New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 08:27 PM

Books and Documents ( 11 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 6

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

تاریخ اسلام عہد رسالت کے بعد (ایک مختصر جائزہ)
محمد رسول اللہ کی غیر موجودگی میں حاکم وقت کے انتخاب کا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ چوں کہ مدینہ میں بہت سے لوگ اس فضیلت کے امیدوار تھے اور اندیشہ تھا کہ اگر یہاں کے لوگوں کو غلبہ حاصل ہوگیا تو مکہ کے قریشیوں کے ہاتھ شاید آئندہ خالی رہ جائیں اس لیے چند گھنٹوں میں ہی حضرت ابوبکر کی خلافت کا اعلان ان کے حامیوں نے کر دیا۔ یہ واحد ایسے شخص تھے جن کو مکہ اور مدینہ کے لوگ محمد رسول اللہ کا سب سے معتبر راز دار، دوست اور حامی سمجھتے تھے۔ محمد رسول اللہ کے بعد دور دراز کے محکوم اور مغلوب علاقوں میں اسلامی حکومت کے خلاف بغاوتیں شروع ہوگئیں۔ حضرت ابوبکر نے بلاتاخیر ان بغاوتوں کو ختم کرنے کی مہم شروع کر دی۔ ان کے اس اقدام کی کسی نے مخالفت نہیں کی اس لیے کہ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کو شکست اور بدحالی کے دن دوبارہ دیکھنے کو ملیں۔ لہٰذا سب نے مل کر ان بغاوتوں کے خاتمہ میں حضرت ابوبکر کی مدد کی جس کا نتیجہ اسلامی مجاہدین کی کامیابی میں نظر آیا۔
مسلمانوں کو یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ محمد رسول اللہ کے بعد اب نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی وحی نازل ہوگی۔ اب مسلمانوں کو مر جی کر قرآن اور سیرت رسول سے تقویت حاصل کرنی ہوگی، جو کچھ ہدایات ان کے لیے آسمان سے آنی تھیں وہ آچکی ہیں۔ اب اس کے علاوہ اگر کچھ باقی رہ گیا ہے تو وہ ان کے امیر یعنی خلیفۃ المسلمین کی بصیرت اور عقل پر منحصر ہوگا۔ ان پر ان کی فرماں برداری اسی طرح واجب قرار دی گئی جس طرح قرآنی احکامات کی تھی۔ امیر المومنین پر واجب تھا کہ وہ جو بھی حکم جاری کریں وہ کتابِ الٰہی اور سنت رسولِ عربی سے اختلاف کرنے والا نہیں ہونا چاہیے۔ قرآنی آیات میں چوں کہ ذو معنی آیات کی کمی نہیں ہے اس لیے امیر المومنین کے لیے اس بات کی گنجائش باقی رہی کہ وہ حسب ضرورت ان کی تاویل کرکے حق بجانب ہونے کا دعویٰ کرتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی کتاب جس میں بیان کردہ اصول اور احکامات کے منفی اور مثبت دونوں پہلو نکلتے ہوں تو اس کے تابع کو کسی اور وضاحت کرنے والی کتاب یا ہادی کی ضرورت کیوں محسوس ہوگی۔ قرآن میں اعلان ہے کہ تقدیر ہی سب کچھ ہے۔ جو کچھ ہونا ہے وہ پہلے سے لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ کسی سے کچھ بھی ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ اللہ کی منشاء اور اس کے حکم کے بغیر نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہی ذمے دار ہوگا۔ اس کو اپنے سارے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا کہ اللہ کسی پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ غرض یہ کہ ایک طرف سے آدمی اگر مجبور ہے تو دوسری طرف سے آزاد ہے۔ ایک طرف سے حاکم ہے تو دوسری طرف سے محکوم ہے ایسے بیانات کی روشنی میں اب کسی اور کتاب ہدایات کی ضرورت کا امکان باقی نہیں رہتا۔ حالاں کہ قرآن میں خود وضاحت سے اس کے آخری ہدایت نامہ ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ مسلمانوں کو اس کا یقین دلانے کے لیے یہ بتایا جاتا ہے کہ دین اسلام جو دین الٰہی ہے جب اس کی تکمیل کا اعلان رسولِ عربی کے ذریعے کرا دیا گیا تو اس کا مطلب صاف ہے کہ اب نہ رسول کی ضرورت ہے اور نہ کتاب ہدایت کی۔
ایک دوسری آیت جس میں کہا گیا ہے کہ ’’حق آگیا باطل غائب ہوگیا‘‘ اس سے بھی مراد لے کر یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ قرآن نے باطل کا خاتمہ کر دیا۔ اب باطل کے سر بلند ہونے کا تاقیامت امکان نہیں رہا۔ اہل عرب کو بھی اپنے عقیدہ کے تحفظ کے لیے ایسے اعلان کی اشد ضرورت تھی۔ 
توحیدِ الٰہی میں ایمان کی جو شرائط تورات اور انجیل میں ہیں وہ ہی ابتدا میں قرآن میں بھی تھیں جو بعد میں یہودیوں، عیسائیوں سے مسلمانوں میں فرق کرنے کے لیے مدنی قرآن میں بدل دی گئی ہیں۔ اب سوال صرف علاقائی لسانی اور نسلی امتیاز کا رہ جاتا تھا۔ قرآن نے گرچہ نسل آدم کو بلا امتیاز نسل و رنگ ایک واحد امت قرار دیا ہے مگر اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ ابن آدم میں کبھی نہیں رہا۔
عربوں کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ قرآن عربی میں ہے اور آخری پیغمبر عرب ہے۔ ہمارے ہندوستانی علماء میں سبھی اس بات کے قائل ہیں کہ عربی زبان خدا کی محبوب ترین زبان ہے لہٰذا اگر خدا سے کوئی دعا کرنی ہو تو اس کے لیے عربی زبان کو ہی اختیار کرنا چاہیے۔ یہ قول علمائے اسلام کا ہے نہ کہ خدائے رب العالمین کا۔ خواجہ کمال الدین جنھوں نے انگلینڈ میں اپنا تبلیغی مشن قائم کیا تھا انھوں نے عربی کو ام اللسان قرار دے کر ایک کتابچہ بھی اپنی اسناد کے ساتھ لکھ دیا۔ حالانکہ قرآن میں اس کا کہیں اشارہ تک نہیں ملتا کہ عربی زبان کو دوسری زبانوں پر فضیلت حاصل ہے۔ لیکن ہندوستانی اسلام میں اوراد و وظائف کی ساری مشق عربی میں ہی کرائی جاتی ہے۔ جس طرح برہمنوں اور یہودیوں نے اپنی برادری کو خدا کی محبوب ترین قوم قرار دیا ہے اسی طرح مسلمانوں نے عربی کو خدا کی محبوب ترین زبان قرار دیا ہے۔ بیسویں صدی کے نامور مورخ نائنؔ بی نے لکھا ہے کہ نسلی امتیاز کا عقیدہ دنیا میں یہودیوں اور برہمنوں کی ایجاد ہے۔ عربوں نے بھی یہی کام کیا ہے۔ مگر اس کے لیے دوسرے لفظ کا استعمال کیا ہے۔ انھوں نے خاندان پیغمبر کے افراد کو خدا کے محبوب ترین اور معزز ترین افراد قرار دیا ہے۔ انھیں اس امتیاز کو ظاہر کرنے کے لیے سادات، کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں پر جہنم کی آگ کو حرام قرار دیا۔ دوسرے مسلمانوں سے ان کو افضل قرار دیا گیا، یہاں تک کہ ہندوستان میں مسلم پرسنل لاء کے آئین میں مسلمانوں کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ آئین کہتا ہے کہ مسلمان دو طرح کے ہوتے ہیں ایک سید اور دوسرا غیر سید۔ اور سید کبھی کسی غیر سید کا کفو نہیں ہوسکتا، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ غیر سید کسی سید کی بیٹی کا شوہر نہیں ہوسکتا۔ یہ قانون نہ قرآن کا ہے اور نہ رسول کا۔ یہ کسی امیر المومنین کا فرمان ہو سکتا ہے۔ آج پندرہ سو سال بعد بھی کوئی عرب سید لڑکی کسی غیر سید یا غیر عرب سے شادی نہیں کرسکتی۔
یہودی ہونے کے لیے تورات یا حضرت موسیٰ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے حضرت یعقوب کی نسل سے ہونا یعنی اس کا بنی اسرائیل ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح ویدوں میں یقین کرنے سے کوئی برہمن نہیں ہو سکتا، اس کے لیے اسے برہمن کی اولاد ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح کلمہ پڑھ کر ایک شخص مسلمان تو ہو سکتا ہے مگر سید نہیں ہوسکتا۔ سید ہونا یا بنی اسرائیل سے ہونا اور برہمن ہونا تقدیر سے ہوتا ہے۔تدبیر سے ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔
قرآن میں اس فضیلت کو اس آیت سے اخذ کرلیا گیا ہے، جس میں محمد رسول اللہ سے کہلایا گیا ہے کہ مسلمانوں سے کہو کہ میں اپنی تبلیغی محنت کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا سوا اس کے کہ تم ’میرے‘ قرابت داروں سے محبت کرو۔ خاندانی برتری کو قرآنی اعلان بتانے کے لیے اس آیت میں ’میرے‘ کا مفہوم بڑھا دیا گیا جب کہ قرآن کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے۔ اس آیت سے خاندان رسول کے ہر فرد کی افضلیت ثابت قرار پاتی ہے۔ محمد رسول اللہ کی زندگی میں نسلی امتیاز یا برتری کے کسی دعویدار کا پتا نہیں ملتا۔ پھر بھی قریشیوں پر ہاشمیوں کو اور مکہ والوں کو مدینہ کے انصار پر فضیلت دی جاتی ہے اور وہ اسی احساس کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے اور آج بھی کرتے ہیں۔ محمد رسول اللہ نے تو اس امتیازی احساس کو ختم کرنے کے لیے اپنے اصحاب کو اور اپنے جان نثاروں کو ہدایت دی تھی کہ اللہ کے کسی رسول یا نبی کو کسی دوسرے نبی یا رسول پر کسی طرح کی فضیلت نہیں دینا چاہیے۔ ان کا یہ قول قرآنی حکم کی تکرار تھا۔ لیکن اس پر مسلمانوں نے ذرا بھی توجہ نہیں دی۔ جس طرح مسلمانوں نے عربی زبان، خانہ کعبہ کی مٹی، اور مکہ کے پہاڑوں کو مقدس بنا دیا تھا تو لازمی تھا رسول عربی کو دیگر تمام رسولوں اور نبیوں کا امام قرار دیں۔ انھوں نے بہت ساری کہانیاں اور حدیثیں وضع کردیں جس کی رو سے رسولِ عربی کا امام المرسلین ہونا ثابت کر دیا گیا۔ یہاں تک کہا گیا کہ روز ازل انبیاء کی جماعت نے یہ تمنا ظاہر کی تھی کہ ان کو رسول عربی کی امت میں شامل ہونے کا شرف بخشا جائے مگر خدا عزوجل نے حضرت عیسیٰ کے علاوہ سب کی درخواستیں رد کردیں۔ چوں کہ عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ حضرت عیسیٰ دوبارہ اس زمین پر حکومت الٰہیہ کے قیام کے لیے نازل کیے جائیں گے اور قرآن نے کہا ہے کہ ان کو موت نہیں آئی وہ مصلوب نہیں کہے جاسکے بلکہ ان کی شبیہ کو مصلوب کیا گیا اس لیے عاشقانِ رسول عربی یہ تو نہیں کہہ سکے کہ حضرت عیسیٰ نہیں آئیں گے لیکن عیسائیوں کو تکلیف پہنچانے کے لیے یہ کہنا ضروری سمجھا کہ جب وہ آئیں گے تو امت محمدیہ میں شامل ہوں گے اور شریعت محمدی کے پابند ہوں گے۔ اپنی اس غرض کی تکمیل کے لیے رسول اللہؐ سے منسوب حدیث وضع کرلی گئی۔ یہ سب اسی فطرت کا تقاضا ہے جو ہم سے ’پدرم سلطان بود‘ کی تسلی کا جھوٹا اعلان کرا کے ہمارے دوسروں سے اعلی اور افضل ہونے کی خواہش کی تکمیل کرتی ہے۔
عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا کے اوتار تھے، ان کے اور خدا کے درمیان فرق کرنا کیتھولک چرچ میں کفر ہے۔ چوں کہ وہ بلا انسانی باپ کے اس دنیا میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے ان کو خدا کا بیٹا بھی کہا جاتا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ حضرت مریم کو خدا کی بیوی سمجھا جائے چوں کہ خدا کی روح کے ذریعے حمل قرار پاکر پورے انسانی وجود کی شرائط کے ساتھ وہ پیدا ہوئے تھے، اس لیے خدا کو ان کا باپ تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ اب عیسیٰ اور خدا کی اس قربت کا جواب یہ تھا کہ خدا نے رسول عربی کو اپنے پاس یا اپنے گھر بلایا ان کی ضیافت کی ان سے بہت ساری ذاتی گفتگو کی ان کو دوزخ اور جنت کے ہر گوشہ سے واقف کرایا پھر ان سے ان کے ماننے والوں کے گناہوں کو معاف کردینے کا وعدہ کرکے واپس بھیج دیا۔ اس کہانی میں یہ سب تو بتایا گیا کہ وہ براق پر لے جائے گئے۔ ہر فلک پر مقرر پیغمبروں سے ان کا تعارف کرایا گیا مگر کس طرح ان کی واپسی ہوئی اگر براق پر مکہ واپس آئے تو براق کو کہاں اتارا گیا اور اسے پھر واپس کہاں بھیجا گیا۔ اس کا ذکر نہیں ملتا صرف زمین سے آسمان تک جانے کی تفصیلات کا جگہ جگہ مختلف حدیثوں کے حوالے سے ذکر کیا گیا۔ جب کہ ان کی سب سے عزیز بیوی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ شب معراج رسول اللہ اپنی بیوی اُم ہانی کے پاس تھے۔ اسی بنیاد پر علامہ سید احمد خاں نے اپنی تفسیر قرآن میں رسول اللہ کی معراج کو روحانی قرار دینے کو معقول سمجھا۔ لیکن عام مسلمانوں نے اس کو ان کی جدت قرار دے کر ان کی تفسیر کو ہی مسترد کر دیا۔ تمام علمائے اسلام نے یک زبان ہوکر سرسید کو خبطی قرار دے کر ان کی تفسیر کی خریداری اور اس کے مطالعہ کو مذموم قرار دیا۔ نتیجہ کے طور پر سید احمد خاں کی تفسیر بازار میں شاید کہیں گری پڑی مل جائے، لیکن کسی اسلامی مدرسہ میں اس کا پایا جانا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے وہاں بائبل اور تورات کی موجودگی۔ افسوس ہے کہ یہ تفسیر صرف ۱۷ پاروں تک ہی پہنچ پائی تھی کہ علامہ انتقال کرگئے۔ ابو الکلام آزاد اس کے مطالعہ سے بہت متاثر تھے۔
کسی بھی طرح کے عقیدہ میں جب جمود پیدا ہو جاتا ہے اور لوگ عقل کو بالائے طاق رکھ کر اس کی بندگی اور غلامی کی قصیدہ گوئی میں مبالغہ کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو انقلاب سر بلند کر دیتا ہے۔ کوئی صاحب عقل و دانش اپنی جان پر کھیل کر اصلاح قوم کا علم بلند کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ لوگ تاریکی کو روشنی اور پستی کو بلندی سمجھ کر اس کی تعریف میں غرق ہوجائیں اور وہ خاموش تماشائی بنا سب کچھ دیکھتا رہے۔ تمام عالم میں مصلحین قوم و ملت کو خود اپنے معاشرہ کے لوگوں کے ذریعے بڑی اذیتیں پہنچیں مگر وہ اپنے نیک ارادوں کو ترک کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ انھیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ قرآن میں ایسے نبیوں کا ذکر موجود ہے، جن کو ان کی قوم نے صرف اس لیے قتل کر دیا کہ وہ انھیں گمراہ بتا کر راہ حق کی طرف بلا رہے تھے۔ لہٰذا قوم کے سر برآوردہ لوگوں کو یہ بات کب گوارہ ہوسکتی ہے کہ کوئی معمولی آدمی کھڑا ہوجائے، اور اپنے ہی آباواجداد پر گمراہی کے الزام لگائے۔ اور خود کو راہِ حق کا امام بتائے۔ سب سے قریب تر واقعہ حضرت عیسیٰ کے مصلوب کردیے جانے کا ہے۔ اس سے قبل یونان میں سقراط کو صرف اس لیے زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا گیا کہ وہ لوگوں کی اصلاح کرنے کا عزم کرکے انھیں راہِ حق کی طرف مدعو کر رہا تھا۔ اس دنیا میں عوام کی بھلائی چاہنے والوں کے دشمنوں کی سازشیں کبھی کمزور نہیں پڑتیں۔ مارٹن لوتھر کنگ، ابراہیم لنکن، میلکام ایکس، گاندھی اور اولاف پالمے کا قتل اس کی شہادت کے لیے موجود ہے۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL for Part-5: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-6/d/9651

 

 

Loading..

Loading..