےسکیں لیکن  عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وصیت سے جب انہیں مطلع کیا گیا اور دوسری طرف عبدالرحمٰن بن عوف اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کو سمجھا یا بجھایا اور منایا تو انہوں نے بیعت کرلی ۔

عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے  انتخاب سے اگر چہ مدینہ کاسیاسی افق پہلے سے زیادہ غبار آلود ہوگیا، جزیرۃ العرب کے سارے صوبوں ، مفتوحہ علاقوں ، عرب چھاؤنیوں  اور  صوبائی صدر مقاموں نے ان کا انتخاب بے چون وچراقبول کرلیا ۔جہاں تک مجھے معلوم ہے کسی جگہ کوئی شورش نہیں  ہوئی ۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے تھی کہ مدینے سے باہر خلافت کاکوئی امیدوار نہیں تھا اور سارے مفتوحہ علاقوں میں مقیم عرب مجاہد فقر و افلاس کی دلدل سے نکل کر اقتصادی خوش حالی سے ہم کنار ہوچکے تھے ۔ انہیں حکومت کی طرف سے تنخواہ اور راشن مل رہا تھا ، مفتوحہ ملکوں میں انہیں  عزت و حرمت بھی حاصل تھی ۔ خلیفہ ہوکر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ہر شخص کی تنخواہ میں پچاس روپے ( سو درہم) سالانہ کا اضافہ کردیا تھا، اس سے سب لوگوں  کی مزید تالیف قلب ہوگئی تھی ۔ یہاں بھی کوئی کھلی بغاوت نہیں ہوئی لیکن امیدوار ان خلافت ۔ علی حیدر رضی اللہ عنہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہاور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نیز ان کے ہواخواہوں نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف مہم چلادی  ، اُن پر اور ان کے افسروں کے اعمال پر احتسابی  نظریں گڑودیں ، ان پر اور ان کے عُمال پر نکتہ چینی کرنے لگے اور ان کی کارروائیوں کا غلط یا مبالغہ آمیز تعبیر  و تشریح کر کے حکومت کے خلاف بداطمینانی پھیلانے لگے ۔

URL for part 16:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-16)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-16/d/45942

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-17)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-17/d/45962

 

Loading..

Loading..