New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 11:28 PM

Books and Documents ( 7 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 4

 

 

آفاق دانش، نیو ایج اسلام

مذہبِ قرآن
حضرت عیسیٰ کے ۵۷۰ سال بعد محمد بن عبد اللہ نے مکہ میں خدا کے پیغمبر ہونے کا اعلان کیا اور اس کے بعد وحی کے ذریعے سے ملے ہوئے پیغامات ربانی کی تبلیغ شروع کردی۔ یہ تبلیغ بنیادی طور پر بت پرستی کے خلاف تھی۔ مکہ میں کچھ موحد خاندان بھی تھے جو صرف ایک خدا میں یقین رکھتے تھے اور اسی کی پوجا بھی کرتے تھے ان میں کچھ تورات اور انجیل کے ماننے والے بھی تھے لیکن اکثریت بت پرستوں کی تھی۔ کہتے ہیں کہ کعبہ جو ایک چوکور احاطہ تھا وہاں ۳۶۵ بت رکھے ہوئے تھے یہ تعداد شاید اس لیے لکھی گئی ہے کہ ایک سال میں اتنے ہی دن ہوتے ہیں۔ بعض جگہ ان کی تعداد ۳۶۰ لکھ دی گئی۔ لکھنے والوں کے پاس یہ خبر تھی کہ کعبہ میں ہر دن کے لیے ایک خاص بت کی پوجا کا رواج تھا۔ اسی لیے انھوں نے اپنے حساب سے بتوں کی تعداد لکھ دی تھی جس پر بحث کرنا فضول ہے۔
محمد رسول اللہ کا اپنا کہنا یہ تھا کہ ان کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے جو ان سے کہتا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ جبرئیل ہوں۔ اس کے دیے ہوئے پیغام لایا ہوں، ان پیغامات کو وہ عربی زبان میں دہراتا ہے۔ اس کے پیغام کو مکہ اور اس کے اطراف میں پہنچانے کی ذمہ داری اب ان کے سپرد کی گئی ہے۔
نزولِ وحی کے شروع ہونے کے بعد محمد رسول اللہ نے تقریباً تیرہ سال تک وحی الٰہی کی تبلیغ مکہ کے لوگوں میں جاری رکھی مگر اس سے بہت کم لوگ ان کے ہم خیال ہوسکے۔ بیشتر لوگ ان کے مخالف تھے۔ اس کی خاص وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک خدا کی پوجا کرنے سے مکہ کے مذہبی کاروبار سے کعبہ کے مجاوروں اور تاجروں کو جو مسلسل آمدنی تھی اس کے ختم ہوجانے کا اندیشہ تھا۔ شروع شروع میں جو آیات قرآنی نازل ہو رہی تھیں ان میں اکثر خدائے واحد کی اپنی قدرت اور حکمت کا بیان ہوا کرتا تھا۔ اس کی غرض بتوں کی پرستش کو بے معنی قرار دینا تھا۔ بتوں کی عبادات کے رسوم اور قیود اکابر مکہ نے قائم کر رکھے تھے ان کی غرض زائرین مکہ سے ہر طرح کا فائدہ اٹھانا تھا۔ اس کی زندہ مثال ہندوستان میں مسلمانوں کی درگاہیں، ان کے متولی اور مجاوروں کے کاروبار ہیں۔ جو کچھ مکہ میں پندرہ سو سال پہلے ہو رہا تھا اس کے لیے تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اجمیر اور دہلی میں بزرگانِ دین کے مزاروں پر جاکر کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ بت پرست ہندوستانی آج بھی بہت عالیشان مندر بنا کر لاکھوں اور کروڑوں روپے سالانہ کما رہے ہیں۔ مسلمان یہی کام ایران اور عراق میں شہدائے کربلا اور نجف کے مزارات اور زیارت گاہوں پر سینکڑوں سال سے کرتے آرہے ہیں۔ہندوستان میں بت پرستی کی مخالف ایک برادری ہے جسے آریہ سماج کہتے ہیں۔ مگر ان کی تبلیغ میں عام ہندو کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ سبب وہی ہے جو مکہ میں ابو جہل اور ابو سفیان اور ان کے خاندان والوں کو عزیز تھے۔
توحید الٰہی کے تبلیغی مشن کی ناکامی اور کفار اور مشرکین مکہ کی شدید مخالفت سے تنگ اور مایوس ہوکر محمد رسول اللہ نے مدینہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ وہ مدینہ کے لوگوں سے اچھی طرح واقف تھے وہاں خدا پرستوں کی اکثریت تھی۔ یہود و نصاریٰ جو خدائے واحد کے پرستار تھے ان کو قرآن کے نزول میں اپنے لیے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ انھوں نے محمد رسول اللہ کے قیام مدینہ کی کوئی مخالفت نہیں کی بلکہ تعاون کا اظہار کیا۔
محمد رسول اللہ کا مدینہ میں تقریباً ۱۰ سال قیام رہا۔ اس دوران قرآن کے تبلیغی مشن کو برابر تقویت ملتی رہی۔ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ جب ان کی تعداد کئی سو ہوگئی تو تبلیغی طرزِ عمل میں زبانی کاروبار کے علاوہ جنگجویانہ طریقہ اختیار کیا جانے لگا۔ اس کا جواز یہ تھا کہ اس اخلاقی مشن کے لوگوں کو ان کے دشمنوں نے اذیتیں دینے کے علاوہ انھیں بے یار و مددگار پاکر ان کا قتل بھی کر دیا تھا۔ ایسی صورت کو ناقابل برداشت تصور کیا گیا اور پھر مسلمانوں کو مسلح ہونے کے لیے آمادہ ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں پہلے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس شکست سے سبق حاصل کرکے آئندہ جنگی منصوبے بہت اچھی تیاری اور دانش مندی سے کیے جانے لگے تو شکست فتح میں تبدیل ہونے لگی۔
مکہ اور اس کے اطراف میں لوگ قبیلوں میں رہا کرتے تھے۔ آسائش زندگی کے لیے اسباب بہت کم تھے۔ زندگی کے کاروبار میں سب سے اہم حصہ جانوروں کی تجارت تھا۔ جس کے پاس جتنے زیادہ جانور ہوتے وہ اتنا ہی امیر ہوتا تھا۔ اکثریت جاہل غریب لوگوں کی تھی، جو امیروں کی غلامی اختیار کرکے زندگی بسر کرتے تھے۔ ایک وقت پھر ایسا آگیا کہ اونٹ، گھوڑے گائے، بیل اور بھیڑ بکریوں کی جتنی تعداد جس کے پاس ہوتی اس کو اسی کے تناسب سے غلاموں کی ضرورت ہوتی تھی۔ مکہ میں مسلمانوں سے بہت پہلے بتوں کی زیارت کے لیے اور منتوں کے نذرانے ادا کرنے والے یمن کے راستہ حبشہ جو افریقہ میں عیسائی بادشاہوں کا مرکز تھا وہاں سے اور آج کے صومالیہ سے جو امیر لوگ مکہ آتے تھے وہ یمن کے راستہ سے ہی آتے جاتے تھے۔ سمندر سے افریقہ سے یمن کا راستہ کشتی کے ذریعے شاید اس زمانے میں بھی ایک دن سے کم ہی کا رہا ہوگا۔ یمن میں ملکہ سبا کی حکومت کے آثار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس وقت یہ ایک مہذب اور ترقی یافتہ ملک تھا جس کی شہادت وہاں کے آثار دے رہے ہیں۔ بائبل میں اور پھر قرآن میں بھی حضرت سلیمان کے عہد میں اس ملکہ کی سلطنت کا ذکر ملتا ہے۔ افریقہ کے سیاہ فام افریقی انسانوں سے جانوروں کا کام لیا جاتا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ان کو زبان سکھائی جاسکتی تھی اور پھر انھیں جاں نثاری کے لیے آمادہ کرلیا جاتا تھا۔ یہ کام کسی جانور سے نہیں لیا جاسکتا تھا۔ اس دور میں ان سیاہ فام انسانوں کے ساتھ کیے جانے والے ظالمانہ سلوک کی تصویریں دیکھنی ہوں تو امریکہ میں افریقہ سے لے جائے گئے سیاہ فام غلاموں کی زندگی کی فلمیں اور تصویریں دیکھیں تو دوسرے لوگوں یا تاریخ دانوں سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہ جائے گی۔
عرب میں غلاموں کے ساتھ نہایت ظالمانہ اور جابرانہ سلوک سراسر جائز قرار دیا گیا تھا۔ نافرمانی پر انھیں قتل کرنے پر بھی کوئی پابندی نہیں تھی۔ محمد رسول اللہ نے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے خود دیکھا تھا جسے وہ بہت غلط اور برا سمجھتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے اپنے خدا کی سلطنت میں ایسے برے سلوک پر پابندی عائد کر دی۔ اور اپنی جماعت کو دین الٰہی میں تمام انسانوں کو مساوی حقوق اور اپنے اختیار والی جماعت قرار دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار مکہ کے لیے غلام کم پڑنے لگے۔ مسلمان امیروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ غلام خرید کر انھیں آزاد کریں تاکہ وہ مسلمان ہوکر اسلامی قوت میں شریک ہوسکیں۔ اور اس طرح اسلامی برادری میں اضافہ ہوسکے۔ اس طریقہ کار سے خاطر خواہ فائدہ ہوا۔
مدینہ میں اسلامی مشن کے قیام کے بعد جب مسلمانوں کی تعداد کافی ہوگئی تو دعوت توحید کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف مسلح جہاد کا اعلان کرنے کا حکم قرآنی آیات میں نازل ہوگیا، جس کی رو سے ہر مسلمان نوجوان پر رسول کے حکم پر مصلح جہاد میں شرکت واجب قرار پائی۔ مسلمانوں میں کچھ لوگ جن کو مسلح جہاد میں شرکت کا حوصلہ نہیں تھا یا جو کشت و خون سے ڈرتے تھے یا اسے برا سمجھتے وہ ایسے جہاد میں شریک نہ ہونے کے لیے کچھ عذر پیش کرکے گھر میں بیٹھ جاتے تھے۔ پھر ایسے لوگوں کو جن کے عذر مشکوک سمجھے جاتے تھے ان کو منافق کہا جانے لگا۔ محمد رسول اللہ نے ان مذہبی غزوات میں شریک ہونے والوں کو یہ شرف بخشا کہ دشمن کو شکست دینے کے بعد ان کے مال و متاع پر ان کا پورا حق ہوگا۔ اس اختیار کے بعد نادار شرکاء جہاد کی مالی حیثیت بہتر ہونے لگی۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی حکم دیا گیا کہ جنگی قیدیوں میں سے عورتوں، بوڑھے لوگوں اور بچوں کو چھوڑ کر نوجوانوں کو قتل کر دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ منظم یا غیر منظم طور پر مسلمانوں کے خلاف مورچہ نہ بناسکیں ان کی عورتوں کو اپنی ملکیت میں باندیوں کا درجہ دیں اور بچوں کو اپنی غلامی میں رکھیں تاکہ وہ بڑے ہوکر کام آئیں اور مسلمان بن جائیں۔ اس ایک طرح کے آسمانی فرمان سے مسلح جہاد ایک مقدس فریضہ بن گیا جس سے ہر طرح کا معاشی اور سیاسی نفع ہونے لگا۔ آج کچھ لوگ اُسی عہد و احکام کی واپسی کے تمنائی بن کر خونی جہاد کے علم کو لیے کمر اور سینوں پر بم باندھے خود بے گناہ لوگوں کے قتل کو جہاد اسلامی کی بنیادی ضرورت قرار دے رہے ہیں۔
مسلمان اب ہر اعتبار سے ایک طاقت ور جماعت بن چکے تھے۔ مدینہ میں رہنے والے بہت سے عیسائی اور یہودی مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی طاقت سے مرعوب ہوکر مسلمان ہوگئے اور جو ایسا کرنے کو راضی نہیں ہوئے انھوں نے ہجرت کرنے کو بہتر سمجھا۔ مدینہ سے نکل کر پڑوسی ملکوں میں جہاں ان کے عقائد کے لوگ ابھی مجاہدین اسلام کے حملوں سے محفوظ تھے وہاں چلے گئے۔ اب اسلامی پرچم کے نیچے ان کی حالت وہی ہوگئی تھی، جو مکہ میں مسلمانوں کے جان و مال کی ہوچکی تھی، جس کی وجہ سے وہ ہجرت کرکے مدینہ آنے میں خود کو محفوظ سمجھ رہے تھے۔ اس کو انقلاب زمانہ کہتے ہیں۔ غالب کبھی دائمی طور پر غالب نہیں رہ سکتا۔ اسے مغلوب ہونا ہی ہوتا ہے۔ تمام تہذیبوں کی تاریخ اور ان کے آثار یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جو غالب تھے وہ مغلوب ہوئے اور جو مغلوب تھے وہ غالب بھی ہوئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ریگستانوں میں جہاں دن کی گرمی ہمارے جسم پر آگ کی لپٹیں ڈالتی ہے وہیں رات کی ٹھنڈک سورج ڈوبنے پر ہمیں کمبل اوڑھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کوئی بھی حالت بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکتی۔ تغیر لازمی ہے حاکموں کو محکوم ہوتے، امیروں کو محتاج ہوتے سرکشوں کو مغلوب ہوتے ہم سب دیکھتے رہتے ہیں۔ ابھی بہت زمانہ نہیں گزرا ہم نے دیکھا ذو الفقار علی بھٹو پاکستان میں وزیر اعظم ہوئے پھر جیل میں ڈال کر انھیں پھانسی دے دی گئی۔ اس کے برعکس ان کے داماد آصف علی زرداری جیل سے آزاد ہوکر اس وقت صدر پاکستان ہیں۔ ہم دیکھتے رہتے ہیں جو لوگ کبھی کچھ نہیں تھے وہ کچھ دنوں بعد مختار کل بنا دیے گئے ہیں یا بن گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر ایک مسلمان وہ قرآنی آیت دہرا دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اللہ جس کو چاہے عزت دے جس کو چاہے ذلت دے۔ اس سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ عزت اور ذلت دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ جو باعزت ہے وہ اور جو بے عزت ہے وہ کسی اور کو اس کا ذمہ دار نہ سمجھیں۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

 

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

 

URL for Part-3: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

URL:  http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-4/d/9592





Loading..

Loading..