New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 09:50 PM

Books and Documents ( 9 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 5

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

مدنی اسلام
مدینہ میں چار سال کے اندر محمد رسول اللہ کی رہنمائی میں جب مسلمانوں کو یہ یقین ہوگیا کہ آسمانی طاقت ان کا ساتھ دے رہی اور ان کی معاشی حالت بہت بہتر ہوچکی ہے اور ان کے مقابلہ میں کوئی جنگ کرنے کو اب تیار نہیں ہے بلکہ ان کی محض پیش قدمی کی دھمکی سے ان کی شرط پر صلح کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو اب اپنی مرضی سے حکمرانی کے اصول مرتب کرلینے میں کوئی دشواری نہیں آئے گی، تو قرآن کی وحی کا لہجہ اور مقصود بدل گیا۔ اس طرح ہم قرآن کو اور اس کے مشن کو دو حصوں میں تقسیم پاتے ہیں۔ پہلا حصہ مکی ہے، جس کی مدت کم و بیش ۱۳ سال کی رہی۔ یہاں بقائے باہمی کا اصول لکم دینکم ولی دین تھا۔ اس لیے کہ یہاں مسلمان بہت مختصر سی تعداد میں تھے۔ اپنے مخالفین سے جنگ کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اس کے بعد یعنی مدینہ میں چار سال کے اندر ان کی حیثیت حاکم وقت کی ہوگئی تو اب دشمنوں کے صفایا کا وقت آچکا تھا۔ اب انتقامی کارروائی میں شکست اور ذلت کا سامنا کرنے کے امکانات کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ اس لیے مخالفین کے خلاف اعلان جنگ میں دیر کرنے کی مصلحت کا کوئی مطلب نہیں تھا۔ قرآن کی متواتر وحیوں میں دشمنانِ اسلام کا جہاں کہیں بھی ہوں یعنی مکہ اور مدینہ کے اطراف و جوانب میں ان کا خاتمہ لازمی قرار دیا گیا۔
اسلام جس کا ایک مفہوم سلامتی اور امن و آشتی سے زندگی بسر کرنا تھا وہ معنی اب خدا کی ، اس کے رسول کی اور اس کی کتاب کی غیر مشروط بندگی قرار دیا گیا۔ پہلے ایمان کا مطلب صرف بلا شرکت غیرے اللہ کو معبود تسلیم کرلینا تھا وہ بھی بدل دیا گیا۔ اللہ کی عبادت کے ساتھ اس کے رسول کے احکام کی پیروی بھی عین خدا کی فرماں برداری قرار دی گئی۔ یہی نہیں ناموس رسول کی حفاظت میں جان کی قربانی نہ دینے والے کو ناقص ایمان کا حامل قرار دے دیا گیا۔ 
الغرض جیسے جیسے عربی اسلام کو سیاسی اور اقتصادی برتری حاصل ہوتی گئی، قوانین میں تبدیلیاں اور ترمیمات رونما ہوتی گئیں۔ قرآن میں ’محکم‘ اور متشابہ مفہوم کی آیات کا نزول ہونے لگا جس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ ایسا مسلمانوں کے ایمان کی آزمائش کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہی نہیں پہلے نازل ہوئی آیات میں مدینہ کی ضرورت کے تحت ناسخ آیات بھی نازل کر دی گئیں۔
ابتدا میں قرآنی آیات کے ذریعے یہود و نصاریٰ کے ایمان کی آزمائش ہو رہی تھی۔ تورات اور انجیل کے احکامات سے انحراف پر ان کی گرفت ہو رہی تھی۔ انھیں خدا سے معاہدہ شکنی کا مجرم قرار دیا جا رہا تھا۔ بعد میں جب مسلمان اقلیت سے اکثریت میں آگئے تو ان کے ایمان کی آزمائش ہونے لگی۔ کفار اور مشرکین کا عرب کی سر زمین سے خاتمہ کر دینے کے بعد اب مسلمانوں میں ہی ایک نئی جماعت نمودار ہوگئی۔ یہ وہ لوگ تھے جو خوف یا لالچ کی وجہ سے مسلمان ہوئے تھے۔ یہ لوگ دل سے محمد رسول اللہ کے نہ تو مداح تھے اور نہ ان کی خاطر جان قربان کرنے والے سمجھے جاتے تھے۔ بظاہر مسلمان ہونے کی دیگر شرائط پوری کر رہے تھے اس لیے ان کا قتل یا ان کے خلاف انتقامی کارروائی کو مصلحتاً مناسب نہیں سمجھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت میں قرآن میں سورہ توبہ جو آخری وحی کا بڑا حصہ ہے وہ نازل کردی۔ ایسے لوگوں کی سزا جہنم کے سب سے نچلے میں قرار دے دی گئی۔
۱۷ سال تک منصب رسالت اور تقریباً ۶ سال تک منصب حاکمیت پر قائم رہ کر محمد رسول اللہ کا انتقال ہوگیا۔ آخری حج میں اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے فرمایا تھا کہ خدا نے تمھارے لیے دین اسلام کو مکمل کر دیا۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ اب قرآنی وحی کے نزول کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہی کتاب اب مسلمانوں کے لیے ہمیشہ کے لیے کتاب ہدایت رہے گی۔ اس اعلان کے کچھ ہی دنوں بعد ان کا ایک مختصر سی علالت کے بعد ۶۳ سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اس وقت سرزمین عرب میں مسلمانوں کی سلطنت قائم ہو چکی تھی اور مدینہ اس کا دار الحکومت بن چکا تھا۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL for Part-4:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592

 

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-5/d/9623

 

 

Loading..

Loading..