New Age Islam
Tue Sep 29 2020, 06:49 AM

Books and Documents ( 12 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 7

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

تاریخ اسلام عہد رسالت کے بعد (ایک مختصر جائزہ)

تاریخی اعتبار سے رسولِ عربی کے انتقال کے محض گیارہ بارہ سال بعد ہی عربوں میں سیاسی اقتدار کے لیے سازشیں شروع نہیں بلکہ تیز تر ہوگئیں۔ سازشوں کا سلسلہ تو انتقال رسول کے بعد ہی شروع ہوچکا تھا، خلافت کے آدھے درجن امیدوار تھے جو اپنے لیے راہیں ہموار کرنے اور طاقت جمع کرنے میں مصروف تھے۔ حضرت عثمان ایک غیر سیاسی بصیرت کے آدمی تھے۔ ان کے اندر دو خوبیاں بہت اہم تھیں جن کا اثر لوگوں کے ذہن پر تھا۔ پہلی خوبی یہ تھی کہ وہ رسول اللہ کے داماد تھے۔ محمد رسول اللہ نے ان کے عقد میں یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں کو دیا تھا۔ اور وہ ان کی شرافت اور کریمانہ سلوک اور اسلام کے فروغ کے لیے اپنی دولت بلا جھجک خرچ کرنے کے لیے ان کی برابر تعریف کیا کرتے تھے۔ دوسری خوبی یہ تھی کہ وہ بہت دولت مند تھے۔ آدمی میں دولت مند ہونے کے ساتھ نیکی کرنے کا جذبہ ہو تو اس سے زیادہ اور کیا توقع کی جانی چاہیے۔ لیکن امور خلافت کو کامیابی سے سر انجام دینے کے لیے جو بصیرت اور ہمت ان سے پہلے لوگ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میں دیکھ چکے تھے وہ ان کے اندر دکھائی نہیں دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے خلاف سازشیں مستحکم ہوگئیں۔ ان کو خلافت سے دست بردار ہونے کا مشورہ دیا گیا، مگر انھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ پھر سیاسی دنیا کے دستور کے مطابق ایسے لوگوں کا سر قلم کر دینا ضروری ہو جاتا ہے، لہٰذا حضرت عثمان کو ان کے گھر میں قید کر دیا گیا۔ یہ انتظار رہا کہ شاید وہ اب خود بھی بہتر یہی سمجھیں گے کہ خلافت سے دست بردار ہوکر اپنی جان بچالیں۔ مگر جب اس کا بھی امکان نہیں رہا تو چالیس دن بعد کچھ لوگ ان کے گھر میں گھس گئے اور ان کا سر اس وقت قلم کر دیا جب وہ تلاوتِ قرآن میں مصروف تھے۔ ان کی دفاع میں پہنچی ان کی بیوی کی انگلیاں تلوار کی نذر ہوگئیں۔ اس واقعہ کی سند کے طور پر وہ قرآن جس پر حضرت عثمان کا خون گرا تھا، وہ آج بھی ترکی کے محافظ خانۂ آثار و تحائف میں محفوظ پایا جاتا ہے۔ صرف قتل ہی تک یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔ اہل مدینہ نے ان کی لاش کو چند دنوں بعد بھی مدینہ میں دفن ہونے کی اجازت نہیں دی۔ آخر میں چند لوگوں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر رات کی تاریکی میں ان کی لاش کو مدینہ سے باہر لے جاکر بلا نمازِ جنازہ ادا کیے دفنا دیا۔ ہمارے علماء کبھی کہیں بھی اس کا ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔ سوچئے کہ ابھی اسلامی حکومت کے قیام کو صرف ۲۳ سال ہی گزرے تھے۔ اتنے مختصر سے عرصہ میں امیر المومنین کے ساتھ مومنین مدینہ یہ سلوک کریں گے یہ ہمارے لیے آج بھی بہت بڑی حیرانی کا سبب ہے تو اس وقت کے مسلمانوں کے لیے اس کا کیا اثر رہا ہوگا۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے، عربوں کو کبھی بھی اپنے مخالفین کو قتل کرنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہوتا تھا۔ ان کی اسی صفت سے اسلام کو بہت فروغ نصیب ہوا تھا۔ اپنے دینی رہنما اور سیاسی سربراہ جس کے ہر عمل کو تائید غیبی حاصل تھی، اس کے ساتھ بھی رات اور دن سات آٹھ سال تک قتل و غارت کی مشق کرتے رہنے کے بعد ان سے ایسے سلوک کی امید نہ کرنے کو حماقت کہا جاسکتا تھا۔ موت کا کھیل عربوں کا سب سے عزیز ترین مشغلہ رہا تھا۔ زندگی سے محبت کرکے ذلت قبول کرنا عربوں کی فطرت میں نہیں تھا۔ اسی ذلت کے احساس کی وجہ سے کہتے ہیں لوگ اپنی نوزائیدہ اولاد کو اگر وہ لڑکی ہوتی تھی تو زندہ دفن کر دیتے تھے اور ذرا بھی درد محسوس نہیں کرتے تھے۔ عورتیں کبھی اپنے شوہروں کے قتل کا ماتم نہیں کرتی تھیں اگر فوراً انھیں دوسرا باہمت اور دولت مند شوہر مل جاتا تھا۔
حضرت عثمان کے قتل کے بعد حضرت علی خلیفہ ہوگئے۔ ہاشمیوں میں یہ پہلے شخص تھے جو خلافت اسلامیہ پر فائز ہوئے اس سے قبل قریشیوں کا خلافت پر قبضہ رہا۔ حضرت عثمان کے بھتیجے معاویہ ان کے وقت میں شام کے گورنر تھے۔ انھوں نے امیر المومنین حضرت علی حیدر سے اپنے چچا کے قاتلوں کی سزا کا مطالبہ کیا۔ لیکن قتل کرنے والے ان کے اپنے حامی تھے اور ایک تو حضرت ابوبکر کے وہ بیٹے تھے جن کی والدہ سے حضرت علی عقد کر چکے تھے۔ لہٰذا ان کو قتل عثمان کے جرم میں سزائے موت ہی ملتی۔ اس لیے خلیفہ وقت ایسا کیوں ہونے دیتے کہ اپنے حامیوں کو قتل کراتے۔ امیر معاویہ نے برگشتہ اور متنفر ہوکر حضرت علی کے خلاف خود دمشق میں اپنے خلیفہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ اب مملکت اسلامیہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک کا دار الخلافہ دمشق اور دوسرے کا مدینہ تھا۔ اس تقسیم خلافت سے مسلمانان عرب بھی دو جماعتوں میں تقسیم ہوگئے۔ نتیجہ کے طور پر ان میں سیاسی بالادستی کے لیے جنگی محاذ کھل گئے۔مکہ میں حضرت عثمان کے حامی انتقامی جنگ کے لیے تیاریاں کرنے لگے۔ حضرت عثمان کے قتل کا ذمہ دار حضرت علی کو قرار دیا جا رہا تھا خاص طور پر طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام اصحاب رسول جن کا نام عشرہ مبشرہ میں شامل کر لیا گیا ہے وہ بھی خلافت کے امیدوار عرصہ سے تھے۔ انھوں نے حضرت عائشہ کو اپنی حمایت پر حضرت علی سے قتل عثمان کا بدلہ لینے پر آمادہ کرلیا۔ اور مکہ سے تیس چالیس ہزار حمایتیوں کے ساتھ مدینہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ وہاں حضرت علی کی فوج کے ساتھ آٹھ دنوں تک جنگ جاری رہی، جس میں ایک مورخ کے اندازے کے مطابق ۲۰، ۳۰ ہزار لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ جنگ تاریخ اسلامی میں جنگ جمل کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ جنگ ۳۶ھ میں ہوئی۔ اس جنگ میں طلحہ اور زبیر دونوں مارے گئے۔ حضرت عائشہ محفوظ رہیں صرف ان کا اونٹ مارا گیا۔
حضرت علی کی دوسری جنگ امیر معاویہ کے ساتھ صفین کے میدان میں ۳۷ھ میں ہوئی، یہ مقام کوفہ سے بہت دور دریائے فراط کے کنارے واقع تھا۔ اس جنگ میں جانبین کی طرف سے فوجیوں کی تعداد ایک ایک لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ جنگ چار ماہ تک جاری رہی اس طویل جنگ میں مورخین نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بھی تقریباً ایک لاکھ بتائی ہے۔
دونوں طرف سے جنگ میں شریک ہونے والوں میں نہ کوئی کافر تھا اور نہ مشرک، نہ یہودی اور نہ عیسائی، یہ سب صوم و صلوٰۃ کے بے حد پابند قرآن خواں اور کاتبانِ وحی جیسے بزرگ صحابہ بھی تھے، جو لوگ زندہ بچ گئے تھے اور جنگ بلا شکست و فتح ختم ہونے پر نادم اور مایوس تھے انھوں نے اس جنگ میں شرکت کو کفر قرار دے کر دوبارہ توبہ اور استغفار کرکے خود کو ازسرِنو اسلام میں داخل کیا انھوں نے چاہا کہ معاویہ اور حضرت علی بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ کرکے اور لاکھوں لوگوں کی غلط رہنمائی کرکے ان کے قتل کے مجرم ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کو بھی انھیں کی طرح توبہ کرکے دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل ہونا چاہیے لیکن ان دونوں نے ایسا نہیں کیا تو ان بزرگوں نے جن کی جماعت میں بارہ ہزار لوگ بتائے جاتے ہیں انھوں نے معاویہ اور علی کو خارج از اسلام قرار دیا۔ اور اپنے اندر سے ایک شخص کو امیر مقرر کرکے عراق میں ایک الگ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے چل پڑے۔ انھوں نے اپنی جماعت اور ہم عقیدہ لوگوں کے لیے چند اصول مرتب کیے جو اس طرح تھے۔
۱۔ خلیفہ ہونے کے لیے خاندان رسول کا فرد ہونا ضروری نہیں۔
۲۔ علی اور معاویہ کافر ہیں ان سے جنگ کرکے ان کی خلافت کا خاتمہ لازمی ہے۔
۳۔ جو لوگ علی اور معاویہ کو مسلمان مانیں ان کے خلاف جنگ کرنا چاہیے۔ ان سے کسی طرح کا کوئی رشتہ رکھنا حرام ہے۔
۴۔ ان سے جنگ میں ہاتھ آئے مخالفین کو قتل کر دیا جائے اور ان کے مال و متاع کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے ان کے بال بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔
یہ لوگ مسلمان بستیوں پر چھاپے مارتے اور اپنے آپ کو سچے مسلمان ثابت کرنے کے لیے نہایت سختی سے نمازوں کی پابندی کرتے۔ اور یہ اعلان کرتے پھرتے تھے کہ وہ باطل کا سر نیچا کرکے دم لیں گے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا نعرہ تھا۔ احکاماتِ قرآنی سے تغافل برتنے والوں کو قتل کرنا بھی ان کے نزدیک ضروری تھا۔
تاریخ میں اس گروہ کو خوارج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ۳۸ہجری میں حضرت علی کی فوجوں سے بمقام نہروان جو وسطی عراق میں واقع تھا، ایک مقابلہ ہوا، جس میں کئی ہزار خارجی مارے گئے۔ شکست کے بعد ان میں اختلاف پیدا ہوگیا اور یہ درجنوں فرقوں میں بٹ گئے۔ آج ہم اسامہ بن لادن اور القاعدہ جیسے تشدد پسند گروہوں کو جو سچے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں انھیں بھی خارجیوں کا ایک قبیلہ سمجھ سکتے ہیں، جو اپنے حامیوں کے علاوہ تمام دنیا کے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ احکام شریعت اسلامی کے نفاذ میں مخالفت یا ڈھیل دینے والوں کو قتل کر دینا واجب سمجھتے ہیں۔
تاریخ اسلام میں خوارج کے دو اہم خلفاء یا امیر المومنین کا نام مذکور ہے جن میں پہلا امیر نجدہ بن عامر ایک ۲۳ سالہ نوجوان عرب تھا۔ دوسرا خارجی خلیفہ نافع بن ازرق تھا جس نے ۱۹ سال تک اپنے ۳۰ ہزار سچے مسلمانوں کی خدائی فوج کے ساتھ ہر طرح کی غارت گری مسلمانوں کے سیاسی خلفاء کی سلطنت میں جاری رکھا تھا۔ ان کا سب سے بڑا ٹھکانہ یمن اور اس کے گرد و نواح کی پہاڑیاں تھیں۔ ان کے کچھ لوگ عرب چھوڑ کر افریقہ میں اپنے مشن کو زندہ رکھنے کے لیے آج تک زندہ ہیں۔
اسلامی مجاہدین اور سچے مسلمانوں نے مل کر تقریباً نصف صدی میں جتنے بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ خدا کی خوش نودی کے نام پر اتارا اس کا دسواں حصہ بھی شاید پورے غیر مہذب عرب کی تاریخ میں لوگوں کا قتل نہیں ہوا ہوگا۔ خدا نے قرآن میں جس قدر اپنی جہنم کے عذاب سے عربوں کو ڈرایا تھا، دس پندرہ سال بعد یہی لوگ اتنے سفاک اور قتل و غارت گری کے دلدادہ ہوگئے۔ جب کفار اور مشرکین کا صفایا کرچکے تو یہ اپنی تلواروں کو چند سال بھی خون ناحق سے پاک نہیں رہ سکے یہ سارے لوگ نمازیں پڑھتے، قرآن کی تلاوت کرتے، روزے رکھتے حدیثیں جمع کرکے لوگوں کو اسلام پر قربان ہونے کا درس بھی دیا کرتے تھے۔
میری اپنی سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ خدا اور اس کے رسول کے احکام کی پیروی اور فروغ اسلام کے نام پر دس بارہ سال تک مخالفین کو نیست و نابود کرنے ان کی دولت اور ثروت کے حق دار ہوجانے کا جو اختیار مجاہد اسلام ہونے سے ان کو ملا ہوا تھا، وہ ان کی فطرت بن گیا تھا۔ نعرۂ تکبیر اللہ اکبر کے ساتھ ہر لوٹ مار جہاد فی سبیل اللہ بن گیا تھا۔ دوسری فضیلت یہ حاصل تھی کہ مارے گئے تو شہید ٹھہرے سارے اگلے پچھلے گناہ یک قلم معاف ہوئے اور اگر زندہ بچے تو غازی کہلائے۔ مالِ غنیمت کے حصہ دار ہوئے، شکست و فتح دونوں میں نفع جب حاصل ہونے کا یقین دلا دیا جائے تو پھر ڈر کس بات کا۔ ہر کام سے پہلے بسم اللہ کہنے کو واجب قرار دے دیا گیا۔ لوگ پھر یہ بھول گئے کہ بسم اللہ کہہ کر برے کام کرنا ابلیس کو خوش کرنا ہے۔ وہ تو یہ یقین کرنے لگے تھے کہ بسم اللہ کہنے سے برا کام بھی اچھا ہو جاتا ہے۔ امریکہ میں اپنے قیام کے دوران وہاں مقیم ایک پاکستانی مسلمان سے میں نے پوچھا کہ یہاں حرام و حلال میں تمیز کس طرح کرتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہم تو بسم اللہ کرکے کھاتے ہیں حلال و حرام کی تحقیق کی مصیبت میں نہیں پڑتے۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والا بے دین کیسے ہوسکتا ہے۔ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ کچھ مصری شراب پینے سے پہلے بسم اللہ کہنا لازمی سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ قرآن میں صرف نشہ لانے والی چیزیں حرام قرار دی گئی ہیں۔ اگر کسی چیز کے پینے سے نشہ طاری نہ ہو تو وہ حرام نہیں ہوتی۔ قرآن نے کہا ہے کہ اچھی چیزیں کھاؤ پیو۔ لہٰذا ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ مثلاً سگریٹ نوشی تمبا کو پان میں ڈال کر کھانا کبھی کسی عالم کے نزدیک نہ مکروہ قرار پایا نہ حرام۔ آج ساری دنیا میں تمباکو نوشی کے خلاف زبردست تحریکیں جاری ہیں مگر کبھی کسی اسلامی درس گاہ کے عالم دین یا مفتیوں کی طرف سے اس کی مخالفت میں کوئی بیان نہ میں نے سنا اور نہ ہی کوئی فتویٰ دیکھا۔ ہاں لاؤڈ اسپیکر اور فوٹو کھنچوانے کو حرام قرار دینے میں ذرا بھی دیر نہیں کی گئی تھی۔ پردہ کے بارے میں برقع کا استعمال قرآنی حکم کے سراسر خلاف ہے مگر ہمارے علماء کہتے ہیں یہ ہمارے سماج میں لازمی ہے۔ اسلام کو ان گنت حصوں میں تقسیم کرکے اختیار کرنا بھی ہمارے سماج کا اہم ترین قانون ہوگیا۔
گناہ کرکے اس کے عذاب سے بچنے کے لیے کسی اچھے مسلمان نے ایک حدیث پائی جسے خوب مشتہر کیا اور وہ لوگوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس حدیث میں یہ کہا گیا کہ اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو فوراً کوئی نیکی کر ڈالو تو اس کا کفارہ ہوجائے گا۔ اس حدیث پر اعتراض کرنے والوں کو سمجھایا گیا کہ اگر لوگ اس پر عمل کرنے لگیں گے توبرائیاں ختم ہوجائیں گی اور ہر طرف لوگ نیکی پر اصرار کرتے دیکھے جائیں گے۔
گناہ کا تصور ایسا نہیں ہے کہ صرف اسلام نے دیا ہے۔ ہر مذہب میں چاہے وہ آسمانی کتاب کا مذہب ہو یا اخلاقی اور فلسفیانہ مذہب ہو سب نے گناہ کا تصور بہت واضح طریقہ پر پیش کیا ہے۔ جن علاقوں اور سماجوں میں جس قدر تعلیم عام رہی اور فکری بلندی پائی گئی وہاں گناہ کے تصور میں اتنی ہی وسعت پائی جاتی ہے۔ افریقہ کی نہایت قدیم اور پسماندہ آبادی میں جہاں اخلاقی خوبیوں کا تصور نہایت محدود ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کے اپنے اخلاقی اصول ہیں جن کی خلاف ورزی کو گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ مثلاً چوری، زنا اور قتل نا قابل معافی گناہ یا حرام تصور کیے جاتے ہیں۔
میں نے افریقہ کے قیام کے دوران ایک غیر شادی شدہ پڑھی لکھی خاتون کو حاملہ دیکھا تو میں نے پوچھا کہ ایسی عورت کو یہاں نہ تو ملعون قرار دیا جاتا ہے اور نہ بے غیرت تو وہاں کے سماج کے لوگوں نے بتایا کہ یہ عورت جانتی ہے کہ اس کے اندر کس کا بچہ ہے۔ اس کی ولادت سے پہلے شادی کی رسم پوری کردی جائے گی۔ میں نے کہا اگر وہ شخص انکار کردے تو پھر آپ کا سماج کیا کرے گا۔ انھوں نے کہا ہم اس کو جان سے مار دیں گے میں نے کہا اگر وہ لا پتہ ہوجائے تو انھوں نے کہا وہ بھاگ کر قبیلہ سے باہر نہیں جاسکتا۔ دوسرا کوئی قبیلہ اسے پناہ نہیں دے سکتا اور خود اپنے قبیلہ میں کوئی عورت اس سے شادی نہیں کرسکتی۔ یہ سن کر میں بالکل مطمئن ہوگیا، ایسی صورت میں کسی عورت سے جنسی ربط رکھنے پر مرد کو اپنے آپ کو راضی رکھنا ہوتا ہے کہ حمل قرار پانے کے بعد اسے اس عورت کو بیوی بنانے کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ یہ قانون یا دستور ان کے پاس کسی پیغمبر یا آسمانی کتاب کی ہدایت پر وضع نہیں ہوئے تھے۔ یہ ان کے قبیلہ کے دانش مند بزرگوں کے بنائے ہوئے دستور تھے جن میں ان کو اپنی عزت اور آبرو کا پورا تحفظ ملا ہوا تھا۔ ان سے بعد میں میں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر ایسا باپ شادی کرنے سے قبل کسی حادثہ کا شکار ہوکر موت کا شکار ہوجائے تو اس بچہ کی پرورش کا ذمہ دار کون ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایسے بچے اپنی نانی کی زیر پرورش رہتے ہیں۔ اور اس عورت سے دوبارہ کوئی بھی فرد شادی کرسکتا ہے۔ اس عورت کو ملعون اور مردود قرار نہیں دیا جاتا۔ میں نے سوچا کہ ہمارے معاشرہ میں ایسی عورت کو زندہ رہنے کا موقعہ نہیں دیا جاتا۔ اور اس کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچہ کو بھی زندہ رہنے کا کوئی حق ہمارا سماج دینے کو راضی نہیں ہوتا۔ پھر بھی ہم اپنے آپ کو دنیا کی مہذب ترین قوم کہتے نہیں تھکتے۔
امریکہ دنیا میں مہذب ترین لوگوں کا ملک سمجھا جاتا ہے۔ کمیونزم کے فروغ کو روکنے کے لیے وہاں کی مہذب ترین فوجوں نے ۲۲ سال تک ایک نہایت پسماندہ ملک ویت نام میں قتل و غارت گری کا وہ جشن منایا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ وہاں جتنے لوگ مارے گئے ان میں امریکیوں کا دشمن کوئی نہیں تھا۔ یہ صرف طرز فکر کی جنگ تھی۔ امریکی سپاہی جنھیں امریکی مجاہد کہنا زیادہ مناسب ہوگا، انھوں نے اس جنگ کے پرچم کے سایہ میں چار پانچ سال کے بچوں کو اس وقت اپنی گولیوں سے بھون دیا جب وہ گھاس اور پتوں میں چھپ کر اپنی جان بچا رہے تھے، اس لیے کہ ان کے ماں باپ مارے جاچکے تھے۔ امریکی حکومت نے اپنے مجاہدین کو اس سفاکانہ اور بہیمانہ سلوک پر خدا کی ناراضگی سے بچانے کے لیے فوجی کیمپوں میں پادری مقرر کر رکھے تھے جو اتوار کو ان سپاہیوں کو توبہ و استغفار کراتے تاکہ خدا ان پر کوئی عتاب نازل نہ کرسکے۔ یہ تمام لوگ اپنے آپ کو حضرت مسیح کا پیرو مانتے تھے، جنھوں نے کبھی کسی پر ایک کنکری بھی نہیں پھینکی تھی۔ انھوں نے تمام خطاکاروں کو خدا سے بخشوانے کا ذمہ لے رکھا ہے۔ ان واقعات کو فلموں میں دیکھ کر آدمی کا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ عورتیں ایسی فلمیں دیکھ کر چیخ کر رونے لگتی ہیں۔ ہٹلر کے مظالم کی سچی فلمیں کبھی کبھی ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کے دلوں میں مظلومین کی حمایت کا جذبہ شدت اختیار کرے اور وہ ظالموں کو سزا دینے کو بے قرار رہیں۔
آج کا ایک طالب علم جو ایک روایاتی مذہب سے وابستہ رہتے ہوئے تاریخ کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی حیرت کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ وہ مذہبی اداروں کے ذریعے پیدا کردہ خدا کے تصور سے بیزاری محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ وہ مندر، مسجد، کلیسا اور پگوڈا میں رکھے معبودوں کو اپنے لیے خدا ماننے سے انکار کر سکتا ہے۔ وہ ہرگز ایسے کسی خدا کو معبود تسلیم نہیں کر سکتا جو اپنی مخلوق کو دو حصوں میں تقسیم کرادے اور پھر ایک دوسرے کی تباہی کا خاموش بیٹھا تماشا دیکھتا رہے۔
یورپ میں کلیسائی خدا کی زیر نگرانی جو کشت و خون سینکڑوں سال تک روا رکھا گیا تھا وہ کچھ نیک دل اور انصاف پسند ذہن کے لوگوں کو کسی طرح برداشت نہیں ہوا تو انھوں نے کلیسائی مذہب اور اس کے خدا کے خلاف بغاوت کردی۔ ان میں یورپ میں سترہویں صدی میں ایک سیاہ فام عیسائی مارٹن لوتھر کنگ کا نام سر فہرست ہے، جس نے پاپائے روم کے دیے ہوئے مذہب کے خلاف بغاوت کردی۔ کیتھولک چرچ کے عیسائی جو اکثریت میں تھے انھوں نے اسے قتل کرا دیا۔اس کے بعد اس کے ماننے والوں کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔ اس جہاد میں جرمنی میں وہ لوگ جو پروٹسٹنٹ عقیدہ کے حامی ہوچکے تھے یعنی لوتھر کنگ کے حامی ہوگئے تھے انھیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کرنا شروع کر دیا گیا۔ یہ سارے غریب اور نادار لوگ تھے، جو مضافاتی علاقوں میں رہتے تھے۔ ان کو قتل کرنے سے بھی پاپائے روم کے فرماں برداروں کی تسلی نہیں ہوسکی تو انھوں نے ان کے پالتو جانوروں کو ایک ایک کرکے مار ڈالا ان کے کتے، بلیوں اور مرغی بطخوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔
مبلغین ادیان عالم چاہے وہ زمین کے کسی حصہ میں رہے ہوں انھوں نے ظلم و جبر کی بڑی جاں سوز مثالیں فراہم کردی ہیں۔ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جنھیں فلاسفہ یا مبلغ اخلاق کہا جاتا ہے انھوں نے ہمیشہ ظلم و استبداد کے خلاف آوازیں بلند کیں اور ایسا کرنے میں اپنی جانیں قربان کرنے سے بھی دور نہیں رہے۔ لیکن خدائی مذہب کے ٹھیکیدار انھیں بے دین اور لامذہب کہتے چلے آرہے ہیں۔
بیسویں صدی کے ایک عظیم فلسفی اور ادیب ژان پال سعتر جن کا انتقال ۱۹۸۰ء میں ہوا، ان کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا، جس کی قیمت چودہ لاکھ ڈالر بتائی جاتی ہے انھوں نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ اس طرح کے انعامات سے ادیبوں میں اچھے اور خراب کی تقسیم ہوتی ہے جسے وہ قبول نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ وہ امریکی ادیب مارک ٹو این کو اپنے سے بہتر ادیب مانتے ہیں۔ اس انعام کو قبول کرنے کا مطلب ہے کہ وہ مجھ سے کم تر درجہ کے ادیب تھے۔ یہ ایک اخلاقی جرم ہے، جس کا ارتکاب وہ نہیں کر سکتے۔ یہی وہ نادر زمانہ شخصیت ہے، جس نے الجیریا پر فرانس کے تسلط کو غلط قرار دیا اور خود وہاں جاکر الجیریا کی آزادی کے مسلمان لیڈر کو ایک بلا رقم لکھا ہوا چیک دیا اور اس سے کہا کہ اس میں جو رقم ضروری سمجھے اسے لکھ کر حاصل کرے اور فرانس کے خلاف جنگ کی تیاری میں اس رقم کو استعمال کرے۔ اس عظیم کردار اور بے مثال جرأت حق پسندی کی پوری انسانی تاریخ کوئی اور مثال پیش نہیں کرسکتی۔ ان کی الجیریا سے واپسی پر جنرل ڈیگال کی حکومت نے ان کے نام وارنٹ جاری کیا۔ جب وہ پیرس کے ہوائی اڈے پر اترے تو وہاں ایک پولیس آفیسر وارنٹ کے ساتھ موجود تھا۔ سعتر کی آنکھوں کی روشنی بہت خراب ہوچکی تھی ان کے ایک دوست نے ہاتھ پکڑ کر ان کو سہارا دے کر سیڑھیوں سے اتارا۔ اور اپنی کار میں بٹھا کر ہوائی اڈے سے گھر چلے گئے۔ وہ پولیس آفیسر یہ نظارہ دیکھتا رہا۔ نامہ نگاروں کے سوال کرنے پر کہ اس نے ژان پال سعتر کو گرفتار کیوں نہیں کیا تو اس نے کہا اس کی عظیم شخصیت نے مجھ سے یہ ہمت چھین لی تھی۔ اس واقعہ کو بہ مشکل پچاس سال گزرے ہیں اس کے مقابلہ میں فلسطین اور کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف کسی مسلم یا نام نہاد اسلامی حکومت کے کسی سربراہ عالم دین یا سرمایہ دار نے کبھی ایسی کوئی جرأت جس کو سن کر آپ کا سر بلند ہوگیا ہو، نہیں ظاہر کی۔
ہم اسلام کو امن و سلامتی کا آخری مذہب قرار دیتے ہوئے بے حد فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر تاریخی واقعات ہمارے دعوؤں کا پول کھول دیتے ہیں۔ صرف اس حقیقت کی پردہ پوشی کے لیے ہمارے تمام دینی مدارس میں تاریخ کا پڑھانا ممنوع ہے۔ مشہور اسلامی مورخین جو اسلامی تاریخ کے ہر پست و بلند کی نشان دہی کرتے ہیں ان کی انھیں باتوں کو جن سے ہمارے دعوؤں کو تقویت ملتی ہے ان کو مسلمان معتبر مانتے ہیں جو ہمارے آبا و اجداد اور علمائے دین کے اقوال کے خلاف ملتے ہیں انھیں صرف یہی نہیں کہ قبول نہیں کرتے بلکہ مورخ کو جھوٹا اور رافضی قرار دے کر اپنا دامن بچا لیتے ہیں۔ ہمارے ائمہ اور علماء اسلامی مورخین میں ابن ہشام، واقدی، طبری، بیہقی، بلاذری، ابن سلاّم اور ابن کثیر کی صرف ان روایات کو صحیح مانتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنے عقائد کو صحیح ثابت کرسکیں۔ علاوہ ازیں سب کچھ کولا تأمل اور یاوہ گوئی قرار دیتے ہیں۔ آئیے مورخین کے بعد محدثین کی طرف رخ کرتے ہیں:
مورخین اپنے ریکارڈ بنانے میں واقعات کو نقل کرتے وقت کسی خاص فرقہ، طبقہ یا عہدے اور اختیار والے ذرائع کو اس وقت تک معتبر قرار نہیں دیتے جب تک خود ان کی عقل سلیم اسے درست ماننے کو تیار نہیں ہوتی۔ مورخین میں صرف وہی لوگ معتبر سمجھے جاتے ہیں جو ہر طرح کی عصبیت سے پاک ہونے کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں عبد الرحمن ابن خلدون کا نام بہت معتبر سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی محدثین کی صف میں ایسے لوگوں کی تلاش فضول ہے اس لیے کہ وہ جو کچھ جمع کرتے ہیں اس میں ان کے ذاتی عقائد کا دخل لازمی ہوتا ہے۔ کوئی غیر مسلم محدث نہیں ہوسکتا۔ عہد رسالت میں مکہ اور مدینہ میں اور ان کے اطراف میں یہودی اور عیسائی علما موجود تھے۔ وہ لوگ بھی تھے جو محمد رسول اللہ کے کردار اور ان کی امامت کی خوبیوں سے واقف تھے وہ اگر کچھ لکھتے یا انھوں نے اگر کچھ لکھا ہے تو کوئی مسلمان اس کو قول رسول ہرگز تسلیم نہیں کرے گا۔
کہا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ نے خود اپنے اصحاب کو منع کر دیا تھا کہ وہ ان کے کسی قول کو قلم بند نہ کریں اس لیے کہ بعد میں آنے والے لوگ اس کو قرآن کا ہم پلہ قرار دے سکتے ہیں۔ لہٰذا جو قول بھی عہد ابوبکر صدیق میں کسی نے لکھ رکھا تھا اسے حضرت عمر نے طلب کرکے نذر آتش کرا دیا۔ اور لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ تم لوگ بھی اہل کتاب یعنی یہودیوں کی طرح مشناۃ بنانا چاہتے ہو۔ یہودی عالموں نے تورات سے الگ یہ کہہ کر ایک کتاب تیار کر دی تھی جس کے بغیر ان کے نزدیک تورات کا سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ آج بارہ سو سال سے یہی بات مسلمان علمائے دین کہتے چلے آرہے ہیں کہ حدیث کے مطالعہ اور تفہیم کے بغیر قرآن کا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ناممکن ہے۔ کوئی بھی اسلامی فرقہ اسے غلط قرار نہیں دیتا۔ بعض علما اور ائمہ دین جیسے امام اوزاعی اور امام یحییٰ بن کثیر کا یہ عقیدہ ہے کہ احادیث کو قرآن پر فوقیت حاصل ہے نہ کہ قرآن کو احادیث پر۔ حالاں کہ عہد صحابہ کے بعد بھی ایک عرصہ تک مسلمان تابعین کتابت حدیث کے قائل نہ تھے۔ ہمارے علما کے نزدیک صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں پیش کردہ احادیث کو ان کے محدثین نے کئی لاکھ احادیثوں میں سے اپنی صواب دید کی بنیاد پر نقل کیا ہے پھر بھی امام مسلم نے چھ سو پندرہ ایسے لوگوں سے روایت قبول کی ہے جن سے امام بخاری نے روایت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ شاید وہ ان پر اعتبار نہیں کرتے تھے۔ اسی طرح امام بخاری نے چار سو چونتیس ایسے اشخاص سے روایت کیا ہے جنھیں امام مسلم نے قابل اعتبار نہیں سمجھا۔ 

URL for Part-1: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL for Part-6: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

URL: https://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-7/d/9668

 

 

Loading..

Loading..