New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 11:22 PM

Books and Documents ( 6 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ16

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

عقیدہ کا لفظی مفہوم
یہ لفظ عقد سے بنتا ہے جس کے معنی گرہ کے ہوتے ہیں۔ جیسے ہم کہتے ہیں عقدِ نکاح کی مجلس میں شرکت کیجیے۔ نکَح کے معنی ہیں حق زوجیت حاصل کرنا۔ دو حصّوں کو جوڑنے سے گرہ بنتی ہے۔ عورت اور مرد کا ایک معاشرتی معاہدہ میں بندھنا قبول کرلیں تو جو گرہ ان کو جوڑتی ہے وہ ’’عقد نکاح ‘‘ کہلاتی ہے۔
اسی تصور کے تحت ہم جب کسی چیز سے اپنے آپ کو باندھ لیتے ہیں تو ہم اس کے ساتھ ’عقد‘ کرلیتے ہیں یعنی اسی کے ہو رہتے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ اور ہم اس کے ساتھ رہتے ہیں۔ عقیدوں کو طلاق بھی دیا جاتا ہے جیسے اپنی زوجہ کو طلاق دیتے ہیں اور پھر کسی دوسری عورت سے تعلق پیدا کرنے کی آزادی حاصل کرلیتے ہیں۔ جس طرح اچھی عورتیں اور بری عورتیں، اچھے مرد اور بُرے مرد ہوتے ہیں اسی طرح اچھے عقائد اور بُرے عقائد بھی ہوتے ہیں۔ اچھے عقائد کی شناخت اگر مقرر کردی جائے تو بُرے عقائد کی شناخت خود بخود ہوجائے گی۔
اچھے عقائد کی بس ایک ہی شناخت ہے کہ ان کا حامل کسی طرح کسی کے لیے اذیت اور نقصان کا ذریعہ بننا پسند نہیں کرتا۔ اس طرح ایسے شخص کے نیک انسان ہونے کی شہادت دوسرے لوگ دیں گے۔ جب ایسا ہوگا تو اس نیک آدمی کے عقائد میں خرابیوں کا امکان نہیں سمجھاجاتا۔ وہ جو سبھی کی خیر کا طالب ہے، اس کے عقیدے میں ظلم و ستم ، ریا ومکر کی گنجائش نہیں ہوتی۔
بُرے عقیدے اب وہی ہوں گے جن کے تحت ظلم و ستم، قابلِ نفرت یا مذمت نہیں ہوں گے ، جن کے دائرۂ عمل میں مکرو سازش سے کام لینا ضرورت کے وقت بالکل درست سمجھا جائے گا اپنے مفاد کی حفاظت کے لیے کسی کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو درست سمجھا جائے گا۔ ایسے عقیدوں کو دنیا میں جو اچھا کہتا ہے وہ حق پرست نہیں تسلیم کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کا شمار اصحاب خیر میں کوئی ذی عقل کرسکتا ہے۔
ہم عقیدوں کے خود خالق ہوتے ہیں۔ عقیدے عموماً حالت بے بسی اور عاجزی میں تشکیل پاتے ہیں ۔ عقیدوں کو کم علمی جنم دیتی ہے ۔ علم کی توسیع کے ساتھ ساتھ عقائد کی کثرت میں کمی آنی چاہیے اگر ایسا نہیں ہوتا تو حاصل شدہ علم بے وقار ہوتا ہے۔
یقین اور عقیدہ میں فرق کیا ہے؟
عقیدے ہمیں اپنے والدین اور سماج سے ورثہ کے طور پر ملتے ہیں اور یقین خود ہمارے مشاہدے اور مطالعہ کی دین ہوتا ہے۔ بعض کو تجربات سے پختگی ملتی ہے اور تجربات کے منفی نتائج بعض کو مٹا دیتے ہیں، اس کی جگہ علم لے لیتا ہے۔ عقائد میں ایسا نہیں ہوتا۔ بُرے عقائد کا بدل صرف اچھے عقائد ہی ہوسکتے ہیں، علم کبھی اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ عقائد ہر روز نہ بنتے ہیں اور نہ بگڑتے ہیں، لیکن یقین تو تھوڑی دیر کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے ہم سے کسی نے کہا کہ میں کل آپ سے ضرور ملوں گا۔ میں نے اس کے قول پر یقین کرلیا۔ اب اگر وہ نہیں آیا تو وہ یقین خود بخود ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا ایک ہے اور وہ بہت مہربان ہے۔ اس عقیدہ کو ہم پوری زندگی گلے لگائے رہتے ہیں، چاہے خدا کے مہربان ہونے کے اسباب ہم کو نظر آئیں یا نہ آئیں۔ ہم اسے نا مہربان نہیں کہتے۔ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا ہمارا عقیدہ ہے تو ہم اگر اس کے ناشکر گذار ہوں گے تو پھر بد عقیدہ کہلائیں گے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد ہم دوبارہ جنم لیں گے۔ یہ عقیدہ ہمارے گھر اور سماج والوں نے ہم کو دیا ہے۔ یہ ہم نے خود نہیں بنایا ہے۔ اب ہمار اعلم اور ہماری عقل اگر ہم چاہیں تو اس عقیدہ کو ترک کرنے پر ہم کو آمادہ کرسکتے ہیں۔
یقین توہم نے اپنے معاشرے ، اپنے بزرگوں اور رہنماؤں پر کیا تھا کہ جو عقیدے وہ ہم کو دے رہے ہیں وہ یقیناًاچھے ہوں گے۔ لیکن جب ہم کو عقیدے بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو وہ یقین جو ہم نے اپنے بزرگوں پر کیا تھا وہ ختم ہوگیا۔ اپنی سوجھ بوجھ نے رہنمائی کی تو ہم نے عقائد میں تبدیلی یا اصلاح کرنے کو ضروری سمجھا۔ بزرگوں کے عقائد ان کے ساتھ چلے گئے۔ وہ اپنے عقائد سنسکار کی صورت میں دے گئے تھے تاکہ ان کا نام ہم زندہ رکھ سکیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں کے نزدیک یہ بات قابل مذمت ہے کہ آدمی اپنے بزرگوں کے راستے کو ترک کرکے اپنے لیے کوئی نئی راہ ڈھونڈ لے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ناعاقبت اندیش اور احسان فراموش کہے جاتے ہیں۔ حالانکہ ترک عقائد کے لیے ہر فرقہ دوسرے فرقہ کو کسی نہ کسی طرح دعوت دینے کو اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہے۔ چونکہ میں اپنے علم کی صفائی کے لیے مختلف عقائد کے فرقہ کے بزرگوں کے پاس جاتا رہا، ان سے معلومات حاصل کرنا میرا اوّلین مقصد تھا۔ ایسے بزرگ میری ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ شاید یہ خوشی اس لیے پیدا ہوتی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہوسکتا ہے میں ان کا عقیدہ قبول کرلوں او رایسا سمجھنے میں وہ کوئی غلطی نہیں کررہے تھے۔ لیکن اپنی طرف سے انھیں ایسا سوچنے کے لیے کوئی علامت میں ظاہر نہیں کرتا تھا۔ میں ان پر یہ بات صاف طور پر ظاہر کردینا چاہتا تھا کہ میں حق کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہا ہوں۔ ہر سمت میں سفر کرنے کو تیار رہتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں جو کچھ تلاش کررہا ہوں وہ مجھے کہاں ملے گا اور اگر کوئی ایسا ملتا ہے جو کہتا ہے کہ اسے اس نے پالیا ہے جس کی اسے تلاش تھی تو میں اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں۔ میں اس سے یہ ہرگز نہیں کہتا کہ مجھے دکھادیں جو آپ کو ملا ہے یا اس میں سے کچھ مجھے بخش دیں تاکہ میری مشکل حل ہوجائے۔ ایک دو بزرگ ایسے ملے جنھوں نے بخش اور عطا کی مرضی ظاہر کی ، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ وہ ہشیار تھے سمجھ گئے۔ دوبارہ ذکر نہیں کیا، لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس دن کے بعد سے وہ مجھے اپنا دوست سمجھنے لگے اور بڑی شفقت اور عزت سے مجھ سے ہم کلام ہونے لگے۔ حاجت مندوں کے درمیان بیٹھ کر وعظ و نصیحت کرنے والے لوگوں کا شیوہ خدا پرستوں کا شیوا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ میں سمجھتا ہوں۔ کچھ لوگ ایسی صورت کے متمنی ہوتے ہیں اور ایسے جلسوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن میں شریک ہوکر تبرکات حاصل کرسکیں، تبرکات حاصل کرنے والوں کا پیٹ بھکاری جیسا ہوتا ہے، انھیں اس کی تسکین کا سامان ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ وہ جن کے دماغ بھوکے ہوتے ہیں، انھیں بتاشوں اور شکر پاروں کی جستجو نہیں ہوتی۔ وہ اس روشنی کی تلاش میں ہوتے ہیں جس کی مدد سے چیزوں کی اور ان کے رشتوں کی حقیقت کو صحیح صحیح دیکھ سکیں۔ ایسے لوگ ہزاروں لاکھوں میں کہیں ایک ہوتے ہیں۔ خود قدرت اپنے راز کم لوگوں پر کھولتی ہے۔ اس لیے کہ راز کھل جانے پر وہ اپنی کشش کھودیتا ہے۔ نہایت اعلیٰ قسم کا ادب وہی ہوتا ہے جو اپنے اندر ہر دور کے لیے کچھ پوشیدہ رکھتا ہے ۔ تقریباً نصف صدی گذر جانے پر لوگ اس کے اندر نئے معنوی زاویے ڈھونڈ لیتے ہیں۔ شاہکار ادب پارے کبھی اپنی اہمیت نہیں کھوتے۔وید ، گیتا ، قرآن کے علاوہ شیکسپیئر اور غالب کی لسانی تخلیقات میں نئے معنی دیکھے جارہے ہیں۔ ان پر کیے گئے پرانے نقد و تبصرے قصہ دیرینہ سمجھنے جانے لگے ہیں۔
آج قرآن کی ہزار سال پرانی تفسیریں اس احترام کی نظر سے نہیں دیکھی جاتیں جیسی وہ سو سال پہلے دیکھی جاتی تھیں۔ اقوال ائمہ اور محدثین پر اعتماد و احترام کی لگی مہریں اکھڑتی جارہی ہیں۔ اس کی وجہ تحقیق و تجزیہ کے لیے وہ سہولتیں اور وہ آزادی جو آج لوگوں کو حاصل ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ دودھ کو پانی سے الگ کرنے کے لیے یا سچ کو جھوٹ سے الگ کرنے کے لیے جو معتبر ٹیکنالوجی آج کے طالب علم کو میسر ہے وہ پہلے کبھی میسر نہیں تھی۔آج ثبوت حاصل کرنے اور تصدیق کرانے کے جو وسائل ہمیں میسر ہیں پہلے خواب و خیال میں نہیں آتے تھے ۔ پہلے اگر کسی کو عربی نہیں آتی تھی تو وہ عربی میں لکھی کتابوں میں بیان کیے گئے خیالات کو بغیر عربی زبان جانے ان سے واقف نہیں ہوسکتا تھا مگر اب ہر زبان میں موجود تمام نادر کتابوں کا ترجمہ ایک بہت بڑا کاروبار ہے۔ رات دن ترجمہ کے کام میں ہر ملک میں ہزاروں لوگ مصروف ہیں۔انٹرنیٹ پر کتابیں ڈالی جارہی ہیں، اب بلا انھیں خریدے پڑھا جاسکتا ہے۔ اپنے خیالات کا اظہار ویب سائٹ پر ڈال کر دوسروں سے رابطہ قائم کرنے کی اور تبادلۂ خیالات کی بہت معمولی خرچ پر سہولتیں حاصل ہورہی ہیں۔ اب مذاہب کا مطالعہ غیر معمولی دشواریوں کا شکار نہیں ہے۔ اب تو اک ذرا انگلی گھمائی دیکھ لی والی صورت موجود ہے۔ اب تصویریں دل کے آئینہ سے کمپیوٹر کے آئینہ پر آچکی ہیں جسے جب دیکھنا یا سننا چاہیں دیکھ سن سکتے ہیں۔ وہ تمام تر راز ہائے دیرنہ اب اظہر من الشمس ہوتے جارہے ہیں۔ ان حالات میں اب جوئندہ حق کے لیے بے حد آسانیاں فراہم ہیں۔ بس شوق جستجو کی گرمی چاہیے۔ اگر یہ گرمی آپ کے دل و دماغ پر چھا جائے تو پھر کیا پوچھناہے۔ آپ اپنے قلب و دماغ کو جی بھر کر روشن کرسکتے ہیں اور اگر چاہیں اس روشنی سے دوسروں کو بھی نفع پہنچا سکتے ہیں ، بشرطیکہ دوسرے لوگ اندھیروں سے باہر آنے کے خواہش مند ہوں۔ 
**
عقائد کی گیند
آسٹریلیا کے شہر برسبین میں کے گولف کے میدان کے پاس ایک اجگر سانپ دیکھا گیا جس کے پیٹ میں کئی جگہ کوئی گول چیز ابھری نظر آرہی تھی مصیبت میں مبتلا نظر آرہا تھا۔ لوگوں نے محکمۂ جنگلات کے لوگوں کو مطلع کیا وہ اسے جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ایکسرے سے پتا چلا کہ اس نے گولف میں کھیلے جانے والے پلاسٹک ربر کے گیند کھالیے ہیں۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ یقیناًاجگر نے گیند کو انڈا سجھ کر کھایا ہے۔ چونکہ سانپ اپنی خوراک کو سیدھے حلق سے پیٹ میں اتار لیتا ہے اس لیے اس کو محسوس نہیں ہوا کہ وہ انڈا نہیں ہے۔ ڈاکٹروں نے اس کے پیٹ سے آپریشن کے ذریعہ چاروں انڈوں کو چاروں جگہوں سے نکال کر اس کی جان بچائی۔ کہتے ہیں کہ اجگر سانپ کی بینائی کمزور ہوتی ہے۔ اس لیے وہ چیزوں کو اچھی طرح دیکھ نہیں پاتا۔
ہم بھی کسی اجگر سے کم نہیں ہیں ۔ ہماری بھی عقل اور نظر حقیقتوں کو سمجھنے میں ایسے ہی دھوکا کھاتی ہے۔ کبھی کبھی تو آدمی پوری زندگی دھوکے میں گذار دیتا ہے۔ ہمارے دماغ میں دوسرے لوگ مہمل اور بے بنیاد عقائد کے بہت سارے گیند بھر دیتے ہیں اور ہمارا دماغ انھیں سے کھیلتا رہتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری روحانی خواک ہیں مگر جب عقل کے عمل جراحی سے آپ ان کی اصلیت معلوم کرنے کوشش شروع کریں تو وہ سارے عقائد اجگر کے پیٹ والے بے جان ربر کے گیند ثابت ہوتے ہیں۔
فرعون کے قصّہ میں دریائے نیل میں ڈوبتے ہوئے اس کو پتا چلا تھا کہ اس کے تمام عقائد بے جان ربر کی گیند تھے تبھی اس نے موسیٰؑ کے خدا کو مدد کے لیے پکارا تھا۔ اس نے پوری زندگی اس گمان میں گذاری تھی کہ وہ لوگوں کی زندگی اور موت پر اختیار رکھتا ہے۔ وہ جس کو چاہتا معاف کردیتا اور جس کو چاہتا سزا دیتا۔ خود کو مختار کل سمجھنے کا عقیدہ اس کے دماغ میں جگہ کر گیا تھا دم آخیر اسے پتا چلا کہ اس نے پوری زندگی گیند کو انڈا سمجھ کر کھایا تھا۔
کتابیات
جن اہم کتابوں نے میرے روایاتی خیالات کی اصلاح کی ہے، ان کے نام لکھنا مناسب سمجھ میں آتا ہے اس لیے یہاں درج کر رہا ہوں:
۱۔ تاریخ الخلفاء، جلال الدین سیوطی
۲۔ تفسیر جلالین۔ یہ تفسیر جلال الدین محلّی مصری نے شروع کی تھی، جسے علامہ جلال الدین سیوطی نے پورا کیا۔ اس کی تکمیل میں دو جلال الدین شامل ہیں اس لیے اس کا نام تفسیر جلالین رکھ دیا گیا۔
۳۔ تفہیم القرآن علامہ مودودی
۴۔ تفسیر القرآن علامہ سر سید احمد خاں
۵۔ ادراک زوال امت ڈاکٹر راشد شاذ
۶۔ تاریخ اسلام پروفیسر خورشید احمد فارق
۷۔ فی ظلال القرآن تفسیر سید قطب شہید، ترجمہ سید حامد علی
۸۔ افکار غزالی علامہ محمد حنیف ندوی
۹۔ افکار رومی مولوی عبد السلام 
۱۰۔ تاریخ فلسفہ سیاسیات پروفیسر محمد مجیب
۱۱۔ تاریخ التفسیر عبد الصمد صارم
۱۲۔ المرشد الامین گیونسٹن گیورگیو کی کتاب ’محمد‘ کا ترجمہ
۱۳۔ سیرۃ حلبیہ جلد اول علامہ ابو عبد اللہ حاکم نیشا پوری، ترجمہ جعفر شاہ پھلواروی
۱۴۔ حجۃ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL for Part-10: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-11/d/9728

 

URL for Part-12:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ12/d/9771

 

URL for Part-13: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-13/d/9820

 

URL for Part-14:  http://newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-14/d/9833

 

URL for Part-15:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ15/d/9888

 

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ16/d/9901

 

Loading..

Loading..