New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:52 PM

Books and Documents ( 21 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ12

روحانی حسن و جمال
(فلاطینوس سے مستعار)
ہم جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ منظر کہلاتا ہے۔ وہ جو اس کے لیے داخلی حقیقت کا ظاہری وجود ہے۔ یعنی عکس در آئینہ ہے۔ باطن میں ہونے والی ہر تبدیلی کا ظہور منظر کہلاتا ہے۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں عالم شہود بھی کہتے ہیں۔
فلاطینوس اس منظر کو باطن میں دیکھنے کا درس دیتے ہیں۔ ہم آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو ہم کو کچھ نظر نہیں آتا۔ لیکن جو کچھ دیکھا وہ ہم کو یاد تو رہتا ہے۔ ہم آنکھیں بند کر کے بتا سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے کیا دیکھا ہے یا کیا دیکھا تھا۔ اگر دیکھے ہوئے کہ تصویر ذہن کے اوراق پہ ثبت نہیں ہے تو ہم کچھ بھی بتا نہیں سکتے اور پوچھے جانے پر کہتے ہیں کہ ہم کو کچھ یاد نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ہماری چشم باطن نابینا ہے۔ کور دیدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یاد الٰہی وہ دوا ہے جو اس اندھے پن کو دور کرسکتی ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک خدا کو چاہے ہم اس کو کوئی نام دیں اسے اپنے اندر موجود محسوس کرنا لازمی ہے اور اس یقین کو زندہ کرنا ہے کہ وہ جو میرے وجود کا سبب ہے وہ میری ہر سانس میں مجھے اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ میرا اس سے الگ ہونا بے شعور اور بے حس ہونے کے برابر ہے۔ پھر مجھ میں اور پتھر میں فرق نہیں رہ جائے گا۔ 
فلاطینوس کے عقیدے کے مطابق خالق نے خود ہی طے کر رکھا ہے کہ وہ اپنی کس مخلوق سے قریب ہوگا اور کس سے دور۔ اسی نظریہ کی بنا پر ہم چیزوں کو اچھے اور برے خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہر وہ شئے جو ہم کو خوب صورت نظر آتی ہے وہ ہمیں اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہے۔ ہم کبھی اتنی شدت سے اس کی طرف جھک جاتے ہیں کہ پورے عالم سے بے خبر ہوکر صرف اس ایک خوب صورت شئے کے غلام ہوجاتے ہیں۔ اپنے آپ کو مکمل طور پر اس کے سپرد کردیتے ہیں اسے یہ اختیار دے دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہے میرے ساتھ برتاؤ کرے۔ شرط صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ بس مجھے اپنی قربت سے محروم نہ کرے۔
اچھی چیزیں ہی دنیا میں قیمتی سمجھی جاتی ہیں اور انھیں کی چوری ہوتی ہے۔ کچھ چیزیں اپنی باطنی قیمت رکھتی ہیں اور کچھ اپنی ظاہری قدروں کی وجہ سے منظور نظر ہوتی ہیں۔ ہیرے جواہرات اپنی باطنی خوبی کی وجہ سے عزیز ہوتے ہیں۔ گل و بوٹے ظاہری حسن کی وجہ سے محبوب ہوتے ہیں۔ یہی صورت جانوروں اور انسانوں میں بھی دیکھی جاتی ہے ایک خوب صورت عورت کی قربت کے لیے آدمی اپنے تخت و تاج ملک و دولت کو ٹھوکر مار دیتا ہے۔ اس عورت کی کسی اور خوبی کا اس کو قطعی علم نہیں ہوتا۔ مگر اسے دیکھ کر اس کی روح کو جو راحت نصیب ہوتی ہے اس کا بدل دنیا میں اس کے لیے کہیں اور نظر نہیں آتا۔
ہر خراب، بدنما، بدشکل، بدرو اور بدبو والی چیز سے انسانی روح کو اذیت محسوس ہوتی ہے۔ اس کا وجود اسے صدمہ پہنچاتا رہتا ہے۔ اس لیے وہ یا تو خود اس سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے یا اسے ہی دور کردینا چاہتا ہے۔ اگر ان دو صورتوں میں سے کوئی اس کے اختیار سے باہر ہے تو ذہنی انتشار کا شکار ہوکر بیمار ہو جاتا ہے۔ عموماً ایسے لوگ تعمیری کام کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ ہسپتالوں میں جہاں مریض رکھے جاتے ہیں وہاں کے ماحول کو سبھی کے لیے نہایت خوشگوار بنائے رکھنے کی کوشش جاری رہتی ہے۔ اس سے مریضوں کے جلد صحت یاب ہونے کے امکانات کو تقویت پہنچتی ہے۔
آنکھوں کے لیے اچھے رنگ و روپ، کانوں کے لیے دلکش آوازیں، سانسوں کے لیے اچھی مہک، بدن کے لیے نرم بستر اور صحت کے لیے اچھی صورتوں والے آدمی اور جانور جس ماحول میں موجود ہوں اسی کو جنت اور فردوس کہا جائے گا۔ ایسی تمام خوبیوں کے ساتھ جسے زندگی نصیب ہو اسی کو بادشاہ کہتے ہیں۔ ایسا ماحول مادوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور یہ وہ مادہ ہے جو صرف اپنے خالق کے تصور سے مزین ہوتا ہے۔ اگر مادی شکل و صورت کا حسین تصور پہلے سے موجود نہیں ہے تو اس کا خارجی وجود میں آنا ناممکن ہوتا ہے۔
*
افلاطون نے اسی تصور کو اپنی یونانی زبان میں آئیڈیا کہا ہے۔ اور وہ صرف اسی کو خارجی دنیا کا خالق تسلیم کرتا ہے۔ فلاطینوس بھی اسی کا ہمنوا ہے۔
جس طرح ہر شخص کی روح ایک مختلف قدر کی حامل ہوتی ہے اسی طرح اس کے تصور کی خوبی کے درجات ہوتے ہیں۔ ایک ہادی ایک رہنما کا تصور حسن و جمال اس کی پوری قوم کے اجتماعی تصور سے کہیں افضل و اعلیٰ ہوتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو اس کو مقام ہدایت و رہنمائی نصیب نہیں ہوسکتا ہے۔
مادی حُسن کی آخری منزل کسی نے نہیں دیکھی ہے اور نہ انسانی آنکھیں اسے دیکھ سکتی ہیں۔ ان آنکھوں میں اتنی قوت ہی نہیں ہوتی جو کسی شئے کی انتہا کو دیکھ سکیں یہ اس موقعے پر اندھی ہوجاتی ہیں۔ ہم سورج کو ایک نظر دیکھتے ہی اندھے ہوجاتے ہیں روشنی حسن کا ایک پہلو ہے، حسنِ کل نہیں ہے۔
اسی طرح آواز کی شدت سے انسانی کان بہرے ہوجاتے ہیں۔ اس بنیاد پر احساس کے ذرائع کی محدود قوت کا بہ آسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے اور آج سائنس نے ان کی قدروں کو اعداد کے پیمانے میں محدود کر کے ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ ہم کو پتا ہے کہ ہماری آنکھیں کس حد تک روشنی اور ہمارے کان کتنی شدت کی آواز کو برداشت کرسکتے ہیں اور کب یہ ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے تورات کے اور قرآن کے مطابق، خدا سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کی آنکھوں کے سامنے آئے۔ تو جواب ملا تھا کہ اپنے سامنے پہاڑ پر ہونے والی روشنی یا تجلی کو دیکھو۔ یہ روشنی چمکی اور حضرت موسیٰ بے ہوش ہوگئے۔ حضرت موسیٰ آدمی تھے ان کی بصارت اور سماعت ایک آدمی جیسی ہی ہوسکتی تھی۔ مگر خدا کو دیکھنے کا یہ حوصلہ کرنا بھی بڑی جرأت کی بات ہے۔
ہمارے ایک عزیز نے تقریباً ۴۵ سال کی عمر میں اپنے احباب کے سامنے یہ دعویٰ کیا کہ وہ سیمنٹ کی پچاس کلو کی بوری دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے اوپر اٹھا سکتے ہیں۔ لوگوں نے کہا کر کے دکھاؤ۔ انھوں نے بوری اٹھا تو لی مگر زمین پر اسے اسی طرح واپس رکھنے میں ناکام رہے انھوں نے بوری کو گھٹنے پر ٹیک دیا۔ اس کا نتیجہ برا ہوا۔ گھٹنے کی چکی کھسک گئی۔ اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد وہ بیمار رہنے لگے اور پھر ایک دن زندگی نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اپنے بارے میں ان کا اندازہ گمراہ کن ثابت ہوا۔ ہم کو تو بس اتنی نصیحت کی جاتی ہے خدا کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کے حاجت مند رہو اور اسی کے لیے اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے رہو۔ پتھر جب تک پانی نہ ہوجائے دریا کی روانی میں شریک نہیں ہوسکتا ہم کو خدا کو دیکھنے کے لیے خدا ہونا ہوگا۔ اسی عقیدہ نے اہل تصوف اور اہل حق کو فنا فی اللہ کا نعرہ بلند کرنے کا حوصلہ دیا۔ کچھ کم حوصلہ لوگوں نے اس نعرہ کو بے معنی اور گمراہ کن بتایا۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جو ان کے عقیدہ کا ہمنوا نہیں ہے وہ گمراہ ہے۔ میرے نزدیک ایسا عقیدہ مہمل ہے۔ حق پر کسی قوم یا ملت کی اجارہ داری نہیں ہے حق تو زمین و آسمان کی طرح سب کو اپنے احاطہ اختیار میں لیے ہوئے ہے۔ ہم سب ایک گھر میں رہتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے ہیں پھر بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے الگ ہیں۔
وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کے عقیدہ کو تسلیم کیے بغیر عقل مطمئن نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ حقیقت یہی ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ ہمہ وقت ہم کو ہوتا رہتا ہے۔
افلاطون نے عالم خلق کو خیرِ کُل کہا اس لیے کہ اس کی تعقلی فکر نے اس کو بتایا کہ کائنات میں ہر شئے اپنے وجود کے لیے ایک مقصد رکھتی ہے اس لیے علمی اعتبار سے سب کو برابری حاصل ہے۔ شرکا وجود اضافی ہے کسی شئے کی نسبت ہمارے لیے اگر تکلیف دہ ہے تو وہ شر ہے۔ یہ ہم اور ہماری ضرورت طے کرتی ہے کہ برا کیا ہے اور اچھا کیا ہے۔
در حقیقت یعنی اپنے وجود اصلی میں کچھ بھی برا نہیں ہے۔ اس لیے کہ اسے خیر کل نے تخلیق کیا ہے۔ ہم خود بھی یہ تسلیم کرتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اچھے لوگ کبھی کوئی برا کام نہیں کرتے۔ برے لوگ تو جب چاہیں اچھا کام کرسکتے ہیں۔ اچھے لوگ برسر عام اچھے کام کرتے ہیں اور دوسرں کو اچھے کام کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ لیکن برے لوگ عموماً برے کام چھپ چھپا کر کرتے ہیں۔ صرف جنگ و قتال ہی وہ برا کام ہے جسے برسر عام کیا جاتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے کوئی اچھا کام نہیں کہا جاتا۔
جنگ و جدال اور کشت و خون کا بازار گرم رکھنے والے ہمیشہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایسا صرف برائیوں اور خرابیوں کو انسانی سماج سے دور کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ لہٰذا اسے برا نہیں کہنا چاہیے۔ کچھ لوگ ایسے خون خرابہ کو مذہبی فریضہ قرار دیتے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے اور ظلم ہے۔ کسی گندگی کو گندگی سے دور کرنے کا اصول قرار دینا عقل و حکمت کی توہین ہے۔ مگر اس دنیا میں ہمیشہ کچھ لوگ اسی نظریہ پر عمل کرتے نظر آتے ہیں مگر وہ گندگی میں اضافہ ہی کرتے رہتے ہیں انھیں اپنی حکمت سے پیدا کردہ گندگی نظر نہیں آتی۔
فلاطینوس نے اپنی تصنیف انید میں افلاطون کے نظریہ خیرِ کل اور وحدتُ الوجود کی بھرپور وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے مادہ اور روح کے باہمی امتزاج کو کائنات کی زینت کے لیے لازمی محسوس کیا اور اس کی تائید کی۔ وہ مادّہ کو روح کی طرح ہی دائمی تسلیم کرنے کے حق میں ہے۔ اس لیے کہ مشاہدہ اور تجربہ اسی کی تصدیق کرتے ہیں۔
فلاطینوس کے مطابق کوئی شئے جس کی درجہ بندی یا تقسیم کی جائے گی یا کی جاسکتی ہے وہ ’مادہ‘ ہوگی۔ اگر روح کی درجہ بندی کی جائے گی تو اسے مادہ تصور کرنا ہوگا۔ سمندر کے پانی کی تقسیم سطحی اعتبار سے لایعنی ہوگی لیکن جب نمکین اور شیریں میں تقسیم کردیں گے تو صفت کے اعتبار سے اس کی تقسیم بامعنی ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر صفت غائب ہوجائے یا کردی جائے تو پھر تقسیم ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح وقت کی تقسیم کا بھی تصور پیدا کیا گیا ہے۔ حال، ماضی اور مستقبل یہ دراصل وقت کی مفروضہ صفات کے نام ہیں۔ ماضی اور مستقبل وقت کی ’حال‘ کے لفظ سے دوریوں کے تصور کے نام ہیں۔ دوری کا تصور زمان میں مکان کی وجہ سے متصور ہے۔ چوں کہ ہماری آنکھیں زمین پر یعنی ارضی مکان پر فاصلہ دیکھتی ہیں اور اسے ہم اپنی مکانی نسبت سے دور اور نزدیک کی اصطلاح سے مفہوم دیتے ہیں اسی لیے ذہنی طور پر وقت یعنی زمان میں بھی ہم نے دوری اور نزدیکی جیسی اصطلاح پیدا کرلی ہے۔ لیکن مادی طور پر اس کا کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔ ہمیں کل اور آج میں بظاہر کوئی فرق نہیں محسوس ہوتا۔ ایک شخص جو جیل کی کوٹھری میں دس سال قید رہتا ہے اس کو وقت کا نہ کوئی علم ہوتا ہے اور نہ احساس جو جیل کے باہر کے لوگوں کو ہوتا ہے۔ اس کی وجہ وہ تاریکی ہے اور ٹھہرا ہوا ماحول ہے جس میں اس نے اپنے دس سال گزارے ہیں لیکن اس کے آج اور آنے والے کل میں دس سال کا عرصہ گزرا جب کہ ہمارے ساتھ دوسرے حساب سے بارہ گھنٹے بعد دن رات میں بدل جاتا ہے۔ لیکن ایک تاریک کمرے میں ایسا احساس نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وقت کی تقسیم ناممکن ہے۔ کل ایک آدمی کے لیے سوکر اٹھنے کے بعد آجاتا ہے اور دوسرے بند تاریک کمرہ والے کے لیے دس سال بعد آتا ہے۔ اس لیے وقت کی اضافیت کو آدمی جو صاحب فکر و دانش ہے ہمیشہ سے ہی محسوس کرتا رہا ہے مگر ہزاروں سال تک وہ اس احساس کو لفظوں میں بیان کرنے کے قابل نہیں تھا۔ آج ہم کہتے ہیں کہ البرٹ آئن سٹائن نے وقت کی اضافیت کا تصور پیش کیا حالاں کہ یہ تصور انسانی دماغ میں ہمیشہ سے جاگزیں ہے۔ فلاطینوس نے ۱۸ سو سال قبل نہایت منطقانہ طور پر اس کی دلیلیں دی ہیں۔
اس نے ایک نہایت پرمغز بات یہ بتائی ہے کہ آج اگر ’کل‘ میں شریک نہیں ہے تو وہ ’کل‘ جس کی بات ’آج‘ کرتا ہے لایعنی ہے اسی طرح اس کا کہنا ہے کہ ایک گز کا فاصلہ اس لیے بامعنی ہے کہ اس سے زائد فاصلہ موجود ہے۔ یعنی ایک گز کا فاصلہ اپنے سے زائد فاصلہ میں شرکت رکھتا ہے۔ اگر فاصلہ صرف ایک گز ہی ہو تو اسے پھر فاصلہ نہیں کہہ سکتے۔ وہ تو مکانِ کُل ہوگا۔ پھر جو بھی فاصلہ ہوگا وہ ایک گز سے کم ہوگا۔ اس طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ’کُل‘ میں شرکت صرف ’جزو‘ کی ہوسکتی ہے۔ لامحدود مکاں و زماں میں اپنی سمجھ اور ضرورت کے مطابق حدود متصور ہیں۔ مادی اعتبار سے ان کا وجود ایک مفروضہ ہے ۔ حقیقت نہیں ہے۔ آئن سٹائن نے اپنے خیال اضافیت کے لیے ایک ہی رفتار پر چلنے والی دو ٹرینوں یا ہوائی جہازوں میں بیٹھے مسافروں کے احساس کی مثال سے دی ہے۔ دونوں سواریوں میں بیٹھے مسافر ایک دوسرے سے اس طرح باتیں کر سکتے ہیں جیسے وہ ایک مقام پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آسمان میں دو جہاز اگر ایک ہی سمت میں ایک رفتار سے اڑ رہے ہوں تو دونوں جہازوں کے مسافروں کو رفتار کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ انھیں صرف مشینیں بتا سکتی ہیں کہ وہ اڑ رہے ہیں اور فاصلہ طے کر رہے ہیں۔ لیکن وقت بتانے والی یہ مشینیں نہ ہو تو آسمان میں رفتار کا اور فاصلہ کا خود ہم کو کوئی احساس نہیں ہوتا۔ صرف تغیر اور تبدیلی جو ہمارے اندر اور باہر ہوتی ہے اسی سے ہم کو یہ علم ہوتا ہے کہ زمان اور مکان کا کوئی شعوری وجود ہے۔
میرا اپنا قیاس ہے کہ ایک پاگل آدمی ماضی اور مستقبل دونوں کے شعور سے بے نیاز ہوتا ہے۔ وہ صرف آج، میں زندہ رہتا ہے اس کی صورت تصویر میں بیٹھے ہوئے پارک یا کسی کرسی پر بیٹھے ہوئے آدمی کی طرح ہوچکی ہوتی ہے تصویر میں بیٹھے ہوئے یا موجود آدمی پر وقت نہیں گزرتا اس کے اپنے ماحول میں تبدیلی ناممکن ہوچکی ہوتی ہے۔ وہاں زمان اور مکان، میں سے لفظ ’اور‘ غائب ہوچکا ہوتا ہے۔ فرانسیسی فلسفی برگ ساں نے کہتے ہیں چالیس سال کے غور و خوض کے بعد زمان اور مکان کے فقرہ کو ایک لفظ میں تبدیل کیا تھا اس کے نزدیک در حقیقت یہ دونوں ایک ہیں لہٰذا ان کے درمیان ’اور‘ کا اضافہ غیر معقول ہے۔ لسانیات کے اصول کے مطابق لفظ ’اور‘ کا استعمال دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہوتا ہے۔ برگساں نے زمان مکان کہہ کر اس اختلاف کو ختم کر دیا۔ ہم خود بھی بلا شعور اس طرح کے الفاظ کی ترکیبیں استعمال کرتے ہیں جیسے ہوا اور پانی، گرمی اور ٹھنڈک، دوری اور نزدیکی، روشنی اور اندھیرا، علم اور جہالت وغیرہ۔ اگر ہم ان دو لفظوں کے درمیان سے لفظ ’اور‘ نکال دیں اور کہیں کہ علم جہالت روشنی اندھیرا تو ان دونوں لفظوں کے معنی ایک ہوجائیں گے۔ روشنی کا مطلب اندھیرا اور اندھیرے کا مطلب روشنی ہوجائے گا۔ اسی طرح اب زمان۔ مکان کی اصطلاح کا مفہوم ایک ہوگیا۔ تقسیم جو لفظ اور سے تھی وہ ختم ہوگئی اس تصور کو یونانی فلسفی زینو جو سقراط سے ستر سال قبل کا مفکر ہے اس نے دلیل کے ساتھ ثابت کر دیا تھا۔ اس کے مطابق زمان و مکان کا ہی دوسرانام خدا، الاہ اور ایشور ہوگیا۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ خدا ’وقت‘ ہے ’مکان‘ اس کا عمل ہے۔ آدمی کسی بے عمل خدا کے تصور کو قبول کرنے کو راضی نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ خدا کو اپنا جیسا اگر تصور نہیں کرتا تو وہ اسے اپنے قریب محسوس نہیں کرسکتا۔ انگریزی میں ایک جملہ ہے جو شاید بائبل سے مستعار ہے کہ خدا نے آدمی کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔ یہ مجبوری جو آدمی کی ہے اسے اس نے اپنے خدا سے منسوب کر دیا ہے۔ اس کمزوری کے اعتراف نے فلسفۂ وجودیت کو جنم دیا ہے۔
فرانسیسی مفکر دیکارت نے کہا: 
Cogito ergo sum
میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں۔ یا میں خود کو جانتا ہوں اس لیے ’میں ہو۔‘ یہ قول فرانسیسی مفکر دیکارت کا بہت مشہور ہے۔ یعنی میں اپنے وجود کے علاوہ کسی شے کے وجود سے اس طرح واقف نہیں ہوں جس طرح اپنے آپ سے واقف ہوں۔ اور ہر دوسری شے کے وجود کو صرف اس لیے محسوس کرتا ہوں کہ میں اپنے وجود کا شعور رکھتا ہوں۔ وہ آدمی جو بے ہوش کر دیا جاتا ہے وہ صرف نہ اپنا شعور کھو دیتا بلکہ ساتھ ساتھ غیر کے وجود سے بے خبر ہو جاتا ہے۔ لہٰذا یہ ثابت ہوگیا کہ غیر کے شعور اور احساس سے بے خبر یا بے نیاز ہونے کے لیے خود سے بے خبر ہونا لازمی ہوتا ہے۔
اقبال کا اسرارِ خودی اور رموزے خودی کیا ہے:
ایسا لگتا ہے کہ Surdسے یعنی خودی سے آدمی کا ذہنی سفر Absurdکی طرف جاری ہے یعنی شعور سے ابتدا سے ہوتی ہے جو ’لاشعور‘ پر ختم ہوجاتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں ہم جسے زندگی کہتے اور سمجھتے ہیں وہ شعور کا سفر ہے اور اس کا خاتمہ یا آخری منزل لاشعور ہے یعنی موت!
فلسفیوں اور مبلغ اخلاق اور پیغمبروں کی تمام تر کوششیں اور تعلیمات ’موت‘ کو بامعنی بنانے پر مرکوز نظر آتی ہیں۔ دراصل جب ہم کسی سوال کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے تو ایک لمحہ کے لیے ہم یہ اقرار کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا سارا علم غیر معتبر ہے۔یا ناقص ہے یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ اس سوال سے پہلے ہم کو معلوم تھا وہ فضول ثابت ہوگیا۔ ایسا احساس اور اس کا اقرار ہماری ساری جہاں دانی کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔ اور ہم ایسا ہرگز نہیں چاہتے۔ کون ذی شعور آدمی ایسا چاہے گا؟ اس لیے صاحب فکر و شعور نے لازمی سمجھا کہ ’موت‘ کے معنی مقرر کیے جائیں زندگی کو وہاں ختم ہونے سے روک دیا جائے۔ زندگی کو دوام عطا کرنے کی ترکیبیں پیدا کر دی جائیں۔
اس کا صرف ایک طریقہ آدمی کی عقل میں آیا کہ وہ موت کو حیات دوام کہے۔ اور اس کے لیے جتنی بھی توجیہیں اور دلائل وہ لوگوں کے سامنے پیش کرسکے خاص کر ان لوگوں کے سامنے جو چاہتے تو ہیں کہ موت واقع نہ ہو لیکن ہوجائے تو صرف ایک لمحہ کے لیے۔ اس کی سب سے معتبر مثال ہماری خواب کی زندگی میں موجود ہے۔ ہم اپنی مادی دنیا سے نکل کر ہر روز خواب کی دنیا میں زندہ رہتے یا چلے جاتے ہیں کبھی چند لمحوں کے لیے اور کبھی چند گھنٹوں کے لیے مگر جاتے ضرور ہیں اور ہمیشہ اس پختہ یقین کے ساتھ سونے کے لیے بستر پر لیٹتے ہیں کہ چندلمحوں کے بعد پھر اس مادی یا ’اپنی‘ دنیا میں واپس آجائیں گے۔ ہم تو خواب والی دنیا کو کبھی اپنی دنیا نہیں مانتے۔ اس لیے کہ آنکھیں کھلنے کے بعد وہ غائب ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اعتبار تو اس کا ہے جسے ہم خود دیکھیں اور دوسروں کو دکھا بھی سکیں۔ ایسا تو صرف خواب سے باہر والی دنیا کی زندگی میں ہی ممکن ہوتا ہے۔
موت کو بامعنی قرار دینے کی کوشش میں ہم نے یا مبلغین مذاہب نے زندگی کو قطعی مہمل اور بے وقار کردیا۔ زندہ رہنے کا مطلب ہی یہ قرار دیا کہ اس زندگی کو دوسری انجانی ان دیکھی زندگی کے خواب پر قربان ہو جانا چاہیے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم دوسروں کو ایسے خواب دکھانے میں کامیاب ہوجائیں جب وہ ہم کو خدا یا اس کا گورنر تسلیم کر کے ہمارے یعنی مبلغین ادیان کے سو فیصد غلام ہوجائیں۔ کسی بھی مذہب میں آدمی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرسکے کہ اسے کس طرح جینا ہے ۹۵ فیصد اہل مذہب اپنے لیڈروں، اماموں اور مرشدین کی دی ہوئی زندگی کو قبول کر کے زندہ رہتے آئے ہیں۔ ادیان عالم نے ابن آدم کو سینکڑوں جماعتوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ہر ایک کے نزدیک دوسری جماعت کے لوگوں کی زندگی لایعنی اور بے سود قرار پاتی ہے۔ ہر ایک جماعت نے اپنے لیے جو زندگی کا انجام متصور کر رکھا ہے وہ دوسری جماعتوں کے لیے ناقابل قبول ہونے کے ساتھ ساتھ معیار عقل سے گرا ہوا بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں کشت و خون کا بازار کبھی بند نہیں ہوا۔ اور آگے بھی ہزاروں کوششوں کے باوجود یہ بازار بند نہیں ہوگا۔ 
دراصل اس بازار کے بند ہوجانے پر زندگی کی ساری شان وشوکت ہی ختم ہوجائے گی۔ اسی لیے ہم سب جو تلاش حق کے شیدائی ہیں وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک ہنگامہ پر موقوف ہے گھر کی رونق نوحہ غم ہی سہی نغمہ شادی نہ سہی۔ دن بھر ہم رات کے منتظر اور رات بھر صبح کے منتظر رہتے ہیں اور اس طرح لوگ زندگی کو آدھی اندھیرے کی اور آدھی روشنی کی تمنا میں گزار دیتے ہیں۔ شاید روشنی سے اندھیرے اور پھر اندھیرے سے روشنی میں آنے جانے کا نام ہی زندگی ہے۔ اس لیے کہ روشنی سے اندھیرے میں چلے جانے کے بعد پھر روشنی میں واپس نہ آنا ہی موت کہلاتا ہے۔ اس دائمی اندھیرے کے لیے اہل فکر نے مختلف نام سکھا دیے ہیں جسے سیدھا سادہ آدمی گلے لگائے چلتا پھرتا رہتا ہے۔ اس کو صرف یہ بتا دیا گیا ہے کہ موت اس دنیا کے پیچھے یا آگے چلے جانے کا نام ہے۔ ہم جب تک اس طرف ہیں اس طرف کی خبر نہیں رکھتے۔ مگر ہم میں ہمیشہ کچھ لوگ ایسے رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے جو اس پار سے اس پار کی کچھ خبر رکھتے ہیں۔ بلکہ بعض ادھر سے ادھر آنے جانے کا اختیار بھی رکھتے تھے۔ کہتے ہیں ایسے لوگ اس دنیا میں ہمیشہ موجود رہیں گے جو اپنی غیر معمولی قوت کی مدد سے اس پار کی خبر دوسروں کو دیتے رہیں گے اور ایسے ہی لوگ ہماری رہنمائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے منہ سے نکلا ہر لفظ حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اسی لیے کچھ لوگ اپنی زندگی کو ان کے نام پر قربان کردینے کو اپنے لیے سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں اور یہی نہیں بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ بھی ایسا کرنے کو تیار ہوجائیں تاکہ انھیں جو سعادت حاصل ہے وہ ان کو بھی حاصل ہوسکے۔ اپنی سعادت میں دوسروں کو شریک کرنے کا جذبہ قابل تعریف تو سمجھا ہی جاتا ہے کیوں کہ اس دنیا میں ہم اپنی خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے ہی طرح طرح کے جشن مناتے رہتے ہیں جس میں دوسروں کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ انھیں خوش کرنے میں ہم اپنی خوشی میں بہت اضافہ محسوس کرتے ہیں۔ اس اضافہ کے لیے ہم ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کرنے میں بھی راحت محسوس کرتے ہیں۔
جس طرح یہ ایک تسلیم شدہ نفسیاتی حقیقت ہے کہ آدمی کو خدا کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم کو وجود میں آتے ہی دوسروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور آخری وقت میں بھی دوسروں کی اہمیت ہمارے لیے کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ مگر یہی دوسرے ہماری زندگی کا خاتمہ بھی کردینے میں کوئی تکلف محسوس نہیں کرتے۔ ہم یہ بھی دیکھتے اور اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ جو محافظ ہے وہی قاتل بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے مثالوں کی نہ پہلے کمی تھی اور نہ آج ہے۔ ہم کو ویسے تو یہ یقین دلایا جاتا رہتا ہے کہ وہ جس نے ہم کو زندگی دی ہے وہی موت دیتا ہے۔
اس دنیا میں آدمی کے لیے صرف ایک مسئلہ ہے کہ کس طرح ایک اچھی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسرا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے خود ہر آدمی کو کچھ نہ کچھ اپنے بل بوتے پر کرنا ہوتا ہے۔ اور کچھ کے لیے دوسروں کا سہارا لینا لازمی ہوتا ہے۔ اب یہ ’دوسرے‘ کون ہوں گے جن کے سہارے کی ہم کو ضرورت ہوگی۔ یہ ہم کو خود ہی طے کرنا ہوتا ہے۔ ہمارا فیصلہ کبھی صحیح اور کبھی غلط بھی ہو جاتا ہے۔ سہاروں کے سو فیصد معتبر ہونے کی ضمانت کبھی نہیں مل سکتی۔ ہر امید میں مایوسی کا ایک پہلو ضرور پوشیدہ رہتا ہے۔ کچھ لوگ اسے محسوس کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ سہاروں کا کبھی کبھی غیر معتبر ہو جانا ایسا ہی ہے جیسے گھنے بادلوں کا آنا اور ہمارے کھیتوں پر برسے بغیر چلے جانا ایسے حالات سے لوگوں کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔
ہمارے مذہبی عقائد ہمارا سہارا ہوتے ہیں اور بس۔ یہ کبھی کبھی کام آجاتے ہیں تو ہم ان کو گلے لگائے رہتے ہیں۔ لیکن وہ جن کے یہ کبھی کام نہیں آتے وہ انھیں ترک کردیتے ہیں اور پھر عقائد کی دنیا سے باہر نکل کر حقائق کی نئے سرے سے تلاش شروع کر دیتے ہیں اور اس تلاش میں وہ دوسرں کی مدد سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ عقائد نے انھیں کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی خوشی سے قریب نہیں ہونے دیا۔ ان سے آزاد ہوکر آدمی صحیح معنوں میں اپنی اس قوت سے روشناس ہوتا ہے جس کا اسے پہلے کبھی احساس نہیں ہوا تھا۔
فرد ہر شئے کے جزو میں موجود ہے یعنی ایٹم کی حیثیت سے۔ جہاں جتنا پھیلاؤ ہوگا وہاں اتنا ہی انتشار اور بدصورتی ہوگی (ہماری نگاہ کو اسی لیے ہر چھوٹی شئے خوبصورت لگتی ہے) حواس انسانی میں داخل ہونے والی چیزیں لامحدود نہیں ہوسکتیں اسی لیے عدد کا ان پر اطلاق ہو جاتا ہے جو چیز شمار نہیں کی جاسکتی وہ انسان کے دائرہ عقل اور اختیار سے باہر ہوتی ہے۔ کسی بڑی سے بڑی عدد کو اسی عدد سے ضرب دیں تو اس کا حاصل بھی ایک بڑی عدد ہی ہوتا ہے۔ جو چیز وجود میں آچکی ہے وہ دائرۂ شمار میں داخل ہوچکی ہے۔
محدود اور لامحدود کے درمیان میں کوئی وقفہ یا خلیج نہیں ہے اس لیے ہمیشہ جو کچھ وجود میں آیا ہے یا آتا ہے وہ محدودیت کے زیر عنوان آجاتا ہے۔
جو لامحدود ہے اسے نہ قرار ہے اور نہ سکون، اسے جیسے ہی قرار یا سکون ملے گا وہ قابل شمار ہوجائے گا اسی لیے جسے ’رواں‘ کہا جاتا ہے اس کے اندر مقامی تبدیلی ناممکن ہوتی ہے۔ ’عدد‘ بھی آئیڈیل ہے۔ ہمیں اس کا علم ہونے سے اس کا وجود میں ہونا لازمی ہے۔ عدد براہِ راست تعقلی اصول کے تحت آتا ہے۔ جہاں کوئی تغیر نہیں ہے وہاں احدیت ہے۔
افلاطون کے خیال میں انسانی ذہن میں نمبر یا عدد کا تصور رات اور دن کے مشاہدہ سے آیا ہوگا۔ یعنی ایک رات اور ایک دن کے شمار سے دوئی کا تصور پیدا ہوا ہوگا۔
غیر مادی وجود میں علم اور معلوم دونوں ایک ہوجاتے ہیں۔ لیکن علم اور معلوم ایک دوسرے کا بدل نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ معلوم سے علم کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
یہ تصور کرنا لازمی ہے کہ ہر شئے ایک ہی فطرت کے ماتحت رہتی ہے اور کسی جزو کی فطرت، کل کی فطرت سے جدا نہیں ہوسکتی۔ ایک منظر میں بہت سی اشیاء شامل ہوتی ہیں مگر منظر اپنی حیثیت میں واحد ہوتاہے۔جو کچھ انسانی نظر میں آتا ہے وہ کبھی واحد نہیں ہوتا اگرچہ ہم اپنی زبان میں واحد،تثنیہ اور جمع کے اظہار کرنے کے لیے الگ الگ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ 
ثنویت نے ہی رشتوں کو جنم دیا ہے۔ اشیائے عالم میں جتنی کثرت ہو گی اتنے ہی رشتوں کی کثرت بھی ہوگی۔
ذہن انسانی اعداد کو صرف گھٹا بڑھا سکتا ہے مگر انھیں پیدا نہیں کرسکتا۔ ہر شئے جب پہلی بار وجود میں آتی ہے تو واحد ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہو تو اس کی تخلیق ہو ہی نہیں سکتی۔
وحدانیت کا وجود حقیقت بننے سے پہلے ہوتا ہے۔ اور یہی حقیقت کی خالق بنتی ہے۔یہ وحدانیت خود خودی ہوتی ہے۔ یہ وجود ثانی نہیں ہوتی بلکہ وجود ثانی کی خالق ہوتی ہے۔ خالص وحدانیت جسے احدیت کہا جاتا ہے اس میں کسی شئے کا وجود نہیں ہوتا اور نہ ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔
ثنویت رشتہ پیدا کرتی ہے یہ رشتہ ہماری نظر میں اچھا یا برا ہوسکتا ہے۔ اس کی اچھائی برائی کی ذمے داری ان حالات اور کوائف پر ڈالی جاسکتی جہاں یا جس وقت رشتہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ انسانی ذہن کی صلاحیت ہے کہ وہ جو کچھ موجود ہے اس سے زیادہ کا تصور کرسکتی ہے۔ لیکن یہ تصور اصل اور حقیقی وجود سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔
تعقلی اصول میں جو ’فرد‘ ہے وہ کسی انسان کے پیدا ہونے سے پہلے وجود میں ہے۔ دوئم یا ثانوی ہمیشہ اول کے نور سے چمکتا ہے پھر سوئم یا ثلاثی دوئم کے نور سے روشنی پاتا ہے۔
فلاطینوس کے نزدیک انسانی عقل اور ذہن کو تین درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے یہ کام ارسطو کرچکا تھا اس نے شعور، نیم شعور اور لاشعور کا نام ان درجات کو دے رکھا تھا اس اعتبار سے شعور اعلیٰ فلسفیوں اور پیغمبروں کا شعور متوسط عالموں اور معلموں کا اور شعور اسفل جانوروں کا نصیب ہوتا ہے۔
شعور کی اس طرح درجہ بندی انسانی مزاج اور فطرت کی نشاندہی کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
**
فلاطینوس کے وہ خیالات جو فلسفیانہ اور 
غیر روایتی مذہب سے متعلق ہیں
اس کی تصنیف ’انید‘ سے مستعار
ذات احد خیر کل ہے وہی وجود مطلق ہے۔ غیر پیچیدہ ہے، لامحدود، غیر مشروط اور کبھی یہی سب کا ’باپ‘ ہے۔ اس کی ذات علم کی رسائی سے پرے ہے۔
یہاں تک کہ موجود ہونے کی صفت سے بھی پاک ہے یہ خالق نہیں ہے جیساکہ دوسرے ہیں (احسن الخالقین) یہاں تک کہ اسے علت کل بھی نہیں کہا جاسکتا۔
ناقابل ادراک عالم وجود میں سبب اول دراصل ایک ادنیٰ اصول ہے نہ کی علت اول جیسا کہ ہم بولتے اور سمجھتے ہیں۔ عمل اظہار تعقل اور تخیل کی مکمل شکل کا نام ہے۔ وجود لاہوتی، وجود اعلیٰ اور الٰہیاتی خیال اور عقل پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔
خیال/ تصورِ مجرد افلاطون کا عقیدہ
لاہوتی خیال/ تصور ہی وجود حقیقی ہے۔
وہ پہلی شئے جس کو ’’موجود‘‘ کہا جاسکتا ہے وہ عقل کل یا کائناتی عقل ہوسکتی ہے۔ آئیڈیا، خیال مجرد اصل وجود ہے۔ یہی قوت تخیل کا دائمی سرچشمہ ہے جس سے یا جہاں سے نچلے طبقوں میں صورتیں وجود میں آتی رہتی ہیں۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL for Part-9:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

URL for Part-10: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-10/d/9712

 

URL for Part-11: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-11/d/9728

 

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ12/d/9771

 

Loading..

Loading..