New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 06:51 PM

Books and Documents ( 24 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 15) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 15

 

 

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مالی حالت

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی والدہ حَنتمہ ایک معزز اور خوش حال قرشی گھرانے کی خاتون تھیں اور والد خطاب بھی خاندانی آدمی تھے لیکن ناسازگار حالت کے باعث دنیوی خوشحال سےبہرہ ور نہیں ہوسکے ۔ عمر فاروق نے ہوش سنبھالا تو گھر میں عسرت کا ماحول تھا ۔ بچپن میں ان پر ایسا وقت بھی پڑا جب فاقے کی نوبت آگئی ۔ خلیفہ ہوکر کبھی بچپن کی روکھی پھیکی زندگی کا اپنی موجودہ پر نعمت و پر عظمت زندگی سے مقابلہ کر کے حیرت کیا کرتے تھے ۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا : میری زندگی میں ایسا وقت بھی  آیا جب کھانے کے لئے روٹی تک نہیں  تھی، میں اپنی مخزومی خالاؤں کے گھر جاکر ان کے لئے کنوئیں سے میٹھا پانی نکال  لاتا اور وہ مجھے مٹھی بھر بھر کر کشمش دے دیتی تھیں ۔ بچپن کے ایک موڑ پر وہ اپنی ماں کے چچا زاد بھائی عُمارہ بن ولید کے خادم  کی حیثیت  سے بھی نظر آتے ہیں ۔ عُمارہ تجارت کے لئے شام یا یمن کے سفر پر تھے اور عمر فاروق ان کی خدمت کرتے اور کھانا پکا کر کھلاتے ۔ اپنے عہد خلافت میں ایک بار مکہّ کی کسی جانی پہچانی وادی سے گذرے تو ساتھیوں سے اس وادی میں اونٹ چرانے کے ادنیٰ مشاغل کا موجودہ شاندار زندگی سے مقابلہ کر کے حیرت سے کہنے لگے : میں بالوں کی بنڈی پہنے اس وادی میں خطاب ( والد) کے اونٹ چراتا تھا، وہ سخت گیر آدمی تھے، جب میں کوئی کام کرتا تو میرا پیچھا کرتے اور اگر کام میں مجھ سے کوئی کوتاہی ہوتی تو مارتے اور آج میرے عروج کا یہ حال ہے کہ خدا اور میرے درمیان کوئی دوسرا حائل نہیں ۔

عمر فاروق کو قدرت کی طرف سے بڑا رعب دار ظاہر ملا تھا ، چوڑ اچکا جسم ، طول طویل اتنے کہ چلتے تو معلوم ہوتا  گویا کسی جانور پر سوار ہیں، سرخ آنکھیں ، بڑی بڑی مونچھیں جن کے سِرے بھورے تھے ۔ غیر معمولی جرأت اور صاف گوئی نے ان کے رعب و داب میں اور زیادہ اضافہ کر دیا تھا ۔ قبول اسلام کے وقت عمر فاروق  کی عمر چھبیس سال کی تھی، وہ کئی شادیاں کر چکے تھے اور اپنے قومی پیشہ تجارت میں مشغول تھے ، رعب و داب’ جرأت او ر کامیاب تجارت کے باعث معاشرہ میں انہیں  وقار حاصل ہوگیا تھا جس معاملہ سے ان کی دلچسپی ہوتی اس کی پورے جوش اور بے باکی سے وکالت کرتے اور کسی بات پر اڑ جاتے تو اُسے پایۂ تکمیل تک پہنچا کر سانس لیتے ۔

جہاں تک ہمیں معلوم ہے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آٹھ عقد کئے ۔ چار اسلام سے پہلے اور چار اسلام کے بعد ، ہجرت کے بعد انہوں نے تین بیویوں کو جو قبول اسلام اور ہجرت کے لئے تیار نہیں ہوئیں چھوڑ دیا تھا، ان کی پہلی بیوی زینب جو ان کے مشہور لڑکے عبداللہ اور لڑکی حفصہ زوجۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں تھیں بحیثیت مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آگئی تھیں اور ایک رائے یہ ہے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور مکہ میں انتقال کیا، ہجرت  کے بعد مختلف اوقات میں انہوں نے چار شادیاں کیں، ان میں سے پہلی  دو نبھاؤ نہ ہونے کے باعث طلاق پر منتہی ہوئیں ۔ خلیفہ ہونے کے کچھ عرصہ بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ تیسری شادی کی ۔ ان کی چوتھی شادی علی حیدر رضی اللہ عنہ کی لڑکی ام اکلثوم رضی اللہ عنہ سے 17 ؁ ھ میں ہوئی جب وہ پچاس سال کے قریب تھے اور ام کلثوم آٹھ سال کی تھی ۔ اس لڑکی کے مہر پر عمر فاروق نے خطیر رقم صرف کی جس کی مقدار اکثر رواۃ نے بیس ہزار روپے چالیس ہزار درہم   ۔اور ان کی ایک قلیل جماعت نے پچاس ہزار روپے (دس ہزار دینار) متعین کی ہے ۔ عمر فاروق کی دوام   ولد بھی تھیں ۔ بچوں  کی تعداد چودہ تھیں ، نو لڑکے اور پانچ لڑکیاں ۔مکہ میں بیک وقت چار بیویوں  کاہونا اس بات کی دلیل ہے کہ عمر فاروق بچپن  کی اقتصادی مشکلات سے نجات پا چکے تھے اور ان کی  مالی  حالت اتنی سدھر گئی تھی کہ وہ چار بیویوں  اور ان کے بچوں  کا بھار اٹھانے پر قادر تھے عربی مراجع  اس بارے میں خاموش ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہجرت کے   وقت راس المال یا تجارتی  سامان مدینہ لے آئے تھے یا نہیں لیکن ہمارے خیال میں اس بات کا غالب  قرینہ  ہے کہ انہوں نے اپنا روپیہ پیسہ اور سامان تجارت  کا میابی سے منتقل  کر لیا ہوگا ، وہ اتنے دبنگ  تھے کہ قریش  کے درپئے آزار لوگ ان سے ٹکّر لیتے ہوئے ڈرتے تھے ، اس کے علاوہ انہوں نے مدینہ  کا سفر بیس افراد کی ایک مسلم پارٹی کے ساتھ کیا تھا ۔

ہجرت کے ابتدائی چند سالوں  کے اندر اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او رمہاجرین قریش کی اقتصادی زندگی میں جو خوش ۔۔۔ آیند انقلاب آیا اس کی برکتوں سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی متمتع ہوئے ۔ وہ صاحب جائیداد ہوگئے ۔ انہیں بئر جَرم نامی ایک نخلستان بنو نَصیر کے املاک  سے رسول اللہ نے دیا تھا ۔ ان کے دو نخلستان ثمغ اور صَر مۃُ ابن الاَ کْوَع کے نام سے مشہور ہیں ۔ یہ دونوں شاید انہوں نے خریدے تھے ، ثَمغ  مدینہ کے باہر واقع تھا،  عوفی مراجع نے صَر مۃُ ابن الاکوع کے جائے وقوع کی نشان دہی نہیں کی ہے لیکن قرائن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے  کہ یہ بھی مدینہ کے آس پاس واقع تھا ۔ خیبر کی غنیمت سے نخلستانوں اور اراضی کی شکل  میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ایک بڑی جائیداد  ملی تھی جو سو حصوں  پر مشتمل تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس  خیبر کے باغوں  سے بھی ان کے لئے سو و سُق ( تقریباً پانچ سو پچپن من) کھجور سالانہ کاحصہ مقرر کر دیا تھا ۔

وفات سے پہلے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیشتر فارم اور نخلستان خاندان والوں کے لئے وقف کردیئے تھے اور ان کا منتظم اپنی لڑکی حفصہ رضی اللہ عنہ زوجۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مقرر کردیا تھا ۔ رپورٹر وں نے دستاویز وقت کا مضمون ان الفاظ میں بیان کیا ہے: یہ وصیت  ہے عمر امیر المومنین  کی کہ اگر میرا انتقال  ہوجائے تو ثمغ اور صَرمۃُ ابن الأ کْوَع اور ان دونوں نخلستانوں  میں جو غلام کام کرتے ہیں اور عمر کی وہ سو وسق ( پانچ سو پچپن من) کھجور پر مشتمل  عطیہ  جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیا تھا ، ان سب کی نگرانی حفصہ رضی اللہ عنہ  کریں گی اور ان کے بعد ان کے خاندان کاکوئی باشعور آدمی یہ  جائیداد بیچی نہیں جاسکتی لیکن  اس کا منتظم اس کی آمدنی اپنے اور دوسرے ضرورت مندوں پر حسب صواب  دید خرچ کرسکتا ہے اور ان جاگیروں میں محنت  مزدوری کے لئے غلام خریدسکتا ہے ۔ ھذا ما أ وصی بہ عمرأ میر امؤ منین إن حدث بی حَدَث أن ثمغ و صَرمۃُ ابن الأکوع والعبد الذی فیہ والمئۃ سھم التی بخیبر و رقیقہ الذی فیہ والمئۃ التی أ طعمہ محمد بالوادی تلیہ حفصۃ ماعاشت، ثم یلیہ ذوالرأی من أھلہا أن لاَ یُباع ولا یُشتری یُنفقہ حیث رأی من السائل و المحروم وذی القربی ، ولا جناح علی  من ولیہ أن یأ کل اُوآکل أو اشتری رقیقا منہ ۔ یا قوت نے تصریح  کی ہے کہ مدینہ  سے تین میل بسمت شام سر زمین جُرف میں عمر فاروق کے کچھ نخلستان تھے ۔ والجُرف موضع علی ثلثہ أمیال من المدینۃ نحو الشام ، بہ کانت أموال لعمر بن الخطاب ۔ اس کی تائید مُعجم بکری میں ایک شخص  کے اس بیان  سے بھی ہوتی ہے ۔ خرجتُ مع عمر إلی أرضہ با لجُرف   ۔ ایک اور اطلاع سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ  سے چندمیل  مغرب میں غابہ نامی وادی  میں بھی اُن  کا ایک باغ تھا ۔معتزلی عالم ابن  ابی الحدید : حجاز میں عمر فاروق کے متعدد نخلستان  تھے جن کی سالانہ آمدنی بیس ہزار روپے ( چالیس ہزار درہم) تھی ۔ بظاہر یہ وہی نخلستان  ہیں جن کا مدینہ  کے نواح میں رپورٹروں نے ذکر کیا ہے اور جن میں سے دو کے نام ثمع اور صَر مۃ ابن الا کوع بتائے ہیں ۔ تاریخ  صنعاء قلمی  کے مصنف  نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ  کی میراث  کی مالیت کے جو اعداد و شمار دیئےہیں  وہ اتنے ضخیم ہیں کہ ان کا باور کرانا مشکل ہے ۔ لکھتا ہے: ولقدر رُوی أن عمر مات عن مائتی  ألف ألف درھم ۔ کہا جاتا ہے کہ عمر فاروق کی میراث  کی قیمت دس کروڑ روپے ( بیس کروڑ درہم) تھی۔

بحیثیت  خلیفہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کوئی تنخواہ  مقرر نہیں تھی ۔ وہ اپنے  پیش رو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ  کی طرح بیت  المال سے اپنی اور متعلقین  کی ضروریات پوری کرتے تھے ۔ روپیہ پیسہ  کے علاوہ بیت المال ان کے خورد و نوش ، لباس  کام کاج کےلئے غلام ، کنیز اور سواری  کے اونٹ  اور گھوڑے کا بھی کفیل  تھا ۔ ام المومنین  عائشہ رضی اللہ عنہ : لما اُستُخلف عمر أ کل ھووأ ھلہ اُحترف فی مال نضمہ ۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ  ہوئے تو انہوں نے اور ان کے بال بچوں نے خزانہ سے کھایا پیا اور اپنے روپے سے تجارت  بھی کی۔ تجارت میں کھجور اورغلہ ہی داخل نہ تھا جس کی پیداوار  عمر فاروق  کے فارموں  اور نخلستانوں سےہوتی تھی  بلکہ  دوسرے اصناف کا سامان بھی داخل تھا ۔عربی روایت بتاتی ہے کہ وہ تجارتی قافلے شام اور دوسرے ملکوں کو بھیجا کرتے تھے جن میں ان کا سامان یا حصے ہوتے تھے ۔عن إبراھیم أن عمر کا رد ینجُرو ھو خلیفۃ و جہّز عیرًا إلی الشام 1؎ ۔ اپنی خلافت کے دوران بھی عمر تجارت  کرتے تھے، انہوں نے  ایک تجارتی قافلہ شام بھیجا ۔ ان سب کے علاوہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آمدنی کے دو اور ذریعے تھے؟ ایک مال غنیمت  کے سہام جو 2 ؁ ھ سے ان کو خلافت صدیقی کے آخر تک برابر ملتے رہے تھے اور جن کی تعداد  و مقدار اُن کے خلافت کے ابتدائی چند  سالوں میں شام، مصر، عراق اور فارس میں نئے نئے  محاذ کھلنے سےبہت  بڑھ گئی تھی ۔ غنیمت  کے سہام  کا سلسلہ  فاروقی  خلافت  کے آخر  تک جاری رہا ۔اوائل خلافت  میں  ایک نیا ذریعہ آمدنی ان کے قائم کردہ دیوان  العطاء  کی معرفت وجود میں آیا، اس کے تحت عمر فاروق  کو گریڈ اوّل کی تنخواہ ملنے لگی جس کی مقدار ڈھائی ہزار روپے  سالانہ تھی ۔ ان کے بیوی بچوں کی بھی تنخواہیں مقرر ہو گئیں اور ان کے گھر کے ہر فرد کو لگ بھگ پینتالیس سیر ماہانہ غلہ، ساڑھے تین سیر سرکہ اور اتنا ہی روغن زیتون ملنے لگا ۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ سادہ زندگی  گذارتے تھے ، ان کو نہ لباس کاشوق تھا نہ پر تکلف کھانو ں کا ، نہ قاہری ٹھاٹ باٹ سے دلچسپی  تھی، بچپن  میں گھر کا روکھا پھیکا اور پر مشقت ماحول ان کی اس افتاد طبع کاکافی حد تک ذمہ دار تھا ۔ خلیفہ ہوکر ان کی سادگی روکھے پن میں بدل گئی ۔ ا س کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وہ رعیت اور افسروں کےدلوں میں اپنی دھاک اور رعب و داب بڑھانا چاہتے تھے اور دوسرے بحیثیت خلیفہ روکھی زندگی بسر کرکے امیدوار ان خلافت اور ان کے حمایتیوں کی نکتہ چینی اور حسد سے بچنا چاہتے تھے جن کے نکھری اور اجلی  زندگی  بسر کرنے کی صورت میں بڑھنے کا اندیشہ تھا ۔ اس روکھی پھیکی زندگی کا ایک اثر یہ ہوا کہ اچھے گھر انے کی عورتیں ان کے شریک حیات بننے کو تیار نہیں ہوتی تھیں ، عورتوں کے انحراف کی ایک دوسری وجہ عمر فاروق کی سخت گیری اور ترش مزاجی تھی ۔ انہوں نے ایک معزز قریشی عُتبہ بن ربیعہ کی لڑکی اُم اَبان سے شادی کرناچاہی تو اُس نے یہ کہہ کر انکار  کردیا : گھر کا دروازہ بند رکھتے  ہیں ( یعنی  بیویوں کو کہیں آنے جانے نہیں دیتے) ، ( گھر والوں پر) روپیہ پیسہ خرچ نہیں کرتے ، گھر آتے ہیں تو تیور چڑھے ہوتے ہیں ، جاتے ہیں تو تیور چڑھتے ہوتے ہیں ۔  یُغلق باہ ویمنع خیرہ ید خُد عابساو یخُرج عابسا 1؎ ۔ ابوبکر صدیق کی چھوٹی اور آخری لڑکی کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کی معرفت شادی کا پیغام دیا تو اس نے یہ کہ کر رد کردیا کھری ز ندگی گزارتے ہیں اور بیویوں  کے ساتھ سخت برتاؤ کرتے ہیں ۔ اِنہ خشِن العیش شدید علی النسا ء   ۔

 عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساڑھے دس سالہ دور خلافت میں ان کے پاس صرف دو  بیویاں تھیں ۔ عاتکہ رضی اللہ عنہ اور اُم اکلثوم رضی اللہ عنہ ۔ عاتکہ بیوہ  تھیں لیکن  حسین، انہوں نے اس شرط پر شادی کی تھی کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو نہ ماریں گے ، نہ انہیں حج کے لئے سفر کرنے سے نہیں روکیں گے او رنہ مسجد نبوی  میں جاکر نماز پڑھنے سے باز رکھیں گے۔ ۔ عاتکہ رضی اللہ عنہ سے شادی کے تین سال بعد 17 ؁ ھ میں انہوں نے دوسرا عقد علی حیدر رضی اللہ عنہ کی لڑکی ام اکلثوم سے کرناچاہا تو اس میں مشکلات پیش آئیں جن پرمہر کی ایک گراں قدر رقم یعنی بیس ہزار روپے اور بقول بعض پچاس ہزار روپے خرچ کر کے وہ قابو  پاسکے ۔ عاتکہ سے ایک بچہ تھا ، ام ُ کلثوم سے دو ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دو کنیزوں  سے بھی تین بچے تھے ۔ دو لڑکے اور ایک لڑکی ۔ جہاں تک ہمیں معلوم  ہے خلافت کاعہدہ سنبھالتے وقت عمر فاروق کا خاندان جس کے وہ براہ راست کفیل  تھے ایک درجن افراد  پر مشتمل تھا جن میں سے نصف بچے اور نابالغ تھے ۔ اُن کے باقی لڑکے با ستثنا ئے واحد (عاصم) اپنے پیروں پر کھڑے ہوچکے تھے اور بیشتر لڑکیوں کی شادی ہوچکی تھی ۔ جیسا کہ بتایا جاچکا ہے عمر فاروق اپنا اور متعلقین  کا خرچ خزانہ  سے وصول کرتے تھے ، اندریں حالات ان کے فارموں اور باغوں کی آمدنی  کو جس کا تعین ابن ابی الحدید کے مراجع میں بیس ہزار روپے کیا گیا ہے ، خیبر کی بڑی جائیداد سے ہونے والی یافت ، غنیمت کے سہام ، رسول اللہ کی عطا کردہ پانچ سوپچپن من ( سودسق) کھجور ، ڈھائی ہزار روپے سالانہ تنخواہ او رمفت راشن  کے ساتھ ملا کر اگر چالیس ہزار سالانہ قرار دیا جائے تو بعید از قیاس  نہیں ۔ یہ عظیم آمدنی عمر فاروق رضی اللہ عنہ کس طرح خرچ کرتے تھے ؟ اس سوال کاکوئی قطعی جواب دینا بہت مشکل ہے ۔ اس سلسلہ  میں جو کچھ ہمیں معلوم ہوسکا یہ ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دولت باقی ماندہ لڑکے، لڑکیوں کی شادی بیاہ ، اتفاقی اخراجات (جائیدادوں  او ر باغوں کی دیکھ بھال اور داشت پرداخت سے متعلق مصارف) اور رشتہ کے ضرورت مندوں  پر صرف ہوتی تھی ۔ ہماری  اس رائے کی بنیاد شرح نہج البلاغہ کایہ اقتباس  ہے : کان لعمر نخل بالحجاز غلنہ کل سنۃ أ بعون أ لف دوھم یُخر جہانی التوائب والحقوق و یَصرِفہا إلی بنی عَدیّ بن کعب إلی فقرا ئھم وأ را ملھم و أیتا مھم  ۔ حجاز میں عمر فاروق کے نخلستان تھے جن سے سالانہ بیس ہزار روپے کی یافت تھی ، یہ آمدنی اتفاقی  اِخراجات ، متعلقین کے حقوق  کی ادائیگی ( شادی ، بیاہ، علاج معالجہ وغیرہ) اور اپنے قبیلۂ عدی کے ناداروں ،بیواؤں اور یتیموں  پر صرف کرتے تھے ۔ انتقال کے وقت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر سرکاری خزانہ  کے چالیس ہزار روپے ( ثما نون ألف درھم ) کاقرضہ بھی تھا جو ان کی جائیداد سے ادا کیا گیا ۔ بظاہر  اس قرضہ کی ضرورت انہی مالی مواخذات  سے عہدہ بر آ ہونے کے لئے پڑی ہوگی جن کا مذکورہ اقتباس  میں ذکر ہے۔

URL for part 14:

http://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-14)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-14/d/35879

URL for this article:

http://newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-15)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-15/d/35921

 

Loading..

Loading..