New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:32 PM

Books and Documents ( 20 Feb 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 13) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 13

 

 

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

دیوان العطاء

عراق و شام کی فتوحات کے دوران عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فتوحہ اقوام پر ان کے علاقوں میں مقیم عرب افواج کے بقا و قیام کے لئے جو دو ٹیکس لگائے تھے اور بشکل نقد ( جزیہ) اور دوسرا بصورت جنس، ان سے وہاں کی فوجیں خود کفیل ہوگئی تھیں اور مرکز ان کے اخراجات سے پوری طرح سبکدوش ہوگیا تھا ۔ اس کے ذمّہ ان فوجوں کے ہتھیاروں سواریوں اور زاد راہ کی فراہمی رہ گئی تھی جو عراق و شام کے مختلف مورچوں کو وقتہً فوقتہً بھیجی  جاتی تھیں ، ان فوجوں کا خرچہ نکالنے کے بعد عمر فاروق کے خزانہ میں بہت سا روپیہ بچا رہتا تھا ، جس کا حصہ وہ مدینہ کے باشندوں  میں بانٹ دیتے تھے لیکن خزانہ کی آمدنی اس تیزی سے او ر اتنے وسیع پیمانہ  پر بڑھتی جارہی تھی کہ ان کا  کوئی مستقل اور باضابطہ مصرف نکالنے کی ضرورت تھی ۔ عمر فار وق رضی اللہ عنہ نے اس امنڈتی ہوئی دولت کو ٹھکانے لگانے کا جو نظام قائم کیا وہ دیوان العطاء کے نام سے مشہور ہے۔ اس نظام کےماتحت ان مسلمانوں کی سالانہ تنخواہ اور خوراک کےلئے ماہانہ راشن مقرر کر دیا گیا  جنہوں نے ہجرت کے بعد سے اب تک ایک بار یا زیادہ جہاد کیا تھا یا جو آنے والی جنگوں میں شرکت کے لئے تیار تھے ۔ سالانہ تنخواہوں  کے یہ نوگریڈ تھے :

پہلا گریڈ ۔ ڈھائی ہزار روپے ۔ مہاجرین قریش کے لئے جنہوں نے جنگ بدر ( 2؁ ھ) میں حصہ لیاتھا ۔

دوسرا گریڈ ۔ دو ہزار روپے انصار کے لئے جنہوں نے جنگ بدر ( 2؁ ھ) میں حصہ لیا تھا نیز اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے بد ر کے بعد معاہدۂ حُدیبیہ  (6؁ ھ) تک کے معرکوں میں شرکت کی تھی ۔

تیسرا گریڈ ۔ ڈیڑھ ہزار روپے ۔ اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے معاہدۂ حُدیبیہ اور اس کے بعد عہد صدیقی  وفاروقی میں جنگ قادسیہ ( 14 یا 15 ؁ ھ) سے قبل کی جنگوں میں حصہ لیا تھا ۔

چوتھا گریڈ ۔ ایک ہزار روپے ۔ عراق کی جنگ قادسیہ  14 یا 15 ؁ ھ یا شام کی جنگ یر مؤک ( 15 ؁ ھ) میں شرکت کرنے والوں کے لئے ۔ ان  دو جنگوں میں جن سپاہیوں نے شجاعت کے جو ہر دکھائے تھے ان کا گریڈ سوا ہزار روپے تھا ۔

 پانچواں گریڈ ۔ پانچ سو رپے ۔ قادسیہ اور یَر مُوک کے معرکوں کے بعد عراق وشام کے محاذوں  پر آنے والے سپاہیوں کی پہلی کھیپ کےلئے ۔

چھٹا گریڈ ۔ ڈھائی سو روپے ۔ دوسری کھیپ کے لئے

ساتواں گریڈ ۔ ڈیڑھ سوروپے ۔ تیسری کھیپ کے لئے ۔

آٹھواں گریڈ ۔سوا سو روپے ۔ چوتھی کھیپ کے لئے ۔

نواں گریڈ ۔ سو روپے پانچویں کھیپ کے لئے یہ سب سے چھوٹا گریڈ تھا اور ہر عرب کو جو مدینہ آکر جہاد کے لئے آمادگی ظاہر کردیا جاتا تھا ۔

بعض افراد کو رسول اللہ سے قریبی رشتہ یا خصوصی لگاؤ کے باعث امتیازی تنخواہیں دی گئیں، ان میں سے یہ لوگ قابلِ ذکر ہیں:۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر آزاد بیوی ۔ تنخواہ چھ ہزار روپے اور ان بیویوں کو جو غلامی کے بعد آزاد ہوئی تھیں، تین ہزار روپے رسول اللہ کے چچا عباس کو چھ ہزار روپے اور دونوں  نا بالغ نواسوں حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو ڈھائی ڈھائی ہزار ۔

تنخواہ پانے والے مردوں کی بیوی بچوں کی بھی نتخواہیں مقرر کرد گئیں ۔

پہلا گریڈ ۔ ڈھائی سو روپے ۔ مجاہدین بدر کی بیویوں کے لئے ۔

دوسرا گریڈ ۔ دو سوروپے ۔ بدر کے بعد کی جنگوں اور معاہدۂ حدیبیہ ( 6 ؁ ھ) میں حصہ لینے والوں کی بیویوں کے لئے ۔

تیسرا گریڈ ۔ ڈیڑھ سو روپے ۔ معاہدہ حُدیبیہ کے بعد سے قبل از قادسیہ واقع ہونے والی جنگوں کے مجاہدوں  کی بیویوں  کے لئے ۔

چوتھا گریڈ ۔ سو روپے ۔ جنگ قادسیہ میں شریک مجاہدوں کی بیویوں کے لئے ۔

پانچواں گریڈ ۔ پچاس روپے ۔ جنگ قادسیہ کے بعد کے مجاہدوں کی بیویوں کے لئے

اخبار و آثار کے ایک اسکول کی رائے ہے کہ عورتوں کا سب سے بڑا گریڈ ڈیڑھ ہزا ر روپے تھا اور یہ اُن خواتین کو ملتاتھا جو ہجرت کر کے مدینہ  آگئی تھیں 

اولاد کی تنخواہیں :

پہلا گریڈ ۔ ایک ہزار ۔ مجاہدین بدر کے بالغ لڑکوں کے لئے ۔

دوسرا گریڈ ۔ سو روپئے ۔ مجاہدین بدر کے نابالغ لڑکوں کے لئے ۔

تیسرا گریڈ ۔ پچاس روپے ۔ مجاہدین  بدر کے دودھ پیتے بچوں کے لئے ۔

ماہ رمضان میں عمر فاروق کی طرف سے ہر مجاہد کے دودھ پیتے بچے کی ماں کو آٹھ آنے اور امہات المومنین کو ایک روپیہ یومیہ مزید دیا جاتا تھا ۔

نقد تنخواہوں کے علاوہ عمر فاروق نے مسلمان سپاہیوں  کے کھانے کا بھی انتظام کیا جو بشکل راشن ہر ماہ انہیں ملتا تھا ، تنخواہ کے مستحق صرف مسلمان تھے لیکن راشن ان کے غلاموں کی بھی دیا جاتا تھا ۔ راشن کی مقدار فی کس دو جریب ماہانہ تھی اور تنخواہ پانے والے ہر مرد کے علاوہ  اس کے بیوی، بچوں  اور غلاموں  کو دی جاتی تھی ۔ ایک جریب سے مراد اتنا غلہ ہے جو چالیس گز لمبے اور اتنے ہی قطعہ زمین میں پیدا ہو۔ جریب ملک شام کا پیمانہ تھا جسے مدُی بھی کہتے تھے اور اس میں تقریباً ساڑھے بائیس سیر ( پینتالیس رطل ) غلہ سماتا تھا ۔عمر فاروق نے ساٹھ غریبوں کو بلا کر پیٹ بھر کر روٹی کھلاتی  تو دو جریب آٹا خرچ ہوا، اس بنا پر انہوں نے فرد واحد کے ساٹھ وقت ( ایک ماہ) کا غلہ دو جریب مقرر  کردیا جو ایک من پانچ سیر کے بقدر تھا ۔ غلہ کے علاوہ راشن میں تقریباً ساڑھے تین تین  سیر ( دو دو قسط) سر کہ اور روغن زیتون بھی مقرر کیا گیا ۔

عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شاندار فتوحات نے مسلمانوں کی نظر میں ان کی قدرو منزلت تو بڑھائی ہی تھی، دیوان العطاء نے ان کی شخصیت میں  اور زیادہ کشش پیدا کردی ۔ اگر کہا  جائے کہ وہ قومی ہیرو بن گئے تھے تو بیجا نہیں ہوگا ۔عربوں کے سواد اعظم نے دیوان العطا ء کا پر جوش خیر مقدم کیا، لوگ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی درازی عمر کی دعائیں مانگنے لگے، مجلسوں میں ان کی تعریف ہونے لگی محفلوں میں ان کے اقدامات کو سراہا  جانے لگا۔ آنے والی نسلیں بھی جو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فتوحات سے مرعوب تھیں اور ان کے دیوان العطاء اور نظام جزیہ و مالگذاری کی برکتوں سے بہرہ ور ، انہیں مسلمانوں کا ایک زبردست محسن، اسلام کا ایک آہنی قلعہ ، سیاسی تدبر کا پیکر اور دینی سمجھ بوجھ کا دیوتا تصور کرنے لگیں۔

دیوان العطا ء کو جن لوگوں نے نا پسند کیا اور اُسے مسلمانوں کے تندرست و متوازن اخلاقی و اقتصادی ارتقاء کے لئے فال بد تصور کیا، ان میں سے تین اشخاص کے تاثرات کا ہم یہاں ذکر کریں گے۔ ان میں سے ایک ابو سفیان بن حرب ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خسر ، اپنے زمانہ کے صاحب نظر قرشی لیڈر اور بڑے تاجر ۔ انہوں نے ان دبے الفاظ میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ سےشکایت کی : آپ نے بز نطیوں کی طرح ( مسلمانو ں کے لئے) فوجی رجسٹر بنا دیا ہے ، آپ تنخواہ اور راشن مقرر کردیں گے تو لوگ اپنی روزی کے لئے پوری طرح حکومت پر بھروسہ کرنے لگیں گے اور تجارت چھوڑ دیں گے ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ : اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ مفتوحہ علاقوں سے آمدنی بہت بڑھ گئی ہے ۔ دوسرے معترض بی بی خدیجہ زوجۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجے اور ایک جہاں دیدہ مالدار قرشی تاجر حکیم بن حِزام تھے، انہوں نے کہا : قریش تجارت پیشہ لوگ ہیں، آپ نے اگر ان کی تنخواہیں اور راشن مقرر کر دیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ ان دونوں کا سہار الے کر تجارت چھوڑ بیٹھیں گے ، آپ کے بعد آنے والے کسی خلیفہ نے اگر ان کی تنخواہیں بند کردیں تو وہ کہیں کے نہیں رہیں گے ، کیونکہ تجارت پہلے ہی ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی ۔ تیسرا شخص کوفہ کا ایک بار سوخ فوجی کمانڈر خالد بن عُر فُطہ تھا ۔ جب عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس سے کوفہ کے حالات دریافت کئے تو اس نے اِن ستائش آمیز الفاظ میں اپنے اندیشہ کا اظہا رکیا: امیر المؤمنین کوفہ کے لوگ دست بدعا ہیں کہ خدا ان کی عمر کاکچھ حصہ آپ کی عمر میں بڑھا دے۔ جس جس نے جنگ قادسیہ میں شرکت کی اس کی تنخواہ ہزار روپے یا ساڑھے سات سو سالانہ ہے ۔ نومولود کے لئے پچاس روپے تنخواہ اور دو جریب ( پینتالیش سیر) ماہانہ گیہوں مقرر ہوجاتا ہے، خواہ وہ لڑکا ہو  یا لڑکی ۔ جو لڑکا بالغ ہوجاتا ہے اس کی تنخواہ ڈھائی سو یا تین سو روپے ہوجاتی ہے۔ جب صاحب خانہ کے پاس اس کے بیوی بچوں کی تنخواہ اور راشن آتا ہے اور اس کے بیوی بچوں میں سے کچھ کھاتے ہیں اور کچھ (شیر خوار ہونے کے باعث) نہیں کھاتے تو فالتو راشن ( اور تنخواہ) کے بارے میں آپ کاخیال کیا ہے کہ وہ کس طرح صرف ہوتا ہوگا ۔ یقیناً صاحب خانہ اسے جا او ربے جا صرف کردیتا ہے ۔یاَ أمیر المؤمنین ترکتُ من ورائی یسأ لون اللہ أن یزید فی عمرک من أ عما رھم،ماوطیٔ أ حد القاد سیۃ إلاعطاؤ ۃ ألفان أو خمس عشرۃ مئۃ، ومامن مولود یُو لَد إلا أ الحقِ علی مئۃ و جریبین کل شہر ذکراً کان أ و أنثی و ما یبلغ لنا ذکر إ لا أ لحق علی خمس مئۃ أوست مئۃ ، فإ ذاخرج ھذا لاً ھل بیت منھم من یأ کل الطعام ومنھم من لا یأ کل الطعام فما ظنک یہ؟ فإ نہ یَنُفقہِ فیمأ ینبغی و فیما لا یُنبغی ۔

دیوان العطا ء کا ایک نقص یہ تھا کہ اس مقرر کردہ تنخواہوں اور راشن میں کوئی معقول تناسب نہیں تھا، ا س کے ماتحت سب سے بڑی تنخواہ دو سو آٹھ روپے ماہوار ( پانچ ہزار درہم سالانہ) تھی اور سب سے چھوٹی دس بارہ روپے (تین سو درہم سالانہ) اس کے مقابلہ میں راشن ہر گریڈ کے افراد کے لئے برابر تھا اور ان کی ضرورت سے زیادہ ۔ ایک ایسے ماحول  میں جہاں گرانی تیزی سے بڑھ رہی تھی بہت سے خاندانوں کے سارے افراد کی تنخواہیں مل کر بھی ان کی خور د و نوش سے مادراء ضروریات کے لئے کافی نہ ہوتیں جب کہ پورے مہینہ بے فکری سے کھانے کے باوجود  ہر گھر میں راشن کے ڈھیر لگے رہنے اور اس کا کوئی خرید نے والا نہ ملتا ۔ کہا جاتا ہے کہ خود عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو تنخواہوں  کی کمی  کا احساس تھا اور کم گریڈ والوں کی تنخواہ بڑھا کر اسی بیاسی روپے ماہوار ( دو ہزار درہم سالانہ) اور بقول بعض  سوا سو روپے کر دینا چاہتے تھے جیساکہ ان کی طرف منسوب اس قول سے ظاہر ہے: اگر میں جیتا رہا تو نچلے طبقے  کے لوگوں  کی تنخواہ دو ہزار درہم سالانہ کردوں گا۔ لئن عشت لأ جعلن عطا ء سفلۃ الناس ( أو۔ سفلۃ المھا جرین عطا ء الرجل المسلم ثلاثۃ آلاف ، ألف لکرا عہ والف نفقۃ لہ و الف نفقۃ لأ ھلہ   ۔

ایک دوسری خبر یہ ہے کہ وہ فرق مراتب ختم کر کے ہر شخص کی تنخواہ لگ بھگ پونے دو سو روپے ماہوار ( چار ہزار درہم سالانہ) کردینا چاہتے تھے ۔ لئن  کثر المال لأ نرِ ضنّ لکل رجل أ رجعۃ آلاف درھم ، ألف لسفرہ و أ لف لسِلاحہ و أ لف یُخلِفھا لأ ھلہ و ألف لَفَرَ سہ و بغلہ ۔

دیوان العطا ء کے کچھ مضر نتائج حسب ذیل ہیں :

(1) اس نے سارے مسلمانوں کو طبقوں میں بانٹ دیا جس سے اونچ نیچ کا میلان بڑھا اور معاشرہ کو مختلف حیثیتوں سے نقصان پہنچایا ۔

(2) دیوان العطا ء کے ماتحت جو راشن ملتا اس کی مقدار فی کس خوراک کے اوسط سے بہت زیادہ تھی ، اس لئے گھر وں میں بہت سا غلہ ہر ماہ بچا رہتا  اور چونکہ بستی یا چھاؤنی  کے سب لوگ راشن پاتے اس لئے بازار میں اُس کا خریدار نہ ملتا ، گھر کے کوٹھوں  میں غلہ  کے انبار لگے رہتے جہا ں بکثرت چوہے پیدا ہوتے  اور ان کے ذریعہ طاعون کی وبا پھیل جاتی جا ہلا ہولناک طاعون جس کی زد میں عرب آئے 18 ؁ ھ میں بیت المقدس کے شمال مغرب کے شہر عَمواس سے شروع ہوا اور وہاں سے متعدی ہوکر شام کی ساری عرب چھاؤنیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ شام میں مقیم بیشتر عرب فوجیں جن کی تعداد علی أقل التقدیر پچیس  ہزار تھی مع بال بچوں کے اس طاعون کالقمہ بن گئیں ۔ طاعون وبا ( الطاعون الجارف) عرب چھاؤنیوں میں برابر آتی رہتی اور ہزاروں گھروں کو اُجاڑ جاتی ۔

(3) دیوان العطا ء کے قیام سے عام طور پر لوگوں میں کنبہ بڑھا نے کا زبردست داعیہ پیدا ہوگیا کیونکہ کنبہ جتنا بڑا ہوتا تنخواہ اور راشن اتنا ہی زیادہ ملتا، اس سے معاشرہ میں وہ خرابیاں پیدا ہونے لگیں  جو کثرت ازدواج اور فراوانی اولاد سے پیدا ہوتی ہیں ۔

URL for part 12:

http://newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-12)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-12/d/35835

URL for this article:

http://newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-13)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-13/d/35867

 

Loading..

Loading..