New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 02:52 AM

Books and Documents ( 6 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Why Search For Truth?- تلاشِ حق کیوں؟ حصہ 3

تلاشِ حق
روایاتی تصورِ خدا
یہ خدا کا وہ تصور ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کو شروع سے ذہن نشین کرانا شروع کردیتے ہیں۔ ان تمام برے کاموں سے ان کو منع کرتے ہیں جو ان کے ماں باپ انھیں کرنے سے منع کرتے تھے۔ ابتدا سے ہی انھیں غلط کام اور گناہ یا پاپ میں فرق کرنا سکھا دیا جاتا ہے۔ غلطی اور جرم کی سزا ماں باپ دیتے ہیں یا پولیس اور عدالتیں یہ کام کرتی ہیں۔ لیکن پاپ اور گناہ کی سزا خدا یا ایشور دے گا۔ جرم کی سزا کے لیے عدالتیں ثبوت اور گواہ مانگتی ہیں لیکن پاپ اور گناہ کے لیے خود آدمی کا ضمیر اسے سزا دیتا ہے۔ ضمیر کو ہی خدا کا نمائندہ اور کارکن تسلیم کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ضمیر جس کا ٹھکانا آدمی کے دل و دماغ کے درمیان ہے وہ کبھی کسی کو برے کام کی صلاح نہیں دیتا بلکہ ایسا کچھ کر گزرنے پر تاحیات اسے ملامت کرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی یہ ملامت اس حد تک شدت اختیار کرلیتی ہے کہ خطا کار خود کشی کر لیتا ہے۔
ہر وہ کام جو کرنے والے کو خوش کرتا ہے وہ ضروری نہیں ہے کہ اچھا کام ہو۔ ہر آدمی کے اندر اچھائی اور برائی دونوں کی طرف مائل ہونے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ کسی میں یہ صلاحیتیں کم اور کسی میں زیادہ ہوتی ہیں جیسے ہمارے درمیان کچھ لوگ بہت عقل مند ہوتے ہیں اور کچھ لوگ کم عقل والے ہوتے ہیں۔ مگر یہ دونوں اپنی ان صلاحیتوں کے لیے خود ذمے دار نہ تو ہوتے ہیں اور نہ ہی ٹھرائے جاسکتے ہیں۔ ہماری پیدائش ان صلاحیتوں کے مختلف معیار کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔
پوری دنیا میں لوگ دو حصوں میں تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ ایک وہ جن کو مادی اور جسمانی سامان راحت کی شدید طلب رہتی ہے۔ دوسرے وہ لوگ جو روحانی اور قلبی سکون اور راحت کے طالب رہتے ہیں۔ مادی راحت کے طالب دنیا میں ترقی اور آسائش کی راہیں ڈھونڈنے میں منہمک رہتے ہیں۔ روحانی سکون والے لوگ مذہبی بھگتی اور عقیدت والے لوگ کہلاتے ہیں۔
مذہبی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ بچے کے ذہن میں ایک ایسے فرد یا ذات کا تصور جما دیا جائے کہ وہ اس سے تنہائی میں باتیں کرکے اپنی خواہشیں بیان کرسکے اور اس سے وہ سب کہہ سکے جو وہ کسی دوسرے سے کہنا پسند نہ کرتا ہو۔ ہر سماج میں اس کی حفاظت کرنے والے اداروں کے علاوہ ان سے بالاتر قوت رکھنے والے کا نام اس کی اپنی زبان میں موجود ہے جیسے ایشور، اللہ، خدا، گاڈ، وائے گرو، اولو، شانگدی، دونداری۔ اس نام والی ذات کو زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والا مانا جاتا ہے۔ زندگی اور موت کو اس کے اختیار میں بتایا جاتا ہے۔ اسی کو علیم و خبیر سمجھا جاتا ہے۔ وہ اپنے ہر کام کے لیے آزاد ہے اور وہ ہر جگہ موجود سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کی تعلیم ہر سماج میں رائج ہے۔ کچھ لوگ مرنے کے بعد ایک اور زندگی کے پانے میں یقین رکھتے ہیں اس کی بنیادی وجہ وہ خواب ہیں جن میں مرے ہوئے ماں باپ یا بھائی بہنیں آتے ہیں اور کچھ ایسی باتیں بتا جاتے ہیں جن کی خواب دیکھنے والے کو کوئی خبر نہیں ہوتی۔ ہوش میں آنے پر اسے حیرانی ہوتی ہے، جب وہ خواب والی خبر بالکل صحیح ثابت ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ مرنے کے بعد کسی اور زندگی کے قائل نہیں ہیں مگر وہ اچھے کاموں کا اور برے کاموں کا صلہ اس میں دنیا میں مل جانے کا یقین رکھتے ہیں، اس دنیا میں چین سکون اور عزت آبرو کے ساتھ زندہ رہنے کے لیے سماج کے قوانین کی پابندی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔

دنیا میں اچھی سماجی زندگی گزارنے کے لیے اچھے لوگوں کی دی ہوئی نصیحتیں اور ان کے ذریعے بتائے گئے اصولوں کی پیروی کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ہم اچھے لوگ انھیں کو سمجھتے ہیں جو ہمیشہ دوسروں کا بھلا چاہتے ہیں۔ اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی ضرورتیں پوری کردیتے ہیں۔ اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر دوسروں کی جان کی حفاظت کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ ایسے لوگ چوں کہ بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں، اس لیے ان کی بڑی قدر و منزلت کی جاتی ہے۔ وہ مر جائیں تو ان کے مزار بنا کر اور ان کی برسیاں منا کر ان کی روح کا شکرانہ ادا کیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی انھیں آسمانی خدا کا اوتار، اس کا بیٹا، اس کا پیغمبر بنا دیا جاتا ہے۔یہ سب کچھ اس کے وہ اچھے کام جو اس نے اپنے لوگوں کے لیے کیے تھے ان کا شکرانہ کہلاتا ہے اس کے اقوال کتابوں کی صورت میں قلم بند کردیے جاتے ہیں اور لوگوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ اسے پڑھیں۔ اس پر غور کریں اور اگر اس پر عمل کریں تو ان کی زندگی بابرکت ہو جائے گی۔ کبھی کبھی ایسی کتابوں پر لکھنے والے یا انھیں لکھوانے والے کا کوئی نام نہ لکھ کر انھیں آسمانی کتاب کہا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں ہے وہاں کچھ لوگ اچھے لوگوں کے کارنامے منظوم حکایات میں تبدیل کر کے انھیں کچھ خاص دنوں میں لوگوں کے سامنے دلکش آوازوں میں گاکر لوگوں کو نیکی کی ترغیب دلانے والی کہانیوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور کبھی اس کی ڈرامائی صورتیں عوام کے سامنے پیش کرکے انھیں نیکی اور بدی میں تمیز کرنا سکھاتے ہیں، جس کی سب سے مشہور روایات یونانی اور ہندوستانی ادب کے خزانے میں آج بھی موجود ہیں۔
وہ کتابیں جن کو آسمانی کہا جاتا ہے ان کے بارے میں لوگوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ مالک ارض و سماوات نے اپنی منشا اور مرضی کو ایک غیر معمولی ذریعے سے اپنے ایک چُنے ہوئے بندے کو باخبر کیا تاکہ وہ اپنے سماج میں لوگوں کو ان کی زبان میں نیکی کرنے اور بدی سے دور رہنے کے طریقے سکھائے۔ اس طرح کی کتابیں اس دنیا کے ایک خاص علاقہ کے لوگوں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ یہ علاقہ آج یمن، عراق، اردن، شام، فلسطین اور سعودی عرب کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں پائے جانے والی تین آسمانی کتابیں موجود ہیں ان کو تورات، انجیل اور قرآن کہا جاتا ہے۔ اس کے ماننے والے یہودی، عیسائی اور مسلمان کہلاتے ہیں۔ ان کتابوں میں مرنے کے بعد ایک ایسی دنیا کی خبر موجود ہے، جہاں اس دنیا میں کیے گئے اچھے اور برے کاموں کا صلہ دیا جائے گا۔ اچھے کام کا نتیجہ جنت اور برے کام کا نتیجہ جہنم کہلاتا ہے۔
آدمی خود بھی ایک ایسا دن دیکھنا چاہتا ہے جہاں ایسا ہی ہو۔ کیوں کہ اس زندگی میں سچے انصاف کے ملنے کی توقع عموماً غلط ثابت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں جو بھی قانون بنتا ہے وہ ہمیشہ طاقتور اور جابر لوگ ہی بناتے ہیں۔ حاکم بدلتے ہیں تو قانون بدلتے ہیں۔ قانون حالات کے پیش نظر ہی بنائے جاتے ہیں۔ لہٰذا بدلے ہوئے حالات نئے قانون کے لیے تقاضا کرتے ہیں۔ آسمانی کتابیں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان میں بتائے ہوئے قوانین کبھی نہیں بدلیں گے اس لیے کہ اس کا بنانے والا کبھی بدلنے والا نہیں ہے۔حالانکہ اس عقیدہ کو اربابِ علم و حکمت تسلیم نہیں کرتے۔
کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ حروف خدا نے بنائے ہیں۔ الفاظ اس کے پیدا کردہ ہیں۔ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اسے لوگوں کو سکھایا ہے۔ تورات میں ایک پیغمبر کا نام ایناخ ہے جنھیں عربی زبان میں ادریس کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ عربی کے لفظ درس سے بنتا ہے۔ درس کا مطلب سکھانا ہوتا ہے لہٰذا سکھانے والے کو ادریس یا مدرس کہہ سکتے ہیں۔ اس دور کو تہذیب کی ارتقا کی پہلی منزل بتایا گیا۔ تاریخی اعتبار سے انسانوں نے غاروں میں تصوریں بنا کر سب سے پہلے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کے مشہور غار میں پندرہ ہزار سال پرانی ایسی رنگین تصویریں موجود ہیں، جنھیں کوئی بھی جاکر دیکھ سکتا ہے اور ان کے معنی سمجھ سکتا ہے۔ 
چوں کہ عقیدوں کا علمی تحقیق پر انحصار نہیں ہوتا اس لیے انھیں زیر بحث لانا فضول ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا تصویریں ذہن نشین ہوتی گئیں۔ پھر وقت اور حالات کی ضرورتوں کے تحت انھیں مختصر کرنے کا چلن شروع ہوگیا۔ جہاں پہلے پورے جانور بنائے جاتے تھے اب ان کے کچھ حصوں کو نقش کر کے مفہوم ادا کیا جانے لگا، نوبت یہاں تک آئی کہ آج ہم یہ پہچان نہیں سکتے کہ کون سا حرف کس جانور کے کس حصہ کی نمائندگی کرتا تھا۔
آج ہم خود وہی کام کر رہے ہیں جو ہمارے اجداد نے کیا تھا۔ لمبے لمبے الفاظ کو مختصر کر کے آج ہم سب لوگ موبائل فون پر SMS کرنے کا طریقہ اختیار کر چکے ہیں یہاں تک کہ اخبار اور کتابوں میں بھی اس کا چلن ہونے لگا ہے۔ سڑک پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے صرف علامتی تصویریں بنانا کافی سمجھا جاتا ہے۔ علم ریاضی میں کچھ علامتیں پورے مفصل بیان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ اب ان حقائق کی موجودگی میں حروف یا الفاظ کو خدا کی تخلیق ماننا یا آسمانی طاقت کی طرف سے نازل شدہ تسلیم کرنا سراسر عقل کی توہین ہوگی۔ عبرانی، سریانی اور عربی زبانیں جو مشرقِ وسطیٰ کے علاقوں کے لوگوں کی زبانیں ہیں وہاں انسان کی رہائش اور قبیلہ کی صورت میں زندگی بسر کرنے کی عمر تقریباً ۹ہزار سال سمجھی جاتی ہے اس لیے کہ ماہرین کے پاس اتنی ہی قدیم تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ لیکن پڑھنے لکھنے کی کوئی چیز ایسی دستیاب نہیں ہوئی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ ان کے پاس آسمانی صحیفے تھے۔ ہندوستان میں جین دھرم کے لوگ یہ مانتے ہیں کہ ان کے روحانی رہنما ہر ایک ہزار سال بعد آتے رہتے ہیں۔ اس وقت جو روحانی رہنما موجود ہے اس کو اِکیاون واں رہنما مانتے ہیں اس طرح ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا اپنا مذہب پچاس ہزار سال پرانا ہے۔ شاید اسی لیے ان کے رشی اور منی ترک لباس کرکے اتنے قدیم رہنما کی تقلید کرتے ہیں جب انسان کے پاس تن ڈھکنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ بہرحال یہ بات ناقابل تردید ہے کہ ابتدا سے ہی انسان کو خدا کی تلاش ہے۔ ہمارا ہر طرح کا علم غلط ہوسکتا ہے مگر ہمیں اپنے بارے میں جو علم ہے اس سے زیادہ معتبر کوئی علم ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر وہ چیز جو نظر کے سامنے ہے یا ہمارے احاطۂ احساس میں آتی ہے وہ چلی بھی جاتی ہے مگر ہم اپنے وجود کے احساس سے کبھی بے خبر نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ خواب میں بھی ہم ویسے ہی اپنی ذات سے باخبر ہوتے ہیں جیسے ہوش میں۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارا دماغ کبھی بے عمل نہیں ہوتا۔ ہمارا جسم سوتا ہوا نظر آتا ہے مگر دماغ ہمہ وقت بیدار رہتا ہے۔ ہمارا شعور اپنے تین سطحی وجود کے ساتھ (یعنی شعور، نیم شعور اور لاشعور) ایک کارپوریشن کی صورت میں باعمل رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو ہم مر جاتے ہیں۔ حادثہ کا شکار ہوکر جب عالم بے ہوشی میں کسی کو اسپتال لے جایا جاتا ہے تو ڈاکٹر اس کا معائنہ کرتے ہیں اگر اس کے شعور کی تینوں سطحیں بے عمل ہوں تو کہہ دیتے ہیں کہ اس شخص کو مردہ پایا گیا۔ اب اسے علاج کے لیے قبرستان یا شمسان گھاٹ لے جاؤ۔
خواب اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ خواب کبھی سچ بھی ہو جاتے ہیں۔ یعنی عالم خواب میں جو دیکھا گیا وہ مادی صورت میں کبھی نظر آگیا تو کہتے ہیں خواب سچ ہوگیا۔ اس سے یہ گمان گزرتا ہے کہ ہمارا دماغ مستقبل کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اچھے لوگ اچھے اور برے لوگ برے خواب دیکھتے ہیں۔ اچھے لوگ اپنے اچھے خوابوں کو دوسروں تک بھی پہنچا دیتے ہیں تاکہ وہ جان لیں کہ غیب سے یعنی کسی نامعلوم قوت سے ان کا روحانی ربط ہے اور وہ بھی جان لیں کہ اچھے خواب والے آدمی میں وہ خوبی ہے جو دوسروں میں نہیں ہے۔ اس طرح وہ خواب والا آدمی اپنے علاقہ میں محترم سمجھا جانے لگتا ہے۔ دوسرے کم تر لوگوں میں اس کی جانب کشش پیدا ہو جاتی ہے کہتے ہیں کہ محبت ہمیشہ اپنے سے بہتر اور بالاتر شخص سے ہوتی ہے۔ آدمی اپنے سے بہتر خوبیوں والے کو مقدس بھی سمجھنے لگتا ہے۔ اس طرح ہمارے انسانی معاشرہ میں ہیرو ورشپ، کا دور چل پڑتا ہے۔
تمام مذاہب کے رہ نما اور ان کی کتابیں انسان کی روحانی اور مادی فلاح و بہبود سے وابستگی رکھتی ہیں۔ پہلی دلچسپی روحانی نجات سے متعلق اور دوسری مادی فلاح کے بارے میں ظاہر کی گئی ہے۔ تمام مذاہب یکساں طور پر دنیوی زندگی کی مذمت کرتے ہیں ایک عمر کے بعد سبھی ترک دنیا اور ترک لذات کا مشورہ دیتے ہیں۔ اور روحانی تقویت حاصل کرنے کے مختلف اصولوں اور طریقوں کی تبلیغ کرتے ہیں۔ کچھ مذاہب میں تو خدا کی تعریف و تسبیح کے علاوہ زبان کا استعمال ایک عمر کے بعد ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ اس کے زاہد اور متقی تابعین اپنے آپ کو سماج سے علیحدہ کرلیتے ہیں تاکہ ان کے سامنے ایسے حالات اور مواقع ہی نہ آئیں جہاں انھیں کسی اور طرح کی بات کے لیے زبان کھولنی پڑے۔ کچھ مصلحت پسند درمیانہ روش رکھنے والے مذہبی تقویٰ اور ورع کے لوگ دنیا میں شرکت کرتے ہوئے ذکر خدا سے غافل نہ ہونے کو عبادت قرار دیتے ہیں۔ نجات کی راہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ہر سانس کے ساتھ اللہ اللہ، رام رام، ہری اوم، ہلیلویہ کہتے رہو تو گناہ سے دور رہوگے اور تمہارے لیے دنیا کے کاروبار روحانی ترقی کے سفر میں رخنہ نہیں بن پائیں گے۔ شیطان غلبہ نہیں پاسکے گا بری روحیں تم پر اثر انداز نہیں ہوسکیں گی۔
کچھ مذاہب میں رہبانیت یعنی خوف خدا کی فضیلت یہاں تک بیان کی گئی کہ ان کے متقی لوگ رشی، منی، صوفی رہبان اور کلیسائی پادری شہری زندگی کو جہاں ہر وقت گناہ کے ارتکاب کا اندیشہ لگا رہتا ہے اسے چھوڑ کر جنگل اور غاروں میں پناہ گزیں ہوکر یادِ خدا میں مصروف ہوگئے۔ اور ایک مدت کے بعد خدا سے اپنے رشتے مضبوط کرکے عوام میں خدا جیسے تقدس اور اختیارات کے حق دار مانے جانے لگے۔ ایسے لوگوں کے قصے سے ہر مذہب کے اندر کتابیں بھری پڑی ہیں۔ انھیں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے قصائد اور مناقب نہایت مبالغہ کے ساتھ قلم بند ہیں جسے بہت سے لوگ بڑی عقیدت کے ساتھ وظیفہ بنا کر گاتے ہیں اور اس سے روحانی لذت حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس طرح انھوں نے اپنے بزرگوں کو خدا تو نہیں بنایا مگر لات و منات ضرور بنا لیا۔
مشرقِ وسطیٰ کے توحیدی مذاہب میں سب سے نمایاں مقام حضرت ابراہیم کو دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بت پرستوں کو خدائے واحد کی عبادت کی طرف سب سے پہلے انھوں نے دعوت دی۔ ان کی قوم نے ان کو بہت اذیتیں دیں مگر وہ اپنے توحیدی عقیدے پر قائم رہے بالآخر وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے۔ ان کی اولادوں میں بہت سارے پیغمبر پیدا ہوئے۔ جو ان کے عقیدۂ توحید الٰہی پر قائم رہ کر آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کے ماننے والوں میں اس علاقہ میں یہودی، عیسائی اور مسلمان تین قومیں آباد ہیں مگر یہ تینوں ایک دوسرے کے کھلے مخالف ہیں۔ یہ سوال کوئی بھی کر سکتا ہے کہ جب تینوں کا رہنما ایک ہے تو پھر ان میں مخالفت اور دشمنی کی وجہ کیا ہے۔ یقیناًاس کی وجہ تو ہے۔ ان تینوں قوموں کے پاس اپنی اپنی آسمانی ہدایات والی کتابیں ہیں جو ان کے نزدیک سب سے زیادہ مقدس اور معتبر ہیں۔ حضرت موسیٰ کی قوم کے پاس تورات ہے حضرت عیسیٰ کے ماننے والوں کے پاس عہد نامہ جدید اور مسلمانوں کے پاس قرآن ہے۔ آج ان تینوں کتابوں کے ماننے والے تقریباً ساری دنیا میں کہیں اقلیت اور کہیں اکثریت میں آباد ہیں۔ ان تینوں کے طریقۂ عبادات مختلف ہیں۔ یکسانیت صرف اتنی ہے کہ تینوں صرف ایک خدا کو معبود مانتے ہیں۔ یہ تینوں بظاہر بت پرست نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے عقائد میں بہت اختلاف ہے، جس کو ختم کرنے کو کوئی کسی قیمت پر تیار نہیں ہے۔ ان کے باہمی مذہبی اختلاف کی وجہ سے آج کی دنیا جو ٹیکنا لوجی کی مہربانی سے بہت چھوٹی ہوچکی ہے امن و سلامتی کی زندگی سے قطعی محروم ہے۔ ہر ایک دوسرے کو اس کے لیے ذمے دار قرار دے رہا ہے۔ اہل علم کے لیے اس وقت یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ان تینوں قوموں کے درمیان آئے دن بڑھتی نفرت اور عناد کے اسباب کی نشاندہی بالکل غیر جانب دارانہ طور پر کیسے کی جائے اور جو لوگ صاحب حوصلہ اور حق پرست ہیں وہ ان کی خامیوں اور غلطیوں کی طرف غیر جارحانہ طور پر ان کو کس طرح متوجہ ہونے پر آمادہ کریں۔
غیر جانب دارانہ تحقیق کے لیے تاریخی مآخذ سے استفادہ کرنا لازمی ہوگا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ تاریخ لکھنے والوں میں عام طور پر جانب دارانہ رویہ پایا جاتا ہے۔ دو ہزار سال قبل ایسی کوئی درس گاہ یا ادارہ نہیں تھا جو تاریخ نویسی کا ہنر سکھانے کے لیے قائم کیا گیا ہو۔ ہر دور میں کچھ افراد ایسے تھے جنھیں کچھ واقعات کو جن سے وہ بہت متاثر تھے انھیں قلم بند کرنے کا شوق تھا تو انھوں نے یاد داشتیں لکھی ہیں، جن کو بہت عرصہ بعد تاریخ کا حصہ تسلیم کرلیا گیا۔
تاریخ نویسی کو جب ایک فن بنا دینے کی نوبت آئی تو سب سے پہلے اس کی غرض اور غایت کی وضاحت کی گئی۔ ایک متفقہ تعریف یہ طے ہوئی کہ تاریخ نویسی کا مقصد آنے والی نسلوں کے لیے ماضی کی تصویر کو اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ مستقبل میں ان غلطیوں کا اعادہ نہ کریں جن کی وجہ سے ماضی میں لوگوں کو طرح طرح کے مصائب اور آلام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دوسری ذمہ داری تاریخ نویس کی یہ قرار پائی کہ اس کی تصنیف و تالیف میں جہاں تک ممکن ہو اس کی پسند اور ناپسند کا دخل نہ ہونے پائے۔ تیسری اور آخری احتیاط یہ کرنی لازمی ہے کہ کسی واقعہ پر تنقید اس کے عہد کے طرز زندگی سے باہر نکل کر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی تاریخ نویس ان تینوں شرائط میں سے کسی ایک کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آئے تو اسے معتبر شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔
پرانے زمانے میں بادشاہوں کے درباری تاریخ نویس ہوتے تھے جو عموماً حالات جنگ اور اس میں اپنے بادشاہ کی فتح و کامرانی کے مبالغہ آمیز قصوں کا اندراج کیا کرتے تھے جو بادشاہ اپنے جانشینوں کے لیے چھوڑ جانا چاہتے تھے۔ بیشتر اس طرح کے اندراجات منظوم ہوتے تھے، جن کو درباریوں کے سامنے بادشاہ کو سنایا جاتا تھا۔ بادشاہ خوش ہوکر انعام دیا کرتے تھے۔ ظاہر ہے اس طرح کی تحریروں کو حق پسندانہ طور پر معتبر نہیں مانا جاسکتا تھا۔ لیکن یہ سلسلہ سینکڑوں سال اسی طرح چلتا رہا ہے۔
تاریخ نویسی کا سب سے اہم دور نزولِ قرآن کی تاریخ سے شروع ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام نے قرآن کی آیات کو نہایت احتیاط کے ساتھ قلم بند کرانے کا حکم دیا اور ساتھ ہی کاتبان وحی نے ان حالات اور اسباب کا ذکر بھی قلم بند کیا جن کی وجہ سے وحی کا نزول ہوتا رہا۔ لہٰذا قرآن پوری دنیا میں وہ پہلی کتاب ہے جس کے لیے کئی کاتب مقرر ہوئے۔ پھر صاحبِ قرآن اس کو پڑھوا کر اس کی اصلاح و ترمیم کا کام خود کیا کرتے تھے۔
توراۃ اور انجیل جسے عہد نامہ قدیم اور جدید کے نام سے اس وقت دنیا جانتی ہے ان کے قلم بند کیے جانے میں وہ احتیاط نہیں برتی گئی جو قرآنی آیات کے لکھتے وقت لازمی قرار دی جاچکی تھیں۔ توراۃ کے بارے میں صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے اصحاب نے اسے قلم بند کیا اور انھیں کے ذریعے اس کی آیات کی ترتیب مکمل ہوئی۔
انجیل حضرت عیسیٰ پر نازل ہوئی کتاب ہمارے پاس ان کی اپنی زبان میں موجود نہیں ہے۔ اس کی پہلی صورت سینٹ پال کی مرتب کر دہ بتائی جاتی ہے جو یونانی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ کے دوسرے صحابیوں نے اپنی یاد داشت سے اپنے سامنے گزرے واقعات کو قلم بند کیا ہے ہر ایک کی تحریر اس کے نام کی بائبل کہلاتی ہے۔ جیسے کتاب جانؔ ، کتاب پالؔ ، کتاب مارکؔ وغیرہ۔ 
تاریخی اعتبار سے ان میں سب سے مکمل اور معتبر کتاب قرآن ہی ٹھہرتی ہے۔ تورات اور انجیل میں قرآن کا کوئی حصہ موجود نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ تورات قرآن سے تقریباً اٹھارہ سو سال قبل نازل ہوئی اور انجیل تقریباً ساڑھے پانچ سو سال قبل۔ قرآن میں تورات اور انجیل کے حوالوں کا پایا جانا قطعی معقول سمجھا جاتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ صاحب قرآن کو یہ حوالہ جات بذریعہ وحی ملے تھے یا انھوں نے یہودیوں اور عیسائی عالموں کی قربت میں رہ کر ان سے معلوم کیے تھے۔
قرآن میں اس بات کا اعلان موجود ہے کہ گزشتہ دونوں کتابیں اسی خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھیں جو قرآن نازل کر رہا ہے اور قرآن انھیں تعلیمات و ہدایات کو دہرا رہا ہے جو پہلے تورات اور انجیل میں نازل کی جاچکی ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ ان دونوں کتابوں میں پیغمبر اسلام کی آمد کی خبر بھی دی جاچکی ہے۔ ان سب دعووں سے کسی کو انکار نہیں ہے۔ یہودی بس یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ جس ہادی کے آنے کی خبر تورات میں ہے وہ وہی شخص ہے، جس پر قرآن نازل ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک محمد رسول اللہ حضرت ابراہیم کی نسل سے نہیں ہیں اس لیے ان کی پیغمبری قابل قبول نہیں ہے۔ اگر وہ بنی اسرائیل سے ہوتے تو وہ انھیں قبول کرلیتے۔ ان کے علماء کا کہنا ہے کہ حضرت اسمٰعیل چوں کہ ہاجرہ کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے جو حضرت ابراہیم کی بیوی نہیں تھیں بلکہ ان کی بیوی سارہ کی لونڈی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ سارہ کے حکم پر حضرت ابراہیم ہاجرہ کو کنعان جو اس وقت شام اور فلسطین کا علاقہ ہے ان کا وطن تھا وہاں سے دور لے گئے یعنی مکہ جو اس وقت انتہائی ویران علاقہ تھا۔ تاریخی اعتبار سے حضرت اسمٰعیل نے نہ کبھی حضرت سارہ کو دیکھا اور نہ انھوں نے حضرت اسمٰعیل کو۔ یہاں تک کہ حضرت سارہ کا انتقال ہوا تو اس وقت بھی حضرت اسمٰعیل ان کی تدفین میں شرکت کے لیے کنعان نہیں گئے۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم کے انتقال کی خبر پر وہ کنعان پہنچے اور ان کی تدفین میں شریک ہوئے۔ (عرب مؤرخین)
یہودیوں کا ماننا ہے کہ حضرت ابراہیم نے قربانی دینے والا خواب حضرت اسحق سے بیان کیا تھا جب ان کی عمر چھ سال کی تھی، قربانی کے لیے وہی لٹائے گئے تھے جس کے بعد ان کی جگہ غیب سے ایک دنبہ آگیا اور جب اس کے ذبح ہونے پر جانور کی آواز آئی تو خود حضرت ابراہیم حیران ہوگئے اور غصہ میں آکر وہ پٹی جو انھوں نے اپنی آنکھ پر باندھ رکھی تھی اسے نوچ کر پھینک دیا۔ اس کے بعد انھوں نے دیکھا کہ وہاں حضرت اسحق الگ کھڑے ہیں اور دنبہ ذبح ہوکر پڑا ہوا ہے۔ لیکن عربی مسلمان اس روایت کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قربانی کے لیے حضرت اسمٰعیل کو ان کے باپ نے لٹایا تھا۔ یہودیوں کی روایت کے مطابق حضرت اسمٰعیل اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت ابراہیم کی عمر ۷۲ سال اور ہاجرہ کی عمر ۱۸،۱۹ سال کی تھی۔
قرآن میں خدا نے ایک نیک اولاد کی بشارت حضرت ابراہیم کو اس وقت دی تھی جب ان کی عمر تقریباً ۹۹ سال کی اور ان کی بیوی سارہ کی عمر ۹۷،۹۸ سال کی تھی۔ ایسی عمر میں بچہ جننے کی خبر سے وہ خود حیران ہوئی تھیں جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ پھر قرآن میں اس معجزہ والی اولاد کا نام خود خدا نے اسحق رکھ دیا تھا اس کا ذکر موجود ہے اور یہ ذکر بھی موجود ہے کہ حضرت اسحق کی اولادوں میں بہت سارے پیغمبر ہوں گے۔ ان تمام قرآنی بیانات اور یہودی روایات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہے کہ حضرت اسحق کی ولادت معجزہ تھی اور حضرت اسمٰعیل کی ولادت کوئی معجزہ نہیں تھی۔ قرآن میں قربانی کے لیے لے جائے جانے والے بیٹے کے لیے صرف لفظ یَا بُنَیَّ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے ’’اے میرے چھوٹے بیٹے۔‘‘
تحقیق سے پتہ چلا کہ ابن اثیر نے اپنی تفسیر میں قربانی کے لیے تیار ہونے والے بیٹے کا نام اسحق تسلیم کیا ہے اور اس کی سند کے لیے حضرت عمر اور حضرت علی کا قول نقل کیا ہے۔ ہمارے یہاں مترجمین قرآن نے یَا بُنَیَّ کے بعد بریکٹ میں اسمٰعیل لکھ دیا ہے۔ ایسا کیوں کیا ہے اس کی وجہ یقیناًوہی مترجم جانتے ہوں گے۔

URL for Part-1: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-1/d/9530

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam--آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟--حصہ-2/d/9568

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/afaq-danish,-new-age-islam-آفاق-دانش/why-search-for-truth?--تلاشِ-حق-کیوں؟-حصہ-3/d/9572

 

Loading..

Loading..