New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 06:04 AM

Books and Documents ( 11 March 2014, NewAgeIslam.Com)

Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Concluding Part)(خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ (آخری حصہ

 

 

 

 

خورشید احمد فارق

غلام اور موالی

مسلمان عربوں کی مادی خوش حالی کی بنیاد تین فریقوں کے ہاتھوں بلند ہوئی تھی  (1) مفتوحہ اقوام (2) غلام اور (3) موالی ۔ مفتوحہ اقوام نے اس عمارت  کی تعمیر و تشکیل میں جو حصہ لیا اس کاذکر پچھلے اوراق میں ہوچکا ہے ۔ اس فصل میں بتایا جائے گاکہ غلام او رموالی  نے اس کے بنانے میں کیا خدمت انجام دی ۔ عربوں میں غلام رکھنے کا رواج بہت پرانا تھا ۔ ان کے ہاٹوں اور موسمی بازاروں میں جزیرۂ عرب اور حبشہ وغیرہ سے غلام بکنے کے لئے آتے تھے ۔ غلاموں کی قیمت  کا دار مدار ان کی شکل و صورت ، رنگ ، صحت اور صلاحیت پر ہوتا تھا ۔ مہذب ، سفید فارم ، خوب رد، ہنر مند اور پڑھے لکھے غلاموں کی قیمت زیادہ اٹھتی تھی ۔

 عرب بالعموم حبشی  غلام خریدتے جو سستے ہوتے تھے ۔ ایک حبشی غلام کی قیمت سو روپے ( د وسو درہم) کے اندر  اندر رہتی تھی ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام سے پہلے اپنے حبشی غلام بلال رضی اللہ عنہ کو پانچ اُدقیہ یا لگ بھگ سو روپے میں خریدا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےمنظور نظر پر دردہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جو ایک خوب رو جوان تھے بی بی خدیجہ رضی اللہ عنہ کے لئے عُکاظ کے بازار سے دو سو روپے ( چار سو درہم) میں خریدے گئے تھے ۔ صحابی نُعیم بن عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایک پڑھے لکھے مہذب قبطی غلام کی قیمت چار سو روپے ( آٹھ سو درہم) ادا کی تھی ۔

غلاموں سے مختلف قِسم کے کام لئے جاتے ہیں ۔ گھر یلو خدمت کے علاوہ نخلستانوں کی دیکھ بھال ،کھیتوں کی کھدائی ، بوائی، سینچائی اور نگرانی ان کے ذمہ تھی ۔ تاجر پیشہ اور کاروباری عرب اپنے اپنے پیشوں میں غلاموں سے خدمت لیتے تھے ۔ بہت سے لوگ مقررہ یومیہ ٹیکس کے بالمقابل غلاموں کو مزدوری او رکسب کے لئے بھی چھوڑ دیتے تھے ۔ اگر غلام با ہنر ہوتا جیسے بڑھئی یا  لوہار تو اس سے یومیہ ٹیکس زیادہ وصول کیا جاتا تھا ۔ زر مخلصی لے کر بھی غلام آزاد کرنے کا رواج تھا ۔  غلام اور اس کے مالک  کے درمیان  ایک معاہدہ ہوجاتا جس کی رو سے ایک مقررہ رقم ادا کرنے پر جو زیادہ تر قسطوں میں لے جاتی ، غلام آزاد ہوجاتا تھا ۔ ایسے معاہدہ کااصطلاحی نام مُکاتَبَت تھا ۔ مشہور صحابی سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اپنے یہودی آقا سے ایسا ہی معاہدہ  کیا تھا جس کے تحت انہیں  پانچ سو درخت کھجور کے کلے لگانے اور انہیں پروان چڑھانے اور بقول بعض تین سو پود لگانے اور پروان چڑھانے نیز آٹھ سو روپے ( چالیس اُدقیہ) ادا کرنے کے بعد آزاد ی مل گئی تھی ۔

 کاروباری عرب کبھی  غلام کی ایمانداری او رکار گذاری  سے خوش ہوکر او رکبھی کسی با ہنر ، باشعور اور مخلص غلام کی صلاحیتوں  سے اپنی تجارت  یا کاروبار میں فائدہ اٹھانے کے لئے  بلامعاوضہ آزاد کردیا کرتے تھے ۔ بوڑھے اور دور ازکار غلامو  ں کو بھی جو آقا پر بار ہوتے عام طور پر آزاد کر دیا جاتا تھا ۔ آزاد کردہ غلام کو مولیٰ ( تابع) کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، اس کی آزادی  کے ساتھ بہت سی پابندیاں لگی ہوئی تھیں ۔ عرب معاشرہ میں مولیٰ آزاد  عرب کا ہمسر نہیں ماتحت  اور دوسرے درجہ  کاشہری  تھا ۔ اپنے آزاد کنندہ  کا تا حیات وفادار و مددگار رہنا اس کا سماجی فرض تھا ۔ اس کی میراث میں اس کاآزاد کنندہ  شریک ہوتا تھا لیکن  آزاد کنندہ  کی میراث سے مولیٰ  کو کوئی حصہ  نہیں ملتا تھا ۔

غلاموں کی محنت  سے فائدہ اٹھانے  اور افزائش  دولت  کے کاموں  میں ان سے خدمت لینے اور با معاوضہ یا بلا معاوضہ  آزاد کرنے کے سارے طریقے  جس کا اوپر ذکر ہوا مع سماجی واجبات موالی  کے اسلام میں برقرار  رہے ۔ 3 ؁ ھ  کے بعد جوں جوں مسلمان عربوں  کی مالی حالت  بہتر ہوتی گئی غلاموں کو افزائش دولت کے کاموں میں استعمال اور معاوضہ  لے کر آزاد کرنے ( مُکاتَبت) کا کاروبار بڑھتا گیا ۔ غلام خریدے بھی جاتے تھے اور غنیمت  کی مد سے یہودیوں کے مد سے مفت بھی ملتے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی فالتو اراضی اورمدینہ سے نکالے ہوئے یہودیوں کے جو فارم ، جائداد اور نخلستان مسلمانوں میں بانٹے ان کی اصلاح اور دیکھ بھال کرنے نیز پیداوار بڑھانے کی جد وجہد کرنے والے غلام اور موالی ہی تھے ۔ فاروقی دور میں غلاموں کااستعمال  بہت بڑھ گیا اور بعد  کے ادوار میں مزید بڑھا ۔ وجہ یہ تھی کہ فاروقی خلافت  میں پڑوس کے کئی  ملک فتح ہوئے جہاں مسلمانوں  نےمنہزم دشمن کے ہزاروں  مرد اور بال بچے غلام بنا لئے تھے ۔

 فاروقی عہد میں  دیوان  العطا ء کا ادارہ قائم ہوا جس  نے غلاموں کے لئے مفت راشن  مقرر کرکے آقا ؤں کو غلاموں کی خوراک کے بار سے آزاد کردیا ۔ دیوان العطا ء کی اس عظیم رعایت سے ان لوگوں کی  بڑی حوصلہ افزائی ہوئی جو غلاموں کی تعداد بڑھا کر اپنی تجارت  اور کاروبار کو فروغ دینے یا نخلستانوں اور کھیتوں کی پیدوار  بڑھانے کا داعیہ رکھتے تھے ۔ 17 ؁ ھ  میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حجاز کے یہودیوں کو فدک ، خیبر اور روادی القری سے جلا وطن کردیا، اب تک یہ لوگ اپنے علاقوں  کی نصف پیداوار  حکومت مدینہ  کو دیا کرتے تھے اور بایق حق محنت کے طور پر اپنے خرچ میں لاتے تھے ۔ یہودیوں کو نکالنے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تینوں  علاقوں کے نخلستان اور فارموں کی داشت پرداخت کے لئے غلام اور موالی  مامور کردیئے جو پڑوسی ملکوں  کی فتوحات کے دوران بکثرت  ہاتھ آگئے تھے ، اس اقدام سے ان علاقوں  کی نصف  کی جگہ کل پیداوار  مرکزی خزانہ  یا ان لگ بھگ ڈیڑھ ہزار صحابیوں میں تقسیم ہونے لگی جنہوں نے نصف خیبر  اور وادی القریٰ  کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں بزور شمشیر فتح کیا تھا ۔

تجارت ، کاروبار، زراعت اور باغبانی کے میدانوں  میں خدمت لے کر اقتصادی ترقی حاصل کرنے کے علاوہ بہت سے لوگ آمدنی بڑھانے کے لئے غلاموں  سے ایک مقررہ ٹیکس کے بالمقابل محنت مزدوری کرایا کرتے تھے ۔ ممتاز صحابہ میں جو لوگ غلاموں  سے یومیہ ٹیکس  وصول کرتے تھے ، ان  میں  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ  کےنام بطور مثال پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ سنن کبری میں ہے ۔ کان الأ بی بکر غلام یُخرج لہ الخراج و کان أ بو بکر یأ کل منہ ۔ ابوبکر صدیق کا ایک غلام تھا جو ( محنت مزدوری  کر کے ) یومیہ ٹیکس  ادا کرتا تھا اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  یہ ٹیکس اپنے خرچ میں لاتے تھے ۔ زبیر بن  عوام کے ایسے ایک ہزار غلام تھے جو یومیہ ٹیکس  ادا کرتے تھے ۔ کان للز بیر ألف مملوک یؤ دُون إلیہ الخراج ۔

 عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گورنر کوفہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ایک دستکار فارسی غلام فیروز ابو لُو لُو کو محنت  مزدوری  کے لئے مدینہ  بھیج دیا تھا اور اس سے ڈیڑھ روپیہ اور بقول  بعض دو روپے  یومیہ ٹیکس  وصول کرتے تھے ۔ یہ وہی  ابو لُو لُو ہے جس نے اس ٹیکس سے اپنی گرانباری  کی عمر فاروق رضی اللہ عنہ  سے شکایت کر کے مُغیرہ بن شعبہ سے اس میں تخفیف کرانے کی درخواست کی تھی اور جب وہ سفارش  کرنے کے لئے تیار  نہیں ہوئے  تو طیش میں آکر ان پر قاتلانہ  حملہ کردیا تھا جس  کے زیر اثر تین چار دن بعد ان کا انتقال ہوگیا تھا ۔

غلاموں کے لئے افزائش دولت  کے اس کا روبار  کو جس کا نام مکاتبت (آزادی  مقابل معاوضہ) تھا خلافتِ  راشدہ  میں خوب فروغ ہوا زر مخلضی دیکر وہ غلام آزادی لیتے جن کاتعلق اچھے  ، مالدار اور تاجر گھرانوں سے ہوتا تھا ۔ یہ لوگ غلامی کی مشقت ، ذلّت  اور خواری سے نجات پانے کے لئے اپنے  آقاؤں سے مالی  معاہدے کر کے مکاتب بن جاتے اور آزادی کے بعد موالی  کے طبقہ  میں داخل ہوجاتے ۔ جاہلی عرب  معاشرہ کا ایک ضابطہ یہ تھا کہ آزادی  خریدنے کے بعد مَوْالیٰ اپنے سابق آقا سے پوری طرح غیر متعلق نہیں ہوسکتا تھا اور وقت ضرورت  آقا کی مدد کرنا اس  کے واجبات میں سے تھا، چاہے مدد تجارت اور کاروبار میں ہاتھ بٹانے یا کسی دشمن سے مقابلہ کرنے کی شکل میں  ہوتی یا گھریلو کاموں سے اس کا تعلق ہوتا ۔ دوسرا ضابطہ یہ تھا کہ اگر مکاتب  زر کتابت کی آخری  پائی ادا کرنے سےپہلے مر جاتا یا ہر قسط پوری پوری  یا مقررہ معیاد  ادا کرنے سے قاصر رہتا تو معاہدہ کالعدم ہوجاتا ۔ یعنی مکاتب  کو قسطوں کے حساب سے آزادی نہیں ملتی  تھی اور وہ اور اس کے بال بچے بدستور غلامی کی زنجیر وں میں جکڑے رہتے تھے ۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : جو شخص اپنے غلام سے دو ہزار روپے ( سو اُدقیہ) پرکتابت کامعاہدہ کرے اور غلام دو سو روپے (دس اُدقیہ) دینے سے قاصر رہے تو وہ بدستور غلام رہے گا ۔ أیمارجل کاتب غلامہ علی مئۃ أ دقیۃ فعجز عن عشر أواقِ فھورقیق ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ ، ام المومنین  عائشہ رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ : مکاتب غلام بنارہے گا اگر آٹھ آنے ( ایک درہم) بھی اس کے ذمہ باقی رہیں ۔  المکاتب عبد ما بقیِ علیہ درھم ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ : مکاتب غلام رہے گا خواہ وہ جیتا رہے خواہ مرجائے خواہ پاگل ہوجائے اگر اس کے ذمہ کچھ بھی باقی ہے ۔ المکاتب عبد إن عاش وإن مات و إن جُن ما بقی علیہ شئی ۔ مُجاہد ( بن جَبرْ) : امہات مومنین ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں)  مکاتب سے پردہ نہیں  کرتی تھیں اگر اس پر ایک مثقال یا ایک دینار زرِکتابت  باقی رہ جاتاتھا۔ کانت أمھا المومنین لا یحتجبن عن المکاتب مابقی علیہ مثقال أو دینار ۔

قتادہ ( بن دِعامہ ) عمر فاروق کی سند پر: اگر مکاتب  مرجائے اور مال و متاع چھوڑے تو اس کا مالک آقا اس کے وارث  ہوں گے  اور مکاتب  کے وارثوں کو کچھ نہیں ملے گا ۔ إذا مات المکاتب و ترک ما لا نھو لو لیہ وللیس لوَرَثتہ شئی ۔علی حیدر رضی اللہ عنہ : اگر مکاتب پر دو قسطیں چڑھ جائیں اور وہ ان کی ادائیگی  سے قاصر رہے تو ( معاہدہ منسوخ) اور جوں کا توں غلام بنارہے گا ۔  إذا تتابع علی المکاتب منجمان  فلم یُؤ د بنجومہ فُو دّہ فی الرقّ ۔  عطا ء بن ابی رباح: عبداللہ بن عمر نے ایک غلام کومکاتب بنایا تو اس نے ساڑھے چار ہزار روپے ( نو سو دینار) ادا کردیئے ۔اور اس کے ذمہ پانچ سو روپے ( سو دینار) رہ گئے جو وہ ادا نہ کرسکا تو ابن عمر نے ( اس کا معاہدہ منسوخ کر کے ) اسے حسب سابق غلام بنائے رکھا ۔ إن ابن عمر کا تب عبداً فأدی تسعمئۃ وبقی مئۃ دینار فعجز فردہ فی الرق ۔ نافع ( ابو عبداللہ مدنی)،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک مکاتب تھا جس کا کنیز کےبطن سے ایک لڑکا تھا، اس نےکتابت کے ساڑھے سات ہزار وپے ( پندرہ ہزار درہم) ادا کردیئے تھے ۔ اس کے بعد وہ مر گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نےاس کا سارا مال و متاع لے لیا، اس کے بچہ کو کچھ نہیں دیا بلکہ اسےغلام بنالیا اور اس کے روپے پیسے پر خود قابض ہوگئے ۔

جاہلی عہدے کے یہ غیر مکتوب ضابطے قاعدے اسلام کے بعد بھی بر قرار رہے ۔ ان کی خلاف ورزی شاذ و نادر ہی کی جاتی تھی ۔ عام طور پرمالک زر مخلصی کی رقم یکمشت لینے سے گریز کرتے تھے اور سالانہ یا چھ ماہی  قسطوں میں لینے  پر اصرار کرتے تھے تاکہ مکاتب فراہمی زر کی تگ و دو اور مشقت  کے دوران کل زر مکاتبت ادا کرنے سے پہلے مر جائے جیسا کہ ہوتا رہتا تھا اور قسطوں کے ساتھ اس کی میراث پر بھی آقا قابض ہوجائے ۔ امام  شافعی : انس بن مالک رضی اللہ عنہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ خادم) کا ایک مکاتب عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا کہ میں نے زر کتابت انس بن مالک  کو یکمشت پیش کیا تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا ۔

 عمر فاروق رضی اللہ عنہ  نے کہا : بات یہ ہے کہ انس تمہارے وارث بننا چاہتے ہیں ۔ رُوِی عن عمر بن الخطاب أن مکاتبا لأ نس جاء ہ و قال: إنی أتیت بُمکا تَبتی إلی أنس فأبی أن یَقبَلھا فقال عمر : إن أنَساً یر ید المیراث ۔ نقد قسطوں کے ساتھ کبھی مالک دوسری چیزیں مثلاً غلام، کنیز، بکری، اونٹ یا خدمت بھی اپنے مکاتب پر لازم کر دیتے تھے ۔ کبھی کتابت سے نقد روپیہ بالکل  خارج ہوتا اور معاہدہ میں کسی قسم کا سامان ، مال، متاع یا محض غلام داخل ہوتے ۔نافع( ابو عبداللہ مدنی) : ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہ بنت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک غلام کو متعدد غلاموں کے بالمقابل مکاتب بنا یا جن میں سے تین میرے ہمعصر تھے۔

کتابت کے خط و خال اور اس کی اقتصادی منافع کو زیادہ  واضح کرنے کے لئے ہم یہاں اس کی چند مثالیں  عربی اخبار و آثار سے پیش کرتے ہیں :

(1) ابو سعید : مجھے بنو لیث ایک عورت نے ذوالمجاز کے بازار سے ساڑھے تین سو روپے ( سات سو درہم) میں خریدا ۔ مدینہ آکر اس نے تیس ہزار روپے ( چالیس ہزار درہم) میں مجھے مکاتب بنالیا ۔ اس رقم کابیشتر حصہ میں نےادا کردیا ۔ ما بقی لے کر عورت کے پاس گیا تو اس نے لینے سے انکار کردیا اور بولی : میں نہیں لیتی  ،کتابت  کی رقم تمہیں ماہ بماہ  اور سال بسال ادا کرنی ہوگی ۔ میں نے جاکر عمر فاروق رضی اللہ عنہ سےشکایت  کی تو انہوں نے کہا زر کتابت خزانہ میں جمع کردو۔ پھر اس عورت کو بلا کر کہا : ابو سعید آزاد ہوچکا ۔ تمہارا روپیہ خزانہ میں ہے، لے لو خواہ  ماہانہ قسطوں میں خواہ سالانہ قسطوں میں ۔ عورت سب روپیہ یکمشت لے گئی ۔

(2) فقیہ بصرہ انس رضی اللہ عنہ کے والد سیرین :  ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ خادم) انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دس ہزار روپے ( بیس ہزار درہم) پر کتابت کی ۔ میں اس فوج  میں ( بطور غلام تھا جو ( حوزستان کے قلعہ بند شہر) تُشَر کامحاصرہ  کئے ہوئے تھی ۔ میں نے کپڑا خریدا اور اسے نفع سےبیچ کر انس مالک کو زر کتابت  پیش  کیا تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا او ربولے : میں یکمشت  نہیں لوں گا، مجھے قسطوں میں چاہئے ۔ ( مدینہ جا کر) میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے شکایت کی ۔ انہوں نے کہا : اچھا تم وہ ہو ۔ عمر پہلے  کپڑا بیچتے دیکھ چکے تھے اور تجارت میں میرے لئے برکت کی دعا کی تھی ۔  میں نے کہا :جی ہاں میں وہی ہوں ۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ : انس  تمہارے وارث بننا چاہتے ہیں ( اس لئے قسطوں کی شرط لگائی ہے کہ تم ان کی ادائیگی  کے دوران مرجاؤ اور وہ تمہاری میراث پر قبضہ کرلیں )  عمر فاروق نے انس کو ( جو بصرہ میں بس گئے تھے ) خط لکھا کہ زر کتابت یکمشت لے لو، مجبوراً ان کو لینا پڑی ۔  کاتبی أنس بن مالک علیٰ عشرین ألفا ، فکنت فی من فتح تستر فاشتر یت بزۃ فوبِحت فیھا فأتیت أنس بن مالک بکتا بتہ فأ بی أن یقبلھا منی الا نجوماً فأ تیت عمر فذ کرت لہ فقال أنت ھو و قد کان رآنی و معی أثواب فد عالی بالبر کۃ، قلت نعم ، فقال : أراد أنس المیراث ثم کتب إلی أنس أن اقبَلْھا من الرجل فقبلھا ۔

(3) مُجَّر مین ہے : سیرین نے انس بن مالک سے کتابت کی درخواست  کی تو انہو ں نے مکاتب بنانے سے انکار کردیا ۔ سیرین نے پوچھا : آپ کیوں انکار کررہے ہیں ۔ انس بولے : میں چاہتا ہوں کہ جب تم مرو تو تمہاری میراث مجھے ملے ۔ سیرین نے ( مدینہ جاکر) عمر فاروق رضی اللہ عنہ سےاس بات کی شکایت  کی تو انہوں نے انس بن مالک کو  حکم دیا کہ سیرین کو مکاتب  بنالیں ، ( اس حکم کے ماتحت) انس نے بیس ہزار روپے ( چالیس ہزار درہم ) میں سیرین کو مکاتب بنا لیا ۔ أراد سیرین المکاتبۃ فأبی أنس : فقال : لما لیمنعک؟ قال : أردت أن تموت فأ رثکِ ، فأ سیرین عمر فقال  : إنی أروت أنسا علی المکاتبۃ فأ بی ، فأ مرہ عمر فکاتبہ علی أربعین ألفا ۔

(4) عثمان غنی کا ایک غلام : عثمان غنی  نے مجھے ایک تجارتی مہم پر بھیجا اور جب میں واپس آیا تو انہوں نے میری کار گذاری  کو سراہا ۔ ایک دن میں ان کے سامنے آکر کھڑا ہوا او ربولا : امیر المومنین مجھے مکاتب بنا لیجئے ۔ یہ سن کر ان کے تیور بدل گئے ، اس کے باوجود انہوں نے کہا : اچھی بات ہے، اگر قرآن  میں مکاتب بنانے کی سفارش نہ کی گئی ہوتی   تو تمہاری  درخواست قبول نہ کرتا ۔ میں پچاس ہزار روپے ( ألف مئۃ درھم)  زر کتابت  لوں گا جو دو قسطوں میں تمہیں ادا کرنی ہوگی ۔ اور اس میں سے ایک درہم ( آٹھ آنے ) کم نہیں کروں گا ۔ بعثنی عثمان رضی اللہ عنہ فی تجادۃ فقد مت علیہ فأ حمدَ وِلایتی، فقمت بین ید یہ ذات یوم فقلت: یا أمیر المؤمنین أسألک الکتابۃ فقطِب ثم قال نعم: ولولا آیۃ فی کتاب اللہ مافعلت أکاتبک علی مئۃ ألف علی أن تَعُدّ ھالی فی عد تین واللہ لا أ غضک منھا درھما۔

(5) مُجرَّ مین ہے : ( صحابی او رممتاز فوجی جنرل) خالد بن عُر فُطہ نے اپنے غلام ابو سعید سے زر مخلصی کا جو معاہدہ کیا اس میں یہ اشیاء داخل تھیں : پچیس ہزار روپئے ( پچاس ہزار درہم) دو خدمت  گار لونڈیاں اور دو نو عمر کنیزیں  جنہیں ام ولد بنانا چاہتے تھے ۔ کاتب خالد بن عُرفُطۃ أبا سعید علی خمسین ألفا و جاریتین وو صیفتین تُتخذ ان اُمیَّ وَ لدٍ۔

URL for part 25:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-25)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-25/d/56077

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(concluding-part)(خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-(آخری-حصہ/d/56100

 

Loading..

Loading..