New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 03:06 AM

Books and Documents ( 14 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 9

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

تلاش حیاتِ جاوید کی کہانی

 رزم نامۂ گل گماش

گل گماش سمیریا جسے آج عراق کہتے ہیں وہاں کا بادشاہ تھا۔ وہاں کے لوگوں کا یقین تھا کہ اس کے اندر خدائی قوت موجود تھی وہ اپنی رعایا کی ہر مصیبت دور کرنے میں کامیاب ہوتا تھا۔


کہاجاتا ہے کہ تخلیق کی دیوی نے اِن کیدو نام کا ایک انسان پیدا کر دیا یہ جنگل میں ہرنوں کے ساتھ رہتا تھا۔ تخلیق کی دیوی جس کو ارُورُو کہا جاتا تھا اس نے اِن کیدو کو گل گماش کا مقابل بنایا تھا۔ گل گماش کی ماں نے اِن کیدو کو گود لے لیا تھا۔ایک عورت کو حاصل کرنے کے لیے گل گماش اور اِنکیدو کا مقابلہ کرایا گیا جس میں گل گماش غالب رہا مگر ساتھ ہی وہ انکیدو کی طاقت اور ہنر کا قائل بھی ہوگیا اس مقابلہ کے بعد دونوں دوست ہوگئے۔


اِشتر عشق کی دیوی گل گماش پر غلبہ چاہتی تھی لیکن گل گماش نے اس کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس کی سزا کے طور پر گل گماش پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی کہ وہ جنگل کے نگراں ہُم بابا نامی آسمانی بیل کو مار کر لائے۔ گل گماش کو اپنی اس مہم میں کامیابی تو ہوگئی مگر اس کا دوست اِنکیدو چل بسا۔ انکیدو چونکہ جنگل کا رہنے والا انسان تھا اور اس کا نگراں بھی تھا اس لیے فطرتاً ھُم بابا کو مارنا اسے پسند نہیں تھا۔ اس جنگل کے صدر دروازے پر ایک حفاظتی طلسم بنا ہوا تھا یہ دروازہ بہت ہی خوب صورت تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی انکیدو کو اسے اپنے منہ بولے بھائی گل گماش کی خاطر توڑ کر کھولنا پڑا۔ اس کے ہاتھ اس دروازے پر لکھے طلسم سے مجروح ہوئے۔ اسے اس کے بعد بخار آنے لگا اور پھر وہ فوت ہوگیا۔ اس کی موت کا گل گماش کو بہت صدمہ ہوا۔ گل گماش انکیدو کو مردہ ماننے سے انکار کرتا رہا۔ اس طرح سات دن گزر گئے۔ پھر انکیدو کے جسم کے اندر کیڑے پیدا ہوکر اس کی ناک سے باہر گرنے لگے۔ یہ دیکھ کر گل گماش کو اس کی موت کا یقین ہوا۔ شاید اس سے پہلے وہ کسی کی موت سے اتنا رنجیدہ نہیں ہوا تھا، انکیدو کسی ہیرو سے کم نہیں تھا۔ اور عوام کے گمان کے مطابق ہیرو کو موت پر فتح حاصل ہوتی ہے۔ مگر انکیدو مرگیا۔ یہ دیکھ کر گل گماش کو پورا یقین ہوگیا کہ اسے بھی موت پر غلبہ یا فتح نصیب نہیں ہوئی تو اس کا انجام انکیدو جیسا ہی ہوگا۔ اس کے بعد اس نے موت سے نجات حاصل کرنے کا راستہ ڈھونڈ نکالنے کی مہم پر کمر کس لی۔ (سدھارتھ گوتم بدھ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے)۔ 


سمیریا میں طوفان عظیم (شاید یہ طوفانِ نوح جیسا ہی کوئی واقعہ ہے) میں بڑی تباہی کے بعد صرف ایک شخص اپنی بیوی اور اپنے جانوروں سمیت بچ گیا تھا۔ اس شخص کانام اُتناپشتیم تھا۔ طوفان میں محفوظ رہ جانے کے بعد اس شخص کو دائمی زندگی مل گئی تھی۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ دِل مون نامی شہر میں بنی جنت جسے دیارِ الٰہی کا نام دیاگیا تھا وہاں رہتا تھا۔ (یعنی مرنے کے بعد میاں بیوی جنت میں دائمی زندگی جی رہے تھے-


گل گماش (یعنی ابن آدم) پر اسی دائمی زندگی کی تلاش کا سودا سوار ہوگیا جب اس کو یہ پتا چل گیا کہ اتنا پشیتم کو یہ دائمی زندگی کا راز معلوم ہے تو وہ اس کی تلاش میں چل پڑا۔ وہ رات کی تاریکی میں اس وقت تک چلتا رہا جب تک کہ وہ شمس کے باغ میں نہیں پہنچ گیا۔ وہاں شمس دیونا نے اسے بتایا کہ جو پیدا ہوا ہے اسے موت آنی ہے کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ (یہ لفظ شمس عربی میں سورج کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر حیرت ہے کہ یہ لفظ مونث تسلیم کیا جاتا ہے۔ سمیریا کی کہانی میں یہ روشنی کے دیوتا کا نام تھا)۔


عشق کی دیوی اِشتر جو گل گماش پر فریفتہ تھی، ایک عورت کی صورت میں آکر گل گماش کو بتایا کہ صرف دیوتا نہیں مریں گے، انسانوں کو تو مرنا ہوگا۔ اس عورت کا سیدوری نام تھا۔ یہ دیوتاؤں کے لیے شراب تیار کرنے کا کام کرتی تھی۔ (شاید یہی وہ شراب تھی جسے پیتے رہنے سے موت نہیں آتی تھی) سیدوری نے گل گماش کو بتایا کہ اتناپشیتم موت کے دریا پار رہتا تھا۔ اس کو دریا کے پار جانے کے لیے اُرساناپی ملاح سے مدد لینی ہوگی۔ گل گماش نے اس ملاح کو ڈھونڈ لیا۔ اس نے پھر وہاں ایک کشتی بنائی اور ملاح کی مدد سے دریا پار کر کے اتنا پشیتم کے ٹھکانے پر پہنچا۔ اتنا پشیتم نے اسے بتایا کہ جب آدمی نیند پر قابو نہیں پاسکتا تو پھر موت پر قابو کیسے حاصل کرسکتا ہے۔ پھر بھی گل گماش کو اس کی ضد پر اس نے بتایا کہ سمندر کی تہہ میں ایک پودا ہے اس کا پھول دائمی زندگی کا راز رکھتا ہے۔ اگر تم وہ لاسکو تو دائمی زندگی پاسکتے ہو۔ گل گماش نے اپنے پاؤں میں بھاری پتھر باندھے تاکہ سمندر کی کافی گہرائی میں اتر سکے۔ گل گماش اس پودے تک پہنچا اور اس کا پھول حاصل کرلینے کے بعد اپنے پاؤں سے پتھر کھول دیا تاکہ وہ ہلکا ہوکر اوپر آسکے۔ وہ پھول لے کر اوپر آگیا۔ مگر اس نے خود اس پھول کو نہیں کھایا۔ اس نے سوچا کہ وہ اسے اپنے ملک سمیریا لے جائے گا وہاں کسی بوڑھے ضعیف شخص کو کھلاکر اس کی تصدیق کرے گا کہ وہ زندہ رہ جاتا ہے یا نہیں۔ سمندر کے اندر غوطہ خوری کی محنت سے وہ کافی تھک گیا تھا۔ وہ جب پھول لے کر چلا تو راستہ میں ایک چشمہ کے پاس ٹھہرا وہاں پانی پی کر آرام کرنے لگا پھر سوگیا۔ اس دوران اس چشمہ کے پاس موجود ایک سانپ کو اس پھول کی مہک لگی وہ وہاں پہنچ گیا اور پھول جو سوتے ہوئے گل گماش کے ہاتھوں میں غیر محفوظ پڑا تھا وہ سانپ اسے کھا گیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ سانپ کے جسم سے اس کی پرانی کھال یعنی کینچل اترنے لگی اور سانپ ایک نئی کھال یعنی ایک نئی زندگی کے ساتھ چلا گیا۔ گل گماش کی آنکھ کھلی تو پھول کی جگہ نامرادی اس کے ہاتھوں میں تھی اور قریب ہی سانپ کی کینچل بھی موجود تھی۔ جسے دیکھ کر اسے یقین ہوا کہ دوسری زندگی کس طرح حاصل ہوتی ہے۔ یعنی جب تک اس جسم کو ترک نہیں کرے گا دوسرا جسم نہیں مل سکتا۔
(اتناپشیتم نے اس کو بتایا تھا کہ اگر وہ سات راتیں اور سات دنوں تک بغیر سوئے ہوئے رہ جائے گا تو اس کو دائمی زندگی کا راز مل جائے گا۔ گل گماش نے اس شرط کو پورا کرنے کا عزم کرلیا۔ مگر جیسے ہی وہ اس ارادے سے ساحل پر بیٹھ گیا تو اس کی ہمت کو دیکھ کر اتنا پشیتم کو اس پر ترس آیا۔ اس نے اپنے شوہر سے سفارش کی کہ وہ گل گماش کو اس پھول کا پتا بتا دے، جس کو کھاکر آدمی مر نہیں سکتا)۔


تبصرہ

یہ پوری کہانی اس انسانی خواہش کا ڈرامہ پیش کرتی ہے، جو اسے دائمی زندگی کے حصول کی تلاش میں سرگرداں رکھتی ہے۔ حیات جاوید کا راز معلوم کرنے کی ہر کلچر میں کوئی نہ کوئی کہانی گل گماش کی کہانی کی بنیاد پر ضرور ملتی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ کہانی تقریباً آٹھ ہزار سال پرانی ہے، جس مٹی کی تختی پر یہ کہانی اکادین زبان میں لکھی گئی تھی وہ آج بھی محفوظ ہے۔ دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہم جس ملک کو عراق کہتے ہیں وہ سمیریا کے ایک مرکزی شہر اروک سے وابستہ ہے۔ اروک وقت کے گزرتے رہنے پر اِراک ہوا پھر عربی تسلط نے اس کے ’الف‘ کو ’ع‘ سے بدل کر اپنا قبضہ جما لیا۔

گل گماش کی کہانی میں طوفانی بارش ایک ہفتہ جاری رہی۔ کشتی بنانے کا حکم دیوتا/ دیوتاؤں نے اتناپشتیم کو دیا اور جانوروں کو اس کشتی میں محفوظ کرلینے کی ہدایت دی گئی۔ طوفان میں سب کچھ غرق ہوگیا۔ بارش تھم گئی تو ایک فاختہ اور ایک کوے کو خشکی کا پتا لگانے کے لیے بھیجا گیا۔ ایک ہفتہ تک کوئی نہیں لوٹا پھر اتنا پشتیم نے کشتی کے جانوروں کو باہر نکل جانے کا حکم دیا۔ پھر ایک نئی نسل کے ساتھ ایک نئی دنیا وجود میں آگئی۔ اتناپشیتم کی کشتی کو بھی ایک پہاڑی کی چوٹی پر ٹھہرایا گیا تھا۔ جہاں وہ پانی میں غرق ہونے سے محفوظ رہ سکی تھی۔

اس کہانی کے اہم کردار

گل گماش / عشق کی دیوی اِشتر اس کا دوسرا روپ ’سیدوری‘ /انکیدو جنگل کا رہنے والا انسان/ ھم بابا وہ بیل یا سانڈ جو جنگل کا محافظ تھا جسے گل گماش نے انکیدو کی مدد سے ہلاک کیا اور جنگل پر قبضہ کرلیا۔ ارساناپی ملاح۔ سانپ جس کے بارے میں یہ علم سبھی کو ہے کہ وہ سال پورا ہونے پر اپنی نئی کھال پاکر پرانی کھال دوسروں کے مشاہدے کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔ بعض قبیلوں میں یہ عقیدہ ہے کہ کچھ سانپ کبھی نہیں مرتے۔ ہزاروں سال سے وہ اپنے ٹھکانوں میں زندہ مست پڑے ہیں۔ 
* اس کہانی کے کچھ حصے الف لیلیٰ کی کہانی میں بھی شامل ہوگئے ہیں۔
*

 گل گماش کی والدہ نن سن (Ninsun)نامی ایک معمولی دیوی تھی یہ ایگلما نامی محل میں رہتی تھی۔ یہ محل اروک نامی شہر میں تھا۔ گل گماش کا نام ہوسکتا ہے اس محل میں پیدا ہونے کی وجہ سے گل گماش پڑا ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ ایگل ما میں صرف ’ش‘ کا اضافہ کردینے سے ایگل گماش اور پھر گل گماش بن جاتا ہے۔ ’ش‘ کا لاحقہ ہوسکتا ہے پیدا ہونے والے کا مفہوم دیتا ہو یعنی ’ایگل ما‘ میں پیدا ہونے والا ایگل گماش کہلائے گا۔ اس کے والد کا نام لوگل بانڈ تھا۔ وہ اروک کا پانچواں بادشاہ تھا۔ گلگمش ہیرو ایک سخت جاں باز رہنما تھا۔ اروک (موجودہ عراق) پر اس کی حکومت تھی۔ وہ دائمی لازوال قوت اور زندگی کا تمنائی اور متلاشی تھا۔ اروک کی سلطنت کا مرکز بائبل میں Erech ایرک کے نام سے موجود ہے۔ حالاں کہ یہ گل گماش کی کہانی بائبل سے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پرانی ہے۔
حیات جاوید کی تلاش میں نہایت دشوار گزار مراحل زندگی سے گزر کر اس ہیرو پر یہ ثابت ہوا کہ موت سے کسی کو فرار کی راہ نہیں مل سکتی۔ یہی اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
جنگل کا دوست جنگل کا دشمن ہوگیا۔ اس کی حفاظت کا دروازہ توڑ دیا۔ اور ھُم بابا جو اس کا پہرہ دار تھا اس کو قتل کر دیا کہانی لکھنے والے یا والوں کو آج سے چار پانچ ہزار سال پہلے سے یہ احساس ہوگیاتھا کہ جدید انسان کی ضرورتیں اسے قدیم انسان کا خون کرنے پر مجبور کر دیں گی۔ جنگل جو انسانی ضرورتوں کا سب سے بڑا سپلائر ہے اسے خود انسان تباہ کردے گا۔ جس کے نتیجے خود اس کے لیے بہت بھیانک ہوسکتے ہیں۔ آج ہم اس کہانی میں موجود اس قیاس اور اندیشہ کی حقیقی صورت سے روبرو ہیں۔ جو مہذب ہوچکے ہیں انھوں نے پھر سے جنگل کی زندگی کو گلے لگانے کے لیے مہم شروع کردی ہے۔ قدرتی ماحول کی طرف واپسی کی سڑکیں تیار کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے۔ تہذیب جدید جس کی عمر ابھی سو سال بھی نہیں ہوئی ہے وہ اپنے کپڑے پھاڑنے پر آمادہ ہورہی ہے۔
گل گماش یونانی ادب میں ہرکیولس ہوگیا۔ اپنے کارناموں کی بدولت عوام نے اسے دیوتا کا مرتبہ دیا۔
ہبوط آدم یعنی آدم کا آسمان سے زمین کے جنگل میں نزول حوا کے ساتھ جنسی ربط کے ساتھ جس سے نسل آدم کا آغاز ہوا۔ سانپ کی صورت میں شیطان نے آدم کو شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کو اکسایا اور یہ سمجھایا کہ اگر وہ اس درخت کا پھل کھالے گا تو اسے ہر شے کا علم ہوجائے گا اس طرح وہ خدا کے اندر محفوظ علم سے واقف ہوجائے گا۔ اور ہر شے کا راز اس پر کھل جائے گا جو اس کا خدا نہیں چاہتا۔

ممنوعہ پھل کے کھالینے کے بعد آدم پر احساس رنج اور نامرادی اور حافظہ کی کمزوری کی حقیقت واضح ہوئی۔ آدم نے شرمندگی کی وجہ سے جلاوطنی اختیار کی اور باغ عدن سے جنگل میں اترگیا، اور پھر تحریکوں کی دنیا میں داخل ہوکر غیر متوقع حالات اور مشکلات کا سامنا کرنے کی مصیبت قبول کرلی اور اپنی عقل اور دانائی سے ہر خطرہ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی اور اپنے اہلِ بیت کی حفاظت کرتا رہا۔ اسے اپنی ناکامیوں کی صورت میں ایک حمایتی اور معتبر تسلی دینے والا دوست درکار تھا اس کے لیے حوا کی رفاقت ایک بڑی نعمت ثابت ہوئی۔
آج آدم اور حوا کو انسانی زندگی کے جنگل میں ہر جگہ ہم ایک دوسرے کا رفیق سفر دیکھتے ہیں
گل گماش کی کہانی عکادی زبان میں تقریباً پانچ ہزار سال قبل مصر اور عراق میں رائج تھی آگ میں پکائی گیارہ تختیوں پر لکھی ہوئی یہ کہانی مصر میں محفوظ ہے۔
۱۸۷۰ میں اس کا ترجمہ مشہور اسیریائی زبان کے ماہر جارج اسمتھ نے انگریزی میں کیا ہے۔
پھر ۲۰۰۳ء میں پینگوئن نے اینڈریو جارج کے ذریعہ کیا گیا ترجمہ شائع کیا جو بہت مقبول ہوا۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL for Part-7: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

URL for Part-8:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-8/d/9680

 

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-9/d/9699

 

Loading..

Loading..