New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 08:46 PM

Books and Documents ( 27 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 16) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 16

 

 

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

مسلمانوں کی اقتصادی حالت

(1)  عام عرب

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رِدّہ بغاوتیں فرد کر کے جب عراق و شامی سرحدوں پر فوج کشی کی او رکئی نئے محاذ کھل گئے تو سپاہیوں کا توڑ پڑ گیا تھا، ان کی ترغیب پر حجاز ویمن کے درجنوں مفلوک الحال عرب قیبلے  جنگ میں شرکت کے لئے آگئے تھے اور وسائل سے بھر پور دونوں پڑوسی ملکوں کی سرحدی جنگیں جیت کر فقر وناداری کے مصائب سے نجات پا چکے تھے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں عراق ، شام ، فارس، میسو پوٹامیہ  اور مصر میں بہت سے نئے محاذ کھلے او ربڑی بڑی جنگوں کی تیاریاں ہوئیں تو پھر سپاہیوں کا توڑ پڑ گیا۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سارے جزیرۂ عرب کے قبائلی زعمیوں کو اپنے محصلین زکات کی معرفت تاکید ی مراسلے بھیجے کہ وہ اپنے اپنے قبیلوں کے جوانوں کے ساتھ مدینہ آجائیں اور حکومت کی طرف سےہتھیار ، سواری اور زاد راہ لے کر پڑوسی ملکوں میں قسمت آزمائی کریں ۔ بہت سے عرب جو ناداری کاشکار تھے اور بہت سے قبائلی رئیس جن کے دل میں کارہائے نمایاں کر کے دولت ، عزت او رمرتبے حاصل کرنے کی لگن تھی، عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی پکار پر اپنی ریگستانی بستیوں  سےنکل آئے اور خلافت کی فوجوں  میں ضم ہوگئے ۔ جزیرۂ عرب کے مختلف نواح سے آئے ہوئے ان عربوں کی تعداد کاہمارے مراجع نے تعین نہیں کیا ہے لیکن اندازاً ان کی تعداد پچاس ساٹھ ہزار متعین کی جاسکتی ہے اور بال بچوں کو ملا کر یقیناً ایک لاکھ سے زائد ہوگی ۔ عمر فاروق نے مفتوحہ ملکوں  کے مختلف  فوجی اہمیت کے شہروں  میں ان کی چھاؤنیاں قائم کردیں اور ان کی نیز ان کے اہل و عیال کے لئے تنخواہیں اور راشن مقرر کردیا ۔ ان عرب سپاہیوں  کی آمدنی کا ایک دوسرا ذریعہ غنیمت  کے سہام تھےجو وقتہً فوقتہً مقامی بغاوتوں  کو دبانے یا نئی فتوحات کے دوران انہیں ملتے رہتے تھے ۔ دیوان  العطاء کی مالی برکتوں سے مستفید ہونے والا یہ سب سے بڑا طبقہ تھا۔

(2) انصار

دیوان العطا ء کے ماتحت سب سے بڑا گریڈ ڈھائی ہزار روپے سالانہ کا مہاجرین قریش کے مردوں کو ملا تھا اور دوسرا دو ہزار روپے سالانہ کا انصاری مردوں کو ۔ مفتی مدینہ سعید بن مُسیَّب : إن عمر بن الخطّاب فرض لأ ھل بدرالمھا جرین من العرب و الموالی خمسۃ آ لاف خمسۃ آلاف والا نصارو ماولیھم أربعۃ آلاف أربعۃ آلاف ۔اس ادارہ نے اسلامی معاشرے میں انصار کی پوزیشن طے کردی ، ان کا مقام ہمیشہ کے لئے صف دو م میں  متعین ہوگیا، اب وہ قریش کے حریف اور مد مقابل نہیں رہے بلکہ تابع اور ماتحت ہوگئے ۔ اس کے باوجود دیوان العطاء نے انصار کی زندگی کا اقتصادی افق اتنابلند کردیا کہ وہ معاشی بے فکری کی زندگی بسر کرنے پر قاد ر ہوگئے ۔ دیوان العطاء کے علاوہ عہد فاروقی میں انصار اقتصادی   خوش خالی کے دو اہم میدانوں  ۔ فو جی اور سول عہدوں پر بھی دور صدیقی کی نسبت زیادہ سرگرم عمل نظر آنے لگے، اس کی ایک وجہ یہ تھی  کہ انصاری اکابر کو قریش کی قیادت میں خلافت کی فتوحات نے مرعوب کردیا تھا اور انہوں نے قریش کی امارت طوعاً و کرہاً قبول کرلی تھی۔ اس تبدیلی کا نتیجہ یہ ہوا کہ خلیفہ اور اُن کے سپہ سالاروں  نے انصار کی طرف سے بے اعتنائی  اور احتیاط کی اس روش میں نرمی کر دی جس پر سقیفہ بنی ساعِد ہ میں انصار کے مطالبۂ خلافت کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ر بند تھے ۔ عہد فاروقی میں متعدد انصاری خلافت کے بڑے سالاروں یا صوبائی  گورنروں کی ماتحتی میں فوجی دستوں اور رسالوں  کی قیادت کرتے نظر آتے ہیں ۔ معدودے چند انصار یوں کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خود بھی چھوٹے فوجی عہدے دیئے اور چند کوسول عہدوں پربھی فائز کیا ۔عثمان بن حُنیف رضی اللہ عنہ کو سواد عراق کالگان کمشنر مقرر کیا ، عُباد ہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور ابو الدرداء رضی اللہ  عنہ کو شام میں امامت نیز ججی کے فرائض تفویض کئے ، مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کو زکات کلکٹر کاعہدہ دیا ، محمد بن مَسلَمہ رضی اللہ عنہ کے سُپرد سفارتی خدمات کیں اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مکّہ جاتے وقت اپنا جانشیں  مقرر کیا لیکن جہاں تک ہمیں معلوم ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انصاریوں کو صوبوں ، چھاؤ نیوں او رملکوں  کا نہ تو گورنر بنایا اور فوجوں کا سالاراعلیٰ۔

(3) ہاشمی قریش

جس طرح اس طبقہ  کے لوگ صدیقی  دَور میں خلافت کے عہدوں  سے الگ رہے تھے اسی طرح فاروقی دور میں بھی سرکاری مناسب سے دور رہے ہاشمیوں کاعقیدہ تھا کہ خلافت ان کا حق ہے اور یہ حق پہلے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اُن سے چھین لیا تھا اور پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ، اِس لئے انہوں نے عدم تعاون اور دونوں کے کاموں پر نکتہ چینی  کی روش اختیار کر لی تھی ۔ اندریں حالات ابوبکر صدیق اور عمر فاروق ہاشمیوں کو خلافت اور اس کے عہد وں نے کچھ اس مصلحت کے ماتحت دوررکھتے کہ عہدے پاکر وہ کوئی بغاوت نہ کر بیٹھیں  اور کچھ ان کے عدم تعاون اور نکتہ چینی کی سزا دینے اور ان کی بڑھی ہوئی رعونت کو نیچا دکھانے کے لئے سرکاری مناصب کے اعزاز سے محروم رکھتے تھے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساڑھے دس سالہ دور حکومت  کے ضخیم تاریخ میں کسی ہاشمی سپہ سالار، کمانڈر، گورنر، محصل زکات ، سفیر، امام یا معلم کا نام ہمیں  نہیں ملا۔دیوان العطا ء کی مالی برکتوں کے علاوہ فاروقی دور میں اس طبقہ کی اقتصادی توانائی کے وہی ذرائع تھے جن کاعہد صدیقی میں ذکر ہوچکا ہے یعنی غنیمت کے سہام، زراعتی  فارم، نخلستان ، تجارت ، مضاربت ، مکاتَبت اور خیبر سے کھجور اور غلے کے سالانہ حصے  جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقرر کر گئے تھے اور جن سے معقول یافت تھی ۔

(4) غیر ہاشمی قریش

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا نظریہ تھا کہ چونکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش تھے  اس لئے ان کا جانشین بھی قریشی ہونا چاہئے نیز یہ قبیلۂ قریش میں حکومت کی ذمہّ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی ساری عرب قوم سے زیادہ صلاحیت ہے ۔ اس نظریہ کے ماتحت انہوں نے انصار کامطالبۂ خلافت سقیفہ بنی ساعدہ میں شد و مد کے ساتھ مسترد کردیا تھا اور اس خوف سے کہ کہیں انصار خلافت کی خواہش پروان چڑھانے کی جد وجہد شروع کر دیں انہیں بڑے عہدوں سے الگ رکھا تھا ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوسرا نظریہ تھا کہ خلافت کو خاندان نبوت سے بھی الگ رہنا چاہئے ۔ انہو ں نے دیکھا کہ ہاشمی گھر بیٹھے خوب مالدار ہوگئے ہیں، دولت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خونی رشتہ  اور ان کے التفات خاص سے ہاشمیوں میں تمکنت  بڑھ گئی ہے اور وہ دوسرے قریش خاندانوں کو فرد تر سمجھنے لگے ہیں ۔ انہیں اندیشہ تھا کہ مسند خلافت پر متمکن ہوکر ہاشمیوں کی تمکنیت اور زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ غیر ہاشمیوں کو نظر انداز کردیں گے اور خلافت کی مادی برکتوں سے انہیں محروم کردیں گے۔ ہاشمی رعونت کو نیچا  دکھانے ، ہاشمی دولت مند ی کو اعتدال میں رکھنے  اور ہاشمیوں کو خلافت کی مہم  بازی سے روکنے کے لئے عمر فاروق رضی اللہ عنہ انہیں  سپہ سالاری اور گورنر ی حصے اعلیٰ عہدے دینے کے خلاف تھے ، رہے چھوٹے عہدے تو انہیں قبول کرنا خود ہاشمی کسر شان سمجھتے تھے ۔ خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بڑی تعداد  میں سپاہیوں  کی ضرورت پڑی، سپاہی  انہیں عرب قبیلوں سےمل گئے ۔ قبائلی امیروں سے انہوں نے دوسرے اور تیسرے درجہ کے سالار چن لئے لیکن پہلے درجہ کے کمانڈر وں کے لئے انہیں غیر ہاشمی قریش کاسہار لینا پڑا ۔ یہ وہ طبقہ  تھا جو نہ ہاشمیو ں اور انصار کی طرح خلافت کا طلبگار تھا، نہ اُس میں ہاشمیوں  کی سی تعلّی اور انصار کی طرح اسلامی خدمات کا پندار تھا ۔ یہ طبقہ خلافت کی خدمت کر کے دولت، جاہ اور عزت حاصل کرنا چاہتا تھا ، عمر فاروق کا ادب کرتا تھا اور اُن کے دُرّے سے ڈرتا تھا ۔ دور فاروقی میں خلافت کے وسیع اسٹیج پر یہی طبقہ  عمل نظر آتا ہے ۔ فوجوں کی کمان اسی کے ہاتھ میں رہتی ہے، یہی پڑوسی اقوام کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ اسی کے دستخط صلح ناموں  پر ہوتے ہیں اور صوبوں ، چھاؤ نیوں اور سرحدوں  میں اسی کا حکم چلتا ہے ۔ خلافت کے زیر سایہ آکر یہ طبقہ فاروقی دور میں خوب پھلتا  پھولتا ہے اور امارت و اقتدار کے میدان میں برابر ترقی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا ایک مستعد اور بلند حوصلہ خاندان عمر فاروق کی وفات کے سولہ سترہ سال بعد امیر معاویہ کی قیادت میں سُفیانی خلافت  قائم کر لیتا ہے اور ایک دوسرا خاندان 65 ؁ ھ میں مروان بن حَکَم کی سرکردگی  میں سُفیانی خلافت  کی بساط الٹ کر مروانی حکومت  کی بنیاد رکھتا ہے،  یہ وہی دو خاندان ہیں جو تاریخ میں بنو اُمیہّ کے نام سے مشہور  ہیں اور خلافت راشدہ کے بعد تقریباً سو سال تک اسلامی حکومت  کی قیادت کرتے ہیں اور اسلام کے اقتصادی سوتوں پر قابض  رہتے ہیں۔

URL for part 15:

http://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-15)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-15/d/35921

URL for this article:

http://newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-16)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-16/d/45942

 

Loading..

Loading..